17.10.2026, 05:58am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

نشانِ رَاہ “زندہ و جاوید تحریروں کا مجموعہ۔از۔احمد ترازی
04.07.2010, 01:12am , اتوار (GMT+1)

محمد احمد ترازی
‎‫شہید پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کو ہم سے بچھڑے ایک سال کا عرصہ گزرگیا ہے،16فروری 1948ءکو سہارن پور میں پیدا ہونے والے ڈاکٹرسرفراز نعیمی” جامعہ نعیمیہ“ گڑھی شاہو لاہورکے بانی مفتی محمد حسین نعیمی( جنہوں نے 1950 جامع نعیمیہ کی بنیاد رکھی) کے صاحبزادے تھے،آپ نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی،ڈاکٹر صاحب نےایم،اے،ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی،ڈاکٹر سرفراز نعیمی رویت ہلال کمیٹی کے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے جامعہ نعیمیہ کو کمیپوٹر جیسی جدید تعلیم سے آراستہ کیا،وہ ایک متحرک مذہبی رہنما تھے،انہوں تحریک تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اورتحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھرپور حصہ لیا اور کئی بار جیل گئے،ڈاکٹر صاحب تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے،چار سال قبل انہوں نے تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پلیٹ فارم سے امریکہ کے خلاف ایک بہت بڑی ریلی نکالی،جس پر انکے خلاف انسداددہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ چلا یا گیا،لیکن وہ باعزت بری ہوگئے،ڈاکٹر سرفراز نعیمی ہمیشہ دین کی خدمت کو ترجیج دیتے تھے،انہوں نے حکومت کی طرف سے کبھی کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔‬
 
‎‫ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے10جون 2009ءکو ایوان اقبال لاہور میںپاکستان بچاؤ کنونشن سے اپنے آخری خطاب میں فرمایا تھا کہ” علماءنے پاکستان بنایا تھا اور اب مل کر اسے بچائیں گے اورضمن میں وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔“آپ کی شہادت آپ کے ارشاد کی آئینہ دار ہے،12 جون 2009ءکو جمعہ کے روزجامعہ نعیمیہ میں ایک خودکش حملے میں شہید ہونے والے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کا شمار ملک کے اعتدال پسند سوچ رکھنے والے مذہبی رہنماؤں میں ہوتا تھا،ڈاکٹر سرفراز نعیمی بے باک اور نڈر شخصیت کے مالک تھے،انہوں نے خودکش حملوں کے حرام ہونے کا نہ صرف فتویٰ دیا بلکہ وہ پاکستان میں انتہا پسندی کے بھی سخت مخالف تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو انتہا پسندی سے بچانا پوری قوم کا اولین فریضہ ہے،جسے ادا کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے،انہوں نے سوات اور مالا کنڈ کے فوجی آپریشن کی کھل کر حمایت کی اور ملک میں جاری شدت پسندی کی لہر کے خلاف متحرک رہے،ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے فتنہ کا قلع قمع کرنے کے لئے 22 دینی جماعتوں پر مشتمل ایک پلیٹ فارم” تحفظ ناموس رسالت محاذ “بھی تشکیل دیا ۔‬
 
‎‫ڈاکٹر سرفراز نعیمی بے لوث اور انتہائی سادہ شخصیت کے مالک تھے،آپ ایک سچے عاشق رسول تھے اور آپ نے اپنی ساری زندگی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزاردی،ڈاکٹر سرفراز نعیمی وہ بزرگ شخصیت تھے جن کے رگ و پے میں وطن عزیز کی محبت اورقوم کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،حق گوئی و بے باکی آپ کا طرہ امتیازاور ہردور میں باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہنا آپ کا خاصہ تھا،درحقیقت ایمان ،حق گوئی اور عقیدہ کامل پر ڈٹ کر رہنے اور ”بلغو اعنی ولوایة“ پر عمل پیرا ہونے والے مجاہد شہید پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی ایک ایسے زندہ و جاوید کردار کا نام ہے جس کی زندگی نمود و نمائش،تصنع و بناوٹ اور دنیاداری سے پاک تھی،ایک بڑے دارالعلوم کے ناظم اعلیٰ،مفتی اور صدر مدرس کے باوجود عاجزی و انکساری اورسادہ لوحی آپ کی شخصیت کے نمایاں وصف تھے،ڈاکٹر سرفراز نعیمی ریڈیو،ٹی وی کے مقرر اور سرکاری و دینی حلقوں میں نمایاں پہچان رکھنے کے باوجودنہ عالموں جیسا رعب و دبدبہ رکھتے تھے اور نہ ہی دانشوروں جیسی تکلف و نزاکت،معاملہ فہمی،دور اندیشی اور تمام مذاہب و مسالک کے ساتھ رواداری آپ کی پہچان اور وجہ شناخت تھی،بلاشبہ آپ ایک ایسے مذہبی سکالر تھے،جن کو قرآن اور حدیث پر مکمل عبور حاصل تھا،آپ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور فرقہ واریت کے سخت مخالف تھے،یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ڈاکٹر صاحب دین کی سربلندی اور وطن عزیزکے استحکام کے لئے جہاد کرتے ہوئے شہادت کی عظمیٰ کی نعمت سے سرفراز ہوئے ۔‬
 
‎‫اَمر واقعہ یہ ہے کہ مفتی محمد حسین نعیمی کے لائق اور قابل فخر فرزند کی زندگی کا اک اک لمحہ اسلام اور پاکستان کیلئے وقف تھا،جرات و استقامت کے پیکر ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نے درس و تدریس کے ساتھ لکھنے پڑھنے پر بھی توجہ دی،آپ نے باقاعدگی سے 1996ءسے 1998کے دوران ”نشان راہ“ کے عنوان سے روزنامہ جنگ میں کالم لکھے،آپ کی انہی بکھری ہوئی تحریروں کو جمع کرکے ”نشان راہ “کے عنوان سے آپ کی زندگی میں شائع کیا گیا،زیر نظر کتاب ”نشان راہ دوم“ آپ کے انہی کالموں کا مجموعہ ہے جوکہ آپ کی شہادت کے بعد شائع ہوئی ہے،ڈاکٹر صاحب نے اپنے اِن مضامین میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اصلاح کار کا آغاز سب سے پہلے اپنی ذات سے کرنا چاہیے،آپ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم معاشرے میں اپنے اپنے کردار کی اصلاح کرنا شروع کردیں اور اپنے افعال و اعمال کو بہتر بنالیں تو معاشرے کے بہت سے مسائل از خود حل ہوسکتے ہیں۔‬
 
‎‫اس حوالے آپ اپنے ایک مضمون”قربانی مانگنے والے“ میں لکھتے ہیں کہ” ہمارے معاشرے میں عجیب طرح کی روایت قائم ہوتی چلی جارہی ہے،ہرایک بغیر امتیاز ، تفریق اور تحریر کے دوسروں سے قربانی دینے کی درخواست کرتا نظر آتا ہے،بڑے خلوص سے، درد دل سے،شعور کی اتھاہ گہرائیوں سے،ملک کے نام پر ،وطن کے نام پر،قوم کے نام پر،بگڑی ہوئی معیشت کے نام پر،دشمن طاقتوں کے حوالے سے،عالمی تناظر میں قربانی دینے کی اپیلیں ہورہی ہیں،بھکاریوں کی مانند ہاتھ پھیلاپھیلاکر،سائلانہ،ملتجانہ اور عاجزانہ انداز میں قربانی دینے کیلئے آمادہ کیا جارہا ہے۔“آگے چل کر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں”آقائے دو جہاں حضورختمی مرتبت،رحمت دو عالم ،نور مجسم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہمیں یہی سبق سکھارہی ہے کہ جہاد کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بطون مبارک پر اگر پتھر بندھا ہوا تھا تو آقائے دو جہاں کے بطن مبارک پر اس سے کہیں زیادہ پتھر بندھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ یہی تعلیم دے رہی ہے کہ قربانی طلب کرنے سے پہلے قربانی پیش کی جائے،ماضی کی عظیم المرتبت ہستیوں کے عظیم کارناموں کو بھول جانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قوم کے قائدین اگر آج قربانی طلب کرنے سے پہلے قربانی دینے کی سنت پر عمل پیرا ہوں تو قوم آج بھی اپنے قائدین کو دل و جان سے زیادہ چاہتی ہے۔‬“
 
‎‫ڈاکٹر سرفراز نعیمی اپنے ایک اور مضمون ” ایٹمی دھماکہ ہی مستقل علاج ہے“ میں ارباب اقتدار کی بذدلی اور ابن الوقتی کو نمایاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”قوموں کی زندگی کی باگ دوڑ جب مصلحت کوش،مصلحت اندیش اور مصلحت بین حکمرانوں، وزیروں،مشیروں اور مصاحبوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے تو پھر وہ اقتدار کی ”لیلیٰ“ کے فراق کا تصور کرتے ہی مصلحتوں کے نام پر حقائق کا مقابلہ کرنے کے بجائے مستقبل کی نادیدہ حالات کا معروضی انداز میں اس ”درد سوزی“سے نقشہ کھینچتے ہوئے تصویر کشی کرتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید مستقبل کی باگ دوڑ کی تمام لگامیں انہوں نے اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی ہیں اور مستقبل کی ترقی کی راہیں اُن کے سامنے مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھے موجود ہیں اور صرف ان کے چشم نازنین کے اشاروں کی منتظر ہیں،عقل و خرد،بصیرت و بصارت کا واسطہ دیتے ہوئے،فہم و فراست کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے احتیاط و اجتراز کا نعرہ لگاتے ہوئے اور عالمی تناظرات کے دامن میں چھپ کر وطن کے تحفظ کی قسم کھانے والوں کو انہی تیروں سے چھلنی کرنے لگتے ہیں جو تیر اصل میں دشمن کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں۔‬“
 
‎‫ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے یہ معرکة الآراءمضامین علمی اور ادبی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سادہ اور عام فہم انداز رکھتے ہیں اور آپ کے مضامین میں دور حاضر کے عصری تقاضوں کے ساتھ ساتھ وقت کی ضرورت اور افادیت بھی جھلکتی ہے،ڈاکٹر صاحب کا طرز اسلوب سادہ اور ایسا دل نشیں ہے کہ قاری اِس کے سحر سے نکل نہیں پاتا،آپ کی تحریر دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور اہل مغرب کے افکار ناپختہ کی قلعی کھولتی ہے اور مغربی علوم و فنون سے مرغوب مسلمانوں کو اسلام کی روشنی سے دیکھنے،سمجھنے اور پرکھنے کا قرینہ عطا کرتی ہے،آپ کاطرز تحریر ناصحانہ ہی نہیں انتہائی مشفقانہ بھی ہے،ڈاکٹر صاحب کے یہ کالم روز مرہ کے دینی معاملات،معاشرتی اور سماجی رویوں کے عکاس اور مقصدیت ،لطافت اور جاذبیت سے لبریز ہیں،زیر نظر کتاب میں آپ کے 43کالموں کا جناب محمد ضیاءالحق نقشبندی صاحب نے انتخاب پیش کیا ہے اور اسے ادارہ” نعیم المصنفین“ جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور،فون نمبر92426293289 نے شائع کیا ہے،بقول پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب ”ضیاءالحق نقشبندی نے بکھرے ہوئے پتوں کو اکٹھا کرکے پھولوں کے گلدستے بناکر قارئین کی محفل مطالعہ کو سجادیا ہے،انہوں نے ذروں کو سمیٹ کر آفتاب بنادیا ہے،قطروں کو اکٹھا کرکے دریا بہادیئے ہیں۔“برادرم محمد ضیاءالحق نقشبندی کی یہ گرانقدر کاوش قابل مبارکباد اور لائق مطالعہ ہے۔‬

:دیگر مضامین
(03.07.2010)  کالم نگار احمد ترازی عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے کراچی
(02.07.2010) سویڈن میں عابدہ سیال کے گھر پر محفل مشاعرہ۔پکچر گیلری
(30.06.2010)  سٹاک ہولم میں عابدہ سیال کے گھر منفرد محفل مشاعرہ کا انقعاد
(25.06.2010) مرکز المجتبیٰ برلین میں جشن مولود کعبہ کا اہتمام
(24.06.2010) جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں فیضان عارف کے ساتھ شام
(23.06.2010) معروف شاعر اور دانشور رشید قیصرانی انتقال کر گئے
(22.06.2010) بزم اردو لندن کے تحت ہونے والا عالمی مشاعرہ
(22.06.2010) ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے محفلِ مشاعرہ
(19.06.2010) آسٹریا کے شہر ویانہ میں امام علی نقی کی ولادت پر محفل میلاد کا انعقاد
(13.06.2010) جلسہ جہاد و انقلاب کی پہلی سالگرہ ،پیش رفت قابل اطمینان:تنظیم علی کانگریس
(11.06.2010) بزمِ اردو لندن کی محفلِ شعروسخن ''مشاعرہ''۔
(05.06.2010) فرینکفرٹ میں صا حبزادہ حسن محی الدین کا ’’ اسلام اور امن ’’ کے موضوع پر خطاب
(04.06.2010) ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔ از۔ خورشید عالم آرا
(03.06.2010) اسرائیل کا فریڈم فلو ٹیلا پر حملہ وحشیانہ دہشت گرد ی ہے
(03.06.2010) خورشید عالم آرا کی کتاب “ سبق آموز کہانیاں “ کی تقریب ِ رونمائی
(03.06.2010) عالمی اخبار کی بیوروچیف برائے وینکور کینیڈاخورشید عالم آرا
(02.06.2010) اسرائیل کا ایک اور ظلم، امریکہ کی پشت پناہی میں
(01.06.2010) جرمنی میں اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خلاف مظاہرہ
(29.05.2010)  ٹورنٹو کے مرکز باب العلم میں پر نور میلاد خاتون جنت سیدہ سلام اللہ کا انعقاد
(19.05.2010) پاکستان ملسم لیگ ن جرمنی کی مرکزی قیادت کا ہنگامی اجلاس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں