15.10.2026, 07:31pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

عالمی اخبار کے عملے سے ایک ملاقات
24.03.2009, 11:00am , منگل (GMT+1)

انتظامیہ عالمی اخبار
 چیف ایڈیٹر صفدر ھمٰدانی  کی قیادت میں عالمی سطح کے صحافیوں اور نشریاتی اداروں کے اعلیٰ ارکان کے ہمراہ عالمی سطح کا نیا اردو انٹرنیٹ روزنامہ  ‘‘عالمی اخبار‘‘  جو
www.aalmiakhbar.com
کے علاوہ ڈاٹ نیٹ، ڈاٹ اورگ اور ڈاٹ انفو پر بھی دستیاب ہے

‘‘عالمی اخبار ‘‘ کی یہ تمام ٹیم بلامعاوضہ اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس میں عالمی سطح پر جانے پہچانے نشریاتی اور اخباری دنیا کے صحافی،براڈکاسٹر،ادیب،شاعر اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے افراد شامل ہیں جنکی شبانہ روز محنت کے لیئے ادارہ صمیم قلب سے ممنون ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمٰدانی۔''مدیر اعلیٰ''۔عالمی اخبار
 معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.

صفدر ھمٰدانی کے والد مصطفیٰ علی ھمٰدانی اپنے وقت کے ایک تاریخ ساز ماہر نشریات و لسانیات اور عربی،اردو اور فارسی کے شاعر تھے اور انہیں 13 اور 14 اگست 1947 کی درمیانی رات لاہور ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اولیں اعلان کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ خالو فارغ بخاری ماموں رضا ھمٰدانی بھی اردو کے معروف لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں. انکی اہلیہ ماہ پارہ صفدر بھی اہلِ قلم میں شمار ہوتی ہیں لیکن انکی زیادہ شناخت پاکستان ٹی وی اور ریڈیو کی نیوز کاسٹر کے حوالے سے ہے .

صفدر ھمٰدانی نے  ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت  کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ' کفن پہ تحریریں' 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں 'فرات کے آنسو'(مرثیوں کا مجموعہ) نورِ کربلا(عزائی شاعری پہ تحقیق) اور'' فخر ہمایوں''(معروف صحافی کی زندگی) ' اور'معجزئہ قلم'(رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ) فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین''کلیات حسین''  حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔ اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ'' تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا''  شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک''زینت ہستی'' ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ''عطائے رضا'' کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ '' رو رہا ہے آسماں'' مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے'' بادل۔چاند اور میں '' اور'' گونگی آنکھیں'' زیر ترتیب ہے۔
مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی،فرانس،ناروے،ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا)شام اور آسٹریلیاکے مختلف شہروں کا سفر کر چکے ہیں

............................

ڈاکٹر نگہت نسیم۔''نائب مدیر اعلیٰ''۔عالمی اخبار

  آسٹریلیا کے ش
ہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔
وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے''گرد بادِ حیات'' اور ''مٹی کا سفر'' شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے۔انکے افسانے پاکستان کے اکثر جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم 100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان ھیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر پیش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی ھیں ۔
.........................................

سید مصباح حسین ''بیورو چیف آسٹریلیا''اور ترجمان عالمی اخبار
 سید مصباح حسین جھنگ کے علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے برادر بزرگ نجم سبطین حسنی اپنے والد کی علمی میراث کے حقیقی علمبردار اور ادبی و علمی حلقوں میں اپنی پہچان کے مالک ہیں۔

 مصباح نے  پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں بی اے کیا اور پاکستان کےمقامی اخبارت میں رپورٹنگ اور مضمون نگاری کرنے لگا۔ بعد میں   قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹدیز میں 1998میں ماسٹرز کیا۔

ڈان ، پاکستان ٹائمز  اورروزنامہ پاکستان اسلام آباد میں مضمون نگاری کی اور اب 2003سے آسٹریلیا میں ہیں جہاں  اردو پوسٹ آسٹریلیا کے نام سے ایک اخبار شروع کیا اور صدائے وطن کے عملے میں بھی رہے۔

مصباح ‘‘عالمی اخبار‘‘ مستقل لکھاری ہیں اور ادارے  میں آسٹریلیا کے بیورو چیف  ہیں۔

.............................

امجد شیخ۔''مدیر تکنیکی امور و ویب ماسٹر'' عالمی اخبار
امجد شیخ ‘‘عالمی اخبار‘‘ کے سفر میں ‘‘مدیر تکنیکی امور اور ویب ماسٹر‘‘ کے طور پر شامل ہیں اور اس ویب سائٹ کو جنگی بنیادوں پر کام کر آپ قارئین تک پہنچانے میں امجد شیخ نے لاہور کی زرقا مفتی کے ساتھ مل کر کسی مالی منفعت اور لالچ کے بغیر نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

یورپ کے شہر سویڈن میں مقیم امجد شیخ  کا تعلق پاکستان کے شہر راولپنڈی کے تجارتی گھرانے سے ہے۔ انہوں نے 1971 میں قدیم راولپنڈی میں جنم لیا، شروع سے ہی کتاب سے ایسی محبت ہوئی جس میں آج تک کوئی کمی نہیں ہوئی۔

 میٹرک کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج اصغر مال میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جہاں جناب ماجد صدیقی  کی زیرِ پرستی شاعری کی
سجمھ بوجھ حاصل ہوئی، اور جناب انور مسعود اور مرحوم ضمیر جعفری جیسےبزرگوں  کی صحبت نے اس شوق کو جلا بخشی۔

کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم کے لیئے 20 سال کی عمر میں جزیرہ قبرص روانہ ہوئے،  گھر بار، وطن اپنی زبان  سے دوری نے شاعری ، ہجر و فراق کے نئے نئے مطلب سمجائے۔ امجد نے اپنی ساری توانائی اور توجہ تعلیم پر مرکوز کر دی انہیں ایام میں جب انٹرنیٹ تعلمی اداروں سے نکل کر عام آ دمی کے دروازے پر دستک دے رہا تھا وہ بھی پہلے پہل شوقیہ اور پھر  بطور پیشہ اسی سے منسلک ہو گئے۔ امجد نے شروع دن سے ہی اردو کی ترقی و تراوئح کے لیئے کام شروع کیا ۔

ان کی اردو میں زاتی ویب سائیٹ 1994سے کام کر رہی ہے۔ جسےانہوں نے اردو زبان کے پہلے ٹروٹائپ فونٹ، عمیر اول میں بنایا تھا۔ ساتھ ساتھ امجد نے ایک معروف کمپنی میں ویب ماسٹر کے طور پر بھی کام شروع کردیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد جب یونی کورڈ کے معاملات سامنے آئے تو اس میں بھی امجد نے کچھ کام کیا۔ پھر کام کے سلسلے میں امجد کچھ عرصہ امیریکہ میں رہے جہاں انہوں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر عربی کی ایک ویبسائٹ شروع اُمت۔کوم کے نام سے شروع کی۔ کچھ خانگی مجبوریوں کے باعث امجد کو سویڈن آنا پڑا، جہاں سے انہوں نے پہلے اردو لائف کا اجرا کیا۔ جس میں خالصتااردو ادب کی ترقی پر توجہ دی۔ فلیش کے ذریعے ایک پلگ ان ڈیولپ کیا جو
اردو ٹیکسٹ کو دکھا سکے۔ اردو ادب کی مشہور صنف مشاعرہ کی ریکاڑڈنگز کو2001 میں آڈیو اور اب 2006 سے ویڈیو میں پیش کیا۔

جب بی بی سی نے اپنی سائٹ اردو میں شروع کی تو اردو نسخ ایشا ٹائپ منظرِ عام پر آیا۔  بی بی سی والے خود بھی ایشا سافٹ والوں کا لکھا پروگرام تحریر کے لیئے استعمال کرتے تھے۔ امجد نے بہت محنت کے بعد اس کا ویب ورژن ڈیولپ کیا جو اردو پیڈ۔کوم پر اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اردو کی واحد سائٹ تھی جہاں سب سےپہلے اردو لکھنے یا اسے ای میل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ امجد کہتے
ہیں کہ یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔

شعر و ادب سے امجد کو لگاؤ تو ایک عمر سے ہے مگر باقاعدہ شاعری 18 سال کی عمر سے کرتے آرہے ہیں۔ مگر پہلے تعلیم اور پھر دیگر سرگرمیوں کے باعث شعر کہنے سے دور ہوتے گئے وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا احساس بہت پہلے ہو گیا تھا کہ ایک اچھے شعر کے لیئے بہت محنت اور وقت درکار ہوتا ہے۔ تو انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا اور بجائے دُنیا کو ایک اور شاعر دینےکے۔ انڑنیٹ کو اردو کا تحفہ دیا۔

آج کل امجد ایک سویڈش فرم میں بطور آرٹ ڈائرکٹر تعینات ہیں جہاں وہ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہےہیں۔ اور ظاہر ان کے پاس فن ہو اور اردو میں کسی حوالے سے اظہار نہ ہو تویہ ممکن نہیں ہے، تو آج کل زاتی طور پر احمد فراز پر ایک خصوصی دستاویزیفلم " لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز" کے نام سے بنا رہے ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف جیلانی۔''مدیر۔سیاسی امور''۔عالمی اخبار
معروف اور سرکردہ صحافی،ادیب ، مبصر، نقاد ،تجزیہ نگار،براڈکاسٹراور کالم نگار آصف جیلانی کی صحافتی زندگی لگ بھگ پچاس برس پر محیط ہے۔

آصف جیلانی نے اپنا صحافتی سفر روزنامہ امروز کراچی سے 1953میں شروع کیا- اس زمانہ میں مدیر اعلی فیض احمد فیض اور مدیر احمد ندیم قاسمی تھے- 1959 میں وہ روزنامہ جنگ کراچی کے دلی میں نامہ نگار مقرر کئے گئے

 پاکستان کے اردو اخبارات میں وہ پہلے کل وقتی نامہ نگار تھے جو بیرون ملک تعینات کئے گئے- 1965 میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران انہیں دلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند رکھا گیا-

قیدیوں کے تبادلے میں رہائی کے بعد انہیں لندن میں ادارہ جنگ کے اخبارات کا نامہ نگار مقرر کیا گیا اور جب لندن سے روزنامہ جنگ کا اجرا ہوا تو انہیں 1973 میں مدیر مقرر کیا گیا- 1983 میں وہ جنگ لندن سے ترک تعلق کر کے بی بی سی اردو سروس کے عملہ میں شامل ہوگئے اور 1994 تک اس نشریاتی ادارہ سے کل وقتی طور پر وابستہ رہے-

اس دوران انہوں نے چار بڑی سیریز کیں- یورپ کے ایشیائ – بر صغیر کے بڑے بڑے شہروں کے مسایل پر شہر بے کراں کے عنوان سے سیریز- وسط ایشیا کی نو آزاد جمہوریاوں کا سفر نامہ –وسط ایشیا – نئی آزادی نئے چیلنج – ان پوگراموں پر مبنی کتاب بھی شایع ہوئی ہے- 1994 میں بر صغیر کے دیہاتوں میں تبدیلیوں کے بارے میں ان کے پروگراموں کا سلسلہ –گاوں گاوں بدلتی دنیا کے عنوان سے نشر ہوا-

آصف جیلانی کی اہلیہ محسنہ جیلانی کا شمار ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے
...........................

شمس جیلانی۔''بیورو چیف،کینیڈااور مدیر دینی امور''۔عالمی اخبار

 اردو زبان کو بیرونی ممالک میں زندہ رکھنے کے لیئےادیبوں،شاعروں اور محققین  نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی جو شمع روشن کر رکھی ہے اس کے ذریعے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے اور  شمس جیلانی اس فہرست میں صف اول کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عمر کی دھونس جمانے کی بجائے اپنے مطالعے اور اپنی تحریر سے دل میں گھر کرتے ہیں۔

اسلامی موضوعات پر انکی تحریریں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں اور اسی طرح انکی شاعری میں بھی مسلم امہ کے لیے ایک تڑپ موجود ہے

عالمی اخبار میں انکی شرکت اور قلمی تعاون ہم سب کے لیئے باعث عزت اور باعث رہنمائی ہے۔

شمس جیلانی صاحب کی شائع شدہ کتب میں ‘‘ سورہ فاتحہ اور اس کے تقاضے،اسلام اور حقوق العباد،قصے مخلصین کے،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان، بنیادیات ذیابیطس اور تازہ کتاب سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم،روشنی حرا سے شامل ہیں۔
.......................

اصغر انصاری۔''بیورو چیف،بھارت'۔عالمی اخبار

(اصغر انصاری بھارت کی صحافتی دنیا کا ایک مستند نام ہے جنہوں نے صحافت میں شرافت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کی وہ منزلیں طے کی ہیں جن کو ایک عام صحافی اپنے لیئے نشان منزل بنا سکتا ہے۔ عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں محترم اصغر انصاری کی شمولیت ادارے پر ان کے اعتبار کی علامت ہے جسکے لیئے ہم سب انکے ممنون ہیں۔ مدیر اعلیٰ۔ عالمی اخبار)

اصغر انصاری کا مختصر تعارف

اصغر انصاری اتر پردیش کے ضلع بجنور کے گاؤں فضل پور کے ایک نہایت معمولی تاجر گھرانے میں 1962 میں پیدا ہوئے ہے، انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی سافٹ وےئر انجیرنگ میں مہارت حاصل ہے ، اسٹریٹجک ٹیکنالوجی گروپ کے نام سے سافٹویر اور یسع ٹریڈنگ پرائیویٹ لیمیٹد نام کمپنی کے ڈریعہ ٹریڈنگ کرتے ہیں لیکن سافٹ ویر اور ٹریڈنگ سے زیادہ اردو صحافت میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔1994میں ہندوستان کی پہلی اردو ویب سائٹ۔۔’’ اردو نیٹ‘] کا اجراء کیا لیکن تاجرانہ مصروفیات کی بناء پر اس ویب سائٹ کو زیادہ وقت نہ دیا جا سکا۔2004میں ہندوستان کی پہلی آزاد اردو نیوز ایجنسی (یو این این) یو نائیٹیڈ نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا ۔

یو این این ہندوستان میں اردو صحافت میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی اور آج یو این این ہندوستان کی سب سے بڑی اور مکمل طور پر آزاد اردو نیوز ایجنسی ہے اور ہندوستان میں 121روز ناموں اور 278ہفتہ روزہ اخبارات کو خبریں فراہم کرنے والا ادارہ ہے ۔اصغر انصاری خود سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ہندوستانی سیاست ، اقلیتی ا امور ، عالم اسلام اور کشمیر کے امور کے ماہر مانے جاتے ہیں ۔ آپ کے کالم دو سو سے زائد اخبارات میں ہر ہفتہ شائع ہوتے رہتے ہیں

۔یو این این کی کامیابی کے بعد اصغر انصاری نے اردو نیٹ کے نام سے دہلی سے روز نامہ اردو اخبار کی اشاعت شروع کی ہے ۔اس اخبار کے پٹنہ ۔ سرینگر، اور ممبئی میں ایڈیشن بہت جلد منظر عام پر آنے والے ہیں ۔اس کے علاوہ آپ ہندوستان میں آن لائن جرنل ازم کے بانیوں میں سے ہیں، سن 2001 میں آن لائن جرنلسٹس ایسوسی اینسن(OLJA.ORG) کا قیام عمل میں آیا تو آپ اس کے نائب صدر مقرر ہوئے ، آپ کی کوششوں سے حکومت ہند نے آن لائن جرنل ازم کو تسلیم کرتے ہوئے آن لائن جرنلسٹوں کو ایکریڈیت کرنے کا فیصلہ کیا،

 آپ متعدد سماجی اور حقوق انسانی تنظیموں کے رکن ھی ہیں، صحافیوں کے حقوق کے لائے قائم واحد ادارے میڈیا رایٹس واچ کے جنرل سیکٹری اور آل انڈیا فیڈریشن آف ار دو ایڈیٹرز اینڈ جرنسلسٹس کے بھی نائب صدر ہیں،
ڈیویلیپمنٹ کمنیکیشن کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے این جی او  ''شکشا اورگ ''کے بھی رکن ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


محمد ادریس ۔ مدیر ۔ شعبہ کھیل

محمد ادریس ریڈیو پاکستان پشاور میں پہلے ڈیوٹی آفیسر فوراً بعد پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا اس کے بعد1964ء سے 1966ء تک ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام پرپروڈیوسر رہے۔

 1966ء مارچ سے فیصل آباد میں مرحوم حکیم سعید کے ادارے’’ہمدرد‘‘ سے منسلک ہیں اور’’ہمدرد‘‘ کے تقسیم کار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی اردو کمنٹری کرنے والے اہم ترین ناموں میں انکا شمار ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے 1976ء سے اب تک ریڈیو اور T.Vپر اُردو میں کرکٹ کمنٹری کر رہے ہیں۔

 روزنامہ ’’شیلٹر‘‘ کے سپورٹس کے صفحہ کے انچارج ہیں۔ کرکٹ سے متعلق ریڈیو پاکستان سے ان کے تبصرے اور جائزے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ قومی اخباروں میں کرکٹ کے حوالہ سے ’’کالم‘‘ لکھنا معمول ہے۔ ادیبوں، فنکاروں اور صاحبِ علم سے کچھ حاصل کرنا عادت ہے۔



عالمی اخبار کے لیئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ‘‘کھیلوں کے شعبے کے مدیر‘‘ کے طور پر ہم سب محمد ادریس کے علم و فضل سے مستفید ہونگے۔

ادارہ‘‘عالمی اخبار‘‘ انہیں اپنے ادارتی عملے میں خوش آمدید کہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم سید۔''بیورو چیف،امریکہ''۔عالمی اخبار

( سلیم سید ایک عرصےسے امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں مقیم ہیں اور ذرائع ابلاغ   سے وابستہ ہونے کے علاوہ اردو ادب کی خدمت میں بھی مصروف ہیں۔ انکےاس سفر میں انکی اہلیہ زارا سید    بھی ہمہ تن مصروف رہتی ہیں۔  ‘‘عالمی اخبار‘‘ سلیم سید کی امریکہ کے بیورو  چیف کی حیثیت میں وابستگی سے یقینی طور پر مستفید ہو گا۔
مدیر اعلیٰ ۔عالمی اخبار)

سلیم سید کی الیکٹرونک اور اشاعتی ذرائع ابلاغ  سے وابستگی یوں تو اسکول کے زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی کے اسکول براڈکاسٹ اور بزمِ طلبا سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن اس میں اصل نکھار اس وقت آیا جب 1994 میں انہوں نے امریکہ کے چوتھے بڑے شہر ہیوسٹن سے ایک پاکستانی ریڈیو پروگرام ''ینگ ترنگ'' ایک گھنٹے کے دورانیئے سے شروع کیا جو اب بڑھتے بڑھتے ہر سنیچر اور اتوار دوپہر ایک بجے سے شام چار بجے تک نہ صرف امریکہ کی دوسری بڑی ریاست ٹیکساس کے تمام بڑے شہروں میں سنا جاتا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس کی نشریات انٹر نیٹ کے زریعے سنی جاتی ہیں۔

سلیم سید بنیادی طور پر وہ ایک قلمکار ہیں جو اپنی کاروباری مصروفیات کے ساتھ ساتھ نثر اور شاعری کے علاوہ صحافت اور ریڈیو جرنلزم کے میدان میں اپنےجوہر دکھلا رہے ہیں۔

انکی شاعری کا پہلا مجموعہ زیر ترتیب ہے اور ہیوسٹن کی متعدد ادبی اور موسیقی کی محفلیں انکے نام پر رقعم ہیں۔

 امریکہ سے نکلنے والے اخبار۔اردو ٹائمز میں وہ کالم نگاری کرتے رہے ہیں اور پچھلے پندرہ سالوں سے ہر اتوار کو نیوز ویوز کے عنوان سے ایک ریڈیو کالم نشر کرتے ہیں۔

کسی زمانے میں تعلیم و تربییت ، کھلونا، ہمدرد نونہال، اور روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ کا کم عمر سلیم بزمی اب نارتھ امریکہ میں سلیم سیّد کے نام سے براڈکاسٹنگ، صحافت، اردو نثر اور شاعری کے میدان میں خاموشی کے ساتھ اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

سلیم سیّد ایک انجنیئر ہیں اور ٹیکساس اے۔اینڈ۔ایم یونیورسٹی سے بی۔ایس انجنیئرنگ کر کے ایک کمپنی میں سینیئر انجینیئر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ زارا سیّد نے بھی ہیوسٹن ہی سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے ایک امریکن ایئر لایئنز سے وابستہ ہیں اور بہت دلکش آواز کی مالک ہیں۔ دونوں میاں بیوی سالوں سے ہواؤں کے دوش پر آواز کا جادو جگا رہے ہیں۔

 سلیم سیّد نے اپنے ہمہ جہت پس منطر کی وجہ سے جہاں جیو ٹی وی کے اشتراک سے پروگرام کیئے ہیں وہاں  بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس سے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کرتے رہتے ہیں۔

استاد نصرت فتح علی خان سے لیکر عاطف اسلم تک، عمران خان سے لیکر بینظیر بھٹو تک اور علی سردار جعفری سے لیکر احمد فراز تک، ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ شخصیات کے ساتھ سلیم سیّد کے کیئے گئے  انٹرویوز ریڈیو‘‘ینگ ترنگ ‘‘کی آرکاییئوز میں موجود ہیں جنہیں اب عالمی اخبار کی زینت بھی بنایا جائےگا۔

 عالمی اخبار کا یہ اعزاز  ہے کہ سلیم سید ان کے ساتھ امریکہ کے بیورو چیف کی حیثیت سے وابستہ ہوئے ہیں ۔
................................

زرقا مفتی۔''مدیر ادبی دنیا و تکنیکی امور''۔عالمی اخبار
زرقا مفتی پاکستان کے شہر دل ''لاہور'' میں مقیم ہیں اور اعلیٰ ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں۔
معاشیات میں ماسٹرز ، بین الاقوامی تعلقات اور کمپیوٹر سائنس میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔کچھ عرصہ ایک کنسلٹینسی پر سسٹم اینالسٹ کی حیثیت سے کام کیا لیکن ۔پھر خود کو گھر داری کے محاذ پر ہی محدود کر لیا لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے علمی اور ادبی سرگرمیوں کو خیر باد کہہ دیا بلکہ امور خانہ داری کے بعد جو انکا ذاتہ وقت بچا اسے انہوں نے اپنے ادبی اور تخلیقی ذوق کی تسکین کے لیئے استعمال کیا۔
بقول خود زرقا مفتی کے کہ ''پڑھنے لکھنے کا شوق شروع سے ہے۔ ادب سے ایک قاری کی حیثیت سے تعلق بہت پُرانا ہے۔ زمانہءطالبعلمی سے ہی لکھنے کا شوق تھا ۔ ادھر اُدھر لکھ کر چھپا کر رکھ لیتی تھی۔ اپنی خاموش طبیعت کے باعث یہ سب کسی سے شئیر نہ کیا۔ کمپیوٹر سے دلچسپی تھی اس لئے انٹر نیٹ کی ادبی دُنیا میں قدم رکھا۔ پچھلے کچھ برسوں سے مختلف ادبی فورمز پر لکھتی آ رہی ہوںشاعری کے علاوہ کہانیاں بھی لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ ملکی حالت پر کالم لکھنے کا سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔ اُردو انجمن کے کچھ صفحات ڈیزائن کئے اس کے بعد امجد اسلام امجد صاحب کی سایٹ ڈیزائن کی''۔
زرقا مفتی ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں اور ''عالمی اخبار'' کے عملے میں انکی ''مدیر ادبی دنیا و تکنیکی امور'' کی حیثیت میں شمولیت بے شک اخبار کے ادبی ذوق اور معیار کو بلند کرے گی۔
ادارہ''عالمی اخبار'' خاص طور پر زرقا مفتی کا ممنون ہے کہ انہوں نے ہمارے اس قافلے میں نہ صرف شرکت کی حامی بھری بلکہ اپنے تکنیکی اور تخلیقی تعاون سے ہمیں احسان مند کیا۔
عالمی اخبار کا بلاگ سیکشن تنہا انہیں کی محنت کا منہہ بولتا ثبوت ہے اور اسکے علاوہ ''عالمی اخبار'' کی تمام تکنیکی تیاری میں محترم امجد شیخ کے ہمراہ انکی مساعی قابل تعریف ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزالہ رشید‘‘مدیر بچوں کاادب‘‘ عالمی اخبار
ادارہ‘‘عالمی اخبار‘‘ محترمہ غزالہ رشید صاحبہ کا ممنون ہے کہ انہوں نے اس اخبار میں بچوں کے ادب کی مدیر ہونے کی ذمیداری قبول کی۔ بچوں کے ادب میں انکا نام ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے اوراس ٹیم کا رکن ہونا ہمارے ادارے کے لیئے ایک اعزاز ہے۔‘‘عالمی اخبار‘‘
ہماری درخواست پر غزالہ رشید نے اپنا تعارف لکھا ہے جو انہیں کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔

‘‘اپنے آپ سے باتیں کرنا آسان ہے لیکن اپنے بارے میں بتانا خاصا مشکل ہے، ویسے بھی سننے، کہنے کے دن تیزی سے بیت رہے ہیں۔ نگہت نسیم کا اصرار پھر سے ماضی کی طرف بلاتا ہے اور سفر کی روداد کہتے ہوئے کچھ یاد کیا۔ ۔۔کچھ بھول گئے کہ مصداق پہلے لکھنا آیا اور پھر شاید بولنا۔

نونہال، تعلیم و تربیت یہ سب ابو کی مہربانی تھی کیونکہ امی اور ابو کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ ادبی ماحول ورثے میںاور پھر جہیز میں بھی ملا۔ تجوری میں سنبھال کے نہیں رکھا، استعمال میں رکھا تاکہ زنگ نہ لگے۔

ایم اے آنرز سوشیالوجی (عمرانیات) میں کیا۔ آنرز میں فرسٹ کلاس 3rd پوزیشن تھی۔ لیکن لکھنے پڑھنے کے شوق کی وجہ سے ملازمت جاکے خود ہی چاند گروپ آف پبلیکیشن میں کرڈالی۔ اور بہت خوش تھے۔ گھر والوں کے اصرار کے باوجود سی ایس ایس کرنے سے گھبراتے رہے۔ کیونکہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا شوق تھا خاصا مردانہ شوق تھا، وقت دور کھڑا مسکرارہا تھا۔
یوں سمجھئے کہ قلم کو رفتار ملی اور اتنا کچھ لکھا کہ سنبھالا بھی نہیں۔ دوستوں کی محبتیں ہمیشہ سنبھالیں اسی لیے شاید آج پھر آپ اور اپنا پن میرے ساتھ ہے۔ شادی کے چھ سات سال بعد حسن بن نسیم زندگی میں آئے اور مامتا کے جذبے نے سر ابھارا اور اْسی سال سے بچوں کی کہانی کی آمد ہونے لگی کیونکہ اردو میرے خون میں شامل ہے۔ اور اس کی محبت میرا ورثہ، میرا جنون۔

کچھ کام آکسفورڈ پریس یونیورسٹی کے ساتھ کیا۔ عشبہ پبلیکیشن کے ساتھ کافی عرصہ نصابی کتب پر کام کیا۔ اور پھرماہنامہ دوشیزہ کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بچوں کی کہانی اور بزرگوں کے لیے کالم لکھے پڑھے۔ ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ سائیکا ٹرسٹ کے انٹرویو اس لیے بھی کیے کہ دور دیس جا بسنے والے بہن بھائیوں کے بغیر پاکستان میں اب والدین کی تنہائی کو ان کے ساتھ ساتھ میں نے سہا اور دکھ سہنا سیکھا، صبر کرنا سیکھا۔

 اب عظمیٰ گیلانی کے ساتھ بچوں کی نصابی کتب پر کام کررہی ہوں۔

اخلاقیات میرا پسندیدہ موضوع ہے، ریڈیو کی آوازیں اور دوستوں کی محبتیں ہیں جو میرے قلم کو رواں رکھے ہوئے ہیں، یہ کتابی جملہ قطعی نہیں ہے بلکہ ایک مصرعے پر آپ سے رخصت لیتی ہوں ۔

‘‘میں کیوں نہ ایک ہی قطرے سے سیر ہوجاؤں۔‘‘

غزالہ رشید۔کراچی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریدہ لاکھانی‘‘مدیرملٹی کلچر‘‘ عالمی اخبار

فریدہ لآ کھا نی  سڈنی کے فکری حلقوں میں  ایک پہچان رکھتا ہے اور ان کا ہونا محفل کی شان بڑھاتا ہے ۔ بنیادی طور پر خود گجراتی ہیں لیکن اردو ادب میں شاعری ، کالم نگاری اور فکری مضامین فریدہ کی پہچان ہیں ۔ آپ میں سے سب نے ضرور ہی ان کے کالم عالمی اخبار میں پڑھیں ہونگے ۔۔ عالمی اخبار کی مستقل کالم نگار ہیں ۔ فریدہ کی علم دوستی اور علم کی خدمت کی میں ہمیشہ سے معترف رہی ہوں ۔۔ کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کیا ، کئی اخبارات اور ادبی جرائد کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں ۔وہ مترجم کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور سڈنی کے عدالتی مقدمات کے تراجم میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔ بھی ہیں 

فریدہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا کے قومی ترانے کا اردو میں ترجمہ کیا اور وہ شاعرات اور شاعروں میں ترجمہ کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں ۔۔ان کا حال ہی میں ایک شعری مجموعہ “پیمانہ ہستی“ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے ۔ فریدہ نے پاکستان کی نمایئندگی اور اردو کے فروغ کے لیئے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہوئی ہے ۔۔

فریدہ بہت محبت ، قدر کرنے والی انتہائی ملنسار دوست ہے ۔۔عالمی اخبار کو فخر ہے کہ ہمارے بے حد اصرار پر اپنی بے پناہ مصروفیتوں میں سے بھی ہمارے لیئے وقت نکال لائی ہیں ۔۔اور ملٹی کلچر کے شعبے کی مدیر کی حثیت سے عالمی اخبار کے کارواں میں شامل ہوئی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


روبینہ فیصل ‘‘بیورو چیف ٹورنٹو‘‘ عالمی اخبار
 
روبینہ فیصل نئے لکھنے والوں کی اُس کھیپ سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے اردو ادب میں تخلیق کاری کو تجارت کے لیئے نہیں  بلکہ ایک فکر اور نظریے کے لیئے اپنایا ہے اور یہ فکر سچ کی تشہیر اور سچ کی تصویر کشی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ عالمی اخبار کے قارئین انکی تخلیقی اور قلمی کاوشوں سے مستفید ہونگے
(مدیر اعلیٰ۔عالمی اخبار)

روبینہ فیصل صاحبہ نے اپنا تعارف اس طرح لکھا ہے

‘‘اپنا تعارف لکھنا بڑا عجیب سا لگتا ہے ۔ابھی تعارف مکمل ہی کہاں ہوا ہے ابھی تو سفر جاری ہے اور شائد شروع ہی ہوا ہے ۔
میں جہاں کھڑی ہوں وہاں سے مکمل تصویر ابھی نظر نہیں آتی ۔۔ بہرحال عالمی اخبار کے لئے اپنا محتصر تعارف لکھنے کی کوشش کرتی ہوں

میں نے لائلپور پاکستان سے ہائی سکول تک تعلیم حاصل کی ۔۔ کوہ نورگرلز سکول ۔ اب نجانے کس حال میں ہوگا ۔ گورنمنٹ کالج فار گرلز سے ایف ایس سی پری میڈیکل کیا ۔۔ میڈیسن اور ڈاکٹری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی انسانوں کے جسم کو ٹھیک کرنے کی بجائے انسانوں کے دماغ پڑھنے کا شوق تھا ، نفسیات کے مضمون  میں بہت دلچسپی تھی ،مگر والدہ کو ان مضامین کی پڑھائی وقت کا ضیاع لگتا تھا لہذا لاہور گرلز کالج میں انگلش لٹریچر اور نفسیات میں نام میرٹ لسٹ میں آیا رہا مگر فیس کلرک کے آفس تک نہ پہنچ پائی ۔ بغیر کسی دلچسپی کے ہیلی کالج آف کامرس سے بی کام کیا ۔ دوبارہ نفسیات میں گھسنے کی کوشش کی مگر بی کام والوں کااس مضمون  میں کیا کام ۔

 لاء میں جانا چاہا ، وکیلوں کے درختوں سے بندھے آفس دیکھ کر دل دہل گیا اور پھر ایف سی کالج لاہور سے انگلش میں ماسٹرز کر لیا ۔ یوں کسی اور منزل کا تعین کیا مگرمختلف زگ زیگ راستوں سے ہوتے ہوئی میں پنجاب بنک جا پہنچی ۔

 قسمت یونہی کسی جگہ نہیں لے جاتی بنک میں جانااصل میں فیصل کی طرف جانا تھا ، بے شک کچھ فیصلے اور کچھ لمحے زندگی کے راستے طے کر دیتے ہیں ۔ بنک میں زندگی کے چند سال بتائے ، وہیں فیصل سے ملاقات ہوئی اور شادی ہوگئی ۔ شادی کے بعد خدا نے پیارے پیارے بچوں سے نوازا ۔ جو زندگی کا خوبصورت ترین تحفہ ہیں ۔دو بچوں کے ساتھ 2000 میں کینڈا آئے تھے اب چار حسین پھول ہمارے آنگن کی رونق ہیں ، جن کے قہقوں سے ہمارا گھر گونجتا ہے ۔

ٹورنٹو میں امیگریشن کنسلٹینسی کا بزنس ہے۔میں اور فیصل نہ صرف ذندگی کے ہم سفر ہیں بلکہ ہم بزنس کا سفر بھی اکٹھے طے کررہے ہیں  فیصل کا اکاؤنٹنگ اور میرا فیلڈ امیگریشن ہے ۔ یوں ذندگی ایک طرف چلتی جارہی ہے ۔

 کینڈا کے ابتدائی دن میرے منتظر ہیں کہ میں ان پر قلم اٹھاؤں اور بے شک ان تجربات پر ایک کتاب میرے اوپر میرا ہی ادھار ہے ۔،مجھے لکھنے کی طرف دھکیلنے والے( فیصل کی حوصلہ افزائی کے بعد) ڈاکٹر خالد سہیل ہیں جن سے پہلے دن سے آج تک اصولی اور نظریاتی اختلاف بہت رہا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں میرا پہلا کچا کچا افسانہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ایک ادبی نشست میں مجھے بڑے بڑے تجربہ کار افسانہ نگاروں کے سامنے افسانہ پیش کرنے کا موقع دیا ،جس سے میرے اندر ہمت آئی ، اور نقاد جس قدر مجھ پر تنقیدی حملے کرتے رہے ،مجھ میں آگے بڑھنے کی اور ہمت آتی گئی اور آج بھی میں جب بھی کوئی افسانہ لکھوں مجھے سب سے پہلے ڈاکٹر خالد کا خیال آتاہے کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کی طرح تنقید اور تبصرے سے جان نہیں چھڑاتے اور وہ میرے افسانے کو انتہائی لگن سے پڑھ کر اس افسانے کی حقیقت سے مجھے آگاہ کردیتے ہیں ۔

کالم نگاری کا باقاعدہ آغاز یہاں کینڈا سے مقامی طور پر چھپنے والے ایک اردو اخبار سے کیا تھا ۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ کالم نگاری میں دلچسپی بڑھتی گئی اور میں لکھتی گئی ۔

اس سے میرا افسانہ بہت متاثر ہوا  کیونکہ جب دماغ کا غبار ایک کالم میں نکلنا شروع ہوا تو افسانہ لکھنے کی نوبت کم کم آنے لگی ۔بہت سی چیزیں ہیں جنہوں نے میری پہچان بننا تھا ، مگر راستے میں کھوسی گئی ہیں اسی لئے تعارف مکمل نہیں ہوا ۔ کب ہوگا ؟ ہوگا بھی یا نہیں ؟ یہ وقت بتائے گا ۔

اہم تحقیقی دستاویزی فلمز بنانا ، اور پاکستان کے بچوں کے لئے بہت سا سوشل کام کرنا ۔ یہ بھی ادھورے کام ہیں ، میری آنکھوں کے جاگتے خواب ہیں ۔۔ ابھی سفر بہت دور کا ہے اور میں نے اس لمبے سفر کا آغاز ہی کیا ہے ۔

عالمی اخبار جو ایک مختلف نوعیت کا میرے مزاج سے ہم آہنگ ویب اخبار لگتا ہے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم اور محترم صفدر ہمدانی صاحب جنہیں میں نے دیکھا نہیں ، جن سے میں ملی نہیں ۔۔ انہوں نے ایک فون کال سے مجھے اپنا بنا لیا ہے ۔۔ کیا اب بھی اتنے مخلص اور سادہ بیان لوگ دنیا میں ہیں یا یہ میرا ایک وہم ہے ؟ جو ایک بھی شخص حق سچ کا علم بلند کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں ۔ اگر صفدر ہمدانی اور نگہت نسیم نے یہ ٹھانی ہے کہ وہ لوگوں کو ایک سچا اخبار اور خوبصورت تحریریں دیں گے ۔۔ تو میں یہاں کینڈا میں بیٹھ کر ان کے سچ میں اپنا حصہ ڈالتی رہوں گی ۔ ان کے سچ کے گلشن میں میں اپنے حصے کا پھول اگانے کا ارادہ باندھ چکی ہوں ۔ بہت ساری مصروفیات میں بہت کچھ تک نہ لکھ سکوں گی مگر جتنا بھی لکھوں گی حسبِ عادت سچ ہی لکھوں گی ۔ مجھ سے لگی لپٹی، ڈھیلی ڈھالی یا دوغلی بات نہیں ہوتی ، امید ہے کہ یہ مزاج اخبار کی پالیسی سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہوگا ۔
...................................................

چو دھری احسن پریمی ''بیورو چیف پاکستان''۔عالمی اخبار
چو دھری محمد احسن پریمی صحافت اور اردو اہل قلم کی دنیا میں " احسن پر یمی" کے نام سے جانے جاتے ہیں اور  پاکستان میں غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین گجرات کے ایک نواحی گائوں لو رائے میں ایک زمیندار و علمی گھرانے " رائے چودھری "میں 04-06-1968 کوپیدا ہوئے۔

احسن پریمی کے پردادا رائے خدا بخش کا شمار علیگڑھ کا لج سے پہلے گر یجویشن کرنے وا لے طلباءمیں ہوتا ہے۔ جبکہ دادا رائے چودھری محمد عالم "1940" قیام پاکستان سے قبل بحثیت ڈسٹرکٹ ناظرگجرات فرائض انجام دے چکے ہیں۔والد کا پیشہ کاشت کاری تھا۔جبکہ قیام پا کستان سے قبل بر صغیر کی عظیم تعلیمی درسگاہ زمیندار ڈگری کا لج گجرات سے چچا چو دھری مظفر حسین بحیثت پرنسپل دو سال قبل ریٹا ئر ہوئے ہیں۔

   چودھری احسن پر یمی نے ابتدائی تعلیم تا گریجویشن گجرات سے جبکہ ایم اے ، ایم فل جرنلزم و میڈیا مینجمنٹ و پا لیسی، کالجز آف پروفیشنل سٹڈیز لا ہورسے کیا۔1990 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد بین الاقوامی ادارے کے جریدہ " ورلڈ پریس سروے" میں بطور چیف ایڈیٹر کام کیا۔1994تا1998تک مختلف قومی اخبارات میں فیچر نگاری کی اور ا سلام آباد میں قا ئد اعظم انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز میں بحثیت ڈائر یکٹر پرو گرام فرائض انجام دیے۔1998تا 2003 تک دی نیوز فیچر سروس میں بطور فیچر ایڈیٹر کا کیا اور 2003ءتامئی2007 تک سینڈیکیٹ فیچرز انٹر نیشل میں ا سلام آباد سے بطور بیورو چیف منسلک رہے۔2007 تا حال بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس"اے پی ایس" کے چیف ایڈیٹر ہونے کے علاوہ  راولپنڈی اور اسلام آباد سے اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع ہونیوالے ہفتہ وار اخبار "انسانی ترقی" کے بھی چیف ایڈیٹر و پبلشر ہیں۔
چودھری احسن پریمی کے قو می اخبارات میں شائع شدہ کالموں کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔چودھری احسن پریمی کئی ایک ملکی و غیر ملکی صحا فتی تنظیموں کے عہدیدار بھی ہیں۔
‘‘عالمی اخبار‘‘ میں بیورو چیف پاکستان کی حیثیت میں انکی شمولیت بلاشبہ جہاں ہماری خبروں اور صحافتی مواد کو پڑھنے والوں کے لیئے قابل یقین بنائے گی وہاں انکی خبر رساں ایجنسی کی خبریں،کالم اور تبصرے پڑھنے والوں کو آزاد اور بے لاگ صحافت سے روشناس کروائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاور چوہدری ''نائب بیورو چیف پاکستان''۔عالمی اخبار

خاورچودھری1972ء کو تاریخی شہر حضرو میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم شہر کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ جب آٹھویں درجے میں تھے تب سے لکھنا شروع کیا اور پھر ملک کے معروف ڈائجسٹوں میں چھپنے کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا۔شروع میں مختصر مضامین ،کہانیاں اورغزلیں لکھیں ازاں بعدنعتیں کہیں۔1993ء میں ان کا نعتیہ مجموعہ” شمع فروزاں“ کے نام سے شائع ہوا۔وہ نعت،غزل،دوہا،نظم،ہائیکواور ”واکا “میں طبع آزمائی کرنے کے علاوہ افسانہ اور ناولٹ بھی لکھتے ہیں۔

رسمی تعلیم کا سلسلہ کالج کا زمانہ شروع ہوتے ہی منقطع ہو گیا تھا تاہم پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے انھوں نے بی اے کاامتحان صحافت کے مضمون کے ساتھ اچھے نمبروں سے پاس کیا۔

علم واَدب سے جو تعلق پچپن میں قائم ہوا وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا۔انھوں نے ملک کے کئی ایک مشاہیرِ اَدب سے مراسلت کا سلسلہ قائم کیا۔صحافتی زندگی کا آغاز انھوں نے1993ء میں ہفت روزہ” ویوز“ سے بہ طور بیوروچیف کیا۔اسی زمانے میں انھوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم اسلام آباد سے مختصرکورس بھی کیا۔پھرکئی ایک اخبارات کے ساتھ وابستگی رہی۔اورشعبہٴ صحافت ہی ان کا وسیلہٴ معاش بنا۔

1998ء میں انھوں نے حضرو شہر سے پہلا باقاعدہ ہفت روزہ اخبار”حضرو“ جاری کیا۔دوسال بعدادبی رسالہ” سحرتاب“ جاری کیا۔جس میں پاک وہند کے ادیبوں کی تحریریں شامل کی گئیں۔اسی سال منفرداخبار”تیسرارُخ“ جاری کیا جسے ملک بھر کے علمی حلقے میں پذیرائی ملی۔2003ء میں جب تیسرارُخ کو روزنامے میں بدل دیا گیاتو اس کے ہفتہ وار ادبی ایڈیشن میں مشاہیر اَدب کے انٹرویوز کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔جسے بہت کامیابی ملی۔مشکورحسین یاد،ڈاکٹرانورسدید،امراوٴ طارق،ڈاکٹرانعام الحق جاوید،ڈاکٹرمرزا حامد بیگ، محترمہ عذرا اصغر سمیت نصف صد سے زائد ادیبوں کے انٹرویوز اس اخبار میں شائع ہوئے۔2004ء میں انھوں نے راولپنڈی سے روزنامہ” تعلم“ کا اجراء کیاتواس کے ساتھ ہی ”تیسرارُخ“ کو واپس ہفت روزہ میں تبدیل کردیا۔ 2000ء میں انھوں نے کالم نویسی کا بھی آغاز کردیاتھا۔ان کے کالم” جنگ،نوائے وقت،خبریں، اوصاف، اذکار، ہمدرداوراساس وغیرہ میں چھپتے رہے۔ مئی2005ء سے انھوں نے روزنامہ” اسلام“ کے ساتھ
با معاوضہ کالم نگار کی حیثیت سے وابستگی اختیاکر لی۔مہینے میں کم ازکم بیس کالم شائع ہونے لگے۔ یہ سلسلہ اَب بھی جاری ہے۔

خاورچودھری کی ادبی تحریریں ملک کے نامور ادبی رسالوں” سخن وَر، تجدیدنو،بیاض،شعروسخن،قرطاس،نیرنگ خیال اور تضمین وغیرہ میں چھپتی رہتی ہیں۔ان کا ایک طویل ناولٹ 1996ء میں شائع ہو چکا ہے۔

خاورچودھری کے فن کے حوالے سے ڈاکٹرفرمان فتح پوری، محسن بھوپالی،سلطان جمیل نسیم،عذرا اصغر،شمس الرحمان فاروقی اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی سمیت ایک صد سے زائد مشاہیر نے مضامین اور تاثرات لکھے ہیں۔ حال ہی میں معروف افسانہ نگار سیدن نصرت بخاری نے ان مضامین اور تاثرات کو یک جا کرکے ”حدیثِ دیگراں“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس سے قبل انڈیا سے شائع ہونے والے آن لائن ادبی رسالے ”سمت“ نے ان کے حوالے سے خصوصی گوشہ بھی شائع کیا اور اپنے اداریے میں انھیں” ورسٹائل جینیئس“ کا خطاب بھی دیا۔
خاورچودھری کی چار کتابیں:
خواب کرچیاں اور مسافر(کالم/2001ء)
ٹھنڈا سورج    (شاعری/2006ء)
چراغ بہ کف    (کالم/2007ء)
چیخوں میں دبی آواز(افسانے/2008ء)
شائع ہوچکی ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں اُردو کے اُستاد ،ادیب،فارسی ،اردو اور پنجابی کے شاعر،محقق ڈاکٹرارشد محمود ناشاد کے حوالے سے” تیسرارُخ“ کا ضخیم نمبر بھی مرتب کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نعمان نیر کلاچوی۔بیورو چیف برائے صوبہ سرحد و قبائلی علاقہ جات عالمی اخبار


مکمل نام نعمان نیر کلاچوی ، کلاچوی صفت نسبتی علاقہ ہے اور جائے پیدائش  پاکستان کا ایک دور افتادہ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان کا گاؤں کلاچی ہے ،ابتدائی تعلیم اسی گاؤں میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان کا انتخاب کیا اور صحافت کی بجائے ایم اے اردو کو ترجیح دی اور اسی لشکری بھاشا ہی میں جامعہ گومل سے تخصص کی ڈگری حا صل کی۔
بزرگوں کے بے حد اصرار پر دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی وابستگی رہی ، صحافت کا کالج کے زمانہ سے شوق پیدا ہوا اور آگے چل کر اردو ادب اور صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ،سب سے پہلے صحافت کا آغاز کالم نگاری سے کیا بعد ازاں ایک قومی اخبار میں بحیثیت انچارج ادبی ایڈیشن کے خدمت کا موقع ملا ،کچھ عرصہ کے بعد ایک نووارد قومی اخبار  میں بطور سینئر ایڈیٹر کے کام کرنے کا موقع ملا اور اسکے بعد روزنامہ ایکسپریس سے کافی عرصہ وابستگی رہی اورانگریزی روزنامہ The Frontier Post میں بھی خدمات سر انجام دیں۔
ادب سے بھی خوب دلچسپی ہے اور اپنے ہاں ایک ادبی تنظیم بھی بنائی ۔ افسانوں میں  سرشام اور شفق قابل ذکر ہیں جبکہ ایک اردو ناول ناآشنا خواص اور عوام میں کافی مقبول ہوا ،باب عشق اور مست نیلا ساگر کے نام سے دو شعری مجموعے مارکیٹ میں آچکے ہیں اور جسے عوام اور خواص کی طرف سے کافی پذیرائی ملی ہے
علاوہ ازیں عزیز دوست اور سینئر صحافی بھٹی صاحب کے بے حد اصرار پر بین الاقوامی خبر رساں ادارہ کی سرپرستی اپنے ذمے لی جبکہ گوندل صاحب بالاآخر الیکٹرانک میڈیا کی طرف لے آئے اور ایک مقامی نیوز چینل میں نیوز ایڈیٹر کی ذمہ داری سونپ دی۔ریڈیو اسٹیشن سے بھی وابستگی ہے اور اس طرح ذرائع ابلاغ کے لگ بھگ ہر شعبے سے تعلق ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mohammed Safdar. Editor English Section

Mohamed Safdar is a young energetic and well informed person. Although journalism is not his profession but a passion definately. He joined aalmi akhbar as the  editor of the English section.
Mohammed Safdar introduces himself like this........I'm currently in my second year of studying Economics, Politics and International Studies at the University of Warwick.
 Despite the fact that I'm not studying Journalism, I'm concious of the world around me, and the way in which worldy affairs are mediated to the populace, and as a result, I've always been interested in writing. Encouraged by academically motivated parents, writing has been a gift passed on to me, and one which I enjoy .using to speak about current affairs. 



:دیگر مضامین
(15.03.2009) اردو انجمن برلین کے تحت ایک یادگار شام
(09.03.2009) اردو انجمن برلین کی تقریب
(09.03.2009) برلین میں جشن عیدِ میلاد النبی
(21.02.2009) ایسے قابل فخر لوگ جن پر کینڈا اور پاکستان کو ناز ہے
(26.01.2009) اصغر کرمانی کے گھر پر سالانہ مجلس عزا
(31.12.2008) برطانیہ میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس
(22.12.2008) جرمنی میں جشن عید غدیر مباہلہ
(18.12.2008) فرینکفرٹ میں جشنِ عید غدیر
(22.10.2008) عالمی اخبار بلاشبہ عالمی اخبار ہی ہو گا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں