|
نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
15.07.2010, 01:11am , جعمرات (GMT+1)
سید مصباح حسین جیلانی۔سڈنی
ہدایت اور نبوت کا بند و بست ۔ ۔۔ آخری قسط
کاروان انسانی کا آغاز آدم علیہ السلام سے ہوا تو خالق نے اس کی ہدایت کا بند و بست اس کے آنے سے پہلے کر دیا۔ خلقتِ آدم (ع) سے پہلے ان کی خلافت کا اعلان کر کے بتایا کہ میں جس کو زمین میں بھیج رہا ہوں وہ میری طرف سے زمین میں میرا نائب الامور ہوگا یعنی امور ارضی کے اندر اسکو حکمرانی و اختیار دے کر بھیج رہا ہوں تا کہ وہ ان اقدار کو پروان چڑھائے جو مجھے عزیز ہیں اور ان سے دور رہے جو مجھے نا پسند ہیں۔ اگر آدم (ع) اقدار الٰہیہ کو پروان چڑھانے کا کارِ خر سر انجام نہ دیں تو ان کو خلافتِ الٰہیہ کا کوئی حق ہی نہیں رہتا، جبکہ قرآن گواہ ہے کہ خالق نے انہیں خلیفہ بنا کر ہی بھیجا۔خلافت الٰہیہ کی ذمہ داری و اختیار کا زیادہ تصریحی وضاحتی بیان جناب داؤد علیہ السلام کے سلسلے میں فرمایا کہ يَا دَاوُودُ انَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَت فِي الْارْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ(جزو آیت ٢٦، سورہ ص) کہ اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا کہ تا کہ آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے فرمائیں۔
اپنے منصوص نمائندوں کو حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت دینا مقصود ہی اس لئے تھی کہ انسان جب نسل در نسل اپنی جبلت کی غلامی اختیار کرنے لگے تو اسکے لئے کوئی ایسی ہستی ہو جسکو وہ نمونہء عمل قرار دے سکیں اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے رہیں۔ یہ خلافت الٰہیہ چونکہ منصوص من اللہ تھی اور بالتخصیص آدم (ع) و دیگر انبیاءکے لئے تھی، اس لئے نوع انسانی میں ہر فرد اس خلافت کا حق دار نہیں ہے۔ جب ملائکہ نے خلافت آدم پر اعتراض کیا تو پروردگار نے انکی اہلیت ثابت کرنے کے لئے دلیل ان کے اس علم کو بنایاجو کہ وہبی تھا، نہ کہ تجسس انسانی کے ذریعے تجرباتی طور پر حاصل علم۔
[بلکہ انبیاء کے لئے تجسس و تجربات کو منع فرمایا،{ چونکہ تجسس و تجربات جبلت کا ہی حصہ ہیں اور انکی طرف مائل ہونا حرام نہیں لیکن ترک اولیٰ کہلاتا ہے} جیسا کہ شوق تجسس میں اماں حوا (علیھا سلام) کی تشویق پر آدم (ع) نے شجرہء ممنوعہ کا پھل کھایا تو یہ ان کے لئے ترک اولیٰ کو نظر انداز کرنے کا سبب بنا جس لئے خالق نے ان سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور انہیں جنت سے فورا زمین کی طرف بھیج دیا۔] جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ ضمیر تجربات کی روشنی میں نہیں پنپتا، اسی طرح زمین پر پہلی خلافت کے لئے بھی خداوند متعال نے متجربہ علوم کی بجائے وہبی علوم کو بنیاد بنایا ہے، یعنی کہ اپنی خلافت کے لئے اولیں دلیل علم کو ہی بنایا ہے۔ اسی لئے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ نمائنندگانِ خدا دنیاوی درسگاہوں میں زانوئے تلمذ طے کرنے کے ضروت مند نہیں ہوتے۔
چونکہ ضمیر خود کامل ہدایات کا سر چشمہ ہے اور ہر غلطی کو انسان اظہار کرے یا نہ، اسکا دل غلط مانتا ہے اسی لئے وہ (ضمیر) استاد کامل کی تلاش میں رہتا ہے، جس لئے قدرت نے ایسی ہستیوں کو مبعوث فرمایا جن سے غلطی کا امکان نہ تھا اور جن کے لئے ایسی عصمت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ان سے غلطی، برائی اور گناہ کا تصور بھی محال ہے۔
سو ہادیان خداوندی کی ایک صفت عصمت مقرر کی گئی تو یہ جھوٹے مدعیان کے مقابلے میں انکی پہچان کا سبب بھی بن گئی اور جہاں کہیں غلطیوں کا اعتراف، امکان، اور قول و فعل کا تضاد نظر آیا، وہیں لوگوں نے پہچان لیا کہ یہ داعی مفتری و کاذب ہے اور چونکہ اس کے دعوے کی بنیاد ہی جھوٹ پر قائم ہے، اس لئے اسکی بتائی ہوئی راہ چاہے بظاہر کسقدر صاف اور عالی نشان کیوں نہ نظر آجائے، پھر بھی اس کے اتباع میں نجات ممکن نہیں۔ اسطرح تاریخ انسانی میں جتنے بھی جھوٹے مدعیان نبوت آئے، انکا ابطال ہوتا رہا سوائے ایک دو کے آج تاریخ میں کسی کا نام تک قابل ذکر نہیں ہے۔اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جیسے ضمیر خود خالق کی القاء کردہ قوت کا نام ہے، اسی طرح اسکا استاد بھی منصوص من اللہ ہو جو رسالت، نبوت اور خلافت کی شکل میں ہوتا ہے۔ ان عہدوں کے جس داعی کو تائید ایزدی نصیب نہ ہو وہ مفتری و کاذب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اور ایسے شخص کے اتباع و اطاعت میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔
(آئندہ سطور میں ہم انشاء اللہ پھر کبھی ان امور پر بحث کریں گے جن کی روشنی میں منصوص من اللہ عہدیداران کی پہچان ممککن ہو سکے۔ )
|