’’

کیکلی کلیر دی-پگ میرے ویردی‘‘ ان کھکھلاتے بولوں کی آواز جب ان بولوں میں ڈھلتی ہے۔’’ساڈا چڑیاں دا چنبہ وے بابل اساں ٹرجانا‘‘ تو امڑی اور بابل دونوں کی پلکیں نم ہو جاتی ہیں ۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیٹیاں ہمیشہ سے ’’پرایا دھن‘‘ سمجھی جاتی ہیں۔اسی لئے ان کی تتلیاں اور جگنو پکڑنے کی عمر سے ہی مائیں ایک بڑے سے صندوق میں ان کیلئے جہیز جمع کرنا شروع کر دیتی ہیں۔اس جہیز کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کھبی کھبی اُن مجبور خاندانوں کو قرض کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑتا ہے۔ جو اپنی گڑیا جیسی بچی کیلئے بچپن میں اسکی بے حد خواہش پر ایک گڑیا بھی نہیں خرید سکتے ایسے موقع پر ہی کہا جا سکتا ہے کہ۔
لے گئے سارے کھلونے شہر کے سرمایہ دارمیلے کپڑوں والے بچے دیکھتے ہی رہ گئےمگر یہ بھی حقیقت ہے کہمیل کچیلا بچہ بھی شہزادوں جیسا لگتا ہےہر ماں کو اس کی بیٹی بختاور جیسی لگتی ہے
بیٹیاں اپنی ماؤں کیلئے شہزادوں سے کم نہیں ہوتیں ۔اگر چہ وہ انہں اتنے نازونعم سے نہیں پال سکتیں ۔مگر ان کی رخصتی کیلئے خوبصورت خواب لے کر ایک شہزادے کی تلاش میں ضرور رہتی ہیں ۔اور پھر لڑکیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں تو ان کے لئے ان کے نصیب کے رشتے مل ہی جاتے ہیں۔مگر ان رشتوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ایسی ’’ڈیمانڈز‘‘ کی لسٹیں ہوتی ہیں،جنہیں پورا نہ کرنے کی وجہ سے بیٹیا ں گھروں میں ہی بیٹھی رہتی ہیں ،اور ان کے سروں میں چاندی کے تار چمکنے لگتے ہیں مگر نصیبا پھر بھی نہیں کھلتا۔
رشتوں میں پریشانیوں کی وجہ غربت،مہنگائی،پسماندگی،نمود ونمائش ہونے والے سسرال کے تقاضے ،بے جا رسم و رواج اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔شادی دو دلوں اور دو خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے ۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی مہنگائی کے اس دور میں یہ تقاضے پورے نہیں کر سکتا ۔ایسے میں اس مذہبی فریضے کو نبھانے اور گھروں کو آباد کرنے کیلئے کچھ مہر بان ہاتھ آگے بڑھتے ہیں ۔اور اپنی محبتوں کے سائے میں جوڑوں کو رخصت کرتے ہیں۔ان ہاتھوں میں سے دو ہاتھ وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے بھی ہیں، جنہوںنے سماجی تنظیم شیڈ کے زیر اہتمام سیالکوٹ کے نواحی علاقے مراکیوال سے تیس دلہنوں کو اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ۔ اسلام آباد سے میڈیا ٹیم کے ساتھ میںاور فرحانہ برلاس روانہ ہوئے تو راستے میں ہی موسم خوشگوار ہو گیا۔ہم نے تبصرہ کیا کہ اس شادی میں اﷲرب العزت کی رحمت سے خیر اور برکت بھی شامل ہوگئی

بارش کی بوندوں میں ہی وہ ردھم تھا جیسے موسم دھمالیں ڈال رہاہو۔ہوا رخصتی کے گیت گا رہی تھی جب ہم سیالکوٹ کے ایک مقامی ہوٹل میں داخل ہوئے۔ اس ہوٹل میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی دعوت پر پاکستان بھر سے مختلف سیاسی،سماجی شخصیات کے
اعزاز میں ظہرانہ جاری تھا۔ ان شخصیات میںعلامہ نورالحق قادری،نجم الدین خان،مہرین انور راجہ ،ارباب طاہرخان،سمیع اﷲخان۔طاہر محمود ،زاہد بشیر چوہدری وغیرہ شامل تھے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سب مہمانوں کا بہت خوشدلی سے استقبال کر رہی تھیں۔
ظہرانے کے بعد ان سب شخصیات نے پنڈال کا رخ کیا۔ جہاں راستے میں و فاقی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر فردوس عاشق

اعوان نے سدے چک اور مراکیوال میں سڑک ،سوئی گیس،بجلی،اور پانی کی سہولتوں کا افتتاح کیا ۔سات کروڑ کی لاگت پر مبنی ان منصوبوںسے علاقے کی عوام کی محرومیاں دور ہوں گی اور پسماندہ علاقے کی معیشت مضبوط ہو گی ۔
مراکیوال کے قریب ہی ڈھول کی تھاپ کی آواز خوشیو۔۔۔۔۔۔۔ں کا پیغام دے رہی تھی،خوشی کی یہ تابندہ روشنی شادی کے پنڈال مے۔ں موجود ہر شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔کچھ پلکیںخوشی سے بھیگی بھیگی تھیں اور ان کے ہو نٹوں پر ان گنت دعائیں رواں تھیں۔

ہر دعا ایک کہانی تھی کہ ان لمحوں کے انتظار میں جو آج نصیب ہور ہے تھے ۔انہوں نے کتنا لمباسفر طے کیا اور کتنی صدیوں کی تھکن اوڑھی۔ مگر رب نے آج لمحوںکو شیلڈ کے توسط سے آسان بنا ڈالا تھا۔
میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ایک سکول کی بلڈنگ میں داخل ہوئی، جہاں تیس دلہنیں پی کے گھر جانے کے ارمان پورے کرنے کیلئے سجی سنوری موجود تھیں۔تیس میں سے بیس مسلم اور باقی مسیحی تھیں ۔ سب نے ایک جیسے زیور اور سرخ عروسی لباس پہنے ہوئے تھے۔ان دلہنوں کو تین پالرز کی بیوٹیشنز نے بہت مہارت سے تیار کیا تھا

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کسی بڑی بہن کی طرح ان دلہنوں کو بہت محبت کے ساتھ لے کر اسٹیج کی طرف بڑھیں۔ ہر دلہن اپنے ہونے والے شریک حیات کے ساتھ مخصوص خالی نشست پر بیٹھتی گئی سٹیج پر رنگ و نور کا سماں تھا۔
نکاح اور خطبہ نکاح کے بعد معزز مہمانوں نے دلہاؤں کو گھڑی کی صورت قرآن پاک اور دلہنوں کو پچہتر ہزار مالیت کے ضروریات زندگی پر مبنی جہیز کے ساتھ ساتھ سب سے قیمتی کتاب قرآن پاک کا تحفہ پیش کیا۔ سب دلہنیں ایک ایک کر کے رخصت ہونا شروع ہوئیں ۔شام ڈھلنے لگی۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے چہرے پر ایک فرض پورا کرنے کی خوشی تھی اور دلہنوں کے عزیز واقربا کی آنکھوں میں

تشکر کے آنسو۔ہماری واپسی کا وقت ہو چلا تھا ہم پاپولیشن ہاؤس کے ڈرائیور حاجی اسماعیل صاحب اور بشیر احمد صاحب کے ساتھ روانہ ہوگئے۔
راستے بھر اسی سوچ میں رہے کہ وطن کی کتنی بیٹیاں ایسی ہیں جو ابھی بھی ان مہربان لمحوں کی منتظر ہیں ۔اور اپنی ڈھلتی عمر کو دیکھ کر کسی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا انتظار کر رہی ہیں۔