کھیل ھی کھیل میں سارے جگنو مار دیئے ۔از نگہت نسیم 20.11.2008, 01:02am , جعمرات (GMT+1)
نگہت نسیم ۔سڈنی
ڈاکٹر اشفاق رحمانی نے اپنے کالم “ قوم کا مستقبل ،دھرتی کے پھول “ میں بڑی حسرت سے لکھا تھا ۔۔ “ تمام تر ترقیوں اور خوبصورتیوں کے باوجود یہ معاشرہ اس وقت بہت بد صورت لگتا ہے جب ردی چننے والا کوڑے کے ڈھیر سے اپنا رزق تلاش کرتا ہے، جب ایک ننھا بچہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھا گندگی سے بھرا ہوا جوتا’’پالش‘‘ سے چمکاتا ہے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا ہے۔
اور بڑے بڑے بنگلوں کی زینت بننے والے قالین چھوٹی چھوٹی نرم انگلیاں بُنتی ہیں ، اور معاشرہ کی بدصورتی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب معصوم بچہ ننگے پاؤں، تارکول کی آگ جیسی سڑک پر اپنے ننھے منے پاؤں بمشکل رکھتا، گاڑیوں کے پاس جاتا اور ان سے اخبار خریدنے کو کہتا، مگر کسی گاڑی کا شیشہ اخبار خریدنے کو نیچے نہیں اترتا، کیونکہ شیشہ نیچے ہونے سے باہر کی گرم ھوا گاڑی کے اندر آکر صاحب لوگوں کی نازک طبیعت پر گراں گزرتی ھے “۔
انہی بچوں کے لیئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20 نومبر 1959ءکو قرارداد منظور کر کے بچوں کے حقوق کا تعین کیا تھا۔ جس پردنیا کے کسی بھی ملک نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ اس معاہدے کی رو سے بچوں کے کم ازکم بنیادی حقوق کا تعین کیا گیا جن میں بچوں کی زندگی کا تحفظ ، ان کی میڈیکل کی سہولیات ، ان پر تشدد اور ان کا استحصال روکنا اور انہیں امتیازی سلوک سے بچانا بھی شامل تھا ۔
ھر سال بچوں کے عالمی دن کے موقع پر یونیسف اور بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیودی چلڈرن نے دنیا کی تمام حکومتوں پر زور دیتی ہے کہ وہ بچوں کو جسمانی سزا دینے کا سلسلہ ختم کرائیں۔ اور یقینا اس سال بھی زور دے گی ۔۔
لیکن آپ کو کچھ حقیقتیں بھی بتانی ھیں تا کہ ھم سب آج مل کر سوچیں کہ دنیا کونسے زینے پر کھڑی ھے ۔
جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے بچوں سے زیادتی کے خلاف تحقیق کرنے والے اداروں سے جو اعداد و شمار حاصل کیے جا رہے ہیں ان کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال 27 کروڑ 50 لاکھ بچوں پر گھریلو تشدد کیا جاتا ھے ۔ ان میں سے 57.8 فیصد یعنی 12 کروڑ 60 لاکھ انتہائی خطرناک کاموں سے وابستہ ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق 21 کروڑ 80 لاکھ بچے معاشی طور پر متحرک چائلڈ لیبر ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 57 لاکھ بچوں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے، 18 لاکھ بچوں سے جسم فروشی کا دھندا کرایا جا رہا ہے۔
ھر سال بارہ لاکھ بچے اسمگل کیے جا تے ہیں
ورلڈ اسکاؤٹنگ رپورٹ 2006ء کے مطابق دُنیا میں 40 کروڑ بچوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں
پچاس کروڑ بچوں کو مناسب صفائی ستھرائی کی سہولت حاصل نہیں
دُنیا میں بھوک سے سالانہ ایک کروڑ 10 لاکھ بچے مر جاتے ہیں
آئی ایل او کے مطابق اسٹریٹ چلڈرنز کی تعداد 12 کروڑ ہے
ورلڈ بنک کے مطابق دنیا میں 10 سے 19 سال عمر کے ایک ارب 30 کروڑ نوجوان بچوں میں سے 50 فیصد غربت کی زندگی جی رہے ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر تعلیم سے محروم ہیں۔
دنیا کے 180 میں سے 55 ممالک ایسے ہیں جہاں اسکولوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کا تناسب کم ہے
اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال کے 2007ء کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سالانہ 97 لاکھ بچے بیماریوں اور مختلف وجوہات کے باعث ہلاک ہوتے ہیں
ترقی پذیر ممالک کے 5 سال سے کم عمر 27 فیصد 14 کروڑ 60 لاکھ بچوں کا وزن عمر کے اعتبار سے کم ہے ۔
پاکستان میں جبری مشقت کا52فیصد کمسن بچے فٹ بال انڈسٹری اور بھٹوں پر کام کر رہے ہیں۔
پاکستان میں 4 کروڑ 50لاکھ افراد کی یومیہ خوراک 1700 کیلوریز سے کم ہے اور اس تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے۔ جبکہ عالمی معیار کے مطابق ایک شخض کو روزانہ 2350 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں آئے روز سینکڑوں بچے نفسیاتی، جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں پرتشدد کسی خاص طبقے یا ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ گھر کی سطح سے لے کر سکولوں، مدرسوں، کام کی جگہوں، کھیل کے میدانوں اور محلے کے گلی کوچوں میں تک میں ہوتا ہے اور تشدد کرنے والوں میں وہ لوگ شامل ھوتے ھیں جنہیں بچوں کا قریبی تعلق دار بتایا جاتا ھے ۔
ابھی کل ھی کی خبر ھے کہ کسی اندھے بچے کو الٹا لٹکا کر استاد نے اتنا مارا کہ وہ تشدد کی وجہ سے مر گیا ۔ اور تو اور بچوں کو غربت سے تنگ آ کر بیچا جا رھا ھے ۔ گھروں سے نکالا جا رھا ھے ۔
یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر میں ا سٹریٹ چلڈرن پائے جاتے ھیں ۔ جس کی بنیادی وجہ خاندانوں کا بنیادی ضرورتوں کے محروم ھونا ھے اوراور غربت ھے جس کی وجہ سے ایسے ہزاروں بچے بے گھر ہو کر سڑکوں پر بھیک مانگنے ، گاڑیاں دھونے، جوتے پالش کرنے ، چھوٹی موٹی چوریاں یا پھر نشہ کرنے لگتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ان بچوں میں زیادہ تر افغانی بچے ھیں ۔
ھر غریب ملک کی طرح ھمارے ملک میں بھی تقریریں کرنے والی فلاحی تنظیمیں حیران کن حد تک بچوں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں غیر فعال رھی ہیں جو بچوں کے ان کے جا ئز اور بنیادی حقوق دینے کی طرف کوئی توجہ نہیں دلاتی اور نہ ھی حکمرانوں سے اُن کا جائز حق لینے میں اُن کی مدد کرتی ھیں ۔
لیکن بچوں کے عالمی دن پر ان کیلئے سالانہ بنیادوں پر اسکول کی تھوڑی سی کاپیاں اور کتا بیں مفت تقسیم کرکے اپنی تشہیر پر خوب تو جہ دیتی ہیں ۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں صرف عملی طور پر ایدھی صاحب نے ھی بے آسرا بچوں کیلئے ایک ٹھکا نہ بنایاہے جس میں ہزاروں بچے پناہ گزیں ہیں اور سکھ کا سانس لے رھے ھیں ۔
دوستو ! جب کسی غریب ملک کے حکمراں اپنی تعیشات کو ضرورت قرار دے کر کروڑوں روپے روز انہ خرچ کردیتے ھوں تو اُس ملک کے نصیب میں غربت نسل در نسل چلتی ھے ۔
کبھی اُن بچوں کی جگہ اپنے بچوں کو رکھ سوچیں اور خود سے پوچھیں کہ اپنے کمسن بچوں کو مزدوری پر بھیج کر کیسا لگتا ھے ۔
کبھی کسی نے سوچا کہ جب اپنے بچے تڑپ تڑپ کر مدد کو پکار رھے ھوتے ھیں تو کیسے کلیجہ منہ کو آتا ھے اور کس طرح اُن کی مدد کو دوڑ پڑتے ھیں ۔۔ یہ بچے بھی تو کسی کے بچے ھیں جو بے رحم معاشرے کی سنائی ھوئی سزا کاٹ رھے ھیں ۔
اگر حکومت واقعی ملک میں شرح خواندگی بڑھانا چاہتی ہے تو اس ملک کے ان خاندانوں کی کفا لت یا امداد کی تد بیر کرنا ھو گی جو ملک میں چند سالوں سے بے تحاشہ بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں سے مشقت کروانے پر مجبور ھیں ۔
دوسری طرف تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کو قانونی تحظ فراہم کرنا ھو گا اور تشدد کرنے والے کو بلا تمیز اُس کے کیئے کی سزا دینا ھو گی ۔ چائلڈ لیبر جیسے قوانین کی پابندی کو یقینی بنانا ھو گا ۔۔ تعلیم اور صحت کو ملک کے ھر بچے کے لیئے مفت اور لازمی کرنا ھوگی ۔
کسں نے پھول سے ہاتھوں میں اوزار دیئے کھیل ہی کھیل میں سارے جگنو مار دیئے
کوڑا کرکٹ چُننے والے بچے نے حوصلے اپنے بچپن میں ہی ہار دیئے
جدت کے اس عہد کے تحفے دیکھو تو غربت اور جہالت دی ، بیمار دیئے
جنگوں میں بھی بچے جھونکے جاتے ہیں اس دنیا نے جنگ پہ بچے وار دیئے
گاڑی دھونے والا بچہ میرا ہے کس نے اس ہاتھ میں یوں زنگار دیئے
روٹی ڈھونڈتی ہے جو بچی کچرے سے سوچیئے تو کس کس نے اسے آزار دیئے
ان چہروں پر کیوں یہ جہالت لکھی ہے بچپن میں انکے خواب ہیں کس نے مار دیئے
جرم بتاؤ آخر کو یہ کس کا ہے پھولوں کے بدلے میں انکو خار دیئے
میری آنکھوں میں بھی وہ بچے ہیں نسیم جن کو دکھوں کے ہم سب نے انبار دیئے
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں