عجب سماں ہے عجب فضا ہے
کہیں کراچی میں خون پانی سے زیادہ سستاکہیں پہ بند اپنے گھر کو جانے کا
شہر بھر سے گزرنے والا ہر ایک رستہ
کہیں پہ جلتے ہوئے مکاں ہیں
کہیں خود اپنے ہی خوں میں لتھڑے ہوئے جواں ہیںکہیں ہے سڑکوں پہ خون بہتا
کہیں پہ سیلاب نے ساری بستی کو ایک پل میں نگل لیا ہے
کہیں پہ خود کُش نے پھر کسی خانہء خدا کو
ھدف بنایا ہے فجر کے وقت
یہ پاک دھرتی نہ جانے کیسے رزیل لوگوں کے ہاتھ میں ہے
کہ ملک پانی میں بہہ گیا ہے
انہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ لوگ پتوں پہ جی رہے ہیںخود اپنا ہی خون پی رہے ہیںلہو سے زخموں کو سی رہے ہیںوطن میں قبریں بھی کم ہوئیں تو تمام لاشوں کو نزرِ آبِ رواں کیا ہے
وہ سیلِ تند خو کہ جس نے کتنے گھروں کو پل بھر میں
دیکھ لو بے اماں کیا ہے
مگر یہ حاکم کہ ان غریبوں کے دکھ سے بھی آشنا نہیں ہیں
جو ووٹ دیکر خود اپنے قاتل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں
مرے وطن کی زمیں پہ جیسے لہو کے پودے اُگے ہوئے ہیں
ہر ایک بستی میں موت کا جیسے رقص جاری
کہیں پہ سیلاب ڈس رہا ہےکہیں مسلماں خود اپنے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہےکہیں پہ خود کُش اُڑا کے خود کو بسوئے جنت رواں ہوا ہےیہ ملکِ امن و اماں جو اب ملکِ جنگ لگتا ہے
اسکو اپنے ہی گھر کے لوگوں نے لوٹ ڈالا
یہاں گھروں کے ہیں در مقفل
جو بچ گئے ہیں وہ رزقِ آبِ رواں بنے ہیں
عجب ستم ہے کہ مُلک بھر میں ہے موت کا جیسے رقص جاریمگر یہ حاکم کہ اپنے بچوں کو لے کے یورپ میں گھومتے ہیں بلادِ مغرب سے کہہ رہے ہیں ہمارے بچے تو پیدا ہوتے ہی حکمراں تھےیہ آج بھی کل کے حکمراں ہیںعجب ستم ہے کہ ملک اک گھر کی جیسے جاگیر بن گیا ہےحصارِ ظلمت عوام کی جس طرح سے تقدیر بن گیا ہےوطن میں ہر روز گولیوں سے غریب شہری کہ مر رہے ہیں
مگر یہ حاکم کہ گھر سے باہر ہیں گھر کی انکو خبر نہیں ہے
کٹے ہوئے ہیں جو سر تو اِن میں خود انکے بچے کا سر نہیں ہے
ذرا بھی ان پہ اثر نہیں ہے
بنامِ حاکم یہ داغِ ذلت ہیں اور کچھ باخدا نہیں ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جو اپنی ہی سرزمیں میں بیٹھے ہوئے تھے چھُپ کر
بلوں سے باہر اب آ چکے ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کو ڈس لیا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسا منظر ٹھہر گیا ہے
میں جیسے صحرا میں پیاسا تنہا بھٹک رہا ہوں
عجیب صحرا ہے جسمیں ہر سو فقط ہے بھوک اور تشنہ لبی کا غلبہفضا میں جیسے لہو کا کڑوا سا ذائقہ ہےنگاہوں میں جو ہزاروں چہرے ہیں ماتمی ہیںسنو اے آزردگانِ شب اب یہ طے ہوا ہے
کہ اب کسی بھی غنیمِ فاقہ کشاں کے ہاتھوں پہ بیعتِ دل روا نہ ہو گی
کہ اقتدارِ طویل کے لالچی لٹیروں نے جسم و جاں میں نقب لگائی
ہماری آنکھوں کو اپنی لالچ کے اندھے نیزوں پہ یوں پرویا
کہ ساری بینائی گندے پانی میں بہہ گئی ہے
یہ میرے بچوں کے ازلی دشمن یہ حاکمانِ شبِ سیاہ ہیں
یہ میرے بچوں کا خون پی کے جو پَل رہے ہیںیہ میرے شہروں کی روشنی کو نگل رہے ہیںچراغِ شب کی تھرکتی لو بھی بجھا رہے ہیںبنو اُمیہ سے اپنا رشتہ بتا رہے ہیںسنو اے میرے وطن کے لوگودرندوں کا یہ رزیل ٹولہ
جو اپنی دھرتی کے سارے لوگوں کو تہنا کر کے
مزے سے خود مغربی فضاؤں میں جھومتے ہیں
یہ بے عمل حاکمانِ شہرِ وفا پلٹ کے جو گھر کو آئیںتو ان سے سارا حساب لینامجھے قسم ہے کہ کالے سانپوں یہ کریہہ المزاج ٹولہتمہارے ہاتھوں نہ بچ سکے گاقسم ہے مجھکو سڑک پہ بہتے لہو کی سُن لوچراغ اب تک لہو سے میرے جو جل رہا تھاسحر کی زد میں وہ آ چکا ہےبس ایک لمحے کا فاصلہ ہےچراغ کی لو پھڑ پھڑا رہی ہے!۔