|
اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں۔۔۔۔۔۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
08.08.2010, 01:04am , اتوار (GMT+1)
زرقا مفتی ۔لاہور
جذبوں کی سچائی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت گردانی جاتی ہے۔ اگست کے مہینے میں ہم جشنِ آزادی مناتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس برس ہم سب پاکستانی اپنے دل میں جھانکیں اور محسوس کریں کہ اپنے ملک کے لیےہمارے دل میں کیسے جذبات ہیں۔ کیا ہم سب ویسے ہی جذبات کے حامل ہیں جو اس ملک کی بنیاد رکھنے والے بزرگوں کے دلوں میں موجزن تھے۔ کیا ہم اپنے ملک کے لیے ایثار اور قربانی کے قائل ہیں ؟ کیا ہم اس کے لئے کسی طوفان سے لڑ سکتے ہیں کیا ہم دشمن کا مقابلہ کسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کر سکتے ہیں؟ یا صرف کھوکھلے دعوے ہی کرتے ہیں۔
نئے ہزاریئے کی پہلی دہائی اپنے اختتام کو ہے۔ ہم پاکستانی اپنے ملک کی تریسٹھویں سالگرہ ایک سوگوار فضا میں منائیں گے۔ ایک جانب سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں جن سے چالیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ بے یارو مددگار افراد امداد کے منتظر ہیں۔ دہشت گرد اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ اور دشمن ہماری صفوں کو کمزور کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ایک منظم پراپیگنڈا جاری ہے۔ پہلے وکی لیک پر کچھ کہانیاں بیان کی گئیں پھر برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا غیر ذمہ دارانہ بیان سامنے آیا۔دُنیا کے ناخُدافغانستان میں ناکامی کا سہرا پاکستان کے سر ڈال کر اپنی عزت بچانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔حالانکہ افغانستان میں یہ کسی بیرونی طاقت کی پہلی ناکامی نہیں۔ پاکستان کی قیادت برطانیہ کو منہ توڑ جواب دینے میںناکام رہی ہے۔ عوامی جذبات کے برعکس زرداری صاحب برطانیہ کے دورے پر روانہ ہو گئے۔برطانیہ میںآصف زرداری پر ایک جوتا اُچھالا گیا جو اُن تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ ہو سکتا ہے واپسی پر وہ ڈیوڈ کیمرون کے کان پکڑوانے کا دعویٰ کر بیٹھیں مگر فی الحال ہمیں ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں۔پاکستان کے عوام کی ترجمانی برطانیہ کے ایک پاکستانی نژاد نے کی ۔
ہماری سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اب تک ایسی قیادت سے محروم ہیں جوبے باک اور نڈر ہو جسے قومی وقار سے زیادہ کچھ عزیز نہ ہو جو ہمیں متحد کر سکے جو ہمیں خود انحصاری کا سبق پڑھا سکے ۔ ہم ابتک ایک ایسے راہنما کے منتظر ہیں جسے اپنی ذات کے لیے کوئی لالچ نہ ہو ۔ جسے اپنے اثاثوں سے زیادہ پاکستان کے اثاثوں کی حفاظت کی فکر ہو۔
آج سے تریسٹھ برس پہلے جب ہمارے بزرگوں نے پاکستان حاصل کیا تو انکے ذہن میں پاکستان کے مستقبل کی ایک روشن تصویر تھی۔ ایک خواب تھا کہ اس ملک کے ہر شہری کو مساوی ترقی کے مواقع میسر ہونگے ۔ یہاں رشوت اور اقرباءپروری جیسی کسی لعنت کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ پاکستان کے عوام اور خصوصاً سرکاری ملازمین اپنی انتھک محنت سے پاکستان کے لیے ترقی کی راہیں کھول دیں گے اور ہمارے ملک کا نام دُنیا کے صفِ اوّل کے ممالک میں شامل ہوگا۔ دُنیا کا کوئی بھی مشکل سے مشکل کام ارادوں کی مضبوطی اورجذبوں کی سچائی سے پایہ تکمیل پا جاتا ہے۔ نہ جانے ہمارے ارادے مضبوط نہ تھے یا ہمارے ہمارے جذبوں کی سچائی میں کھوٹ شامل تھا کہ ہم قوموں کی صف میں سر نگوں ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ہم نے ترقی نہیں کی ۔ ہم میں سے ہر ایک نے ترقی کی اور اپنے لیے دورِ جدید کی تمام آسائشیں حاصل کیں۔ ہمارا طرزِ زندگی کسی بھی ترقی یافتہ قوم کے شہری سے کم تر نہیں ۔ ہمارے بچے بہترین تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ ہمارے گھروں میں دُنیا کی ہر آسائش موجود ہے ۔ ہماری روزمرہ کی خوراک ہمارے بزرگوں کی سادہ خوراک سے حد درجہ مختلف ہے۔گھر کے ہر ایک فرد کی الماری میں پچاسوں جوڑے موجود رہتے ہیں۔ مگر مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی اقدار کو بہتر نہیں بنایا ۔
ہم ایک قوم نہیں بن پائے ہم ایک اجتماعی سوچ سے محروم ہیں ۔ ہمارے بزرگوں کی اجتماعی سوچ نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا تھا۔ مگر پاکستا ن کے وجود میں آتے ہی ہم بٹ گئے ۔ میں حیران ہوں کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے اب تک مہاجر کہلاتے ہیں۔حالانکہ ہماراقانون پاکستان میں پیدا ہونے والے بچے کو پاکستانی شہری تسلیم کرتا ہے پھر بھی کچھ لوگ اب تک خود کو مہاجر کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ حالانکہ میں سمجھتی ہوں کہ جو اپنی تمام تر دُنیاوی متاع چھوڑ کر پاکستان آئے تھے وہ ہم سے زیادہ پاکستانی کہلانے کے حقدار ہیں۔ بلوچ ایک الگ قوم ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور سندھ میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے آزاد سندھ کے خواب دیکھتا ہے۔
تعلیم نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا ہم ذہنی طور پر اب بھی پسماندہ ہیں۔ ہم غور نہیں کرتے کہ اتحاد اور اتفاق میں کتنی برکت ہے ۔ ایک متحد پاکستان ہم سب کی بقا کا ضامن ہے ۔ دُنیا کی واحد سُپر پاور کی مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔ امریکہ کی عوام مختلف قومیتوں کا ایک انوکھا مجموعہ ہے مگر ان سب قومیتوں کی اجتماعی سوچ انہیں یکجا رکھے ہوئے ہے۔ شخصی آزادی اور اجتماعیت کے انوکھے امتزاج سے قائم یہ قوم پوری دُنیا پر حکومت کر رہی ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ترقیاتی منصوبہ بندی پر ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے عرصہءدراز سے طویل المعیاد ترقیاتی منصوبہ بندی ترک کر رکھی ہے۔ وزارتِ خزانہ کا قلمدان ماہرِ معاشیات کی بجائے بینکار حضرات کے سپرد کنے کا رحجان معاشی ترقی کی بجائے تنزلی کا باعث بن گیا ہے۔ ایسے وزراءوقت پڑنے پرمہنگے سودی سرمایے کا انتظام بخوبی کر لیتے ہیں مگر اس مہنگے سرمایے سے اندرونی و بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ان قرضوں کی اقساط چکانے کے لیے ہماری حکومت نے آئی ایم سے کڑی شرائط پر مزید قرض لے لیا ہے جس سے افراطِ زر کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کا ہر امیر غریب شہری مہنگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ پاکستانی عوام روزمرہ زندگی میں تیس سے پچاس فیصد افراطِ زر کا سامنا کر رہے ہیں تاہم حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر صرف دس سے بارہ فیصد ہے۔
افراطِ زر کسی بھی معیشت کے لیے کینسر کی طرح خطرناک ہے اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جرمنی میں ہٹلر کے برسرِ اقتدار آنے کی سب سے بڑی وجہ یہی افراطِ زر تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو خطرناک افراطِ زر کا سامنا تھا دو ہی سالوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہو گیا تھا ۔ جرمنی کی حکومت نے افراطِ زر کو قابو میں لانے کے کئی اقدامات کئے حتیٰ کہ ایک نئی کرنسی بھی متعارف کروائی۔ مگر جب سرمایہ اپنی قدر کھو دیتا ہے تو اگلے وقت کی روٹی کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہمیں بھی ہے ہر بار بازار جانے پر نئی قیمتوں کا سامنا ہوتا ہے روپے کی قدر روز بروز گھٹتی جا رہی ہے ۔ ہمارے حکمران آنے والی افتاد سے بے خبر ہیں شاید وہ نہیں جانتے کہ جب عوام اگلے وقت کی روٹی سے محروم ہو جائیں گے تو مسندِ اقتدار سے دار تک کا راستہ سُکڑ جائے گا۔
توانائی کے بحران سے صنعتیں تالہ بندی پر مجبور ہو رہی ہیں سرمایہ ہجرت کر رہا ہے ۔ ہر وہ شخص جو اپنی تعلیمی استعداد یا سرمایے کے بل پر کسی ترقی یافتہ ملک کی شہریت اختیار کر سکتا ہے ہجرت کے لیے پر تول رہا ہے۔ تعلیم کے معیار کا یہ عالم ہے کہ مہنگے نجی تعلیمی اداروں کی بھرمار کے باوجود ہرمتمول خاندان کے نوجوان بیرونِ ملک زیرِ تعلیم ہیں۔ مغربی ممالک سے تحصیل یافتہ نئی نسل اپنا مستقبل بھی بیرونِ ملک ہی محفوظ تصور کرتے ہیں ۔ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال بھی برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ہندوستان آئے تھے مگر ان کے دل میں ملی جذبہ تھا ۔ قوم کی حالت بدلنے کا جنون تھا ۔ کیامستقبل میں پاکستان کی قیادت کے دعویدار بلاول ، بختاور ، آصفہ ، حمزہ، مونس الہی، حسن نواز اور حسین نواز بھی اسی جذبے سے سرشار ہیں؟
|