
یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت رہی کہ جب بھی وہ کسی قوم پر عذاب نازل فر ماتا ہے تو پہلے وہ نبی (ع)بھیجا کر تا تھا،تاکہ اتمام حجت ہو جا ئے چونکہ حضور (ص) نبیوں کے سلسلہ کے آخری نبی تھے لہذا یہ سلسلہ بند فر ما کر یہ کام امتیوں کو سونپا گیا اور جس طرح حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی دعا قبول فر ما کر ان کی اولاد کو نبوت عطا کی، اسی طرح خاتمہ بنوت (ع)کے بعد بھی ان ہی کی اولاد صالح کو رہنمائی پر فائز فرمادیا اورمقام ِ غدیر میں ایک حدیث ارشاد فر ما کر یہ اعلان سب کو سنا دیا کہ میں اپنے بعد تمہا رے در میان اللہ کی کتاب اور اپنی عترت رہنما ئی کے لیئے چھوڑے جا رہا ہوں جو اس وقت تک تم پر نگراں رہے گی اور رہنما ئی کر تی رہے گی جب تک کہ وہ مجھ سے حوض ِ کو ثر پر نہ آملے ۔جس کاان کی عترت نے عملی ثبوت دیا کہ جب ملوکیت اسلام پر قابض ہو گئی اور اسلام خطرے میں پڑ گیا، اس وقت اس نے جان دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم اسلام پر نگراں ہیں۔ اگر حضرت علی کرم اللہ وجہ کوولایت نہ عطا ہو ئی ہو تی تو اسلام بھی مدینہ سے باہر شاید ہی ہو تا ۔کیونکہ مکہ معظمہ کی تو حضور (ص) کے وصال کے بعد یہ حالت ہو گئی تھی کہ حضرت اسید (رض)جن کو حضور (ص)نے مکہ معظمہ پر عامل بنا یا تھا انہیں روپوش ہو نا پڑا ؟
ایسے میں دوسری دفا عی لائین جو حضور (ص) حضرت علی کرم اللہ کی قیادت میں چھوڑ کرگئے تھے وہ موجود نہ ہو تی اور انکی عترت ساری دنیا میں نہ پھیل جا تی تو آج اسلام مدینہ سے باہر شاید ہی ہو تا کیونکہ خلافت راشدہ کے بعد کسی بھی خلیفہ نے اسلام کو پھیلانے کی کوئی کو شش نہیں کی۔ انہیں صرف اپنی حکومت چلانے سے دلچسپی تھی ۔ بلکہ اموی خلیفہ عبد المالک کے دور میں تو یہاں تک ہوا کہ اس کے عاملوں نے لکھا کہ لوگ تیزی سے مسلمان ہو رہے ہیں اور مالیہ کم ہو تا جا رہا تو اس نے حکم دیا کہ جو مسلمان ہو جا ئے اس سے بھی جزیہ لیا جا ئے۔
اس صورت حال میں اسلام کا پھیلنا ،اس کا ثبوت ہے کہ یہ وہ سیکنڈ دفا عی لائن تھی جو خانقاہیں اور مدرسے بنا کر پو ری دنیا میں پھیل گئی اور جہاں آج کل اسلام نظر آتا ہے انہیں کا عطیہ ہے۔ اس لیئے کہ لوگوں کے دل مو ہ نے کے لیئے تصوف کا پہلا سبق“ خودی کو مٹانا “ ضروری تھا۔ تاکہ وہ مقامی لوگوں میں نہ صرف گھل مل سکیں بلکہ ان کے ساتھ محبت کا بر تاؤکر سکیں ۔دوسرے مومن کی یہ بھی خصوصیت بتا ئی گئی ہے کہ وہ سب کا خیر خواہ ہوتا ہے او بد خواہ کسی کا نہیں ہوتا۔ جبکہ بادشاہوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہمارے علماءبھی شان اور شوکت اور غرورِعلم میں مبتلاہو چکے تھے۔ جس کی وجہ سے دوسروں کو ان قوموں میں ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں میں گھس کر ان کو اپنے مذہب میں لا نے کا موقعہ ملا۔ جس کی مثال ہندوستان پاکستان اور افریقہ ہے۔ اگر مسلمان ہو نے کے بعد بھی اچھوت کو مسلی کہلانا تھا، تو وہ مسلمان کیوں ہوتا؟ جس کے دستر خوان پر عالم تو بڑی بات ہے کوئی عام مسلمان بھی کھانا کھانے کو تیار نہیں ؟جبکہ دوسری قوموں کے مبلغ ان کے ساتھ گھل ملنے اور دامے درہمے، خدمت کو بھی تیار ہوں۔ ایسے میں یہ سلسلہ اولیاءتھا جس نے اسلام پہو نچا یا اور اس کی تبلیغ بھی کی حضور (ص) نے ایک مدنی صحابی (رض) کے انتقال پر یہ فرما کر پہلے ہی یہ راہ دکھا دی تھی کہ جو وطن سے جتنا دور جاکر انتقال کرے گا۔ اسے ناپ کر اتنی ہی زمین جنت میں عطا فر مائے گی (مسنداحمد)۔ جبکہ علماءکا ایک بڑا گروہ ان کی مقبولیت سے خائف رہا اور انہیں بدعتی کہتا رہا۔لیکن ہم اگر یہ تناسب نکا لیں کہ ان میں کس نے کتنےمسلمان بنا ئے تو انہیں بدعتی کہنے والوں کو شر مندہ ہو نا پڑے گا؟
یہ تمہید میں نے اس لیئے پیش کی کہ اسی سلسلہ اولیا ءکے درخشاں ستارے ، بلکہ سورج حضرت عبد القادر جیلانی (رض)تھے ۔ جن کی ولادت یکم رمضان المبارک بروز جمعہ ٤٧٠ھ میں ہو ئی ۔ چونکہ یہ حسنی اور حسینی دونوں تھے۔ لہذا ان میں حسنی صفت بھی تھی اور حسینی بھی ۔اس کو سمجھ نے کے لیئے آپ کو وہ حدیث دیکھنا پڑے گی کہ جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضور (ص) سے اپنے دونوں بچوں کے لیئے در خواست فر مائی کہ ان کو آپ اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فر ماد یجئے، تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ حسن (ع) میں میری وراثت میں سے رعب اور حسین (ع) میں میری سخاوت ہوگی۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس قسم کے لوگ پیدا بھی سن ِ یاس میں ہو تے ہیں ۔ جیسے کہ حضرت ابرا ہیم (ع)کے ہاں حضرت اسمٰعیل (ع) اور حضرت اسحاق (ع) ۔ اسی طرح ان کے والدین (رح)کو بھی حضرت عبد القادر کی صورتمیں جو بچہ عطا فر مایا گیا ،وہ اس وقت جبکہ ان کی والدہ ِ محترمہ کی عمر ٦٥ سال تھی۔ اس سے ان کے والد ِ محترم کی عمر بھی قیاس کی جاسکتی ہے۔ یہ بچہ جس کو آگے چل کر مجدد بننا تھا۔ بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھا۔اور انتہائی متقی والدین کی اولاد بھی ۔
اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں ۔ کہ ا نکے والدابو صالح عبد اللہ بن موسیٰ (رح) جنگی دوست کے نام سے مشہور ہیں وہ ایک دن بھوک سے بے چین تھے کہ انہوں (رح) نے ایک سیب دریا میں بہتادیکھا تو اٹھا کر کھا لیا ؟ کھا تو لیا مگر اب پریشان ہو گئے کہ یہ تو نہ جانے کس کے باغ کا تھا اس کا مالک کون ہے ؟ دریا کے کنارے کنارے چل کھڑے ہو ئے آخر ایک سیب کے باغ تک پہونچ گئے جس کی شا خیں دریا میں لٹکی ہو ئی تھیں ۔ اس کے مالک کا پتہ کر نے تشریف لے گئے تو معلوم ہواکہ یہ باغ حضرت عبدا اللہ صو مئی (رح) کا ہے جو کہ تارک الدنیا بزرگ ہیں ، اسی میں رہا ئش پزیر ہیں اور وہ کہیں آتے جاتے بھی نہیں ہیں۔ ان کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا کہ حضرت مجھ سے ایک بڑا گنا ہ سر زد ہو گیا ہے، میں معافی مانگنے کے لیئے حاضر ہوا ہوں کہ میں نے آپ کے باغ کا ایک سیب کھا لیا ہے۔ انہوں نے تاڑلیا کہ وہ جس قسم کا شوہر اپنی صاحبزدی کے لیئے چا ہتے تھے وہ ایسا ہی ہو نا چا ہیئے؟ لہذا انہوں نے معافی کے لیئے یہ شرط عائد کر دی کہ میری بیٹی جو زبان سے، آنکھوں سے، پیروں سے اور ہاتھوں سے، معذور اور انتہا ئی بد صورت بھی ہے۔ اس سے شادی کر نا پڑے گی اور ساتھ یہ شرط بھی لگا دی تاکہ مزید پرکھ سکیں کہ اتنے سال تمہیں میری ملازمت کر نا پڑے گی ۔ انہوں نے تمام شرا ئط منظور کر لیں اور جب وہ ددن آیا کہ ان کی شادی ہو گئی اور یہ حجلہ عروسی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہاں تو ایک انتہا ئی حسین جمیل خاتون بیٹھی ہو ئی ہیں تو ۔یہ الٹے پا ؤں واپس آئے اور عرض کیا کہ حضور (رح) مجھ سے تو ایک اور گناہ سرزد ہو گیا کہ میں کسی دوسری خاتون کے حجرے میں چلا گیا؟
تب انہوں (رح)نے فر مایا کہ نہیں یہ ہی تمہاری بیوی ہیں ۔ میں نے انہیں نابینا اس لیئے کہا کہ ان کی آج تک کسی غیرمرد پر نگاہ نہیں پڑی، بہری اس اعتبار سے کہا کہ انہوں نے آج تک اپنے کانوں سے کوئی غلط بات نہیں سنی، گونگی اس لیئے کہا تھاکہ انہوں نے کبھی اپنی زبان سے کو ئی برا لفظ نہیں نکالا نہ جھوٹ بولا نہ غیبت کی ، لنجی اس وجہ سے کہ انہوں نے کو ئی کام خلاف ِ شریعت نہیں کیا اور لنگڑی اس لیئے کہ انہوں نے اللہ کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر قدم نہیں رکھا۔والد کا تقویٰ تو آپ پہلے دیکھ چکے ،اب ماں کا تقویٰ یہ تھاکہ اس پر آپ قیاس کر سکتے ہیں کہ ان دونوں کے امتزاج سے اور سالوں کے انتظار کے بعد جو بچہ پیدا ہوا ہوگا وہ کیسا ہوگا۔؟پھر جسے ایسے والدین سےتر بیت ملی ہو وہ کیسا ہوگا؟
چونکہ انہیں اگے چل کر مجدد بنناتھا اور تمام اولیاءوقت کا امام بننا تھا۔ لہذا بچپن سے ان کے جوہر کھلتے چلے گئے۔ اسی دوران ان کے والدِ محترم اللہ کو پیارے ہو گئے اب تمام بوجھ ماں پر تھا۔ انہوں نے ان میں توکل اور تقوے کوا بھارا، جب وہ مقامی تعلیم سے بھی فارغ ہوگئے اور وہاں کے علماءنے کہدیا کہ یہ بچہ اب تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ۔تو بغداد شہر جو کہ اسوقت علم کا مرکز تھا، ان کی ماں نے دل پر جبر کا پتھر باندھ کر اور کل جمع پونجی جو چالیس دینار تھے ان کی گڈری میں سیکر انہیں اس نصیحت کے ساتھ رخصت فر مادیا کہ بیٹا جھوٹ کبھی مت بولنا۔ راستہ میں ڈاکو ؤں نے گھیر لیا انہوں نے سب سے پو چھا کہ تمہارے پاس کیا ہے۔لوگوں نے چھپایا مگر انہوں (رح) نے فر مایا کہ میرے پاس چالیس دینار گدڑی میں سلے ہو ئے ہیں۔ انہیں بڑی حیرت ہوئی کہ لوگ تو چھپارہے ہیں اور مار نے پیٹنے کے بعد کچھ بمشکل قبول رہے ہیں۔ یہ عجیب بچہ ہے کہ خود کہہ رہا کہ میرے پاس چالیس دینار ہیں ۔ انہیں (رح) وہ اپنے سردار کے پاس لے گئے ۔ اس نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتا یا کہ میری ماں نے یہ تاکید کی تھی کہ بیٹا جھوٹ مت بولنا؟ وہ بڑا شرمندہ ہو ا کہ میں اللہ سے نہیں ڈرتا جو دانا اور بینا ہے اور یہ ماں سے عہد کا اتنا پاس کررہا۔ لہذا اس نے جو مال چھینا تھا قافلے والوں سے وہ ان کو واپس کردیا خود قذاقی سے تو بہ کر لی ۔ جب یہ بچہ بغداد پہونچا تو اس کی شہرت پہلے سے وہاں پہونچ چکی تھی اور ہر عالم یہ چاہتا تھا کہ یہ اس کے مدرسہ میں دا خلہ لے ۔مگر یہ سعادت اللہ نے شیخ حماد (رح) دباس کے قسمت میں لکھی تھی لہذا انہیں عطا ہو ئی ۔جن سے انہوں نے رو حانیت کی تعلیم تو حا صل کی ہی ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سو چا کہ دینی تعلیم بھی مکمل کر لی جا ئے لہذا وہ مدرسہ باب الازج پہونچے جہاں حضرت قاضی ابو سعید مخزومی (رح) درس دیتے تھے۔ یہ بھی ان کے درس میں شامل ہو گئے۔ جلد ہی علم ِ دین پر اتنا عبور حاصل کر لیا کہ انہوں نے یہ فرما کر سند ِ حدیث دیدی کہ دراصل ہم تم سے علم حدیث سیکھتے ہیں جو کہ تمہارا اپنا انداز ہے۔ پھر انہوں (رح) نے صحرانوردی شروع کردی اس کے بعد جب وہ واپس آئے ،تو استاد نے ان کو اپنی درس گاہ میں ہی درس دینے کے لیئے چن لیا اور وہ اسی مدرسے میں پڑھانے لگے۔ مقبولیت اتنی بڑھی کہ ان کے درس میں لوگ ہزاروں کے تعداد میں آنے لگے ۔
یہ جگہ بیچ بازار میں تھی ۔ درس کے وقت راستے جام ہو جاتے، لہذا پھر انہوں نے عید گاہ میں درس دینا شروع کردیا جس میں کہ پچھتر ہزار تک حاضرین ہو تے تھے اور لکھنے کے لیئے چارسو قلم دوات مو جود رہتے ۔ ان کی خوبی تھی کہ ان کی بات دل میں اترتی چلی جاتی اور کرامت یہ تھی کہ بغیر کسی مکبر کے ان کی آواز ہر جگہ یکساں سنی جاتی ۔ یہ بطل جلیل نصف صدی سے زیادہ درس دیتے رہے۔ چھ خلفا ءکا دور دیکھا مگر کسی خلیفہ کویہ جرا ءت نہ ہو ئی کہ وہ ان پر ہاٹھ ڈالتا۔ جبکہ یہ برسرِ عام ان پر ،اس دور ر کے علماءاور رو ساءپر کھل کر تنقید فر ماتے تھے ۔ یہ وہ عطا تھی جو حضرت امام حسن (ع)سے ان تک پہونچی یعنی رعب اور ان کی سخاوت بھی انتہا پر تھی جس کے بہت سےقصے مشہور ہیں۔ جو ان تک حضرت امام حسین (ع) سے پہو نچی۔ رہیں کرامات تو ہر منکر کرامات بھی تسلیم کر تا ہے کہ وہ صاحب ِ کرامات تھے ۔ بہر حال قوم نے انہیں سنا، بہت تھوڑوں نے اثر لیا، جبکہ اکثر یت نے ان سنا کردیا اتمام حجت ہو گئی تو تاری تاری عذاب مسلمانوں پر نازل ہوا ۔ جو مسلمانوں کے اقتدار میں آخری کیل ثابت ہوا۔ ہمارے لیئے سبق یہ ہے کہ اسوقت بھی حالات ایسے ہی تھے جیسے کہ آجکل ہیں۔ مگر شاید ابھی دیر ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق کو ئی مجدد نمودار نہیں ہوا ہے۔