جس طرف کوئی کھڑکی، دریچہ نہ ہو اور ممکن نہ ہو آسماں دیکھنا
اے مرے ہم نشیں، جان لو بالیقیں جانتے بوجھتے ہے وہاں دیکھنا
چشمِ پُر آب نے بہتے سیلاب نے آنکھ کھلتے ہی بستر پہ ہم سے کہا
رائیگانی ہے گر خواب کا دیکھنا،رائگاں ہی سہی رائیگاں دیکھنا
آنکھ سے خواب تک رسم و آداب تک جس قدر بھی نبھے تم نبھاتے رہو
لامکاں سے مکاں تک مناظر سبھی جو نظر آئیں اے خوش گماں دیکھنا
گفتگو میز پر معنویت سے پُر اور روّیوں میں لایعنیت عمر بھر
محفلوں کا چلن ، غیبتوں میں مگن بات سننا نہ لفظ و بیاں دیکھنا!
شعر لکھتے ہوئے شخصیت کا بدل پیش کردےتی ہے ایک تازہ غزل
کیفیت خود پہ طاری ہوئی سو ہوئی ہر گھڑی اک عجب سا جہاں دیکھنا