
خط اور خط لکھنے والے مجھے ہمیشہ سے عزیز رہے ہیں ۔۔ خط مجھے ان گزرے لمحوں کی زندگی کا پتہ دیتے ہیں جن میں اپنوں کی خریت ۔۔ان کے دکھ سکھ اور ان سے جڑا سکون لفظوں میں مہکا ہوتا ہے ۔۔ یوں لگتا ہے جیسے خط کی لکیروں میں کئی زندگیاں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں ۔۔ان میں کئی بار کچھ یاداشتیں خون دل سے بھی لکھی جاتی ہیں جنہیں جب پڑھو در دل پر وحشتیں دستک دینے لگتی ہیں ۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ لندن سے مجھے میرے سب سے چھوٹے بھائی عاصم نسیم کا خط آیا تھا ۔۔ جس میں اس نے حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی اور سیالکوٹ میں پولیس اور میڈیا کی موجودگی میں دو بھائیوں کو روزے کی حالت میں تشدد سے ہلاکت کا نوحہ لکھا تھا ۔۔۔ اور خط کے آخر میں امت مسلمہ کی بربادی کی وجہ پوچھی تھی ؟
یہ جواب میں نے صرف اپنے بھائی عاصم کے نام نہیں لکھا ۔۔۔ بلکہ میں تو بحثیت مسلمان خود اپنی حالت زار پر زار زار رو رہی ہوں ۔۔۔ اور آپ سب کی اپنے دکھ میں شرکت چاہتی ہوں ۔۔
میرے بہت ہی پیارے بھائی عاصم سلامت رہوخوشیوں میں جیوتمہارے خط نے بے شک مجھے اشکبار کیا لیکن بہت دنوں کے بعد خوشی کے آنسو تھے ۔۔میرا یقین کہتا ہے کہ جب تک ا س کائینات میں ایک اشک بھی اس کی بارگاہ میں غم ، تاسف اور دکھ کا گرتا رہے گا ۔۔اس سے مدد کی طلب میں اس کے گھر کے چکر کاٹتا رہے گا اس کائینات پر ظلم نہیں رہ سکتا ۔۔۔
میرے شہزادے اس بار عجب ہو رہا ہے ۔۔ اللہ کریم کو ہم مسلمان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کو پکار رہا ہے کہ کہاں ہو آؤ مجھ سے مغفرت مانگ لو ۔۔توبہ کر لو ۔۔ مدد مانگ لو ۔۔ میری طرف آ جاؤ ۔۔اپنے زمینی خداؤں سے ڈرنا چھوڑ دو ۔۔میں تمہیں پناہ دونگا ۔۔ میں نے جیسے نمرود اور یزید کو مٹا ڈالا اور رہتی دنیا تک انہیں نشان عبرت بنا ڈالا ۔۔ اسی طرح اس دور کے نمرود ، فرعون اور یزید کو مٹا ڈالونگا ۔۔۔
حضرت مولا علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک ظالم معاشرے میں رہاجا سکتا ہے لیکن بے عدل معاشرے میں نہیں ۔۔ میرے بھائی ہماری بدقسمتی تو دیکھو کہ ہم ظالم معاشرے کے ساتھ ایک بے عدل معاشرے میں بھی رہ رہے ہیں ۔۔۔ اب توبہ کا وقت آ گیا ہے اور اپنے حصے کا کام کرنے کا وقت بھی ۔۔ اگر ہم نے ایک انسان کو بھی اپناہم خیال بنا لیا اور ظالم کو دنیا کے سامنے ظالم کہہ دیا سمجھو اپنے جینے کا حق ادا کر دیا ۔۔
ہمارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہالت کو ختم کرنے آئے تھے ۔۔۔ ستم تو دیکھو ان کی امت سب سے زیادہ جاہل اور گمراہ ہے ۔۔ہمیں علم نہ صرف حاصل کرنا ہے بلکہ اسے حسب توفیق سب تک پہچانا ہے ۔۔ اور ایک بار پھر
اسلام کی پیشانی پرعلم و عمل کے نور سے نسخہ وفا لکھنا ہے ۔۔۔
میرے بھائی میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔ ہر دکھ اور غم میں شریک ہوں ۔۔۔ پر میں تم سے بے انتہا شرمسار ہوں کہ اس سانجھے دکھ پر تمہیں کو ئی تسلی نہیں بھیج سکی ۔۔ اپنی حقیر فقیر دلگیر بہن کو معاف کر دینا اور دعاؤں میں جگہ ضرور دینا ۔۔
دعاگو
نگہت نسیم
سڈنی
اکیس اگست دوہزار دس