|
کیا اللہ ہم سے خفا ہے؟ ۔۔از؛ زرقا مفتی ۔ لاہور ۔ پاکستان
24.08.2010, 01:37am , منگل (GMT+1)
زرقا مفتی ۔لاہور
ساری دُنیا میں مسلمان ماہِ رمضان کا استقبال مذہبی جوش و خروش سے کرتے ہیں۔ رمضان سے پہلے گھروں کی صاف ستھرائی کر لی جاتی ہے تاکہ عبادت کے لیے زیادہ وقت میسر ہو۔ مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں۔ اب چھتوں پر جا کر چاند دیکھنے کا رواج نہیں رہا۔ ٹی وی کے چینل بدل بدل کر رویتِ ہلال کی خبر کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ ایک نجی چینل نے ہمیں ہلال کا دیدار کروا دیا ورنہ سالوں سے اس سعادت سے محروم تھے۔ اس مرتبہ دل بجھے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پہلے زیادہ طلبگار ہیں ۔
ہر روز سحر اور افطار کے اوقات میں ایک احساسِ جُرم جکڑ لیتا ہے کہ ہمارے لاکھوں ہم وطن دو وقت کے کھانے سے محروم ہیں۔جی چاہتا ہے کہ دستر خوان لپیٹ دیا جائے ۔معلوم ہے کہ رمضان کے بعد عید آنے والی ہے مگر اس بار عید کی تیاری کا خیال نہیں آیا ۔ بازاروں میں بھی گہما گہمی نہیں ہے ۔ ہر محبِ وطن سیلاب زدگان کی امداد پر آمادہ ہے مگر امداد کے غلط ہاتھوں میں جانے کے خیال سے پریشان ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کٹوتی کی گئی ہے مگر معلوم نہیں یہ فنڈ کہاں خرچ ہو گا۔ فوج اور فلاحی تنظیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں مگر میڈیا پر خبریں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ امدادی کاروائیاں بد نظمی کا شکار ہیں۔ زیادہ مذہبی رحجان رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ ہماری قوم کو بداعمالیوں کی سزا مل رہی ہے ۔
میں سوچتی ہوں کہ بے چارے غریب دیہاتی کن بد اعمالیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ بد اعمال لوگ تو اپنے اپنے پُر آسائش محلات میں عیش کر رہے ہیں اور غریبوں کے کچے گھر وندے عتاب کا شکار ہو گئے ہیں۔ نشان مٹا ہے تو کچے مکانوں کا ۔ بے حال بے آسرا بھی غریب ہی ہوئے ہیں۔ اب تک کسی شریف یا زردار نےاپنی ذاتی دولت سے سیلاب زدگان کی امداد کا اعلان نہیں کیا۔ ہمارے وزیرِ اعلیٰ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر سیلاب زدہ علاقوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ کبھی کبھار متاثرین سے امداد کے بارے میں پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اُنہیں اپنے غضب کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی افسر کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ زرداری صاحب بھی عوامی لعن طعن کے ڈر سے اندرونِ سندھ تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں اور گیلانی صاحب نےاپنے مہنگے ملبوسات نیلام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ شاید اُن کے پاس اس سے قیمتی اثاثہ کوئی نہ تھا۔
حکومت پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ حکومتی فنڈ میں چند کروڑ سے زیادہ رقم جمع نہیں ہوئی ۔ لوگ غیر سرکاری تنظیموں کو اپنی امداد دے رہے ہیں ۔ اسی بد اعتمادی کے پیشِ نظر نواز شریف صاحب نے ایک کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی جسے صوبائی حکومتوں نے رد کر دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر اچھی شہرت کے حامل افراد پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں جو غیر سرکاری تنظیموں اور فوج کے تعاون سے اپنے اپنے علاقے میں متا ثرین کی ضروریات کا تخمینہ لگا کر امداد کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کریں۔ جو غیر سرکاری تنظیمیں زلزلہ زدگان کی مدد میں پیش پیش رہی ہیں اُنہیں امداد کی تقسیم کا نگران بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے راہنماؤں کی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے بھارت سے امداد قبول کر لی ہے مگر کالعدم مذہبی تنظیموں کو امدادی کاموں سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔بڑے شرم سے لکھنے پر مجبور ہوں کہ کشکول ہماری قیادت کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔
موجودہ بحران میں بھی کشکول کا ہی سہارا لیا جا رہا ہے۔ حالانکہ نقصانات کا تخمینہ ایک کھرب سے زیادہ نہیں۔ اور یہ نقصانات ترقیاتی پروگرام کو منجمد کرکے یا دفاعی بجٹ میں کمی کرکے پورے کئے جا سکتے ہیں۔ مگر ہماری قیادت نے خودانحصاری کا سبق پڑھا ہی نہیں آنے والے چند ماہ میں ہمیں بد ترین غذائی بحران کا سامنا ہو گا اس لئے دوست ممالک غذائی اجناس کی صورت میں امداد دیں تو شاید وہ حقداروں تک پہنچ سکے اور ملک بد امنی سے بچ سکے۔ کیونکہ کچھ بعید نہیں کہ دو وقت کے کھانے محروم بے گھر افراد اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے جرائم یا تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ سیلابی پانی تباہی مچانے کے بعد سمندر میں گر جائے گامگراپنے ساتھ وہ کھڑی فصلوں اور آئندہ فصلوں کے لےخ محفوظ کردہ بیج بھی بہا کر لے گیا ہے ۔ سیلابی پانی کے اُترتے ہی متاثرین اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو اُنہیں گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے امداد کی ضرورت ہوگی۔ کسانوں کو نئی فصل کے لیے بیج کی ضرورت ہوگی۔ جہانتک ہم جیسےعام لوگوں کا تعلق ہے اُنہیں یہی دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری حکومت اپنی توجہ صرف ہنگامی امداد پر مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ آنے والے دنوں کے لئے منصوبہ بندی نہیں کر رہی اور نہ ہی آنے والے بد امنی کے طوفان سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
اس رمضان میں یوں لگتا ہے کہ مجھے اپنے تمام ذاتی دُکھ بھول گئے ہیں اور دُعاؤں میں اپنے ملک کی سلامتی کی دُعا سرِ فہرست ہے۔ اے اللہ یہ ملک تیرے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسے تا قیامت قائم رکھنا ۔ ہمیں ہمت اور حوصلہ دے کہ ہم اس مشکل امتحان میں سرفراز ٹھہریں۔ تنکوں کی مانند بکھری ہوئی قوم کو طوفان کی لہریں یکجا کردیں ۔ اس طوفان سے ہم ایک قوم بن کر اُبھریں۔ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ کر ۔ ہماری خطاؤں کو درگزر فرما دے ہمیں نیک اور مخلص قیادت عطا کر ہمارے ملک کو حقیقی معنوں میں پاکستان بنا دے آمین
|