
معروف شاعراور بزرگ عزادار جناب سید حسن سلمان رضوی صاحب 21 اگست2010 بمطابق شبِ 11 رمضان کو 80 سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہفتہ کی رات بعد از افطار امریکہ سے آئے ہوئے اپنے چھوٹے فرزند کے ہمراہ گھر کے باہر چہل قدمی کے بعد طبیعت میں کچھ نا سازی محسوس کی۔ دمے کا ایک حملہ سانس لینے میں دشواری کا باعث بنا۔ ہسپتال پہنچ کر سانس کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکے اور رات دس بجے داعیءاجل کو لبیک کہا۔ مرحوم کو بروز اتوار ایچ الیون اسلام آباد کے قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی مو جودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
مرحوم بہت بڑے شاعرِ اہلِ بیت (ع) تھے اور مرثیہ نگاری اور سلام گزاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اسلام آباد کے ادبی، سماجی اورمذہبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ مرحوم کا شمار اسلام آباد کی عزاداری کی تاریخ کے بانیان میں ہوتا تھا۔ مجلسِ عزا کے آغاز میں سلام و مرثیہ پیش کرنا ہو یا اختتامِ مجلس پر پر سوز انداز میں زیارت تلاوت کرنا، مرحوم یہ سعادت بخوبی نبھاتے تھے۔ اس خطے میں برپا ہونے والی کوئی بھی مجلسِ عزا آپ کی شرکت اور سلام گزاری کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی تھی۔ آپ ایک قادرالکلام شاعر ، ادیب اور کالم نویس تھے، جنکے حصے میں چھ ادبِ عالیہ اور پانچ ادبِ معلی کے پارہ ہائے ادب کی اشاعت کا اعزاز آیا ۔ آپکی تصانیف کی فہرست درجِ ذیل ہے۔
بارہ سلامدرد کے پھولکربلا کے چراغخیرِ کثیرحرفوں کا اجالاتہنیتاستقامتغم کی روشنیشاعری سچ بولتی ہےفارسی شکراستقلم برداشتہیاد رہے کہ چند روز قبل یعنی یکم شعبان کو مرحوم کی اہلیہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملی تھیں ۔خدا وندِ حیی و قیوم سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کو جوارِ معصومین (ع) میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور پس ماندگان کو یہ عظیم دکھ، غمِ کربلا سے متصل کر کے صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
مرحوم کی مرحومین کے لئے ایک منظوم دعا پیشِ خدمت ہے، جو اب خود انکی مغفرت و بلندیءدرجات کے لئے باعثِ وسیلہ ہے۔
زہیر ابنِ قین ہوں، بریر ہوں، حبیب ہوںہم ان کے خانہ زاد ہوں تو کتنے خوش نصیب ہوںہر اک بزرگ شخص کی سوئے جناں روانگیاسی غرض کے ساتھ ہے کہ ان کے ہم قریب ہوںجوارِ سیدہ ملے، کنارِ سلسبیل ہوشہیدِ کربلا ہوں صدر، بزم اک عجیب ہوولائے اہلبیت کی سروں پہ تمکنت لئےولایتِ امیر ہو، تو کیوں کوئی غریب ہویہ شعر خوانِ فاطمہ، امینِ امن و آشتییہ شاعری کی چھاوئں میں، لبیب ہو اریب ہواٹل ہے موت دوستو! تو حزن و خوف کس لئےجیو تو اس طرح جیو کہ تمکنت نصیب ہوخدا کرے کہ وحشتِ مزار خوابِ خوش بنےسکونِ دائمی ملے، طمانیت نصیب ہوعالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی کے علاوہ تمام ادارتی بورڈ،قلم کاروں اور قارئین نے مرحوم کے انتقال پر انکے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ خالق موت و حیات انہیں جوار سید الشہدا میں جگہ دے۔