رکھنا ہے ہاشمی جو ہنر کو سنبھال کر
پیرایہ ءسخن میں بھی پیدا کمال کر
زخمہ نے تارِ ساز سے نغمہ نکال کر
دل ایسا سنگ رکھ دیا کیسا اُجال کر
جب تک نہ حرف جڑسکوں قرطاسِ وقت پر
آئینہءخیال مری دیکھ بھال کر
دیدہ وری کا زعم، خدا کی پناہ ،بس
اپنے تئیں نہ راہِ سخن پائمال کر
ہیں رفتگاں کے نقش نگاہوں میں آج بھی
جو ہم سے پیشتر گئے بنیاد ڈال کر
کچھ دیر محوِ آئینہ داری بھی رکھ مجھے
آوارگیِ شوق نہ اتنا نڈھال کر