
اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔
ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نظم کے بھی بانی تھے
ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔
ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا ۔ڈاکٹر وزیر آغا کو آج نماز عصر کے بعد وزیر کوٹ میں دفن کیا جا رہاہے۔
عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے ڈاکٹر وزیر آغا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دعا کی ہے کہ پروردگار انہیں جوار معصومین میں جگہ عطا فرمائے۔
ڈاکٹر وزیر آغاکی پیدائش 18مئی 1922ء کو سر گودھا میں ہوئی تھی اور انہوں نے 1943 ء میں گورنمنٹ کالج لاہو ر سے معاشیات میں ایم اے کیا تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1956ء میں حاصل کی۔ اپنی ادبی صحافت کا آغاز انہوں نے ادبی دنیا لاہو ر کے جوائنٹ ایڈیٹیر کی حیثیت سے 1960ء میں کیا تھا پھر انہوں نے لاہور سے اپنا سہ ماہی رسالہ ”اوراق “ 1965ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ جو 2003ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا اور ان برسوں میں اس رسالے نے تو تین ادبی نسلوں کی آبیاری کی اوراق نے مضامین نو کے انبار لگا دیے۔
صحافتی مصروفیات کے علاوہ وزیرآغا کا اپنا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ ان کے اب تک 10شعری مجموعے،انشائیوں کے چھ مجموعے اور 15تنقیدی مضامین کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات کی کلیات ’چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘ بھی چھپ چکی ہے۔
بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔
دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔ پاکستان میں وزیر آغا کے فن پر 14کتابیں شائع ہوئی ہیں۔