پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر اس ملک میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں پر رمضان المبارک کا آغاز انتہائی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ ہوا اور آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب ہر گھر میں عید کی تیاری ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا نے ارشاد فرمایا رمضان ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے ، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔
ر مضان المبارک میں پانچ حروف ہیں ۔۔۔ یعنی(ر) سے رضائے الہیٰ(م) سے مغفرت الہیٰ(ض ) سے ضمانت الہیٰ(الف) سے الفت الہیٰ(ن) سے نصرت الہی اللہ سبحانہ تعالی ہمیں اپنی فکر اور اپنا زکر عطا فرمائے ۔آمین یہ لکھتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے کہ اس سال رمضان المبارک کی متبرک دن و رات پاکستان کے لئے امتحان بن کر آئے ۔ یکے بعد دیگرے آسمانی آفت کی صورت تباہ کن سیلاب جس میں دوکڑوڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے ۔ معصوم بچے بوڑھے عورتیں بے یارومددگار بے گھر کھلے آسمانوں تلے رہ رہے ہیں اور جانے کتنے ماہ اور رہیں گے ۔پھر لاہور ، پشاور اور کوئٹہ میں ہونے خود کش حملوں میں ناگہانی اموات ، کہوٹہ کی وادی میں نجی طیارے میں عملے سمیت تمام مسافروں کی ہلاکت اور اس کے ساتھ سانحہ سیالکوٹ میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی پولیس کی شہ پر دوجواں بھائیوں کا وحشیانہ قتل ۔۔۔ جیسے واقعات نے دل کو خوشیوں سے بہت دور سا کر دیا ہے ۔۔۔ آئیں سب سے پہلے ان لوگوں کے لئے جو ان حادثات کی نظر ہوگئے ان کے لئے فاتحہ پڑھتے ہیں اور اللہ سبحانہ تعالی ان کے لواحقین کے لئے صبر جمیل مانگتے ہیں اور ان کی ڈھارس بندھاتے ہیں ۔
عالمی اخبار کے قلمکاروں کے علاوہ قارئین بھی آسٹریلیا ، برطانیہ ، کویت ، سیوڈن ، برلین ، جرمنی ، ڈنمارک ، پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں موجود ہیں اور رمضان المبارک انتہائی عقیدت سے منا رہے ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بتائیں کہ ماہ رمضان کے بابرکت شب وروز آپ اور آپ کے شہر کے لوگ کیسے گزارتے ہیں ۔۔ اور عید کی تیاریاں آپ کب سے شروع کردیتے ہیں اور تیاریوں میں کیا کیا شامل کرتے ہیں ۔۔ میں نے امسال بھی آپ سب دوستو کے تاثرات عالمی اخبار کی تاریخ کاحصہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سب کو اس بار بھی اپنی تحریریں یادگار لگیں گی ۔
میں آپ کو بتاتی چلوں کہ نئی دہلی سے خواجہ اکرام بھائی کی طبعیت ابھی تک ناساز ہے اس لئے وہ اس دفعہ کچھ بھی نہ لکھ سکے جس کا نہ صرف انہیں دکھ ہے بلکہ عالمی اخبار کے تمام قلمکار برادری نےبھی ان کی کمی کو محسوس کیا ۔
میری بہت پیاری دوست اور بہن زرقا مفتی ان دنوں اپنی امی جی کی علالت کی وجہ سے بے حد مصروف ہیں اور کچھ پاکستان کے حالات نے انہیں افسردہ رکھا جس پر مسلسل وہ میرے رابطے میں رہیں اور معذرت بھی کی کہ اس دفعہ وہ کچھ نہ لکھ سکیں ۔۔ زرقا میری دوست بس اپنا خیال رکھو اور امی جی کے لئے ہم سب دعایئں کر رہے ہیں ۔۔۔ انشاللہ سب بہتر ہوگا ۔۔
محترم بھائ شمس جیلانی وینکوور سے لکھتے ہیں نگہت بہن ہمیشہ مجھے مشکل میں ڈالتی رہتی ہیں پھر آپ نے ایک مشکل سوال پو چھ لیا ہے۔ بس مختصر طور پر یوں سمجھ لیجئے کہ عبادت کے اوقات میں ایک گھنٹہ بڑھ جاتا ہے جو سحری کھانے میں صرف ہوتا ہے۔ باقی زندگی اسی طرح رہتی ہے جوکہ میرا نظام الاوقات بنا ہوا ۔ کیونکہ جب سے میں نے سورہ عصر کی تفسیر یہ سمجھی کہ وہ خسارے میں ہیں جنہوں نے وقت کو ضا ئع کیا ؟ تو خود سے ہر لمحہ کا حساب لیتا ہوں ۔کیو نکہ میں یہ سمجھا ہو ں کے وہ مال و دولت کی طرح وقت کا بھی حساب لے گا۔ لہذا کوئی لمحہ ضا ئع نہیں کر تا۔ پورے رمضان دعا مانگتا رہتا ہوں یا اللہ کوئی افطار کی دعوت نہ کرے ۔

جو عام طور پر افطار ی سے شروع ہو تی ہے سحری سے کچھ پہلے ختم ہو تی ہے ،دن بھر جو صبر کا سبق لوگ پڑھتےہیں ۔وہ اس طرح افطار پر ٹوٹتے ہیں کہ بس مقصد ِحیات صرف کھانا ہے۔ پہلے افطاری سے پوراانصاف کرتے ہیں پھر کئی دفعہ یاد دلانے کے بعد عشا سے کچھ ہی پہلے مغرب پڑھتے ہیں ۔تراویح باتوں میں گزر جاتی ہیں، پھر کھانا اور پھر باتیں، جب میز کی صفائی ہو جا ئے تو میٹھا لگتا ہے۔ ؟ ؟؟ پھر باتیں ایک بجے تک۔ گوکہ حضور(ص ) نے فرمایا ہے کہ سب سے اچھا وہ ہےجو خوش اخلاق ہو۔؟مگر مجھے مجبورا“ بد اخلاقی برتنا پڑتی ہےاور دس بجے میز بان کو خدا حافظ کہہ کر اٹھ آتا ہوں ۔
آپ اس سے اندازہ لگا لیں کے میں کس کرب سے گزرتا ہوں ؟جب جان کر ارشادِ رسول (ص )کی خلاف ورزی کرتا ہوں ؟ مگر میں مجبور ہوں انسانوں کو خوش کرنے کے لئے میں خدا کوناخوش نہیں کر سکتاکیونکہ میرے پاس وقت تو ہے ہی نہیں۔عام دنوں میں میں صرف چار گھنٹے سوتا ہوں ۔ رمضان میں اس میں سے ایک گھنٹہ سحری کے لیئے دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ سب کو سحری کے لیئے اٹھاتا بھی میں ہی ہوں اس کے لیئے میں کبھی الارم کو زحمت نہیں دیتا۔ گھروالے کہتے ہیں کہ آپ دعوت میں آتے ہی کیوں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ساری دنیا تو غلط نہیں ہوسکتی میں ہی غلط ہوں؟ دعوت قبول کرنا میری مجبوری یوں ہے کہ یہ بھی سنتِ تواترہ جو حضور(ص ) نے جو کبھی ترک نہیں فر مائی۔
بابا (صفدر ھمٰدانی) لندن سے لکھتے ہیں بہت دنوں سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا لیکن اخبار کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام اور کچھ کرنے ہی نہیں دیتا.
سب سے پہلے تو ماریہ صاحبہ سے عرض کرؤں کہ پاکستان کے موجودہ حالات

میں کس کو کس قدر غم اور تکلیف ہے اسکا نہ تو کئی مقابلہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا میٹر ایجاد ہوا ہے جو یہ بتا سکے کہ کسکو کتنی تکلیف ہے. اس موضوع پر احباب سے استفسار کا مطلب صرف اسی رمضان اور عید سے متعلق نہیں بلکہ ایک عمومی سوال ہے. اس لیئے آپ بے فکر رہیں کہ الحمد اللہ ہمیں سے کوئی بھی ایسا بے حس نہپیں جو ان حالات میں خوشیوں کا سوچے،لیکن عید تو بہر حال ایک تہوار بھی ہے اور دینی فریضہ بھی اسکو ادا تو کرنا ہی ہے.
جہاں تک لندن میں روزے اور عید کا سوال ہے تو یہاں تو عید کیا،شب برات کیا،رمضان کیا اور محرم کیا،یہ سب دفاتر کی نزر ہوجاتے ہیں.اس بار تو روزے خاصے لمبے ہیں.صبح ساڑھے تین سحری ختم ہوتی ہے اور روزہ کوئی پونے نو سے شروع ہوا تھا لیکن اب ساڑھے آٹھ پر کھل رہا ہے. برطانیہ کے دوسرے شہروں اور لندن میں ہر مسلک کی مساجد کی بڑی تعداد ہے جہاں تراویح کی نماز بھی ہوتی ہے. مسلمان سحری اور افطاری خوب اہتمام سے کرتے ہیں بلکہ سچ کہوں کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ افطاری روزہ دار سے زیادہ اہتمام سے یہ کہہ کر کرتا ہے کہ اگر روزہ نہ رکھ کر فرض سے چشم پوشی کی ہے تو کیا دوسرا گناہ بھی کیا جائے کہ روزہ افطار نہ کیا جائے.
یہاں لندن میں ساؤتھ آل کے علاقے میں ایک دوکان ایسی بھی ہے جو روزہ داروں کو مفت سحری کرواتی ہے. یہاں چونکہ خاصے مسلم ٹی وی چینل ہیں اس لیئے سحر افطار کی خاص ٹرانسمیشن ہوتی ہیں،اذان ہوتی ہے اور ایک لمحے کو لگتا ہی نہیں کہ آپ پاکستان سے باہر ہیں
پاکستان کی طرح عید کی تیاریاں یہاں بھی ہفتہ پہلے سے ہی شروع ہو جاتی ہیں.گرین سٹریٹ اور ساؤتھ آل کے علاوہ برمنگھم،مانچسٹر اور بریڈ فورڈ کے بازاروں میں عید کی خریداری ہوتی ہے. ایک معاملے میں یورپ کے مسلمان بھی پاک و ہند کے مسلمانوں سے الگ نہیں اور وہ ہے عید کا چاند. تمام تر سائینسی ترقی کے باوجود چاند کا تنازعہ یہاں بھی رہتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہپوتا کہ اگلے دن نماز ہے یا نہیں. سکولوں کے بچوں کو اس ضمن میں خاص طور پر تکلیف ہوتی ہے.
عجب حال ہے کہ لوگ رہتے انگلینڈ میں ہیں لیکن عید کے چاند کے یئے سعودی عرب یا ایران سے تصدیق مانگتے ہیں.
عید کا دن اکثر تنازعے کا شکار رہتا ہے.معلوم نہیں ہوتا کہ جسے عید مبارک کا فون کر رہے ہیں اسکا روزہ ہے یا عید
ہمارے ہاں عید پر سوئیاں اور شیر خرمہ بنتا ہے.میں اور محمد میرا بیٹا اگر مشترکہ عید ہو تو مسجد جاتے ہیں ورنہ باپ بیٹا دونوں گھر پر نماز عید ادا کر لیتے ہیں.

دراصل مولوی لوگ عوام کو یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ شکرانے کی نماز جماعت کے بغیر بھی پڑھی جاتی ہے.جماعت کے ساتھ اسکی ادائیگی دراصل اسکا سماجی پہلو ہے. ایسی کتنی ہی عیدیں ہیں جو نماز کے بعد دفتر کی نزر ہوئی ہیں اور یہ حال یورپ بھر میں اکثر گھرانوں کا ہے.عید اگر اختتام ہفتہ پر آجائے تو اسے لاٹری سمجھا جاتا ہے اور سب ملکر عید مناتے ہیں
بابا نے اس بار بھی اپنی روایت کو برقرار رکھا اور ایک تازہ نعت شریف حضور اقدس میں پیش کی ۔۔اللہ کریم اپنے حبیب کے ثنا خوانوں کی لاج رکھے اور اسے اپنی جناب میں قبول فرمائے
تاج نہ تخت نہ سلطنت چاہیئےتیرے دستِ مبارک کی چھت چاہیئےمجھ کو درکار کچھ بھی نہیں ہے حضورآپکے در سے اک منقبت چاہیئےجس میں ہر سانس جیسے ہو اک امتحاںایسی دنیا سے کیا منفعت چاہیئےجو ترے نامِ نامی سے منسوب ہومیرے افکار کو وہ صفت چاہیئےکب ہے جنت کی لالچ مجھے سچ کہوںتیرے عشاق کی عاقبت چاہیئےجو بصیری کو مولا نصیب ہو گئیہم فقیروں کو وہ معرفت چاہیئےچار جانب جو سیلاب کی آگ ہےتیرے بندوں کو بس عافیت چاہیےسچ کہیں ایسی دنیا سے بیزار ہیںہم کو دنیا نہیں آخرت چاہیئےاور کچھ بھی نہیں چاہیئے ہے ہمیںمیرے آقا تری مغفرت چاہیئےاقتدار و حکومت کی خاطر جو ہوایسی توصیف سے معذرت چاہیئےعشقِ آلِ محمد کی حد کیا کہوںہاں پرَت در پرَت در پرَت چاہیئےخواب میں کوئی چادر عطا ہو مجھےنعت لکھنے پہ وہ منزلت چاہیئےجاہ و حمشت سے صفدر غرض ہی نہیںان کے دربار میں اہمیت چاہیئے(صفدر ہمدانی ) بھائی سیدمصباح حسین سڈنی سے لکھتے ہیں 
آپی یہاں سڈنی میں رمضان المبارک کافی زیادہ مصروفیت میں گزرتا ہے جس میں سے ہمارا بیشتر حصہ گھر سے باہر ہی ہوتا ہے۔ کام کاج کی مصروفیت تو معمول کے مطابق ہوتی ہے، اس پر مستزاد روزانہ محمدی ویلفئیر سنٹر میں افطاری، نماز، ادعیہ و لیکچرز کا اہتمام ہوتا ہے۔ کم و بیش دو سو کے لگ بھگ مرد نمازی موجود رہتے ہیں اور پردے میں خواتین کی تعداد بھی اندازا اتنی ہی ہوتی ہے۔ نماز کے بعد افطار ڈنر کا اہتمام ہوتا ہے اور اسکے بعد مسنون دعوات، انگریزی لیکچر اور اسکے بعد تفسیر و تاریخ پر اردو گفتگو ہوتی ہے۔ ہر ویک اینڈ پو سوال و جواب کی نشست کا پروگرام ہے اور مہینے میں دو بار لیکچرز کے مواد پر مشتمل کوئز ہوگا جس میں پانچ تا پندرہ برس تک کے بچے حصہ لیں گے۔ ان کوئز کے حتمی نتائیج پر عید کے دن انعامات بھی دئیے جائیں گے۔
میں سنٹر کی چونکہ ایگزیکٹوو کمیٹی کا رکن ہوں، اس لئے پورا ماہ وہاں موجودگی اور خدمت موقع ملتا رہتا ہے۔ الحمد للہ کمیٹی کا کوئی موجود فرد اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک کہ دیگر مصلین جی بھر کا کھا پی نہیں لیتے۔
امسال ہمارے پاس شام سے مولانا ساجد تقوی مہمان ہیں جو کہ اٹھارہ برس سے جامعہ زینبیہ سے منسلک ہیں اور خود مفسر قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں قرآن مجید کے متن کے محرر و مصدق بھی ہیں۔ مولانا ایک انتہائی سادہ شخصیت ہیں اور ان شب و روز میں انکی محفل میں اٹھنا بیٹھنا بے حد مفید رہتا ہے جہاں انکی تمام تر گفتگو کا محور آیات ِ قرآن اور سیرت و فضائل محمد و آل محمد علیھم السلام رہتی ہے۔ اکثر رات دیر تک مولانا کے پاس افراد آتے جاتے رہتے ہیں اور سوال و جواب کی کیفیت موجود رہتی ہے۔ ایسے میں بھی کمیٹی کا کم از کم ایک رکن ان کے پاس موجود رہتا ہے۔
میں کام سے سیدھا مسجد پہنچا کرتا ہوں، تاہم کوشش کرتا ہوں کہ اگر بر وقت نکل سکوں تو بچوں کو بھی ساتھ لیجاؤں۔ اکثر لوگوں کے بچے عموما نماز کے بعد آ کر انگریزی تقریر کے بعد چلے جاتے ہیں کیونکہ زیادہ دیر تک جاگنا انکے لئے اگلے دن سکول کی تیاری میں مشکل کا سبب بن سکتا ہے، سو یہی اپنی کیفیت ہے۔ میری بڑی بیٹی اب ما شاء اللہ سات برس کی ہو رہی ہے اور اسے ہم نماز و روزہ کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ اکثر گھر آ کر میرا اس کے ساتھ نماز روزہ کے موضوع پر سوال و جواب ہوتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ اگر میں دیر کردوں تو وہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ بابا آج نماز کا لیسن نہیں ہونا تھا؟
آپا عالم آ را جن کا عالمی اخبار کے ساتھ پہلا رمضان ہے اور پہلی عید ہو گی ۔۔ وینکوور سے لکھتی ہیں اسلام علیکم ساتھیو

یہ حقیقت ہے کہ اس دفعہ ملک کے حالات نے دل کو بہت دکھی کیا ہوا ہے ،اور روزہ کھولتے ہوئے اور سحری کرتے ہوئے بھی ہم اُن تمام لوگوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں جنہوں نے ایک پروگرام میں کیا تھا کہ ’’ہمیں روزہ کھولنے کے لئے صاف پانی دے دو ہم گندے پانی سے روزہ کیسے کھولیں ۔‘‘اور آپ شاید ہی یقین کریں کہ اب تک کوئی روزہ ایسا نہیں کھولا جب کھاتے پیتے اپنے ملک کے اُن معصوموں کے لئے دعا نہ کی ہو کہ اللہ ان کی مدد کرے ۔
جہاں ہمارے ملک میں بر گر کھانے والے موجود ہیں اور عید کی تیاریاں کرنے والے وہیں یہاں وینکور میں ہم سب نے جتنی جتنی جس کی استطاعت تھی چندہ جمع کیاہے اور پاکستان بھیجا ہے ،اللہ کرے کہ صحیح جگہ پہنچ جائے ۔
دنیا میں اور خود ہمارے ملک میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے اور شاید ان ہی کی وجہ سے ہر دکھ اور غم یہ جواں ہمت قوم یہ معصوم بچے اور یہ مائیں اور بیٹیاں اس جوانمردی سے سہہ کر سب کو دکھا دیتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں اور زندہ رہینگے انشائاللہ ۔
آمدم بر سر بلاگ
رمضان کا مہینہ معمولات میں تبدیلی ضرور لے آتا ہے ،اس دفعہ ہم نے اپنی افطاری میں بہت کمی کر لی ہے ان لوگوں کا ساتھ دینے کے لئے جو بھوکے ہیں پیاسے ہیں ۔
میں سحری میں ضرور اُٹھتی ہوں بلکہ ہم سب ہی کہ ہم سحری کی رحمتوں کو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔تراویح بھی اپنی طاقت کے مطابق ضرور پڑھتی ہوں ۔سحری میں کچھ جوان جوڑے جو اٹھنے میں کاہلی رتتے ہیں انہیں فون کر کے ضرور اُٹھاتی ہوں تاکہ وہ اس سعادت کو ضرور حاصل کریں۔
تلاوت کلام پاک اور تفسیر پڑھنے میں زیادہ وقت لگاتی ہوں ۔ سب گھر والے روزے رکھتے ہیں ماحول بہت پر سکون رہتا ہے جب بچے جاب پر ہوتے ہیں تو انہیں روزہ کھلنے کے وقت کی یاد دہانی فون پر ضرور کرتی ہوں ،
اس دفعہ عید میں ہم سب پہلے کے بنے ہوئے کپڑے پہنینگے ان لوگوں کا ساتھ دینے کے لئے جو اس دفعہ کپڑے نہیں بنا سکتے ۔ہماری سب گھر والوں کی خواہش ہے کہ ہم سیلاب زدگان کی جس طرح بھی مدد کر سکیں کریں اور یہ ماہ تو ہے ہی اخلاص کا اور اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر اجر و ثواب حاصل کرنے کا ۔اللہ قبول کرے ۔
عید ہماری بھی وینکور میں کچھ پھیکی پھیکی ہی گزرتی ہے ۔اور اپنا ملک بہت یاد آتا ہے ، عید اگر ویک اینڈ پر پڑے تو مارے خوشی کے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں کہ اس دن بچے بڑے سب ہی گھر پر ہوتے ہیں اور عید واقعئی عید لگتی ہے ۔ورنہ بچے عید کی نماز پڑھ کر اپنے اپنے آفس چلے جاتے ہیں اور ہم گھر میں اکیلے ہوتے ہیں اور چھٹی کے دن عید کی پارٹی کی تیاری کرتے رہتے ہیں ۔

رمضان میں بھی بچے جاب کی وجہ سے کبھی گھر پر روزہ کھول پاتے ہیں کبھی نہیں ،مگر آج کل یہاں گرمی کی وجہ سے روزہ ساڑھے آٹھ بجے تک کھل رہا ہے اس لئے سب ایک ساتھ روزہ کھول رہے ہیں ،ایسے تمام موقعوں پر ملک کی یاد بہت شدت سے آتی ہے ،اور اس کی رونقیں بھی جس سے ہم یہاں محروم رہتے ہیں ۔اور خواہش خواہش ہی رہ جاتی ہے بقول آپ کے ۔
مگر اللہ کا شکر ہے کہ وہ ہمیں عبادات کرنے کی توفیق دیتا ہے ۔اور رمضان یہاں بھی بہت اچھا گزرتا ہے ۔کہ ہم مزہب بہت ہیں الحمد للہ ۔
مسجدیں بھی تراویح کی عبادات میں بھری رہتی ہیں جو بہت سکون کا باعث ہے ۔
اللہ ہم سب کی عبادتوں کو شرف قبولیت بخشے اور ہمارے ہم وطنوں کی اس آزمائش کے وقت میں مدد فرمائے ۔
بھائی منظور قاضی جرمنی سے لکھتے ہیں 
پاکستان میں رہنے والے سیلاب سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کو اپنی اپنی جانوں کی پڑھی ہوئی ہے اگر اس کے باوجود وہ روزے رکھ رہے ہیں تو اللہ انہیں صبر اور ہمت عطا کرے گا اور ان کو اپنی فرض کے انجام دینے کا اجر دے گا۔
مگر وہ اب روزے نہیں رکھ سکتے تو اللہ ان کی مجبوریوں سے واقف ہے اور وہی سب کے دلوں کا حال جانتا ہے ۔
اگر اسودہ حال تندرست مسلمان روزے نہ رکھیں اور صرف عید کی تیاریاں کرتے رہیں تو اسکا حال بھی انکے اپنے ضمیر کے ساتھ ساتھ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
آصف احمد بھٹی۔کویت سے لکھتے ہیں السلام علیکم
پردیس اور رمضان ، عجیب سی گدگدی ہے ، اور اگر آپ اکیلے رہتے ہو تو یہ جانے کہاں کہاں گدگدا جاتی ہے ، رمضان اِس وجہ سے بہتر ہوتا ہے کہ روزے اور عبادات کا کافی وقت مل جاتا ہے ، ہر افطار کے بعد اگلی سحری کا بندوبست کیا جاتا ہے اور پھر

سحری کے وقت اُٹھ کر باقی ساتھیوں کی بھی جگانا پڑتا ہے ، رمضان میں ڈیوٹی 6 سے 7 گھنٹے ہی ہوتی ہے ، عصر کے وقت گھر پہنچتے ہیں اور عصر پڑھ کر افطار کی تیاری شروع ہو جاتی ہے سب مل بانٹ کر کام کرتے ہیں ، کوئی پکوڑے بنانے کا سامان تیار کر رہا ہوتا ہے تو کوئی شربت بنا کر فریج میں رکھتا ہے کسی کے ذمہ تندور سے روٹیاں لانا ہوتا ہے تو کوئی سالن بنا رہا ہوتا ہے اور فروٹ چاٹ تو سب مل کر بناتے ہیں ، البتہ تراویح پڑھنے پر اکثر اختلاف ہو جاتا ہے کوئی بیس پوری پڑھنا چاہتا ہے تو کوئی محض آٹھ رکعت پڑھانے والے مولانا کی مسجد ڈھونڈھتا ہے اور باقی بچ رہے دور سے ہی سلام کہہ کر ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں اور یوں دن گزر جاتا ہے ۔ عید البتہ بہت پھیکی رہتی ہے ، یہاں چونکہ فجر کے تھوڑی دیر بعد ہی نمازِ عید ادا کی جاتی ہے اِس لیے کچھ دوست محروم رہ جاتے ہیں اور پھر سارا دن سو کر گزارتے ہیں ، ملنا ملانا بہت کم رہتا ہے اور اِس کی بڑی وجوہات میں سے ایک موسم کی شدت بھی رہتی ہے ۔
اِس لیے مجھ سمیت اکثر پردیسیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا رمضان اور عید اپنے وطن میں ہو مگر ضروری تو نہیں کہ ہر خواہش پوری ہو ، سو یہ خواہش عموما خواہش ہی رہتی ہے ۔
آصف احمد بھٹی
ماریہ علی ڈنمارک سے لکھتی ہیں السلام علیکم
میرے خیال میں اس بلاگ میں ابھی میرا یہ پہلا تبصرہ ہوگا یا پھر کسی اور نے لکھا ہوگا مگر نظر ثانی کے لئیے رکا ہوگا خیر ۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی آپا کا یہ بلاگ پڑھکر مجھے پچھلے رمضان کا واقع یاد آ گیا جب رمضان میں کراچی میں ایک شخص مفت راشن بانٹنے کا جرم کر رہا تھا تو وہاں بھگدڑ میں کافی عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے تھے ۔ اس سال پورا پاکستان سیلاب کی تباہکاری کا شکار ہے ۔ ہر سال آفت غریب پر ہی آتی ہے امیر پر سکون بیٹھا اپنے گھر میں اتنے بڑے ٹی وی پر یہ سب

دیکھتا ہے ساتھ میں کافی یا چائے کے گھونٹ مار مار کر افسوس کرتا ہے اس کے بچے برگر کھا رہے ہوتے ہیں تو ایک بچہ پوچھتا ہے پپا یہ سب کیا ہے تو وہ امیر انسان اپنے بچے کو کہتا ہے بیٹا یہ بے چارے کھانے کو محتاج ہیں انکے پاس کھانے کو روٹی تک نہیں ہے تو اسکا بچہ معصومیت سے کہتا ہے how stupid ان کو روٹی کی کیا ضرورت ہے ان کو کہیں برگر کھایا کریں روٹی توڑنے میں پروبلم ہوتی ہے ۔۔ اور انکا امیر باپ بس مسکرا کر بنا کوئی جواب دئیے بڑے سے ٹی وی پر نیوز دیکھتا رہتا ہے جب کافی ختم ہو جاتی ہے تو بچوں کو کہتا ہے چلو بیٹا پارک ٹاور (جو کے کراچی کے سب سے مہنگے شاپنگ مالز میں سے ایک ہے) چلیں عید کی شاپنگ کرتے ہیں۔۔
اب ایسے میں رمضان ہم کیسا گزاریں گے ؟ اگر ہم بھی اپنے بڑے سے ٹی وی پر نیوز دیکھتے رہیں اور افسوس کر کے یہ سوچیں چلو نیوز تو بہت دیکھ لی اب عید کی شاپنگ کر لیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر ہم اپنی عید کی شاپنگ میں سے صرف 25 ڈالر یہ سوچ کر الگ کر لیں کے یہ ہم نے پاکستان میں اپنے ان غریبوں کو دینے ہیں جو بے چارے نا تو سحری کر پا رہے ہیں نا افظار ۔کل تک جن کے گھروں میں چولہے جلتے تھے اور جیسے تیسے وہ افطاری اور سحری کا انتظام کیا کرتے تھے آج وہ بے چارے کیمپوں میں بھیک کی طرح ہیلی کاپٹر سے پھینکے گئے سامان کو یا مفت کی پبلیسٹی کیمپوں سے دھکارنے کے بعد کچھ ہاتھ لگے سامان کو جانوروں کی طرح چھینتے دکھائی دیتے ہیں کے اپنے نہیں اپنے بچوں کے پیٹ میں تو کچھ ڈالیں ۔ تو شاید یہ رمضان اور عید بہت اچھی ہو جائے گئی ؟
‘‘ بہت معذرت آپا شاید میرا یہ تبصرہ اس بلاگ کا ماحول تبدیل کر دے کیونکہ یہاں سب اپنی خوشیاں شئیر کرتے مگر میرے تبصرے نے شاید یہاں کا ماحول کچھ تبدیل کر دینا ہے اس کے لئییے معذرت پلیز؟ مگر اس رمضان یا عید پر ہم ان غریبوں کو بھول کر یہاں بس اچھی اچھی باتیں کریں تو شاید یہ ان غریبوں کے ساتھ زیادتی ہوگی ؟
خیر

میرے لئیے یہ رمضان پچھلے سالوں سے بلکل مختلف ہے اس کی وجہ ہمدانی صاحب اور آپا اچھی طرح جانتے ہیں بس یہ سمجھ لیں میری ذندگی میں سب سے خوبصورت رمضان ہے اور میں خود بھی یہی دعا کرتی ہوں اور آپ سب سے بھی یہی گزارش کرتی ہوں کے پلیز پلیز مجھے اپنی دعاوں میں ہمیشہ شامل رکھئے گا دل سے ایک دفعہ یہ دعا ضرور کر دیں کے پروردگار معصومین(ع) کے صدقے میں مجھ پر ہمیشہ اپنی نظر کرم قائم رکھیں
الہی آمین ۔
آپا ارشاد عرشی ملک اسلام آباد سے دعائیں اور نظمیں بھیجتی ہوئی لکھتی ہیں رمضان شریف کا اختتام ہونے کو ہے ۔۔ بس ۔۔
تم اپنے شہرَ دل کو پاک کر لو
عجم ہو یا عرب،کچھ بھی نہیں ہے
خرم ابن شبیر نے ابوظہبی سے لکھتے ہیں

تہوار کوئی بھی ہو اپنے دیس سے دور دیس کی یاد بہت آتی ہے اور آج کل جو پاکستان کے حالات ہیں اللہ ہم پر اور ہمارے ملک پر رحم فرمائے آمین ابوظہبی میں میرا دوسرا رمضان ہے لیکن یہاں رمضان میں وہ مزہ نہیں آتا جو پاکستان میں آتا ہے۔
یہاں کے لوگ سارا سارا دن سوئے رہتے ہیں اور رات کو کام کرتے ہیں ہم رمضان میں سحری اور افطاری بھی اسی طرح کرتے ہیں یہاں زیادہ لوگ دوسرے ممالک سے آئے ہوتے ہیں کچھ تو فیملی والے ہوتےہیں جو سحری اور افتاری کا انتظام اچھے طریقے سے کرتے ہیں لیکن کچھ ہماری طرح اکیلے ہی ہوتے ہیں اس لیے ہوٹل پر ہی انصار کرتے ہیں۔
ہم رات 12 بجے تک کام کرتے ہیں اور اس کے بعد سوتے نہیں ہیں ہمیں پتہ ہے اگر ہم سو گے تو سحری کے لیے آنکھ نہیں کھلے گی لیکن یہاں کے باقی لوگ سوتے ہی نہیں ہیں وہ رات کو جاگتے ہیں صبح 3:30 پر سحری کا اہتمام کرتے ہیں یعنی ہوٹل سے جا کر سحری لے کر آتے ہیں ۔
سحری کرنے کے بعد نماز پڑھ کر سو جاتے ہیں اور دن 12 بجے جاگتے ہیں اس کے بعد 2 سے 4 پھر آرام کرتے ہیں اور پھر مغرب کے وقت افطاری کی تیاری کرتے ہیں یہاں رمضان بلکل ایسے ہی گزرتا ہے جیسے ہم معمول کے دن گزار رہے ہیں لیکن صرف سحری اور افطاری اور تراویخ کے وقت ہی پتہ چلتا ہے کہ یہاں بھی رمضان ہے ۔
بھائی امین ترمذی ( امریکہ ،ڈلس ) تلمیذ فاطمہ (ڈلس) بھائی ابو ظفر (دہلی) ۔ محترم آغاسید عبدالحسین بڈگامی صاحب (کشمیر) ، بھائی عارف کسانہ (سویڈن ) ، بھائی سید انور ظہیر (برلن ) اور ان کی اہلیہ عشرت معین سیما ، بھائی فیاض امر (سندھ) ، بھائی حسین افسر (ممبئی) ، بھائی خاور چوھدری (لاہور) ، بھائی اصغر انصاری (ممبئی) ، محترم عارف نقوی بھائی (برلن) ، سید اقبال حیدر (جرمنی) ، بھائی عباس ملک (سیکسر خوشاب ) ، بھائی ارمان نجمی(ممبئی) ، بھائی امجد شیخ (سویڈن ) ، بھائی امجد مرزا (لندن) ، فریدہ لاکھانی (سڈنی) ، بھائی سلیمان جاذب (دوبئی) ,اشرف حماد بھائی (سرینگر) ۔محمد عظیم اعظم (کراچی) ، بھائی ڈاکٹر شبیر احمد خورشید( کراچی) ، بھائی عامر کیانی (سویڈن ) ,سیمیں برلاس (لندن) ، بھائی عالم نقوی (ممبئی) , بھائی ظہور احمد سولنگی (اسلام آباد) ، بھائی وحید اختر (پاکستان ) ، بھائی سکندر حیات (پاکستان ) ، بھائی اسحاق ساجد (جرمنی ، سائرہ بتول (لندن ) ، محمد عاصم نسیم ، سارا نسیم ، نادیہ نسیم ، فاظمہ نسیم ، عائشہ جاوید ، جاوید نسیم ، نزہت نسیم (لندن ) ، بھائی قمر رضا (اسلام آباد) ، بھائی زین عباس (اسلام آباد ) ، بھائی حیدر (اسلام آباد ) ، بھائی اظہر الحق (راولپنڈی) ، بھائی تصور حسین نقوی ( برمنگھم ) ، بھائی طارق چغتائی ( سیالکوٹ ) ، بھائی سید اقبال حیدر ( جرمنی ) ، وجیہ السماء ( پاکستان ),راجہ اکرام الحق (اسلام آباد ) اور بھائی محمد احمد ترازی (کراچی) نے خاص طور پر نیک خواہشات اور دعاؤں کے تحفے بھیجے ۔۔ بہت بہت شکریہ ۔ روبینہ فیصل ٹورنٹو سے لکھتی ہیں 
عید کے اور رمضان کے چاند پر اختلاف ٹونٹو میں بھی اسی طرح ہے جیسے دنیا میں باقی ہر جگہ ہے ۔ پچھلے سال میں اس بات پر حیران ہورہی تھی کہ ایک ہی محلے میں رہنے والے لوگ مختلف دنوں میں عید کر رہے تھے کہ میری ایک دوست نے مجھے تہوکا مارتے ہوئے بتایا کہ ذیادہ حیران نہ ہو ، یہ جو سامنے ماں بیٹی بھیٹی ہیں ایک نے روزہ رکھا تھا اور ایک نے عید منائی تھی ۔تو یہ مسئلہ نہ جانے کب حل ہگا ؟ میرا خیال ہے مولوی کو حلوہ دینا بند کرنا ہوگا پھر حالات میں بہتری آ سکتی ہے ۔ عید کی نماز پڑھنے کے بعد مولوی صاحب کی چندے کے لئے اپیل ایک اور دردناک پہلو ہے ۔ یہ اپیل اتنی لمبی ہوجاتی ہے کہ بچے بلکنے لگتے ہیں اور باپ جنہوں نے اکثر نماز پڑھ کر ڈیوٹی پر جانا ہوتا ہے دل دل میں رونے لگتے ہیں ۔ میرا بیٹا ہادی ،ایک دن اسی شور شرابے سے گھبرا اٹھا اور فیصل سے کہنے لگا پاپا انہیں پیسے دیں دیں پلیز جتنے یہ مانگ رہے ہیں تاکہ یہ ہمیں نماز پڑھا دے اور ہمیں گھر جانے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو نگہت آپی باقی کی عید تو آپ سمجھ ہی گئی ہونگی کیسے منائی جاتی ہے ۔
بھائی اکمل سید لندن سے لکھتے ہیں خیر تنظیم بغیر آئنیہ ظبط نہیں
شر سے نسبت ہے تو مذہب سے کوئی ربط نہیں
علم ناپختہ سے بے سود حوالہ دے کر
گفتگو کرتے ہین مذہب کا سہارا لے کر
.میری عزیز بہن اور پیاری دوست شاہین رضوی کویت سے لکھتی ہیںپیاری دوست نگہت اللہ پاک تم کو ان کارخیر کا اجرعظیم عطا فرمائے ۔ ھمیشہ نیکی میں سبقت حاصل کرتی ھو۔ یہ تو صرف اللہ کے نیک بندے کے وصف ھوتے ھیں ۔ نیکی کے کاموں کا اجر و ثواب تو اللہ اپنےبندوں کو اس کی توقع سے زیادہ عطا کرتا ھے۔ ۔ اللہ پاک ھم سب کو اس مبارک و متبرک ماہ میں عبادت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ ۔۔ بے شک یہ مبارک مہینہ برکت ،مغفرت اور رب کریم کی بے پناہ رحمتیں سمیٹنے کا ھے۔ اس مبارک ماہ میں ھر نیکی اور عبادت کا ثواب ستر گنا زیادہ ھے۔ اس میہنے شیطان کو مقید کردیا جاتاھے۔

اِنَّ اللَّہ وَمَلَائِكَتَہ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا آيُّہا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْہ ِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
ترجمہ: بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد
یا صاحب الجمال و کا سید البشر
من وجھک المنیر لقد نوالقمر
لا یمکن الثنا کما کان حقھ
بعد از خدا بزرگ توئ قصہ مختصر
محترم بھائی ظفرجعفری امریکہ سے لکھتے ہیں یہ وقت دعا کا ہے انیس اب نہ ہو غافل
یا رازق و یا حافظ و یا خالق و عادل
عالم میں بہ حشمت رہے یہ بانیء محفل
سب مطلِب دل ہوں تری درگاہ سے حاصل
ہر لحظہ فزوں دولت و اقبال و حشم ہو
غم ہو فقط تو فاطمہ کے لال کا غم ہو
(میرانیس)
بھائی زوار قمر عابدی نے سعودی عرب سے محبتوں اور دعاؤں میں لپٹی ہوئی اپنی لکھی ہوئی نعت ہمیں عطا کی
بس یہی کام شب و روز کیئے جاے ہیں
عشقِ سرکار میں مر مر کے جیئے جاتے ہیں
ایک عالم ہے جو کشکول لیے ییٹھا ہے
اور سرکار بدستور دیئے جاتے ہیں
اُنگلیاں کاٹ لے جو آپ کو یوسف دیکھے
آپ عیسٰی کا بی ہر زخم سیئے جاتے ہیں
ایک بھی گام نہیں ہے تیرے گھر کا رستہ
بےسبب لوگ یہ دُشوار کیئے جاتے ہیں
خاکِ طیبہ کے یہ زرے ہیں درخشاں کتنے
روشنی شمس کو دینے یہ دیئے جاتے ہیں
روح افزہ ہے تیرے شہر کا پانی آقا
لوگ آتے ہیں مئے خُلد پیئے جاتے ہیں
جب بی ہم کرتے ہیں رُخ وادیء طیبہ کو قمر
لینے آتے ہیں ہمیں جن کیلے جاتے ہیں
مسز عشرت قمر عابدی سعودی عرب سے لکھتی ہیں جو یقینا اپنے رفیق سفر زوار قمر عابدی سے ہر گز کم نہیں ہیں ۔۔

آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خُلقِ عظیم کی بدولت دُشمنوں کو دوست بنایا ، رحم اور شفقت سے دلوں کو موم کیا ،عدل و انصاف سے حکومت کی ، حق و صداقت سے کبھی یک سرِ مُنہ انحراف نہ کیا ، جو آپ کہ خون کہ پیاسے تھے ، آپ کو پتھر مارتے تھے ، آپ کو وطن سے نکالا تھا ، جوش و عداوت میں آپ ک چچا کا کلیجہ تک نکال کر چبایا تھا ، اُنہیں بھی فتح پا کر بخش دیا ، اور اعلان کیا کہ ، لا تثریبَ عَلیکُم و اَلیوم ، کہ جاؤ آج کہ دن تم سے کوئی بدلا نہیں لیا جائے گا ،
یہ پیغام آپکی عظمت کا بےمثال نمونہ ہے ،غذا سادہ ، لباس معمولی ، بورئے پر سونا ، غریبوں کی مدد کرنا ، نہ شاہا ، نہ کروفر ، شروع سے آک تک ایک عام انسان کی سی زندگی بسر کی
آج اگر ہم رسولِ مقبول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ، کہ فرمودات اور ارشادات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گُزاریں تو دُنیا و آخرت میں کامیابیاں ہمارا مُقدر ہوں گی ، اور روزِ محشر ہم اپنے نبی کہ اُمتی کہلانے کہ حقدار ہوں گے
مُحتاجِ دُعا
بھائی عبدالمناف برلین سے لکھتے ہیں یہ رمضان ایک خصوصی رمضان ہے.

ایسا رمضان نہ پہلے کبھی دیکھا نہ سُنا، رمضان جو رحمتوں اور نعمتوں کے نزول کا مہینہ ہے، اس دفعہ وطنِ عزیز کے لیے آفتوں اور مصیبتوں کے ساتھ وارد ہوا۔
جو لوگ ان حادثات میں جاں بحق ہوئے . . . ان کے لیے تو یہ مہینہ باعثِ نجات ہی تھا . . . شاید
لیکن جو لوگ ابھی اُس آفت میں گھِرے ہوئے لیکن باحیات ہیں . . . ان کے لیے تو عذاب ہی عذاب ہے
اور میں جو اپنے گھر بیٹھا بلاگ لکھ رہا ہوں . . . میرے لیے عبرت ہے، مبارزت ہے، امتحان ہے، دعوتِ عمل ہے، نیند سے جگانے والی پانی کی بالٹی ہے۔
کاش میں جاگ جاؤں، اور کچھ کروں ۔۔
اللہم اجعل صیامی فیہ صیام الصآئمین. . . . . . . . . . خدایا میرے روزہ کو روزہ داروں جیسا روزہ
و قیامی فیہ قیام القآئمین . . . . . . . . . . . . . . . اور میری نماز کو نمازیوں جیسی نماز قرار دینا
و نَبِّھنی فیہ عن نومۃ الغافلین . . . . . . . . . . . . .مجھے غفلت کی نیند سے بیدار کرنا
و ھب لی جرمی فیہ یا الٰہ العالمین . . . . . . . . . . .اور میرے گناہوں کو معاف کردینا، اے عالمین کے مالک
واعفُ عنّی یا عافیاً عن المجرمین . . . . . . . . . . . مجھے معاف کردینا کہ تو تمام مجرموں کا معاف کرنے والا ہے.
یہ عالم ایک امتحان ہے، دیکھنا ہے کون کیا کرتا ہے اور کیا نہیں کرتا، جو جیسا کرے گا ویسا ہی بھرے گا، جو بھی آج بویا جائے گا کل صرف وہی کاٹا جا سکے گا ۔یہ “عالمی اخبار” بھی اس امتحان کا ایک حصہ ہے، جیسا کہ آغا ہمدانی صاحب قبلہ اکثر کہتے لکھتے رہتے ہیں کہ “یہ قلم جن کی عطا ہے ان کا اس پر حق بھی ہے” یعنی جو حقِ قلم ادا کرے گا وہ خود پر واجب الادا حقوق میں سے کم از کم اس طرف سے بری الذمہ قرار پائے گا انشاء اللہ.

اللہ کریم محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے صدقے میں سب کو مع اہلِ خانہ کے شاد و آباد رکھے
آمین الٰہی آمین ثم آمین
نادیہ بتول بخاری پاکستان سے لکھتی ہیں جب بھی ہرسال انیس رمضان کو ازان فجر کے بعد میں مولا (ع) کے ضرب لگنے کا منظر انکھوںکے سامنے لاتی ہوں مولا (ع) کی تکلیف اور پھر سوچتی ہوں کہ جب بیبیوں کو یہ خبر ملی ہو گی تو کیا قیامت ہوگی کہ علی جیسے شفیق بابا اب دو دن کے مہمان ہیں
جاوید اقبال کیانی برمنگھم سے لکھتے ہیں

رمضان المبارک آہستہ آہستہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے ۔اللہ آپ سب کو ان معلومات پہنچانے کا اجر و ثواب عطا فرمائے ،اور ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائے ۔ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔اللہ ہمیں آخری عشرے کی برکت سے تمام عبادات خلوص نیت سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اور ہمارے دل ایک دوسرے کے لئے نرم رہیں ۔اللہ ہمیں ہماری پریشانیوں سے نجات دے ۔اور ہماری جائز خواہشات کو پورا فرمائے ۔
اللہ رب العزت تمام بیماروں کو خاص طور پر مناف بھائی کی والدہ محترمہ کا سایہ ان پر قائم و دائم رکھے اور انہیں صحت کاملہ و عاجلہ عطا کرے.آمین
( بھائی مناف ک والدہ محترمہ کے لئے ہم سب دعاگو ہیں کہ ہمارے بزرگوں کا سائی ہم پر تا حیات رہے ۔آمین )
ثمرین بخاری جسے میں پیار سے گڑیا کہتی ہوں ۔۔ لاہور سے لکھتی ہیں اسلام و علیکم

رمضان بس رُخصت ہونے کو ہے میں کافی بیمار رہی جس کی وجہ سے میں آ نہیں سکی اور ایسے وقت میں اکثر اپنے پرائے کی پہچان بھی پوتی ہے میں اُمید کرتی ہوں کہ شاید آپ سب لوگوں نے مُجھے دُعا میں یاد رکھا ہو گا ۔ میں اتنے بہت سے دن آ نہیں سکی جس وجہ سے بہت سے بہترین بلاگ میں حصہ بھی نہیں لے سکی اس بلاگ میں علم و حکمت کا ایک سمندر ہے کیوں؟ کیوں کے ذکر بھی علی (ع) کا ہے اور فکر بھی علی(ع) کی ہے اور کُچھ نا کیا جائے مگر صرف علی علی (ع) کیا جائے تب بھی یہ ایک نام نسلوں کو سنوارنے کو کافی ہے -
اور یہاں تو بے شُمار خوبصورت باتیں بیان کی گئی ہیں جن کو پڑھ کے روح کو بہت شفا محسوس ہوئی ہم ایسے مریض ہیں کہ جن کی روحیں بیمار ہو چُکی ہیں اور میں تو اپنی روح کے لیے ہر دم دُعا گو ہوں خدا ِ کریم سے اُس کی محبوب ترین ہستوں کے واسیلے سے میری روح کو شفا عطا کر دے (الہی آمین) -
مناف سر کی ماں جی کے لیے دُعا گو ہوں کے خداِ مہربان اپنی خاص رحمت کے صدقے اُن کا سایہ ہمیشہ آپ کے سروں پر سلامت رکھے (الہی آمین)
باقی سب لوگ کیسے ہیں اُمید اور دُعا کرتی ہوں کے سب خیریت سے ہوں گے بس یہ آخری ایام ہیں اس بابرکت مہینے کے اپنی دُعاوں میں مُجھ گناہ گار کو ضرور یاد رکھہے گا کیا پتہ آپ لوگوں کی دُعا ہی میری بخشش کا واسیلہ قرار دے دی جائیں- خدا آپ کو ہم سب کو اپنے کرم میں رکھے ہمارے وطن پاکستان کو اپنی ہر ہر دُعا میں یاد رکھیں کے اس وطن کو اس زمین کو جتنی دُعا کی اب ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی -

خوش رہیں آباد رہیں اور دُعا میں ضرور یاد رکھیں اس بلاگ میں مولا علی(ع) کے حوالے سے بہت کُچھ لکھا گیا میں بھی آخر میں مولا کا ایک قول یہاں نقل کر رہی ہوں ،
مولا ِ کاینات فرماتے ہیں کے-
اگر کسی اپنے کی کوئی بات بُری لگے تو خاموش ہو جاوّ اگر وہ اپنا ہے تو سمجھ جائے گا
اور اگر نہ سمجھے تو تم سمجھ لینا کہ وہ تمہارا اپنا نہیں -
خدا حافظ و ناصر
میرے عزیز بہن بھائیو ، یوں تو یہ سال میرے لئے مشکلوں کا سال تھا لیکن مجھے ہمیشہ اپنے خدا پر بھروسہ رہا ہے اور یقین کہ وہ مشکلیں بھی راہنمائی کے ساتھ دیتا ہے ۔ میری امی جی لندن میں شدید بیمار رہی اور آپ سب کی دعاؤں سے وہ صحت یاب ہو گئیں لیکن اب وہ چل پھر نہیں سکتی ۔ میں سوچتی ہوں اپنی ماں کے بارے میں تو دکھی ہو جاتی ہوں کہ میری ماں کبھی ایک سیکینڈ بھی نہیں بیٹھا کرتی تھیں ۔ ہم انہیں پکڑ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا کرتے تھے اور اب یہ وقت ایک قدم بھی نہیں چل سکتی ۔۔یا اللہ ۔۔ہم سب راضی تیری رضا پر ۔۔
ابا جی کا گھٹنے کا آپریشن ہوا ہے وہ ابھی ابھی ہوسپٹل سے لوٹے ہیں ۔۔الحمدوللہ خیریت سے ہیں ۔۔۔ ہاں مجھے ایک دکھ ہے جس پر مجھے صبر نہیں آتا وہ میری امی جی (میری ساس ) کا بیمار ہونا ہے ۔

یوں تو امی جی ( میری ساس ) جہاں کہیں بھی رہتی تھیں ہم انہیں پابندی سے فون کرتے تھے لیکن گزشتہ دو برسوں سے وہ مستقل پاکستان میں رہائیش پزیر ہیں اور ہم انہیں روزانہ مغرب کی نماز کے بعد پابندی سے فون کرتے ہیں اور ان کی دعائیں لیتے ہیں .. کوئی سات سال پہلے ان کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا جس کا آپریشن کامیاب نہ ہو سکا اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی ٹھیک نہ ہو سکی اور آہستہ آہستہ اس آنکھ کی روشنی جاتی رہی .. لیکن انہوں نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی .. میں گزشتہ دو دہائیوں سے ان کے ساتھ ہوں میں نے انہیں ایک دن بھی قران پاک پڑھنے کا ناغہ کرتے نہیں دیکھا ..نماز کی پابندی … قرآن پاک ختم کرنا .. ہر ایک کو دعائیں دینا …. ہر کسی کی اتنی خیر خواہ کہ ہم ان کے سامنے کسی کی برائی نہیں کر سکتے .. اباجی یعنی میرے سسر جنہیں میں نے کبھی دیکھا نہیں کیونکہ ان کا انتقال 1984 میں ہو گیا تھا .. ان کے لئے فاتحہ اور قران پڑھنا ان کے روزانہ کا ایسا معمول رہا ہے جیسے ہم روز اپنے کاموں پر جاتے ہیں .. بس یوں کہ امی جی نے اپنی عمر ایک ڈیوٹی کی طرح گزاری ہے …اللہ کریم ان کا بابرکت سایہ ہم پر تاحیات رکھے ..آمین

آج بھی حسب معمول افطار کے بعد ان سے پاکستان بات ہو رہی تھی .. میں نے اچانک پوچھ لیا امی جی آپ کونسے سپارے پر ہیں .. انہوں نے کوئی جواب نہ دیا .. میں نے خوشی خوشی بتایا کہ میں پانچویں پر ہوں کہ جاب اور گھر کے ساتھ ماہ رمضان میں صرف ایک قران پاک ختم کرنے کا خیال ہی مجھے مسرور کر دیتا ہے .. بھلا میں امی جی سے کہاں آگے جا سکتی تھی .. میں نے دوبارہ پوچھا تو ان کی آواز رندھ گئی … کہنے لگی کہ انہیں اب دوسری آنکھ سے بھی بس اتنا ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اللہ پاک نے انہیں کسی کا محتاج نہیں کیا …انہوں نے اس ایک جملے میں کسی کا محتاج نہ ہونے پرکئی بار رب کریم کا شکر ادا کیا … اب خاموشی میری طرف سے تھی .. میرے لئے بہت ہی تکلیف دہ خبر تھی جو انہوں نے مجھے اسی لئے نہیں بتائی تھی کہ میں پریشان ہو جاؤنگی … اف اب ان کی دونوں آنکھوں کی روشنی جاتی رہی .. مجھ سے آگے کچھ بھی نہیں سوچا گیا ..
انہوں نے مجھے نصیحت فرماتے ہوئے کہا کہ ”
روح اور جسم اللہ ہی کی امانتیں ہیں جو اس نے اپنی مہربان طبعیت کی وجہ سے ہم جیسوں کو عطا کر رکھی ہیں سو بیٹی جب تک آنکھیں ہیں ..ان میں نور ہے.. اللہ کے علم سے اپنے دل اور دماغ کو اتنا روشن کر لو کہ کل اگر مالک اپنی امانت واپس لے لے تو اسی کی مہربانی سے اپنے اندر کی روشنی سے رستہ دیکھتی رہو …. قرآن پاک طاق پر نہیں بیٹی آنکھوں کے رستے دل و دماغ میں سجا ؤ ..اسے اپنے عمل میں سانس کی طرح بسالو … کل کیا ہو بیٹی کوئی نہیں جانتا .. بس جو پل عطا ہو وہی مہلت ہے ….پھر وہ مجھ سے رمضان کے حوالے سے تو کبھی بچوں کے حوالے سے میرے شب و روز کی تفصیل پوچھتی رہی …دعاؤں اور پیار کے خزانے مجھ پر لٹاتی رہیں ..

انہیں یہ انتہائی رنج تھا کہ پہلی بار اس رمضان میں وہ خود قران پاک نہیں پڑھ سکیں گی اور نہ ہی ابا جی کو بخش سکیں گی … بھلا میرے پاس اپنی ماں کے لئے سوائے اس تسلی کے اور کیا تھا کہ وہ فکر نہ کریں میں ابا جی کے لئے قران پاک پڑھونگی .. کیونکہ یہ ہم پر اپنے والدین کا قرض ہے … لیکن … میں سوچ رہی ہوں کہ میں امی جی جیسا اخلاص ..اپنے خدا سے محبت ..یقین اور والہانہ عقیدت کہاں سے لاؤنگی ….
مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آپ سب کی دعاؤں نے اور اللہ پاک کی رحمت اور مہربانی نے نہ صرف مجھے اپنی ماں سے کیا وعدہ نبھاہنے کی مہلت دی بلکہ ابا جی کی روحانی خدمت کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائی .. آخر میں اپنی بہت ہی عزیز و پیاری آپا عالم آراء کی دعا دہراتی ہوں اور ہر ہر دعا پر آپ کے ساتھ ساتھ آمین کہتی ہوں رمضان کریم رخصت ہو رہا ہے ۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عبادات کو قبول فرمائے اور اپنے فضل سے بہت زیادہ اجر و ثواب کا مستحق قرار دے ۔آمین
ہمارے چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کو بہت بڑا بنا کر قبول فرما لے کہ اس کے خزانے ہمیشہ بھلائی کی طرف بڑھنے والوں کے لئے کھلے رہتے ہیں ۔آمین اللہ ہماری اُن تمام اچھائیوں کو قائم رکھنے میں ہماری مدد فرمائے جو ہم نے اس ماہ میں حاصل کیں ،آمیناللہ ہمارے دلوں کی کدورتوں کو دور فرمائے اور ہم سب کو ایک دوسرے کا ہمدرد اور غمگسار رکھے ۔آمیناللہ ہم سب کو منافقت سے دور رکھے اور ہر حال میں حق بات کہنے اور لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمیناللہ سبحانہ تعالیٰ سب بیماروں کو صحت اور تندرستی کے ساتھ زندگی عطا فرمائے ،آمیناللہ رحمٰن و رحیم سب کی مالی مشکلات کو دور کرے ،اور بے روز گاروں کو بہترین روز گار عطا فرمائے ۔آمین
اللہ کریم ہم سب پر اپنے فضل و کرم کی بارشیں برساتا رہے ، اور ہم سب کو اپنے شکر گزار بندوں میں شامل رکھے ۔آمیناللہ رب العزت ہماری دعاؤن کو شرفِ قبولیت بخشے ،آمیناللہ ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے ، اور مسلمانوں کی مصیبتیں دور کر دے چا ہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی بستے ہوں ۔آمیناللہ ہم سب کو شر اور فساد سے بچاتا رکھے آمین ثمہ آمین یا ربُ العالمینپرور دگار ہم تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں ،ہم گنہگاروں کی مدد فرما آمینآمین ثم آمین یا رب العالمین میں خلوصِ دل سے آپ سب بہن بھائیوں کی خوشیوں اور کامرانیوں کے لئے دعا گو ہوں نگہت نسیم ۔سڈنی