16.10.2026, 02:28pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عزیز ملت ایران ۔۔۔۔۔ با عظمت امت اسلامیہ کے نام
16.09.2010, 01:11am , جعمرات (GMT+1)

عالمی اخبار۔مرکزی بیورو
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ العزیز الحكیم: اٍنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاٍنَّا لَہ لَحَافِظُونَ

عزیز ملت ایران، با عظمت امت اسلامیہ!
امریکا میں قرآن مجید کی جنون آمیز، نفرت انگیز اور قابل مذمت انداز سے بے حرمتی جو اس ملک کی پولیس کے تحفظ میں انجام پائی، بہت تلخ اور بڑا سانحہ ہے جسے چند بے مایہ اور بکے ہوئے عناصر کی احمقانہ حرکت پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ان مراکز کی جانب سے منصوبہ بند اقدام ہے جو برسوں سے اسلام کی مخالفت اور اسلامو فوبیا پھیلانے پر کاربند ہیں اور سیکڑوں طریقوں اور ہزاروں تشہیراتی حربوں کے ذریعے اسلام و قرآن کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ یہ اس شرمناک سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا آغاز کافر مرتد سلمان رشدی کی خائنانہ حرکت سے شروع ہوا اور خبیث ڈنمارکی کارٹونسٹ کی حرکتوں اور ہالیوڈ کی سیکڑوں اسلام مخالف فلموں کی شکل میں آگے بڑھتے ہوئے اب اس نفرت انگیز منظر تک پہنچا ہے۔ ان شر پسندانہ حرکتوں کے پیچھے کیا ہے اور کون ہے؟

اس شر پسندانہ روش کا جائزہ لینے سے، جو ان برسوں میں افغانستان، عراق، فلسطین، لبنان اور پاکستان میں مذموم اقدامات کے ساتھ جاری رہی ہے، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ ان کے تار تسلط پسندانہ نظام اور صیہونی تھنک ٹینک سے جڑے ہوئے ہیں جن کا امریکا کی حکومت اور صیہونی و فوجی اداروں اسی طرح برطانوی حکومت اور بعض یورپی حکومتوں پر گہرا اثر و رسوخ ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ گیارہ ستمبر کو ٹاوروں پر ہونے والے حملوں کے معاملے میں آزادانہ تحقیقاتی کارروائيوں کے نتیجے میں شک کی سوئی جن کی جانب گھومتی جا رہی ہے۔ اس واقعے سے اس وقت کے جرائم پیشہ امریکی صدر کو افغانستان اور عراق پر حملے کا بہانہ میسر آیا اور اس نے صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا اور رپورٹوں کے مطابق اسی شخص نے کل اعلان کیا ہے کہ میدان میں کلیسا کے اتر آنے کے بعد یہ صلیبی جنگ مکمل ہوئی ہے۔
تازہ نفرت انگیز اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف عیسائی معاشرے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی عمومی سطح تک پھیل جائے اور کلیسا اور پادری کی مداخلت کے ذریعے اسے مذہبی رنگ اور دینی تعصب کا سہارا مل جائے اور دوسری جانب دیگر مسلم قوموں کو جو اس مذموم جسارت سے خشمگیں ہوں گی اور جن کے جذبات مجروح ہو جائیں گے، انہیں عالم اسلام اور مشرق وسطی کے مسائل اور تبدیلیوں سے غافل کر دیا جائے۔

یہ کینہ توزی ایک نئے سلسلے کی شروعات نہیں بلکہ صیہونزم اور امریکا کی سرکردگي میں جاری اسلام دشمنی کے طویل سلسلے کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اس وقت تمام عمائدین سامراج اور ائمہ کفر اسلام کے مد مقابل کھڑے ہو گئے ہیں۔ اسلام انسان کی آزادی اور معنویت و روحانیت کا دین ہے اور قرآن رحمت و حکمت اور عدل و انصاف کی کتاب ہے۔ دنیا کے تمام حریت پسندوں اور ادیان ابراہیمی کے پیروکاروں کی ذمہ داری ہے کہ اس نفرت انگیز طریقے سے انجام دی جانے والی اسلام دشمنی کی مذموم سیاست کا مقابلہ کریں۔ امریکی حکومت کے عمائدین اپنی فریبانہ اور کھوکھلی باتوں سے اس مذموم حرکت سے خود کو مبرا ظاہر نہیں کر سکتے۔ برسوں سے افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان اور فلسطین میں دسیوں لاکھ مسلمانوں کے حقوق اور مقدسات کو پامال کیا جا رہا ہے۔ لاکھوں ہلاکتیں، دسیوں ہزار مردوں اور عورتوں کی گرفتاری اور انہیں دی جانے والی ایذائیں، ہزاروں اغوا شدہ عورتیں اور بچے اور دسیوں لاکھ معذور، بے گھر اور بے سہارا لوگ کس چیز کی قربانی بنے ہیں؟ ان تمام مظلومیتوں کے بعد بھی مغربی میڈیا میں کیوں مسلمانوں کو تشدد پسند اور قرآن و اسلام کو انسانیت کے لئے خطرہ ظاہر کیا جاتا ہے؟ کون شخص اس پر یقین کر سکتا ہے کہ یہ وسیع سازش امریکی حکومت کے اندر موجود صیہونی عناصر کی مدد اور مداخلت کے بغیر ممکن ہوئی اور اسے رو بہ عمل لایا گيا ہے؟

ایران اور پوری دنیا کے مسلمان بھائیو اور بہنو!

میں ہر ایک کو ان چند نکات کی جانب متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں؛

اول: یہ سانحہ اور اس سے قبل پیش آنے والے واقعات سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ آج عالمی سامراجی نظام کے نشانے پر جو چیز ہے وہ دین اسلام اور قرآن مجید ہے۔ اسلامی جمہوریہ سے سامراج کی آشکارا دشمنی سامراج سے اسلامی مملکت ایران کی صریحی دشمنی کا جواب ہے اور اسلام اور دیگر مسلمانوں کی دشمنی سے خود کو مبرا ظاہر کرنے کی ان (سامراجی طاقتوں) کی کوشش بہت بڑا جھوٹ اور شیطانی فریب ہے۔ وہ اسلام اور اس دین سے وابستہ تمام افراد نیز مسلمانوں کی شناخت کے دشمن ہیں۔

دوم: اسلام اور مسلمانوں سے کینہ توزی کا یہ سلسلہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ کئی عشروں سے لیکر اب تک نور اسلام ہمیشہ سے زیادہ تابندہ اور عالم اسلام بلکہ مغرب میں بھی دلوں میں اس کا اثر و نفوذ ہمیشہ سے زیادہ وسیع تر ہو گیا ہے، یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ امت اسلامیہ ہمیشہ سے زیادہ بیدار ہو گئی ہے اور مسلمان قوموں نے دو صدیوں کی سامراجی و استعماری طاقتوں کی زنجیر کو توڑ دینے کا تہیہ کر لیا ہے۔ قرآن اور عظیم الشان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کا سانحہ اپنی تمام تر تلخیوں کے باوجود اپنے اندر ایک عظیم بشارت بھی چھپائے ہوئے ہے؛ قرآن کا درخشاں سورج روز بروز زیادہ بلند اور زیادہ تابناک ہوتا جائے گا۔

سوم: ہم سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس تازہ سانحے کا کلیسا اور عیسائيت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چند احمق اور بکے ہوئے پادریوں کی بچکانہ حرکت کو تمام عیسائيوں اور ان کے مذہبی پیشواؤں سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ ہم مسلمان دوسرے ادیان کے مقدسات کے سلسلے میں ہرگز ایسا کوئي قدم نہیں اٹھائیں گے۔ عوامی سطح پر مسلمان-عیسائی تنازعہ دشمنوں اور اس جنونی سازش کے منصوبہ سازوں کی خواہش ہے لیکن ہمیں قرآن سے ملنے والا سبق اس کے بالکل بر عکس ہے۔
 
چہارم: مسلمانوں کا احتجاج آج امریکی حکومت اور ان کے سیاستدانوں سے ہے۔ اگر وہ اپنی عدم مداخلت کے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں چاہئے کہ اس عظیم مجرمانہ کارروائی کے اصلی ذمہ داروں اور منظر عام پر سرگرم عناصر کو کہ جنہوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں کو رنجیدہ کیا ہے قرار واقعی سزا دیں۔
و السلام علی عباداللہ الصالحین
 سید علی خامنہ ای
22/شہریور/1389

2010/9/13

:دیگر مضامین
(12.09.2010) لندن کے سید اکمل حسین کا تخلیقی عمل۔عالمی اخبار کے لیئے
(11.09.2010) عبدالمناف غِلزئی نگران شعبہ گرافکس عالمی اخبار کا تخلیقی عمل
(10.09.2010) عید جسے گزرنے کے بعد بھی یاد کرنا اچھا لگتا ہے ۔از نگہت نسیم
(09.09.2010) دیس پردیس میں دوستوں کے امسال ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ نگہت نسیم
(06.09.2010) ابوظہبی میں ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ خرم ابن شبیر
(03.09.2010) روز قدس امت اسلامی کے متحدہ طاقت کا پرتو۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(02.09.2010) پاکستان کے شہر کراچی میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از محمداحمد ترازی
(27.08.2010) کینیڈا کے شہر وینکور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از شمس جیلانی
(26.08.2010) پاکستان کے شہر لاہور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از زرقا مفتی
(24.08.2010) رمضان اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے
(23.08.2010) اللہ کے حبیب کی شان میں نعت لکھنا اور سنانا عبادت ہے
(22.08.2010) امریکہ میں رمضان المبارک کیسے منایا جاتا ہے
(21.08.2010) آپ سب کو رمضان کی مبارک ہو۔۔۔ہائے
(20.08.2010) مدحت محمد و آلِ محمد کسی کی وراثت نہیں ہے
(20.08.2010) یہی وہ مبارک مہنیہ ہے جب کتاب لاریب نازل ہوئی
(19.08.2010) قرآن کریم میں ہر حلال و حرام کا ذکر بالتصریح نہیں آیا
(18.08.2010) دنیا کی سب سے بڑی افطاری خانہ کعبہ میں کی جاتی ہے
(17.08.2010) سترہ رمضان المبارک یوم بدر غلبہ دین حق اور ابطال باطل کا دن
(16.08.2010) طلع البدر علینا من ثنینان الوداع وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع
(11.08.2010) اے وطن میرے وطن، شاعر جوش ملیح آبادی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں