15.10.2026, 04:36am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

وزرات اطلاعات کے نام ایک کھلا خط
25.11.2008, 01:12am , منگل (GMT+1)

کفیل حسین۔پاکستان
وزرات اطلاعات کے نام ایک کھلا خط

ریڈیو پاکستان کیا صرف چند لوگوں کی اجارہ داری ہے یا قومی نشریاتی ادارہ؟

میں ریڈیو پاکستان کے ایک ریڈیو اسٹیشن کا جزوقت ملازم ہوں لیکن ایک درد مند دل رکھنے کی وجہ سے صرف اپنا کوئی ذاتی مسلہ بیان کرنے کی بجائےاس قومی ادارے کی روز افزوں بگڑتی ہوئی صورت حال کامسلہ وزارت اطلاعات کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔مجھے علم نہیں کہ کیا وزیر اطلاعات صاحبہ کے پاس اتنا وقت ہے کہ نہیں کہ وہ ریڈیو پاکستان کی تباہ ہوتی صورت حال پر کوئی توجہ دیں یا پھر اشفاق گوندل صاحب سیکرٹری اطلاعات اس جانب کوئی توجہ دے سکیں گے کہ جو خود کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان کے سربراہ رہے ہیں اور ادارے کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد انکو بہت اچھے لفظوں میں یاد کرتی ہے۔

میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے باہر خود جزوقتی معاہدے کے تحت ایک اسٹیشن پر کام کر رہا ہوں اور ریڈیو کی موجودہ انتظامیہ کے بہیمانہ اور ظالمنہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے اپنا اسٹیشن نہیں لکھ رہا کہ یہ لوگ مجھ سے منہہ کانوالہ اور سر کی چھت بھی چھین لیں گے۔ لیکن یہاں پر جمہوریت کے نام پر اور صدر زرداری سے قریبی تعلق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اگر اسکی تفتیش کسی آزادانہ کمیٹی سے کروائی جائے تو وزارت اطلاعات کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

سفارش اور رشوت تو ہمارے ملک کی ازل کی بیماری ہے لیکن اب ریڈیو پاکستان جیسا قومی اداری جس طرح اس کینسر میں مبتلا ہے اسکی تفتیش ضروری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل جو کھلے عام اپنے تعلقات صدر زرداری اور شیری رحمٰن سے بتاتے ہیں اور اسی خوف سے عملے کی ایک بڑی تعداد ان سے اپنی نوکریوں کی سلامتی کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہے انہوں نے ایسے ایسے اقدامات کیئے ہیں کہ انکی تفصیل لکھنا بھی بہت وقت لے گا۔

پروگرام کے عملے کے سربراہ ڈائریکٹر پروگرام سید ستار شاہ بھی جو اس پہلے لاہور اور فیصل آباد میں اچھے افسر اور پروگرام کے آدمی کی شہرت رکھتے تھے اب اپنی نوکری بچانے اور باعزت طور پر پنشن لے کر گھر جانے کے چکر میں ایسے ہی افسروں میں شامل ہیں جن کو اپنے پروگرام سٹاف کے مفادات کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ کسی پروگرام والے کو بچا نہیں سکتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ کسی ایک پروگرام والے کی جائز ٹرانسفر بھی نہیں کروا سکتے۔

ریڈیو پاکستان کے کتنے ہی اسٹیشنوں پر پروگرام کے ایسے ایسے لوگ ہیں جو جس اسٹیشن پر ملازم ہوئے تھے اب وہیں سے ملازمت ختم کرنے والے ہیں اور کئی ایسے بھی ہیں جو مسلسل ٹرانسفر کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور انکی گھر واپسی کی شنوائی بھی نہیں ہوتی۔

سیکرٹری اطلاعات اشفاق گوندل صاحب کے علم میں ابھی حال ہی میں ایسے کچھ واقعات لائے گئے ہیں لیکن شاید وہ بھی اپنے آپ کو ایوان صدر اور وزیر اطلاعات کے سامنے بے بس پاتے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے وعدے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

آج کل سارے ملک کر لگ بھگ ہر اسٹیشن پر کوئی نہ کوئی ایسا کھیل ہو رہا ہے کہ جس میں براہ راست انتظامیہ کے لوگ ملوث بتائے جاتے ہیں لیکن ملک کا عدالتی نظام خود عدل کی تلاش میں ہے اس لیئے متاثرہ لوگ کسی سے کوئی شکایت ہی نہیں کر پاتے کیونکہ شکایت کرنے والا خود ہی ملزم قرار دے دیا جاتا ہے۔

لاہور، فیصل آباد،کراچی، میانوالی اور اسلام آباد کے علاوہ ملتان ریڈیو کے واقعات اس نشریاتی ادارے کے لوگوں سے چھپے ہوئے نہیں لیکن لوگ اپنی نوکریاں جانے کے خوف سے زبان نہیں کھول سکتے۔

سچی بات یہ ہے کہ ایسے قومی اِدارے اپنی روایات اور تاریخ سے معتبر ٹھہرتے ھیں اور ریڈیو پاکستان جیسے عظیم اِدارے نے ھمیشہ اپنی روِایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ھے۔تاریخ کے اوراق بھی شاھد ھیں کہ ریڈیو پاکستان نے اپنی تہذیب تمدن تاریخ اور اپنے معاشرتی رسم و رواج کو زندہ رکھا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ آجکل جہاں ھر طرف غیر مْلکی ثقافتی یلغار نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ھے وہاں ریڈیو پاکستان وطنِ عزیز کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں کوشاں ھے

پاکستان کا ادب، آرٹ، تھٹیر اور میوزک اپنی الگ پہچان رکھتا ھے اور اِس پہچان کو دْنیا بھر میں مْتعارِف کروانے کے لئے ریڈیو پاکستان نے گْذشتہ چھ دہائیوں میں نْمایاں کردار ادا کیا ھے،

مقامِ افسوس ھے ھمارے ھاں ایک طبقہ فِکر اِسلامی جمھوریہ پاکستان کے قیام کا باعث بننے والے نظریے کو باطل ٹھہرانے والے ادبی اور ثقافتی مواد کو پاکستان کے سرکاری میڈیا میں داخل کرنے میں  کوشاں رھتا ھے، یہ سچ ھے کہ آفاقی ثقافتی قدریں اِنسانیت کا مْشترکہ وِرثہ ھے مگر یہ بھی سچ ھے کہ دْنیا کی ھر قوم اپنی نظریاتی اثاثے کے لئے چیلنج بننے والے کسی بھی لِٹریری اور میوزیکل شاھکار کو اپنے نِجی اور سرکاری میڈیا پر پیش کرنے کی اِجازت نھیں دیتے۔

اب تازہ ترین واقعے میں ریڈیو کی ایک ایسی پروگرام مینجر کو اسکی ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے جس نے اس کوشش کو روکنے کی کوشش کی۔ گزشتہ دنوں ریڈیو پاکِستان اِسلام آبادکے صبح نوسے دس بجے کے دوران نشر ھونے والے پروگرام میں مْسلسل تین انڈین گانے براڈکاسٹ کئے گئے، جِس پر سامعین کی جانب سے احتجاج کیا گیا، اِس پروگرام کی میزبان  میمونہ مْشتاق تھیں

ہوا یوں کہ  جب میمونہ مشتاق کو حکومتِ پاکستان کی طے شدہ پالیسی کی خِلاف ورزی پر پروگرام منیجر کوثر ثمرین نے منع کیا تو میمونہ مشتاق نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ گانے سامعین سننا چاھتے ھیں لہذا وہ یہ ریکارڈ چلا رھی ھیں۔

اور پھر اِس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین بہت افسوس ناک ھوا ھے کہ حکومت کی طے شدہ پالیسی کا دِفاع کرنے والی پروگرام منیجر کو اِنعام یہ مِلاھے کہ اْسے مْلازمت سے معطل کر دیا گیا ھے، یہ وھی کوثر ثمرین ھے جو زلزلے کے دوران جب سارہ عملہ ریڈیو پاکستان کی عِمارت سے اپنی جان بچا کے نِکل رھا تھا تو وہ پاگلوں کی طرح سٹوڈیو کی طرف بھاگ رھی تھی کہ سامعین کو تازہ ترین صورتحال سے باخبر رکھ سکے، یہ وھی کوثر ھے جسے گْزشتہ سال بہترین پروڈیوسر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کے ساتھ براڈکاسٹنگ میں جس کی شناخت ہے اور جسکی صلاحیت اور اہلیت کی سند خود سیکرٹری اطلاعات اشفاق گوندل صاحب اہنی سربراہی کے زمانے میں دے چکے ہیں

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پروگرام سٹاف کے سربراہ ڈائریکٹ پروگرام سید ستار شاہ بھی اپنی اس ہونہار پروگرام مینجر کو نہیں بچا سکے اور بے بس ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے حْکامِ بالا آسمان سے اْتری ھوئی مخلوق نھیں ھیں ، وہ قومی خزانے سے تنخواہ لیتے ھیں اور اِس کے نظرئے کی نفی کرنے والا کتنا بھی طاقتور کیوں ناں ھواْسے اِس سنگین واردات کے اِرتکاب پر اِنصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اْٹھانا چاھیے تاکہ ریڈیو کے عملے کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور انکو اعتماد میسر آئے۔

مجھے ایک معمولی سی امید ہے کہ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن جو خود ایک خاتون ہیں اور وہ کسی خاتون کی عزت نفس کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں اس معاملے اور دیگر اداراتی معاملوں پر توجہ دیں گی اور سیکرٹری اطلاعات بھی اس قومی ادارے کے عملے کے مفادات کا خیال کریں گے اور ریڈیو کے افسران کو لگام ڈالیں گے۔

‘‘عالمی اخبار کو یہ خط ای میل سے موصول ہوا ہے اور کسی ایڈیٹنگ کے بغیر شائع کیا جارہا ہے۔ادارے کا اس خط کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ریڈیو پاکستان یا وزارت اطلاعات اگر اس کا جواب دے گی تو اسے بھی شائع کر دیا جائے گا‘‘


:دیگر مضامین
(23.11.2008) معروف صحافی خاور نعیم ہاشمی کا پیغام
(22.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر سڈنی کی فریدہ لاکھانی کا پیغام
(20.11.2008) نام میں کیا رکھا ہے؟
(16.11.2008) لفظ پاکستان کے خالق کایوم پیدائش
(16.11.2008)  ہم احتجاج کرتے رہیں گے آپ اپناکام کرتے رہیں
(15.11.2008) برطانوی وارث تاج و تخت شہزادہ چارلس60سال کے ہو گئے
(14.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر ملنے والے پیغامات
(12.11.2008) صدائے وطن کے ‘‘ایڈیٹر‘‘ سیدجاوید حسین کا پیغام
(08.11.2008)  جون ایلیا سے بچھڑے چھ برس ہو گئے‘
(04.11.2008) سڈنی کی تقریب کمیونٹی ایوارڈ
(03.11.2008) پاکستان کے بارہ صدر
(03.11.2008) آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں چودہ اگست کی تقریب
(03.11.2008) سڈنی میں محفل ذکر اہلبیت
(03.11.2008)  سڈنی اور میلبورن میں میلاد آئمہ کی محافل(آخری قسط)
(03.11.2008) سڈنی میں صفدر ھمٰدانی کے اعزاز میں محفل غزل
(01.11.2008) یکم نومبر ایک یادگار دن رہے گا
(29.10.2008) کوئٹہ کا 1935کا تباہ کُن زلزلہ
(25.10.2008) چہروں کی بجائے اب نظام بد لا جائے ۔
(22.10.2008) بجلی کا بل اور کرنٹ
(20.10.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر انگریزی پیغامات



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں