16.10.2026, 04:14pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

جنت البقیع کی خونین داستان ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
19.09.2010, 01:16am , اتوار (GMT+1)

آغا سید عبدالحسین بڈگامی ۔کشمیر
جنت البقیع تاریخ اسلام کے جملہ مہم آثار میں سے ایک ہے ،  جسے وہابیوں نے 8شوال 1343 مطابق مئ 1925 کو شہید کرکے دوسرے کربلا کی داستان کو قلمبند کرکے اپنے یزیدی افکار اور عقیدے کا برملا اظہار کیا ہے ۔

قبرستان بقیع (جنت البقیع) کے تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقبرہ صدر اسلام سے نہایت  ہی محترم کا مقام  رکھتا تھا ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مدینہ منورہ ہجرت کی تو قبرستان بقیع مسلمانوں کا اکلوتا قبرستان تھا اور ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ کے مسلمان "بنی حرام" اور "بنی سالم" کے مقبروں میں اپنے مردوں کو دفناتے تھے ۔ اور کبھی کبار تو اپنے ہی گھروں میں اپنے مردوں کو دفناتے تھے  اور ہجرت کے بعد رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بقیع کہ جس کا نام  "بقیع الغرقد" بھی ہے مقبرہ کیلئے مخصوص ہو گیا۔

جنب البقیع میں سب سے پہلے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص صحابی اور حضرت علی ابن ابیطالب علیہم السلام کے قریبی ساتھی اور دوست "جناب عثمان بن مظعون" دفنائے گئے جن کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام اپنے گفتگو کے درمیان بہت زیادہ یاد کرتے  اور حضرت علی کا حضرت عثمان بن مظعون کے بارے میں انکی محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے ایک بیٹے کا نام عثمان رکھا تھا ۔
جنت البقیع ہر اعتبار سے تاریخی ، مہم اور مقدس ہے ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  جنگ احد کے بعض شہداء کو اور اپنے بیٹے "ابراہیم " کو بھی جنت البقیع میں دفنایا ہے ۔ اس کےعلاوہ  محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہ و علیہم اجمعین کے مکتب یعنی مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کیلئے  بقیع کے ساتھ اسلامی اور ایمانی وابستگی ہے کیونکہ یہا ں پر چار معصومین   دوسرے امام حضرت حسن بن علی علیہم السلام ، چوتھے امام حضرت علی بن حسین زین العابدین علیہم السلام ، پانچویں امام حضرت محمد بن علی الباقر علیہم السلام  اور چھٹے امام حضرت جعفر بن محمد صادق علیہم السلام کا جای مدفن ہے ۔

 اسکے علاوہ ازواج رسول خدا حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، زوجہ ولی خدا علی مرتضی، ام البنین فاطمہ بنت اسد والدہ مکرمہ  علمدار کربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام، حضرت کے چچا "عباس" اور کئ بزرگ صحابی حضرات مدفون ہیں ۔
تاریخ اسلام کا گہوارہ" مکہ مکرمہ" اور" مدینہ منورہ" رہا ہے جہاں تاریخ اسلامی کے کلیدی آثار ہونا طبیعی امر ہے لیکن وہابیت کی آمد سے "شرک"کے عنوان سے بے منطق و برہان قرآنی  ان تمام تاریخی اسلامی آثار کو محو کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو ا جس پرعالم اسلام میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کو چھوڑ کر سبھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے اور سیّاحوں اور سفرناموں  سے تاریخ اسلام کے آثار قدیمہ کی حفاظت اور موجودگی کا پتہ ملتا ہے از جملہ جنت البقیع کہ جس کی دور وہابیت تک حفاظت کی جاتی تھی اور  قبروں  پر کتیبہ لکھے پڑے تھے  جس میں صاحب قبر کے  نام و نشانی ثبت تھے وہابیوں سے سب محو کردیا ہے۔یہاں تک ائمہ معصومین علیہم السلام کے قبروں پر جو روضے تعمیر تھے ان کو بھی مسمار کردیا ہے ۔
جنت البقیع کے آثار کے بارے میں "مصر" کے " محمد لبیب مصری" نامی شخصیت کے سفر نامے میں بھی ملتا ہے جنہوں نے 1327 ہجری قمری میں سعودی عربیہ کا سفر کیا تھا۔ وہ  اپنے سفرنامے میں  جنت البقیع کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:وہاں (جنت البقیع میں )پر "قبہ البین" نامی معروف گنبد ہے جہاں  پر ایک کمرہ ہے جس میں ایک گھڑا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  دندان مبارک  گرے ہیں ۔ اور قبہ کے اندر امام حسن کا ضریع ہے  جو کہ سٹیل کا بنا ہوا ہے جس پر فارسی خطاطی سے لکھا ہوا ہے ۔ میرے خیال سےعجم(غیر عرب) شیعوں کے آثار ہوں گے ۔

وہابی جس بارے میں زیادہ حساس ہیں وہ قبروں پر تعمیر کا ہے  خاص کر پیغمبروں ، اولیاء الہی اور صالحین  کی قبروں کا مسئلہ ہے ۔ اس کے  بارے میں سب سے پہلے "ابن تیمیہ" اور اسکے معروف شاگرد"ابن قیّم" نے اپنی رائے ظاہر کرکے    روضوں اور آستانوں کو منہدم کرنے کا فتوی صادر کیا تھا ۔

ابن قیّم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے : «جو تعمیرات قبور پر بنائی گئ ہیں انہیں منہدم کرنا واجب ہے اور منہدم کرنے پر قبر پر حتی ایک دن کیلئے آثار کا باقی رکھنا جائز نہیں ہے »جب سعودیوں نے 1344 ہجری قمری میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر تسلط حاصل کیا انہوں نے "بقیع" اور حضرت رسول خدا صلی اللہ آلہ وسلم انکے اہلبیت علیہم السلام اور اصحابہ منتجبین کے آثارکو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا جس کی آغاز  8شوال 1343 مطابق مئ 1925 کو ہوا ہے جو کہ ابھی تک جاری ہے ۔

عالم اسلام کے حکام کس کس بات پر خاموش تماشائی بن کررہیں گے۔ کیا اسلام صرف ایرانی حکام کا ہے دیگر اسلامی حکام کا نہیں ہے ۔ جبکہ مسلمان عوام شیعہ ہو یا سنی ہر وقت اسلام کے خلاف ہونے والی ہر سازش پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتا رہتا ہے لیکن اسلامی ایران کو چھوڑ کر سبھی اسلامی ممالک استکبار کے غلام ہونے کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ وہابی اسلامی شبیہ کو مسخ کرنے پے تلے ہوئے ہیں اس پر بھی خاموش ہیں ،فلسطین کے مسئلے پر  ایران کو چھوڑ کر باقی اسلامی ممالک بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح عراق ، افغانستان ، کشمیر اور دیگر اسلامی مسائل یکی طرف بھی خونخوار استکبار خاص کر امریکا اور اسرائیل ایجنٹ ثابت ہورےہ ہیں ۔یہاں تک  کہ رشدی ملعون نے  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت کی اسپر بھی خاموشی اختیار کی اور صرف اسلامی ایران صرف استبار پر فدا ہونے کے بجائے اسلام پر فدا ہونے کیلئے قائم رہا ۔ کارٹون کے ذریعہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت ہوئی یہاں پر بھی صرف اسلامی ایران نے غیرت اسلامی کا مظاہر کیاہے ۔غرض  ہر وقت جب بھی اسلام پر انگلی اٹھتی ہے صرف اسلامی ایران عام مسلمان کے مانند غیرت اسلامی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن باقی اسلامی حکام  خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ۔ آخر کیوں ! اگر اس کیوں کا اسلامی حکام جواب نہیں دیتے عوام مسلمان تو اپنی رائے کا  اظہار کرسکتا ہے خاص کر اہل قلم حضرات۔

کیونکہ مسلمانوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسلامی ایران کے بغیر کیوں باقی اسلامی ملکوں کے سربراہ  اسلامی غیرت کا مظاہر نہیں کرتے ہیں وہ اس لئے کے اسلامی ایران کو چھوڑ کر دیگر تمام  اسلامی ملکوں کے سربراہ نام نہاد مسلمان ہیں اسلام شناس اعتقادی مسلمان نہیں ہیں  اس لئے جب بھی سیاسی لیڈروں کا انتخاب کرنا ہو تو ایک ایسے مسلمان کو انتخاب کرنے کی ضرورت ہے جسے قرآن کی تعلیمات پر ایمان ہو ، اعتقاد ہو ۔ اسلامی تعلیمات کو سمجھ  چکا ہو ۔اگر ایسا نہ ہو تو مسلمانوں کی ذلت بری زندگی کی داستان اسی طرح چلتی رہے گی اور ظالموں کا اسی طرح بول بالا رہے گا کیونکہ اس با بین ثبوت قرآن کی بے حرمتی کرنے سے آشکار ہو گیا ہے کہ اسلامی ایران کو چھوڑ کر تمام اسلامی حکام امریکا اور اسرائیل کے ذر خرید غلام ہیں ۔

امریکا نے پہلے قرآن سوزی کو گیارہ ستمبر کے حوالے سے تشہیر کیا کہ ایک پادری اس دن قرآن کو جلانے جارہا ہے اس پر عالمی رائے عامہ حاصل کی پھر اسی پادری کی طرف قرآن کی بے حرمتی سے باز آنے کی خبر شایع کی اور دوسری طرف دو  دوسرے پادریوں کی طرف سے میڈیا کے سامنے قرآن کو جلایا گیا اور اس خبر کو پہلے نشر کیا گیا اور جس کی فوٹیج ابھی تک "http://www.youtube.com/watch?v=3WaB2GH88js"
اس  ویب لینک پر موجود ہے اور پھر کہا کہ یہ خبر غلط ہے امریکا میں کوئی قرآن سوزی نہیں ہوئی اور دنیا بھر میں اس خبر پر سنسر لگایا گیا  تا کہ معلوم کرسکیں کہ ہم نے مسلمانوں کسقدر اپنا اثر و رسوخ حاصل کیا ہوا ہے اور مسلمان حکام کتنا استکبار  کی نمک خواری کا حق ادا کرتے ہیں اور وہ یہ امتحان کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ یہاں پر بھی صرف   اسلامی ایران قرآن کی بے حرمتی کو  کسی بھی حالت میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوا جبکہ باقی اسلامی حکام نے اسبات کا اعلان کیا کہ امریکا جب تک انکی جیب گرم رکھتا ہے امریکا اور اسرائيل عالم اسلام کے ساتھ ہر قسم کا استحصال کرنے کا جواز رکھتا ہے ۔ جس پر عام مسلمان نہایت ہی شرمسار ہے اور حکام ٹس سےمس نہیں ہوتے ہیں ۔

اگر ہم سب مسلمان متحدہ طور پر اپنے اسلامی غیرت کا اظہار کرتے رہیں گے وہ دن دور نہیں جب اسلامی ایران کی طرح ہر اسلامی ملک کے حکام بھی ہمارے ساتھ ہمصدا ہو جائيں گے جس سے استکبار کی نابودی کا آغاز ہو جائے گا اور عدل و انصاف پر مبنی ماحول دنیا بھر میں حاکم رہے گا ۔ پھر نہ اسلامی آثار محو کئے جائيں گے نہ مسلمانوں کا داخلی اختلاف رہے گا اور نہ ہی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ کسی قسم کی ناچاکی موجود رہے گی ۔

اے اللہ اب دولت کریمہ ہمیں جلد سے جلد نصیب فرما جس سے اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی حاصل ہو جائے اور کفار اور منافقین ذیل ہو جائيں ۔
آمین یا رب العالمین۔
8 شوال 1431


:دیگر مضامین
(16.09.2010) عزیز ملت ایران ۔۔۔۔۔ با عظمت امت اسلامیہ کے نام
(12.09.2010) لندن کے سید اکمل حسین کا تخلیقی عمل۔عالمی اخبار کے لیئے
(11.09.2010) عبدالمناف غِلزئی نگران شعبہ گرافکس عالمی اخبار کا تخلیقی عمل
(10.09.2010) عید جسے گزرنے کے بعد بھی یاد کرنا اچھا لگتا ہے ۔از نگہت نسیم
(09.09.2010) دیس پردیس میں دوستوں کے امسال ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ نگہت نسیم
(06.09.2010) ابوظہبی میں ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ خرم ابن شبیر
(03.09.2010) روز قدس امت اسلامی کے متحدہ طاقت کا پرتو۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(02.09.2010) پاکستان کے شہر کراچی میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از محمداحمد ترازی
(27.08.2010) کینیڈا کے شہر وینکور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از شمس جیلانی
(26.08.2010) پاکستان کے شہر لاہور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از زرقا مفتی
(24.08.2010) رمضان اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے
(23.08.2010) اللہ کے حبیب کی شان میں نعت لکھنا اور سنانا عبادت ہے
(22.08.2010) امریکہ میں رمضان المبارک کیسے منایا جاتا ہے
(21.08.2010) آپ سب کو رمضان کی مبارک ہو۔۔۔ہائے
(20.08.2010) مدحت محمد و آلِ محمد کسی کی وراثت نہیں ہے
(20.08.2010) یہی وہ مبارک مہنیہ ہے جب کتاب لاریب نازل ہوئی
(19.08.2010) قرآن کریم میں ہر حلال و حرام کا ذکر بالتصریح نہیں آیا
(18.08.2010) دنیا کی سب سے بڑی افطاری خانہ کعبہ میں کی جاتی ہے
(17.08.2010) سترہ رمضان المبارک یوم بدر غلبہ دین حق اور ابطال باطل کا دن
(16.08.2010) طلع البدر علینا من ثنینان الوداع وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں