|
جرمنی میں مقیم طاہر عدیم کی ایک غزل عالمی اخبار کے لیئے
20.09.2010, 09:21am , سوموار (GMT+1)
عالمی اخبار ملٹی میڈیا
کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر کہ جیسے دُور صحراﺅں میں نخلستان کا منظر
عذابِ شدتِ کربِ جدائی کو وہ کیا جانے؟ کہ دیکھا ہی نہ ہو جس نے وداعِ جان کا منظر
اُٹھی کرسی ، کٹا سبزہ ، گرے پتے ، اُڑی چڑیاں تمہارے بعد کیا سے کیا ہوا دالان کا منظر
کہاں ہوں،کون ہوں یہ پوچھتا پھرتا ہوں اپنوں سے کہ مجھ سے کھو گیا شاید مری پہچان کا منظر
دریدہ نقش ، زخمی لفظ ، لرزیدہ قطاروں میں لہو میں کس نے رنگا ہے مرے دیوان کا منظر
ہمارے قتل پر چشمِ فلک میں خون اُترے گا فضاﺅں میں سجے گا احمریں طوفان کا منظر
نہا کے پیار کی بارش میں اُس نے دھوپ جب پہنی نظر میں گھل گیا قوسِ قزح کے تھان کا منظر
درونِ ذہن جب زیبائشِ افکار ہی نہ ہو گھروں میں کیا ہے پھر آرائشِ سامان کا منظر
وہ جتنے دِیپ اندر ہیں وہ آنکھوں میں ہی جلتے ہیں اور آنکھیں ہی دِکھاتی ہیں دلِ ویران کا منظر
سمجھتا ہوں تری ساری کہانی مَیں__کہ کیا ہو گی ہے دِکھنے میں اگر ایسا ترے عنوان کا منظر
بھری دُنیا کا طاہر چپہ چپہ چھان مارا ہے نہیں پایا کہیں بھی شہرِ پاکستان کا منظر |
|