16.10.2026, 11:25am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ایودھیا فیصلہ: سماج میں مکمل صبر و تحمل کی ضرورت ہے
23.09.2010, 09:56am , جعمرات (GMT+1)

عالمی اخبار بھارت بیورو

51.jpgلکھنئو ۲۲ ستمبر۔ملک میںاجودھیا کے فیصلہ سے متعلق عام شہریوں میں بے چینی اور بے یقینی کے خاتمہ اور سماج میں یگانگت،امن ،صبر اور تحمل کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے آج یو پی پریس کلب میں روزنامہ’ آگ‘ کی جانب سے ایک سیمینار بہ عنوان اجودھیافیصلہ: سماج میں صبر و تحمل کی ضرورت؛منعقد ہوا۔سیمینار کی صدارت سابق وائس چانسلر لکھنو یونیورسٹی پروفیسر روپ ریکھا ورما نے کی۔جبکہ نظامت کے فرائض سبکدوش آئی پی ایس سید محمد نسیم نے انجام دئیے۔
روزنامہ ’آگ‘ کی جانب سے منعقد اس سیمینار میں کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی اور مقررین نے سماج کو یہ پیغام دیا کہ اجودھیا فیصلہ جو کہ ۴۲ ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ دینے والا ہے ۔اس کو صبر و تحمل سے تسلیم کیا جائے۔ تشدد، بد امنی اور ایک دوسرے فرقہ کو چڑھانے نیز خوشیاں و غم منانے کے بجائے سماج میں بھائی چارہ اور خیر سگالی کا ماحول بہر حا ل پید اکرنے کی کوشش کی جائے۔
سمینار کا آغاز کرتے ہوئے مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ہم امن کا پیغام لے کر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ علم اور عشق انسان کی دو آنکھیں ہیں ۔ اگر کسی کے پاس علم ہے اور عشق نہیں ہے تو سمجھ لیجئے اس کے پاس ایک آنکھ نہیں ہے۔ یہ ملک سوفی سنتوں کا ہے جن کے پاس علم اور عشق دونوں تھے۔ ان کی خانقاہوںمیں آنے والوں سے ان کا مذہب اور انکی ذات نہیں پوچھی جاتی تھی بلکہ ان سے صرف ان کی ضرورت پوچھی جاتی تھی۔ صوفی سنتوں نے ہمیشہ بھائی چارہ بنائے رکھنے کا پیغام دیا۔ انہوںنے کہاکہ عدالت 54.jpgعلم اور جذبات سے اوپر ہے۔ عدالت اپنے علم کے مطابق فیصلہ دے گی جس پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہوںنے باشندگان ملک سے عدالت کافیصلہ آنے کے بعد امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر رمیش دکشت نے اجودھیا مسئلے پر ’آگ ‘پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آگ اخبار نے ہم سبھی کو ایک اسٹیج پر لاکر عوام کے درمیان امن چین کا پیغام بھیجنے کا کام کیا ہے وہ ایک مثال ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگر ہم ہندوستانی روایت کی بات کریں تو اس ملک میں ہم لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آرہے ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح رہیں گے۔ مسٹر دکشت نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جب سے عدالت نے فیصلے کی تاریخ مقررکی ہے کچھ غیر سماجی عناصر ایس ایم ایس کے ذریعے ملک کا ماحول بگاڑنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ انہوںنے حکومت سے شرپسند عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی اپیل کی ۔ انہوںنے کہا کہ ابھی تک کسی بھی سیکولر اور مسلم سماج نے یہ نہیں کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے کے خلاف ہیں۔ سبھی نے عدالت کے فیصلے کو ماننے کی بات کہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہماری سبھی سے گذارش ہے کہ اس مسئلے پر عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے ہم تسلیم کریں۔
 گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین راجندر سنگھ بھگا نے کہا کہ آج خیر سگالی کی ضرورت ہے جو صوفی سنتوں اور مذہبی رہنماﺅں کے خیالات کے ذریعے ہی مل سکتی ہے۔ سیاسی اورمفاد پرست لوگوں کے ذریعے نہیں ۔ مسٹر بھگا نے گرونانک کے پیغامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امن وامان کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ اس مسئلے پر عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہمیں منظور ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ کچھ غیر سماجی عناصر اس موقع پر ماحول کو خراب کرنے میں مصروف ہیں ہمیں انکی منشاءکو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔ مسٹر بھگا نے کہا کہ ہم پہلے انسان ہیں پھر ہندو اور مسلمان ۔ 
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ جہاںتک امن وشانتی کا تعلق ہے تو دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں سبھی نے امن وامان برقرار رکھنے کی تلقین کی ہے۔ اسلام بھی امن وشانتی ،اخوت ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتا ہے۔ اسی طریقے سے ہندو مذہب ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے کاخیال رکھنے پیغام دیتاہے۔مسجد مسلمان اس لئے تعمیرکرتے ہےںتاکہ اس میں اللہ کی عبادت کریں اور اس کو خوش کریں۔ اسی طرح ہندو بھائی مندر اس لئے تعمیرکرتے ہیں تاکہ اس میں پوجا کریں اور بھگوان کو راضی کریں۔ گویا دونوں کامقصد ایک ہے۔ چوبیس کو جو بھی فیصلہ آئے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اس دن کوئی خوشی نہ منائیں اور نہ آتش بازی کریں اس دن جمعہ کا دن ہے۔ جمعہ کی نماز میں امن وامان کی دعا کریں گے۔ 
آصفی مسجد کے امام جمعہ مولانا کلب جواد نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں ستر سے زائد مقامات پر صبر کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔صبر صرف انسانوں میں پایا جاتاہے فرشتوں اور جانوروں میں نہیں۔ صبر کا مطلب ہے عقل کی جیت دل پر ۔ انہوںنے کہا کہ کل امتحان ہے کہ کون جانور ہے اور کون انسان ۔ جانور ایک انسان کو مارتا ہے لیکن انسان جانور بن کر پورا ملک تباہ کردیتا ہے۔ انہوںنے گجرات اور ہٹلر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عدالت فیصلے کا یہ آخری موقع نہیں ہے بلکہ آگے سپریم کورٹ ہے۔ مولانا نے ملک اور ریاست کے عوام سے گندی سیاست کرنے والوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ کیونکہ یہ خود غرض ہیں کرسی ،اقتدار کے حریص ہیں۔ انہوںنے کہا کہ آج تک کسی فساد میں کسی لیڈر کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم انسان ہیں اور کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ عربی فارسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انیس انصاری نے کہا کہ رام جنم بھومی- بابری مسجد کامعاملہ کا اصلی مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے۔ انہوںنے گاﺅں ،قصبوں اور چھوٹے محلوں میں اس بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مرکز اور ریاستی حکومت سے ہر شہری کی جان ،مال ، عزت وآبرو کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ ذرائع ابلاغ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ صبر اور امتحان کا موقع ہے ۔ ہمیں آپس میں ایک ساتھ رہنے والوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ ہم اگر امن پسندی پر ایک ساتھ آئیں تو کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ اگر کہیں کوئی فساد ہوتا ہے تو اس کے پس پشت کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا ہاتھ ہوگا ایسی حالت میں سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو امن وامان برقرار رکھنے کی ہدایت دیں۔
مدرسہ ناظمیہ کے سربراہ مولاناسید حمید الحسن نے کہا کہ میں سنا تھا کہ لوہے کو لوہاکاٹتا ہے۔ آگ کی کوشش قابل ستائش ہے۔ آگ سے آگ بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لوگ چوبیس تاریخ کے تئیں بے چین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خانہ کعبہ کیا ہے پوری دنیا کا مسلمان جانتا ہے ۔ خانہ کعبہ پوری دنیا میں امن کا مرکز ہے۔دنیا کی ساری مسجدیں امن کا پیغام دینے کے لئے ہیں۔ چوبیس تاریخ کوہائی کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے گاہمیں اس کو تسلیم کرنا ہے۔ قرآن میں تمام مذاہب کے احترام کی بات کہی گئی ہے۔ کوئی بھی مذہب کا پیروکار یہ نہیں چاہتا کہ کسی کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچے ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے نائب صدر مولانا ڈاکٹر سید کلب صادق نے کہا کہ میں 
سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک فیصلہ وہ ہے کہ چوبیس ستمبر کو ہائی کورٹ سے آئے گا۔ اس فیصلے میں ایک فریق ہارے گا۔ہندو ہارے گایا مسلمان ۔ لیکن ایک فیصلہ آج آپ کو کرنا ہے۔ یہ ایسا فیصلہ جس میں ہندوبھی جیتے گا اورمسلمان بھی ۔ او رملک فسادات کی نذرنہیں ہوگا۔اس فیصلے سے پہلے آپ کو فیصلہ کرلینا ہے۔ 
انہوںنے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ یہ خیال مجھے یہاں آیا۔ ورنہ میں قرآن اور گیتا کو ساتھ لے کر آتا۔ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں گیتا کو اٹھا کر یہ قسم کھاتا کہ ہندو وہ ہے جو رام جی کا پجاری ہے۔ مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ جو حضرت محمد کی باتوں پر عمل کرے ۔مذہب کا جھگڑا ،فساد اور خوریزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مکہ شہرمیںحرم ہے۔ حرم کا مطلب وہ جگہ جہاں کسی بھی طرح کی خوںریزی نہ ہو۔اجودھیا کا مطلب جہاں جنگ نہ ہو ۔دونوں کا مطلب یکساں ہوگیا۔ انہوںنے کہا کہ اگر سوال کیا جائے کہ انسان ختم ہوجائے اور مسجد باقی رہے ،یا مسجد ختم ہوجائے انسان باقی رہے ۔تومیں کہوں گا انسان باقی رہے۔ اس لئے کہ مسجد دوبارہ بن سکتی ہے لیکن اگرانسان ختم ہوگیا تودوبارہ نہیں آسکے گا۔ ہمیں محبت اور پیار کا پیغام دینا چاہئے ۔انہوںنے کہا ہم اصلاًپاکستان کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں مذہب کے نام پر لڑائی اور فسادات نہیں ہوتے ہیں۔جبکہ پاکستان میں القاعدہ اور طالبان وغیرہ مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے برسرپیکر ہیں۔ کلب صادق نے کہاکہ میں چوبیس ستمبر کے فیصلے کے بعد مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سامنے تجویز پیش کروں گا کہ ۰۱۰۲ءسے قبل مسجد -مندر کا تنازعہ ختم ہوجانا چاہئے۔ مجھے امید ہے کہ مسلم پرسنل لابورڈ میری تجوےز پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔ لیکن انہوںتجویز کو ابھی آشکار نہیں کیا۔لکھنو ¿ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورمانے کہا کہ اجودھیا معاملے پر ہائی کورٹ کافےصلہ چوبیس ستمبر کو آئے گا لیکن ایک فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ ملک میں خون خرابہ نہ ہو اور بھائی چارے کا ماحول قائم ہو۔ انہوںنے کہا کہ اگر مندر ومسجد نہ ہوں تب بھی ہم اپنے اللہ اور بھگوان کی عبادت اور پوجا کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک کو گنگا جمنی تہذیب پر ناز ہے اور ہم اس تہذیب کو کبھی مٹنے نہیں دیں گے۔ کےونکہ جس دن یہ تہذیب مٹ گئی ملک کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔


:دیگر مضامین
(22.09.2010) کولمبیا میں منشیات فروشوں کی مدد کرنے کے الزام میں طوطا گرفتار
(20.09.2010) جرمنی میں مقیم طاہر عدیم کی ایک غزل عالمی اخبار کے لیئے
(19.09.2010) جنت البقیع کی خونین داستان ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(16.09.2010) عزیز ملت ایران ۔۔۔۔۔ با عظمت امت اسلامیہ کے نام
(12.09.2010) لندن کے سید اکمل حسین کا تخلیقی عمل۔عالمی اخبار کے لیئے
(11.09.2010) عبدالمناف غِلزئی نگران شعبہ گرافکس عالمی اخبار کا تخلیقی عمل
(10.09.2010) عید جسے گزرنے کے بعد بھی یاد کرنا اچھا لگتا ہے ۔از نگہت نسیم
(09.09.2010) دیس پردیس میں دوستوں کے امسال ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ نگہت نسیم
(06.09.2010) ابوظہبی میں ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ خرم ابن شبیر
(03.09.2010) روز قدس امت اسلامی کے متحدہ طاقت کا پرتو۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(02.09.2010) پاکستان کے شہر کراچی میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از محمداحمد ترازی
(27.08.2010) کینیڈا کے شہر وینکور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از شمس جیلانی
(26.08.2010) پاکستان کے شہر لاہور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از زرقا مفتی
(24.08.2010) رمضان اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے
(23.08.2010) اللہ کے حبیب کی شان میں نعت لکھنا اور سنانا عبادت ہے
(22.08.2010) امریکہ میں رمضان المبارک کیسے منایا جاتا ہے
(21.08.2010) آپ سب کو رمضان کی مبارک ہو۔۔۔ہائے
(20.08.2010) مدحت محمد و آلِ محمد کسی کی وراثت نہیں ہے
(20.08.2010) یہی وہ مبارک مہنیہ ہے جب کتاب لاریب نازل ہوئی
(19.08.2010) قرآن کریم میں ہر حلال و حرام کا ذکر بالتصریح نہیں آیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں