18.10.2026, 06:56am , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

محسن احسان کی وفات اردو ادب کے لیئے بہت بڑا نقصان ہے
25.09.2010, 11:25am , ہفتہ (GMT+1)

زاہد علی عسکر.عالمی اخبار پشاور اور صفدر ھمدانی۔عالمی اخبار لندن
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ ہمیں




 پشاور ( زاہد علی عسکر۔عالمی اخبار نیوز) پاکستان کے ممتاز شاعر ،ادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر مُحسن اِحسان جو جمعرات کے روز کوونٹری (انگلینڈ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے کوجمعہ کے روز اُنکے آبائی شہر پشاور (پاکستان ) میں سینکڑوں آشکبار آنکھوں کے سامنے سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مرحوم کا جسدِ خاکی جمعے کی صبح  لندن  سے اسلام آباد لایا گیا جہاں سے دو گھنٹے کی مسافت کے بعد جسدِ خاکی کو مرحوم کے آبائی شہر پشاور کی علاقے حیات آباد میں مرحوم کے گھر پہنچایا گیا۔جہاں دن بھر سوگوار خاندان سے تعزیت کیلئے مرحوم کے عزیز اقارب اور دوست احباب کا تانتا بندھا رہا۔

بعد ازاں مُحسن اِ حسان کے جسدخاکی کو سہ پہر تین بجے جامع پشاور کے سبزہ زار پر لایا گیا جہاں پہلے سے موجودمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے مرحوم کی جنازے کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اُنکے صاحبزادے علی اِحسان سے تعزیت کی۔بعد ازاں جامع پشاور کے ہی قبرستان میں مرحوم کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور ممتاز شاعر ادیب افتخار عارف نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا شمار اُردو ادب میں بین الاقوامی شہرت کے حامل شعراء میں ہوتا تھا ۔اور اُنہوں اُردو غزل و نظم میں اپنے دھمیے لیجے اور سادگئی کلام سے وہ رنگ بھرے جو اُن کا ہی وصف تھا۔اُنہوں مرحوم کے وفات کو پاکستان بالخصوص صوبہ سرحد میں اُردو ادب کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔

اُنہوں نے کہا صوبہ سرحد میں گذشتہ چارسوں میں خاطر غزنوی ، مختار علی نیئر ، احمد فراز اور شوکت واسطی جیسے شعراء اور ادباء کے بعد مُحسن اِحسان کی وفات سے اُردو ادب عالیہ میں جو خلّا پیدا ہوا ہے وہ مشکل سے پُر ہو گا۔

اس موقع پر جنازے میںشامل صوبائی وزیر ثقافت سید عاقل شاہ نے بھی مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اپنی شاعری اور تخلیق نگاری سے نہ صرف دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا بلکہ اُن کی طاقتِ کلام نے صوبہ سرحد کے شعراء ادباء کا اردو ادب کے ذوق کا لوہا بھی منوایا۔اُنہوں کہا کہ مرحوم کی علم وادب کے لیے کی گئی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

نماز جنازہ میں اُردو ،ہندکو اور پشتو کے شعراء نے بھی شرکت کی جن میں سیلم راز، عزیز اعجاز، یونس قیاسی، سردار خان فنا، منظر نقوی، سجاد بابر،زیڈآئی اطہر،شین شوکت اور ڈاکٹر اعظم اعظم سمیت دیگر شعراء ، ادبا، ماہریں تعلیم اور طلباء شامل تھے۔

اس ے قبل عالمی اخبار لندن کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے  کے ممتاز شاعر ،ادیب ۔ماہر تعلیم،اور دانشور محسن احسان مختصر علالت کے بعد77 برس کی عمر میں کوونٹری میں انتقال کر گئے ۔ محسن احسان یہاں اپنے بچوں کے پاس مقیم تھے۔

انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا

انکی میت جمعرات کو لندن سے پاکستان کے لیئے روانہ کر دی گئی ہے اور لندن سے میت کے ساتھ انکی بیٹی،داماد اور بیٹا گئے ہیں۔

پشاور میں فارغ بخاری اور رضا ھمدانی کے ساتھ مل کر جن اہل قلم نے اردو کی آبیاری کی ان میں خاطر غزنوی ،شوکت واسطی اور احمد فراز کے ساتھ محسن احسان کا نام بھی نمایاں ہے

پروفیسر محسن احسان نے شاعری کی کئی کتابیں لکھیں جن میں سخن سخن مہتاب، ناشنیدہ اور،نارسیدہ نمایاں ہیں محسن احسان نے اپنی شاعری میں سماج کی برائیوں اور طبقاتی تقسیم کو خاص موضوع بنایا۔

محسن احسان نے نعتیہ کلام کے علاوہ بچوں کیلئے قومی نظمیں بھی کہیں۔پروفیسر محسن احسان اسلامیہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر اور انگلش ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی رہے وہ چند برسوں سے لندن میں مقیم تھے جہاں مختصر علالت کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

برمنگھم میں مقیم معروف شاعر اور استاد  ڈاکٹر صفی حسن کے مطابق وہ گزشتہ کئی ماہ سے بیمار چلے آ رہے تھے چند روز قبل ان کی آواز بند ہو گئی اور وہ بیہوش رہنے لگے تھے۔ 22 ستمبر کو انہیں کوونٹری کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے ان کی نماز جنازہ بھی گزشتہ روز ہی ایگل ماسک کوونٹری میں ادا کر دی گئی اور بعد ازاں ان کی میت ان کے آبائی شہر پشاور روانہ کر دی گئی۔

محسن احسان کوونٹری میں اپنے داماد اور ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کے نواسے ڈاکٹر شاہد بخاری کے ہاں مقیم تھے۔

ان کے انتقال پر برطانیہ کے ادبی حلقوں میں شدید رنج و غم اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔

 مرحوم کی نماز جنازہ جمعہ کی سہ پہرچاربجے اسلامیہ کالج پشاور میں ادا کی گئی اور بعد ازاں تدفین عمل میں آئی۔

محسن احسان کے بارے میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی غزل فراز کا چربہ ہے اور ان پر فراز کا اثر بہت زیادہ ہے۔ لیکن محسن احسان فراز کا ہمعصر تو ہے لیکن موضوع اور اسلوب کے حوالے سے وہ اُن سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ۔ انھوںنے کئی کتابیں لکھیں ہیںمثلا، ”ناشنید“ ، ”ناگزیر“ ،”ناتمام“ وغیرہ اُن کی غزل کا بنیادی حوالہ محبت ہے۔

جب آفتاب محبت غروب ہونے کو تھا
تو ایک شخص بڑے پیار سے بلانے لگا

دوسرا رویہ سماج کا ہے اور سماج میں موجود قباحتیں اور طباقاتی تقسم کا حوالہ اُن کی غزل کا خاصہ ہے۔

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ ہمیں

اس کے علاوہ حلقہ احبا ب کے دکھ کا بھی حوالہ ان کے ہاں موجود ہے۔

ایک ایک کرکے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ میرے حلقہ احباب میں تھے

کندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئے
قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے
ہم حد سے کبھی بڑھ کے تمنا نہیں کرتے

آنکھوں کے جزیروں میں بھی پانی نہیں ملتا
پیاسے ہیں مگر کوئی تقاضا نہیں کرتے

ہم راکھ ہوئے آتشِ خاموش میں جن کی
حیرت ہے کہ وہ لوگ تماشا نہیں کرتے

سیراب کرو دل کو اب اشکوں سے کہ بادل
اس خشک زمیں پر کبھی برسا نہیں کرتے

رنگ ِ گل و لالہ سے دہک اُٹھا ہے گلشن
ہم چاکِ قفس سے بھی نظارا نہیں کرتے

کچھ ایسے یقیں اُٹھ گیا اب اہلِ جہاں سے
غیروں کا تو کیا خود پہ بھروسہ نہیں کرتے

تنہائی میں دل کھول کے رو لیتے ہیں ورنہ
محفل میں تو ہم ذکر بھی تیرا نہیں کرتے

محسن احسان

:دیگر مضامین
(24.09.2010) معروف شاعر،ادیب اور کالم نگار سید اقبال حیدر سخت علیل ہیں
(22.09.2010) گیت میرے میت۔اسحاق ساجد کا تازہ مجموعہ شائع ہو گیا
(16.09.2010) سید ظفر حسین کی بیگم نفیسہ ظفر کی بہن کی لاہور میں تدفین
(12.09.2010) لندن میں ڈاکٹر سیمیں مجتبیٰ نے عید عشایئے کا اہتمام کیا
(08.09.2010) ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے
(02.09.2010) عالمی اخبار کے عبدالمناف کی والدہ محترمہ کے لیئے دعائے صحت کی اپیل
(24.08.2010) معروف شاعر سید حسن سلمان رضوی کو اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا
(20.08.2010) فیضان مثنیٰ عالمی اخبار کے لیئے بھارت کے بیورو چیف مقرر کیئے گئے ہیں
(18.08.2010) ٹورنٹو میں مقیم معروف شاعر اشفاق حسین کے لیئے تمغہ حُسن کارکردگی
(15.08.2010) عالمی اخبار کے معروف قلمکار ڈاکٹر خواجہ اکرام نئی دہلی میں علیل ہیں
(09.08.2010) سید اقبال حیدر کے برادر عزیز کی صحت یابی کے لیئے التماس دعا
(08.08.2010) زرقا مفتی کی والدہ محترمہ کی صحت یابی کے لیئے التماس دعا
(07.08.2010) شمس جیلانی کی اردو زبان اور ادب کی خدمات پر اعزاز۔
(31.07.2010) معروف ترقی پسند ادیب اور شاعر عاشور کاظمی کی یاد میں ریفرنس
(31.07.2010) فرینکفرٹ میں شاندار جشن آئمہ ہفتہ 31جولائی کو ہو گا
(26.07.2010) سڈنی میں سید جاوید شاہ کے گھر پر جشن ظہور آئمہ
(23.07.2010) عالمی اخبار کے انگریزی شعبے کے مدیر محمد صفدر کی طرف سے شکریہ
(18.07.2010) حضرت آیت اللہ العظمی سید عباس حسینی کاشانی بھی رحلت فرما گئے
(11.07.2010) ڈاکٹر خواجہ اکرام نے نئی دہلی سے ترکی کا سفر نامہ تحریر کیا
(07.07.2010) مذہبی ٹھیکےدار چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے۔تنظیم علی کانگریس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں