امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ ہمیں


پشاور ( زاہد علی عسکر۔عالمی اخبار نیوز) پاکستان کے ممتاز شاعر ،ادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر مُحسن اِحسان جو جمعرات کے روز کوونٹری (انگلینڈ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے کوجمعہ کے روز اُنکے آبائی شہر پشاور (پاکستان ) میں سینکڑوں آشکبار آنکھوں کے سامنے سپردِ خاک کر دیا گیا۔
مرحوم کا جسدِ خاکی جمعے کی صبح لندن سے اسلام آباد لایا گیا جہاں سے دو گھنٹے کی مسافت کے بعد جسدِ خاکی کو مرحوم کے آبائی شہر پشاور کی علاقے حیات آباد میں مرحوم کے گھر پہنچایا گیا۔جہاں دن بھر سوگوار خاندان سے تعزیت کیلئے مرحوم کے عزیز اقارب اور دوست احباب کا تانتا بندھا رہا۔
بعد ازاں مُحسن اِ حسان کے جسدخاکی کو سہ پہر تین بجے جامع پشاور کے سبزہ زار پر لایا گیا جہاں پہلے سے موجودمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے مرحوم کی جنازے کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اُنکے صاحبزادے علی اِحسان سے تعزیت کی۔بعد ازاں جامع پشاور کے ہی قبرستان میں مرحوم کو سپرد خاک کر دیا گیا۔
اس موقع پر مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور ممتاز شاعر ادیب افتخار عارف نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا شمار اُردو ادب میں بین الاقوامی شہرت کے حامل شعراء میں ہوتا تھا ۔اور اُنہوں اُردو غزل و نظم میں اپنے دھمیے لیجے اور سادگئی کلام سے وہ رنگ بھرے جو اُن کا ہی وصف تھا۔اُنہوں مرحوم کے وفات کو پاکستان بالخصوص صوبہ سرحد میں اُردو ادب کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
اُنہوں نے کہا صوبہ سرحد میں گذشتہ چارسوں میں خاطر غزنوی ، مختار علی نیئر ، احمد فراز اور شوکت واسطی جیسے شعراء اور ادباء کے بعد مُحسن اِحسان کی وفات سے اُردو ادب عالیہ میں جو خلّا پیدا ہوا ہے وہ مشکل سے پُر ہو گا۔
اس موقع پر جنازے میںشامل صوبائی وزیر ثقافت سید عاقل شاہ نے بھی مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اپنی شاعری اور تخلیق نگاری سے نہ صرف دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا بلکہ اُن کی طاقتِ کلام نے صوبہ سرحد کے شعراء ادباء کا اردو ادب کے ذوق کا لوہا بھی منوایا۔اُنہوں کہا کہ مرحوم کی علم وادب کے لیے کی گئی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
نماز جنازہ میں اُردو ،ہندکو اور پشتو کے شعراء نے بھی شرکت کی جن میں سیلم راز، عزیز اعجاز، یونس قیاسی، سردار خان فنا، منظر نقوی، سجاد بابر،زیڈآئی اطہر،شین شوکت اور ڈاکٹر اعظم اعظم سمیت دیگر شعراء ، ادبا، ماہریں تعلیم اور طلباء شامل تھے۔
اس ے قبل عالمی اخبار لندن کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے کے ممتاز شاعر ،ادیب ۔ماہر تعلیم،اور دانشور محسن احسان مختصر علالت کے بعد77 برس کی عمر میں کوونٹری میں انتقال کر گئے ۔ محسن احسان یہاں اپنے بچوں کے پاس مقیم تھے۔
انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا
انکی میت جمعرات کو لندن سے پاکستان کے لیئے روانہ کر دی گئی ہے اور لندن سے میت کے ساتھ انکی بیٹی،داماد اور بیٹا گئے ہیں۔
پشاور میں فارغ بخاری اور رضا ھمدانی کے ساتھ مل کر جن اہل قلم نے اردو کی آبیاری کی ان میں خاطر غزنوی ،شوکت واسطی اور احمد فراز کے ساتھ محسن احسان کا نام بھی نمایاں ہے
پروفیسر محسن احسان نے شاعری کی کئی کتابیں لکھیں جن میں سخن سخن مہتاب، ناشنیدہ اور،نارسیدہ نمایاں ہیں محسن احسان نے اپنی شاعری میں سماج کی برائیوں اور طبقاتی تقسیم کو خاص موضوع بنایا۔
محسن احسان نے نعتیہ کلام کے علاوہ بچوں کیلئے قومی نظمیں بھی کہیں۔پروفیسر محسن احسان اسلامیہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر اور انگلش ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی رہے وہ چند برسوں سے لندن میں مقیم تھے جہاں مختصر علالت کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
برمنگھم میں مقیم معروف شاعر اور استاد ڈاکٹر صفی حسن کے مطابق وہ گزشتہ کئی ماہ سے بیمار چلے آ رہے تھے چند روز قبل ان کی آواز بند ہو گئی اور وہ بیہوش رہنے لگے تھے۔ 22 ستمبر کو انہیں کوونٹری کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے ان کی نماز جنازہ بھی گزشتہ روز ہی ایگل ماسک کوونٹری میں ادا کر دی گئی اور بعد ازاں ان کی میت ان کے آبائی شہر پشاور روانہ کر دی گئی۔
محسن احسان کوونٹری میں اپنے داماد اور ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کے نواسے ڈاکٹر شاہد بخاری کے ہاں مقیم تھے۔
ان کے انتقال پر برطانیہ کے ادبی حلقوں میں شدید رنج و غم اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔
مرحوم کی نماز جنازہ جمعہ کی سہ پہرچاربجے اسلامیہ کالج پشاور میں ادا کی گئی اور بعد ازاں تدفین عمل میں آئی۔
محسن احسان کے بارے میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی غزل فراز کا چربہ ہے اور ان پر فراز کا اثر بہت زیادہ ہے۔ لیکن محسن احسان فراز کا ہمعصر تو ہے لیکن موضوع اور اسلوب کے حوالے سے وہ اُن سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ۔ انھوںنے کئی کتابیں لکھیں ہیںمثلا، ”ناشنید“ ، ”ناگزیر“ ،”ناتمام“ وغیرہ اُن کی غزل کا بنیادی حوالہ محبت ہے۔
جب آفتاب محبت غروب ہونے کو تھاتو ایک شخص بڑے پیار سے بلانے لگادوسرا رویہ سماج کا ہے اور سماج میں موجود قباحتیں اور طباقاتی تقسم کا حوالہ اُن کی غزل کا خاصہ ہے۔
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ ہمیں
اس کے علاوہ حلقہ احبا ب کے دکھ کا بھی حوالہ ان کے ہاں موجود ہے۔
ایک ایک کرکے ستاروں کی طرح ڈوب گئےہائے کیا لوگ میرے حلقہ احباب میں تھےکندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئےقبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبنم جو ملے خواہشِ دریا نہیں کرتے
ہم حد سے کبھی بڑھ کے تمنا نہیں کرتے
آنکھوں کے جزیروں میں بھی پانی نہیں ملتا
پیاسے ہیں مگر کوئی تقاضا نہیں کرتے
ہم راکھ ہوئے آتشِ خاموش میں جن کی
حیرت ہے کہ وہ لوگ تماشا نہیں کرتے
سیراب کرو دل کو اب اشکوں سے کہ بادل
اس خشک زمیں پر کبھی برسا نہیں کرتے
رنگ ِ گل و لالہ سے دہک اُٹھا ہے گلشن
ہم چاکِ قفس سے بھی نظارا نہیں کرتے
کچھ ایسے یقیں اُٹھ گیا اب اہلِ جہاں سے
غیروں کا تو کیا خود پہ بھروسہ نہیں کرتے
تنہائی میں دل کھول کے رو لیتے ہیں ورنہ
محفل میں تو ہم ذکر بھی تیرا نہیں کرتے
محسن احسان