15.10.2026, 06:49pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

معروف ادیب و شاعر رام پرکاش مہندی رتہ سے ایک ملاقات ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
27.09.2010, 11:19am , سوموار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
یہ کوئی دو برس پہلے کی بات ہے کہ میں سڈنی کے معروف علاقے  پیڈسٹو کے ریڈیو اسٹیشن  100.9 ایف ایم پر زاہد منہاس کے ساتھ تین گھنٹے کاپروگرام “ دوستی“ کیا کرتی تھی، پروگرام کے ایک حصے میں  ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویو ہوتے ، درمیان میں کچھ اشتہار چلتے ، غزلیں سنوائی جاتی اور آخر میں ایک انشائیہ بھی ہوتا تھا جسے تواتر کے ساتھ ایک ادیب اور شاعر خود ہی لکھا اور لائیو پڑھا کرتے تھے جن سے  اس وقت میری ملاقات صرف ٹیلیفون تک ہی محدود تھی ۔ اس ہستی کا نام تھا جناب “رام پرکاش مہندی رتہ “ ۔

 ہندی اور اردو لکھنے پر یکساں دسترس رکھنے والے مشہور و معروف ادیب و شاعر رام پرکاش مہندی رتہ مجھے اس وقت سے  ہی بے حد محترم رہے ہیں ۔ انہوں نے ریڈیو پروگرام “دوستی “ کے ہر پروگرام کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک کہانی لکھی اور خوب داد پائی ۔

ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ سات برسوں سے  سڈنی میں مقیم ہیں اور وہ سڈنی کے ہر اردو اور ہندی ریڈیو پروگراموں کا لازمی حصہ ہوتے ہیں ۔انہوں نے خاص طور پر ریڈیو دوستی ، ریڈیو ایس بی ایس اور ریڈیو جھروکہ کے لئے بہت کام کیا ہے ۔

کبھی میری مصروفیت اور کبھی رام پرکاش جی کی مصروفیت نے ان سے ملنے ہی نہ دیا اور یوں ان سے ملاقات کا وقت لیتے اور نکالتے بات عید کے روز گیارہ ستمبر بروز ہفتہ جا پہنچی ۔۔۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس بار ریڈیو ایس بی ایس پر “ڈرانے دھمکانے “ کے موضوع پر  میری گفتگو سن کر رام پرکاش جی ہی  نے مجھے مبارکبا دکا فون کیا تھا اور خوب گلہ بھی کیا  کہ میں انہیں بھول گئی ہوں ۔۔ سو مجھے انہیں بتانے کے لئے کہ ان جیسی شخصیتوں کو بھولا نہیں جاتا بلکہ ان سے صرف سیکھا جاتا ہے اور اردو زبان پر ناز کیا جاتا ہے جس کی برکت  سے ملکی سرحدیں بھی اپنے نقشہ بھول جاتی ہے ۔۔

گیارہ ستمبرہفتہ کے روز میں اور  میرے شوہر آفتاب ان کے دولت کدے پر پہنچ ہی گئے ۔۔۔ سادہ سے گھر میں سادہ سے  رام پرکاش مہندی رتہ  جی اپنی  اہلیہ  “ ساوتری مہندی  رتہ “ کے ساتھ منتظر تھے ۔۔ جناب رام پرکاش جیسے ملتے ہوئے  زرا احساس نہ ہوا کہ میں ان سے پہلی بار مل رہی ہوں ۔ انہوں نے انتہائی محبت اور شفقت سے سب سے پہلے مجھے عالمی اخبار کے اجرا کی مبارکباد دی ۔۔ دوسری مبارکباد اسے کامیابی سے چلانے کی دی ۔۔اور تیسری مبارک عید کی تھی جو انہوں نے میری آمد سے منسوب کر رکھی تھی ۔۔  

بات عید کی چلی تو ان کی اہلیہ نے بڑی محبت سے یہاں سے وہاں تک دستر خوان سجا دیا اور اصرار اتنا کہ جی ہی جی میں کئی بار سوچا کہ کاش پہلے ہی آ جاتی ۔۔اتنی مہمان نوازی اور خاطر کہ الااماں ۔۔

باتوں کا دور چل نکلا تھا ۔۔ جو میں اور رام پرکاش جی متواتر کئے جارہے تھے ۔۔ اور آفتاب باتوں کے ساتھ ساتھ کیمرہ مین کے فرائض بھی نبھا رہے تھے ۔

جناب رام پرکاش بڑی اپنایت سے بتا رہے تھے کہ وہ 30 دسمبر 1935 میں پاکستان کے ضلع جہلم میں  پیدا ہوئے تھے ۔۔پھر وہ نم آنکھوں سے اپنا بچپن جہلم میں تلاش کرنے لگے اور بڑی محبت سے اپنا پتہ ایک صفحہ پر تحریر کیا  “ موضع کہانہ ، ڈاکخانہ للہ ، ضلع جہلم ۔ پاکستان “ ۔ ابتدائی تعلیم کچھ پاکستان میں اور بعد میں دہلی میں حاصل کی ۔ انہوں نے ایم اے ۔ ایم ایڈ ۔ پوسٹ گریجویشن ہندی زبان پر کیا جسے انڈیا میں “ ساہتے رتن “ کہتے ہیں  ۔ اور اپنے وقتوں میں سنٹرل سکول  ، نئی دہلی کے پرنسپل بھی تھے ۔

جناب رام پرکاش جی اردو ، ہندی ، انگریزی اور پنجابی زبانوں میں ایک زمانے سے کہانیاں لکھتے آ رہے ہیں اور اب تک 10 کتابیں لکھ چکے ہیں اور کئی کتابیں زیر اشاعت ہیں ۔جن میں ان کا ایک ناول کشمیر پر بھی ہے ۔ جس کا نام ہے “ رشتہ الفت “ جس کو  وہ ہندی کے علاوہ اردو میں بھی لکھ رہے ہیں ۔ جناب رام پرکاش کی ادبی خدمت کے اعتراف پر انہیں کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں جن میں خاص طور پر لینگویج ڈپارٹمنٹ آف ایسٹ پنجاب کی طرف سے “ بیسٹ رائٹر “ بیسٹ شاعر “ اور بیسٹ انشائیہ “ لکھنے پر لگاتار ملتا رہا ۔ وہ بڑی اپنایت سے کہہ رہے تھے کہ لکھنے والوں کو سرحدوں کا پابند نہیں کیا جاسکتا ۔۔ لفظ تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں موقع ملتے ہی اپنے سفر پر چل پڑتے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنا لکھا ہوا ناولٹ “ یاد نہ جائے بیتے دنوں کی “ بہت پسند ہے جو انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے کی یادوں پر لکھا ہے ۔ ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی اہلیہ کوبڑی محبت سے دیکھا اور کہا کہ ساوتری نہ ہوتی تو شائد میں کچھ نہ ہوتا ۔۔ یہ میری کہانیوں کی ہمراز ہے ۔ جیسے ساری عمر بچوں کو سنبھالتی رہی ویسے ہی یہ میری کہانیاں بھی  سنبھال رکھتی ہے ۔۔ کبھی کبھی تو میں صرف بولتا ہوں اور یہ لکھتی جاتی ہیں ۔۔ اور اتفاق سے ساوتری کو بھی یہی ناولٹ بہت پسند ہے ۔۔ اور ساوتری نے جوابا اپنے ہمراہی کو اسی محبت سے دیکھا ۔۔ اس وقت مجھے یوں لگا جیسے محبت سے زیادہ طاقتور کوئی جذبہ نہیں جو دو انسانوں کو ایک دوسرے جیسا  بنا دے ۔

مجھے یہاں پر ان کے پندرہ سالہ زہین فطین پوتے “ وسو مہندی رتہ“ کا بہت شکریہ ادا کرنا ہے جس نے کمال مہارت سے اپنے دادا کے لئے عالمی اخبار کو فیورٹ میں فیڈ کر کے دیا تھا  اور ساتھ ہی ساتھ اردو ایڈیٹر بھی  ڈاؤن لاؤڈ کر کے دیا تھا ۔ کی بورڈ پر انگریزی حروف تہجی کے اوپر ہندی کے حروف بھی لگا کر دئے تھے تاکہ دادا جی کو  ٹائپ کرنے میں آسانی رہے ۔ میں نے جب اسے اردو فونٹ اور حروف تہجی بھی سکھائے تو اس نے  اپنے دادا جی کو اردو فونٹ سمجھانے اور حروف تہجی کو آسان کرنے کا  اہتمام کا بھی وعدہ  کیا۔

یقین جانئے جناب رام پرکاش جی اور ان کی اہلیہ ساوتری کے ساتھ  دو گھنٹے کی  ملاقات دو منٹ سے زیادہ کی نہیں لگی  لیکن عید کا دوسرا دن اور بے شمار وعدے تھے ج سکو نباہنے کی خاطر ہمیں ان سے اجازت لینی ہی پڑی ۔میں اور آفتاب جب ان کے گھر سے چلنے لگے تو انہوں نے عیدی کے طور پر چاکلیٹ کے ساتھ ساتھ میرے لیئے اپنی ایک کتاب “ سنسان کے ہمراہی “ تحفہ کے طور پر رکھی ہوئی تھی ۔۔مجھے کتاب دیتے ہوئے خوش اور ہنسنے بسنے کی دعا دی ۔۔ کتاب کے پہلے صفحے پر میرے لئے انہوں نے اپنی موتیوں جیسی لکھائی میں لکھا تھا ۔۔
“ نگہت نسیم آئی
گویا باد نسیم آئی
ہر طرف کھلے ہیں پھول
 بسنت بہار لائی “
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے لئے
ان کے ساتھ ریڈیو دوستی پر بتائی حسین یادوں کے ساتھ
رام پرکاش مہندی رتہ
سڈنی ۔ آسٹریلیا
11-09-10

میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوں کہ مجھے نہ صرف  اتنی بزرگ ادبی ہستی سے ملنے کاشرف ملا  بلکہ 1947 سے پہلے کے پاکستان کو جاننے کا موقع بھی ملا ۔۔

دوستو ! آج میں نے بھی اپنی یادوں کا ایک یادگار باب آپ سب کے سامنے رکھ ہی دیا ۔۔ اب آپ سب جناب رام پرکاش مہندی رتہ سے ملیں اور ان کو صحت اور درازی عمر کی دعا بھی دیں کہ ان جیسی سایہ دار ، ملنسار اور شفیق ہستیاں  اب اس دنیا کو کم ہی نصیب ہیں ۔۔

:دیگر مضامین
(11.08.2010) ولادتِ حضرت عبد القادر جیلانی رح۔از۔۔شمس جیلانی
(10.08.2010) ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی ۔از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(04.08.2010) ثبوت حاضر ہیں ۔از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(28.07.2010) عصمت محمدیہ (ص) کے چودھویں ستارے حضرت امام مہدی (عج)
(16.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(15.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(14.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(13.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(06.07.2010) اب کے داتا کا بھی دربار لہو رنگ ہوا۔از؛ محمد احمد ترازی
(01.07.2010)  ڈاکٹر عبد الرحمن بارود فلسطین کے جدید اور مقبول شاعر
(18.06.2010) پہلی اسلامی یونیورسٹی کے بانی۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(15.06.2010) امام خمینی رہ کی با بصیرت قوم پر سلام ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(09.06.2010) روز مادر ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی ۔کشمیر
(03.06.2010) صہیونی چیلنچ سے نمٹنے کے لئے فلسطینی جماعتوں میں اتحاد ضروری
(12.05.2010) برطانیہ میں اردو افسانہ نگاری کے قافلہ سالارقیصر تمکین
(22.04.2010) بنت علی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، ایک مثالی کردار
(09.04.2010) ام الاوصیا،شہربانو،سلام اللہ ۔ از ۔ پیر سید علی عباس شاہ
(04.03.2010) باعثِ خلق کائنات کے مدح سرا۔سید حسن عباس زیدی
(24.02.2010) عید زہرا سلام اللہ علیہہ ۔ ایام غم کا اختتام
(16.02.2010) اے فخر رسولاں خداکے بعد ترا ذکر ہی تو افضل ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں