|
پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے بجائے کمی
29.09.2010, 12:07am , بدھ (GMT+1)
مفلحہ رحمن
تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے تعلیم پر توجہ دی ان کا نام دنیا کے افق پر جگمگا رہا ہے۔کچھ ایسی ہی تاریخ مسلمانوں کی ہے جنھوں نے علم کے زیور سے خود کو آراستہ اور دنیا کو منور کیااور ان کے زوال کی وجہ علم سے دوری بنا۔
جس کی بڑی مثال یہ ہے کہ جب تاتاریوں نے بغداد میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتب بہائی گئیں تو دریائے فرات کا پانی کتابوں کی روشنائی سے سرخ ہوگیا
پاکستان دنیا بھر میں عالمی معیار کے مطابق ایک سو باسٹھ نمبر پر ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز کو باسٹھ برس گزر جانے کے باوجود پاکستان کی شرح خواندگی چھپن اعشاریہ دو فیصد ہے۔ جن میں اڑسٹھ فیصد مرد اور تینتالیس فیصد خواتین ہیں۔
انجمن اقوام متحدہ کے موقر ادارے یونیسکو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی واقع ہوگئی ہے اور اس وقت 67 لاکھ بچے ایسے ہیں جوا سکول جانے کی عمرمیں ہیں یعنی ان کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں لیکن وہ پھربھی اسکول نہیں جارہے۔
یہ بچے گھروں میں والدین کی مدد یا چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔لاکھوں ایسے بھی ہیں جو گلیوں ،سڑکوں اورمزاروں پرآوارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں جی ڈی پی کاصرف 2.2 فیصد تعلیم کیلئے حکومت وقف کرتی ہے۔اس حوالے سے دنیا میں پاکستان سے بری صورتحال صرف نائیجیریا کی ہے جہاں شرح خواندگی میں پاکستان سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
دنیا کے متعددممالک میں تعلیمی اخراجات دفاع سے بھی زیادہ ہیں۔ صرف ایک مثال ترکی کی ہے جہاں جی ڈی پی کا 6 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جارہا ہے جو ملک کے دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔سارک کے خطے میں انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا پاکستان سے آگے ہیں اور ان کے تعلیمی اخراجات پاکستان کے تعلیمی اخراجات سے کسی نہ کسی درجے میں زیادہ ہیں۔ جبکہ پاکستان میں روز ِ اول سے سماجی اورتعلیمی امور کی طرف توجہ بہت کم رہی ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کے شعبے میں مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کا نہایت کم حصہ خرچ کیا جاتا ہے اور اس کا واضح ثبوت وہ سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق 1947ء میں آزادی کے بعد سے لے کر سن 2000ء تک تعلیم پر جی ڈی پی کا ایک فیصدسے بھی کم حصہ خرچ کیا گیا اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اب بھی ملک کے طول و عرض میں لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیم تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
صرف دارالحکومت اسلام آباد میں ہی دیکھا جائے تو اسکول جانے کی عمر کے ہزاروں بچے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ اوزار لئے گاڑیوں کی مرمت کا کام کرتے نظر آئیں گے۔ ان میں سے اکثر بچوں کوان کے اصل ناموں کی بجائے چھوٹے کے نام سے جانااور پکارا جاتاہے۔
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 59 فیصد بچے سکولوں میں داخل ہیں لیکن ان کی اکثریت بہت مختصر عرصے کیلئے اسکولوں میں قیام کرتی ہے اورپھرتعلیم و تدریس چھوڑ جاتی ہے۔ لڑکیاں بالعموم سوا سال اسکولوں میں گزارتی ہیں جبکہ لڑکے اوسطاً سوا تین سال کاعرصہ سکول جاتے ہیں جبکہ ملک بھرمیں یونیورسٹی جانے والوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے۔
دہشت گردی کے باعث سوات اور مالاکنڈ میں نقل مکانی کی وجہ سے لاکھوں بچے تعلیم حاصل کئی ماہ تک تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ ملک بھر میں اسکولوں پر ہونے والے حملوں میں کئی بچے جاں بحق بھی ہوئے جو بچوں میں اسکول سے خوف اور عدم تحفظ کا سبب بنے۔اور ساتھ ساتھ بگڑتے حالات بھی اسکول جانے میں رکاوٹ بنے۔
پاکستان میں ایک طرف یہ مسائل تو دوسری جانب انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے کئی گھوسٹ اسکول سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کا فرق بھی خلاء پیدا کردیتا ہے۔ جس کو پر کرنے اور تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
|