16.10.2026, 10:36am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے بجائے کمی
29.09.2010, 12:07am , بدھ (GMT+1)

مفلحہ رحمن
تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے تعلیم پر توجہ دی ان کا نام دنیا کے افق پر جگمگا رہا ہے۔کچھ ایسی ہی تاریخ مسلمانوں کی ہے جنھوں نے علم کے زیور سے خود کو آراستہ اور دنیا کو منور کیااور ان کے زوال کی وجہ علم سے دوری بنا۔

جس کی بڑی مثال یہ ہے کہ جب تاتاریوں نے بغداد میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتب بہائی گئیں تو دریائے فرات کا پانی کتابوں کی روشنائی سے سرخ ہوگیا

پاکستان دنیا بھر میں عالمی معیار کے مطابق ایک سو باسٹھ نمبر پر ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز کو باسٹھ برس گزر جانے کے باوجود پاکستان کی شرح خواندگی چھپن اعشاریہ دو فیصد ہے۔ جن میں اڑسٹھ فیصد مرد اور تینتالیس فیصد خواتین ہیں۔

انجمن اقوام متحدہ کے موقر ادارے یونیسکو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی واقع ہوگئی ہے اور اس وقت 67 لاکھ بچے ایسے ہیں جوا سکول جانے کی عمرمیں ہیں یعنی ان کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں لیکن وہ پھربھی اسکول نہیں جارہے۔

یہ بچے گھروں میں والدین کی مدد یا چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔لاکھوں ایسے بھی ہیں جو گلیوں ،سڑکوں اورمزاروں پرآوارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں جی ڈی پی کاصرف 2.2 فیصد تعلیم کیلئے حکومت وقف کرتی ہے۔اس حوالے سے دنیا میں پاکستان سے بری صورتحال صرف نائیجیریا کی ہے جہاں شرح خواندگی میں پاکستان سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

دنیا کے متعددممالک میں تعلیمی اخراجات دفاع سے بھی زیادہ ہیں۔ صرف ایک مثال ترکی کی ہے جہاں جی ڈی پی کا 6 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جارہا ہے جو ملک کے دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔سارک کے خطے میں انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا پاکستان سے آگے ہیں اور ان کے تعلیمی اخراجات پاکستان کے تعلیمی اخراجات سے کسی نہ کسی درجے میں زیادہ ہیں۔ جبکہ پاکستان میں روز ِ اول سے سماجی اورتعلیمی امور کی طرف توجہ بہت کم رہی ہے۔
 

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کے شعبے میں مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کا نہایت کم حصہ خرچ کیا جاتا ہے اور اس کا واضح ثبوت وہ سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق 1947ء میں آزادی کے بعد سے لے کر سن 2000ء تک تعلیم پر جی ڈی پی کا ایک فیصدسے بھی کم حصہ خرچ کیا گیا اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اب بھی ملک کے طول و عرض میں لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیم تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

صرف دارالحکومت اسلام آباد میں ہی دیکھا جائے تو اسکول جانے کی عمر کے ہزاروں بچے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ اوزار لئے گاڑیوں کی مرمت کا کام کرتے نظر آئیں گے۔ ان میں سے اکثر بچوں کوان کے اصل ناموں کی بجائے چھوٹے کے نام سے جانااور پکارا جاتاہے۔

اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 59 فیصد بچے سکولوں میں داخل ہیں لیکن ان کی اکثریت بہت مختصر عرصے کیلئے اسکولوں میں قیام کرتی ہے اورپھرتعلیم و تدریس چھوڑ جاتی ہے۔ لڑکیاں بالعموم سوا سال اسکولوں میں گزارتی ہیں جبکہ لڑکے اوسطاً سوا تین سال کاعرصہ سکول جاتے ہیں جبکہ ملک بھرمیں یونیورسٹی جانے والوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے۔

دہشت گردی کے باعث سوات اور مالاکنڈ میں نقل مکانی کی وجہ سے لاکھوں بچے تعلیم حاصل کئی ماہ تک تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ ملک بھر میں اسکولوں پر ہونے والے حملوں میں کئی بچے جاں بحق بھی ہوئے جو بچوں میں اسکول سے خوف اور عدم تحفظ کا سبب بنے۔اور ساتھ ساتھ بگڑتے حالات بھی اسکول جانے میں رکاوٹ بنے۔

پاکستان میں ایک طرف یہ مسائل تو دوسری جانب انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے کئی گھوسٹ اسکول سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کا فرق بھی خلاء پیدا کردیتا ہے۔ جس کو پر کرنے اور تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

:دیگر مضامین
(26.09.2010) بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمے کا فیصلہ جو موخر ہوا تو کیسے؟
(25.09.2010) چراغ دستِ ہنر آفریں پہ رہتے ہیں۔ محسن احسان مرحوم
(23.09.2010) ایودھیا فیصلہ: سماج میں مکمل صبر و تحمل کی ضرورت ہے
(22.09.2010) کولمبیا میں منشیات فروشوں کی مدد کرنے کے الزام میں طوطا گرفتار
(20.09.2010) جرمنی میں مقیم طاہر عدیم کی ایک غزل عالمی اخبار کے لیئے
(19.09.2010) جنت البقیع کی خونین داستان ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(16.09.2010) عزیز ملت ایران ۔۔۔۔۔ با عظمت امت اسلامیہ کے نام
(12.09.2010) لندن کے سید اکمل حسین کا تخلیقی عمل۔عالمی اخبار کے لیئے
(11.09.2010) عبدالمناف غِلزئی نگران شعبہ گرافکس عالمی اخبار کا تخلیقی عمل
(10.09.2010) عید جسے گزرنے کے بعد بھی یاد کرنا اچھا لگتا ہے ۔از نگہت نسیم
(09.09.2010) دیس پردیس میں دوستوں کے امسال ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ نگہت نسیم
(06.09.2010) ابوظہبی میں ماہ رمضان کے شب و روز ۔از؛ خرم ابن شبیر
(03.09.2010) روز قدس امت اسلامی کے متحدہ طاقت کا پرتو۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(02.09.2010) پاکستان کے شہر کراچی میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از محمداحمد ترازی
(27.08.2010) کینیڈا کے شہر وینکور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از شمس جیلانی
(26.08.2010) پاکستان کے شہر لاہور میں ماہ رمضان کے شب و روز۔از زرقا مفتی
(24.08.2010) رمضان اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے
(23.08.2010) اللہ کے حبیب کی شان میں نعت لکھنا اور سنانا عبادت ہے
(22.08.2010) امریکہ میں رمضان المبارک کیسے منایا جاتا ہے
(21.08.2010) آپ سب کو رمضان کی مبارک ہو۔۔۔ہائے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں