
نوجوان فلسفی محترم عمران شاہد بھنڈر کی کتاب ’’فلسفہ ما بعد جدیدیت : تنقیدی مطالعہ‘‘ کی تعارفی تقریب بتاریخ ۲۵ ستمبر ۲۰۱۰ء کو وار ڈ اینڈ لائبریری میں برمنگھم میں مقیم افسانہ نویس محترم جاوید اختر چوہدری کی سرپرستی میں جہانِ اُردو برمنگھم کی جانب سے منعقد کی گئی ۔ اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیے اہلِ برمنگھم کے علاوہ بہت سے مہمان دوسرے شہروں سے بھی تشریف لائے۔
راقم الحروف نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کا آغازایک تعزیتی قرار داد سے کیا جس میں ڈاکٹر وزیر آغا، محسن احسان اور عبداللہ بن علی باوہاب کی وفات پر جہانِ اُردو اور اہلِ ادب کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔اس کے بعد تقریب کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور صحافی محترمہ سلطانہ مہر سے درخواست کی گئی کہ وہ سٹیج پر تشریف لائیں اور اس تقریب کی صدارت کے فرائض سر انجام دیں ۔

اس تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان تھے، جو بلیک برن سے تشریف لائے ۔ ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان، ڈاکٹر صفات علوی، پروفیسرمحمد حسین چوہان اور اقبال نوید نے مختلف عنوانات سے کتاب پر تفصیلی مقالے پیش کیے۔
اقبال نوید نے ’’مابعد جدیدیت اور فلسفہ عقلیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے ’’فلسفہ ما بعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ ‘‘ میں پیش کیے گئے جرمن روشن خیالی فلسفوں کے تجزیے کی روشنی میں ’’عقل پسندی‘‘ اور ’’آئیڈیالوجی‘‘ کے درمیان تعلق کوموضوع بناتے ہوئے واضح کیا کہ’’عقل پسند‘‘ فلسفے شناخت کو قائم کرتے ہیں اور آئیڈیالوجی کے ذریعے بر سرِ اقتدار طبقے طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روشن خیالی فلسفے شناخت کو استحکام بخشتے تھے مگر وہ شناخت تجریدی تھی اور اس کے انہدام کی کوشش میں مابعد جدیدیت نے انسان کو لامرکز کردیا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فسطائیت اپنی انتہا کو پہنچی۔اقبال نوید کے بعد پروفیسر محمدحسین چوہان نے اپنا مقالہ بعنوان ’’اُردو ادب میں ایک معیاری کتاب کا اضافہ‘‘ پیش کیا۔
وہ گہرے تجزیے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ کتاب اگرچہ انتہائی مشکل ہے مگر اس کتاب کو سمجھ کر پڑھنے والے بک سٹالوں پر پڑی ہوئی لاکھوں کتابیں خریدنے کی زحمت سے بچ سکتے ہیں،مگرانھوں نے ا س کتاب کو سمجھنے کے لیے مغربی فلسفے سے متعلق لکھی گئی تعارفی کتب کو ایک بار پڑھنا ضروری گردانا، اورجب ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے سرقے جیسے قبیح فعل کی سخت مذمت کی تو حاضرینِ محفل نے گوپی چند نارنگ کے لیے شیم شیم کے نعرے لگائے اور کتاب کے مصنف کی تحقیق کی پرُ زور تالیوں کی گونج میں داد دی۔
افسانہ نگار حمیدہ معین رضوی نے اپنے خیالات میں اس یقین کا اظہار کیا کہ علامہ اقبال کے بعد عمران شاہد بھنڈر ہی ایسا فلسفی ہے جو ہمارا اور ہماری آنے والی نوجوان نسل کا فکری دھارا بدلے گا۔

حمیدہ معین رضوی کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اس ضخیم کتاب میں کیے گئے پیچیدہ فلسفیانہ مباحث کو سمجھنا انتہائی مشکل ہے اس لیے ضروری ہے کہ انہی مباحث کومصنف نئی کتب میں مزید وضاحت کے ساتھ لکھیں تا کہ قاری کو سمجھنے میں سہولت ہو۔
حمیدہ معین رضوی کے بعدمعروف شاعرڈاکٹر صفی حسن نے اپنے خیالات کا اظہار مصنف کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کی روشنی میں کیا۔ان کا خیال تھا کہ اس کتاب کو انگریزی زبان میں لکھنا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا مشکل کام اُردومیں لکھنا تھا کیونکہ فلسفوں کا تعلق دوسری زبانوں سے ہونے کی وجہ سے ان کی اصطلاحات کو سمجھنا اور اُردو زبان میں بیان کرنا بذاتِ خود ایک انتہائی مشکل عمل ہے جبکہ عمران شاہد بھنڈر نے نہ صرف ان اصطلاحو ں کو بڑی مہارت سے اُردو زبان میں استعمال کیاہے بلکہ مغربی فلسفوں کا تنقیدی جائزہ کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
ڈاکٹر صفی حسن کے بعد بریڈ فورڈسے تشریف لائے ہوئے معروف ادیب و دانشور ڈاکٹر صفات علوی کو ’’فلسفہ ما بعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ڈاکٹر صفات علوی نے ’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ از عمران شاہد بھنڈر‘‘ کے عنوان سے اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ اُنھوں نے اپنے مقالے کا آغاز شاعروں سے معذرت کے ساتھ ان الفاظ میں کیا کہ ہمارے ادبی و علمی زوال کے ذمہ دار آج کے دانشور اور شعرا ہیں ۔ انھوں نے اس کتاب کے مطالعے کو شعرا اور نثر نگاروں کے لیے لازمی قرار دیا۔

ڈاکٹر صفات علوی نے مصنف اور کتاب کو سراہتے ہوئے اپنے مقالے میں عمران شاہد بھنڈر کی کتاب’’فلسفہ مابعد جدیدیت کے متعدد اقتباسات پر اپنا طویل تجزیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر صفات علوی کا خیال تھا کہ اس کتاب کے لیے باقاعدہ سمپوزیم کا انعقاد کیا جانا چاہیے ،تاکہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر، فلسفی اور نقاد کتاب میں پیش کیے گئے تجزیات کو مزید گہرائی میں دیکھتے ہوئے خاطر خواہ نئی اور مفید راہیں نکال سکیں۔ڈاکٹر صفات علوی نے اپنے مقالے میں ادبی رجحانات کو ان کے سماجی پسِ منظر میں دیکھنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ ادب کے سماجی عمل پر اثرات کے حوالے سے چند ایک اختلافی نکات بھی سامنے آئے، یقیناََ اختلافی نکات ہی سے علمی معاملات آگے بڑھتے ہیں ۔ڈاکٹر صفات علوی نے نہ صرف ہندوستان، بلکہ پاکستان اور بیرونِ ممالک مقیم ادباء کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ کیوں نارنگ کے سرقے کے متعلق حقائق کو جاننے سے معذور رہے ہیں۔
ڈاکٹر صفات علوی کے بعد ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان سے التماس کی گئی کہ وہ ’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ ‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کریں، انھوں نے مصنف کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ و ہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم نکات کو یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں مصنف نے گوپی چند نارنگ کے سرقے کے حقائق عیاں کرنے کے علاوہ ان مباحث کو موضوع بنایاہے جو آج سے پہلے کبھی بھی کم از کم اُردو ادب کا موضوع نہیں رہے، صرف دیباچے ہی کو اگر پڑھا جائے توایسے ایسے فقرے ملتے ہیں جولوگوں کے ضمیر پر تازیانے کی طرح لگتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کچھ اس شدت سے ہوتا ہے کہ جو پہلے کبھی نہ ہوا ہوا ۔
ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان اپنے تجزیے میں نارنگ کے سرقہ کرنے کے قبیح فعل کی مذمت کرتے ہوئے مصنف کویہ تحقیقی کام عرق ریزی سے سرانجام دینے پر سراہا ۔انھوں نے ’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ سے ماخوذ اقتباسات کی روشنی میں دہشت گردی کی فلسفیانہ وجوہات کو واضح کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ عمران شاہد بھنڈر نے صرف تنقید ہی نہیں کی بلکہ ہمیں ہمارے مسائل کے حل کی تلاش کے لیے راستہ بھی دکھایا ہے۔ ڈاکٹر اعوان نے کتاب کی روشنی میں اپنے فکر انگیز تجزیات پیش کیے۔انھوں نے متصوفانہ رجحان پر سخت تنقید کی اورخالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر شرمندگی ہے کہ ہم نے ان نکات کی طرف دھیان نہیں دیا جن کی طرف اس نوجوان فلسفی نے ہمیں متوجہ کیا ہے ، ایک فلسفی کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کتاب کے فلسفیانہ تنقیدی مباحث سمجھنا انتہائی دشوار ہے اور ڈاکٹر صفات علوی ہی کی طرح اس فلسفیانہ کتاب پر سمپوزیم کے اہتمام کی تجویز پیش کی،جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ فلسفہ کے پروفیسروں کی شرکت کو یقینی بنایا جا ئے تاکہ اس کتاب کا پیغام عام فہم ہو سکے۔
انھوں نے عمران شاہد بھنڈر کو ایسے مشکل موضوع پر کامیاب اور فکر انگیز کتاب لکھنے پر مبارک باد پیش کی۔
حاضرینِ محفل نے انتہائی سنجیدگی اور دلچسپی سے ’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ پر ہونے والے تبصروں کو سنا اور سراہا۔ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان کے گہرے تجزیے کے بعد اس تقریب کے مہمانِ خاص’’فلسفہ مابعد جدیدیت : تنقیدی مطالعہ‘‘ کے مصنف محترم عمران شاہد بھنڈرسے درخواست کی گئی کہ وہ حاضرینِ محفل کو مابعد جدید فلسفے سے آگاہ کریں۔ عمران شاہد بھنڈر نے اپنی گفتگو کے آغاز میں محترم جاوید اختر چوہدری اور محترمہ سلطانہ مہر کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس اہم تقریب کا انعقاد کیا۔ اس کے بعد عمران شاہد بھنڈر نے مابعد جدیدیت کا مختصر تنقیدی جائزہ پیش کیا۔
انھوں نے کہا کہ مابعد جدید فلسفے کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ مغربی فلسفے کے ان پہلوؤں کی تفہیم ہو، جن کو مابعد جدید فلسفہ چیلنج کرتا ہے،فلسفہ کہیں خلا میں جنم نہیں لیتا، بلکہ فلسفیانہ روایت کے اندر رہتے ہوئے اگلے مراحل طے کرتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے یونانی فلسفے کے موضوعی مرکزیت کے نکتے اور اس سے منسلک تعقلاتی فلسفے کا مختصر تجزیہ پیش کرتے ہوئے، اٹھارویں صدی کی روشن خیالی فکر کے کلیت پسند عقلی پہلو کے اس کردار کی اہمیت کو واضح کیا کہ جس کی لاتشکیل مابعد جدید مفکرضروری خیال کرتے ہیں۔’’ فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ کے مصنف کا خیال تھا کہ بورژوا انسان اور اس کے خیالی فلسفے کی لامرکزیت ضروری ہے مگر مابعد جدید مفکر اس انسان کو بھی لامرکز کردیتے ہیں جو کبھی مرکزیت کی سطح پر پہنچا ہی نہیں ہے۔ان کے پیشِ نظر تیسری دنیا کا استحصال زدہ انسان تھا،جس کی شناخت دریدا اور لاکاں کے لاتشکیلی پروجیکٹ کے تحت التوا کا منظر پیش کرتی ہے۔
مصنف کے نزدیک شناختوں کے درمیان یہ عدمِ امتیاز مابعد جدید فلسفے کا فاشسٹ پہلو ہے۔ جن لوگوں نے اُردو میں مابعد جدیدیت کی درآمد کو ممکن بنایا وہ اس پہلو سے مکمل طور پر نابلد رہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے لبرل جمہوریت کی اس شکل پر کڑی تنقید کی جس کی ابدیت کا دعویٰ ۱۹۸۹ میں امریکی سامراج کے نمائندے فرانسس فوکویامہ نے اپنی کتاب ’’تاریخ کا خاتمہ میں یہ جانتے ہوئے بھی کیا تھا کہ سامراجی جمہوریت کی بنیادیں انسانی لاشوں پر کھڑی ہیں ۔
سامعین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر سرمایہ داری نظام نہیں تو اس کا متبادل کیا ہے؟ مصنف نے کہا کہ نظام کہیں باہر سے مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ سرمایہ داری نظام انگنت تضادات کی گرفت میں آچکا ہے، ان تضادات کی نوعیت حتمی ہے، وہ فلسفہ جو نظری سطح پر ان تضادات کو سائنسی انداز میں نہ صرف دکھائے بلکہ عملی طور پران کی تحلیل کا راستہ بھی ہموار کرتا ہو، وہی سرمایہ داری نظام کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مادی جدلیات کے فلسفے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
صدرِ محفل محترمہ سلطانہ مہر کا صدارتی خطبہ کئی حوالوں سے دلچسپ تھا۔ انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ ’’جناب عمران شاہد بھنڈر کی کتاب ’’فلسفہ مابعد جدیدیت‘‘گو کہ ایک تنقیدی مطالعہ ہے مگر فکر و نظر کے کئی در بھی کھولتی نظر آتی ہے‘‘ محترمہ سلطانہ مہر نے مصنف کے کئی اقتباسات پر اپنے تجزیات پیش کیے۔ انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ کسی بھی مصنف کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو اس طرح بیان کرے کہ قاری تفکر کرنے پر مجبور ہو جائے ۔
سلطانہ مہر کا خیال تھاکہ عمران شاہد بھنڈر نے اپنے کتاب ’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ میں یہی طرز عمل اپنایا ہے اور اس کتاب کے ذریعے نہ صرف مغربی فلسفوں کی تاریخ کو از سرِ نو تنقیدی بنیادوں پر تخلیق کیا ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ عہدِ حاضرکی دہشت گردی کی فلسفیانہ وجوہ بھی زیرِ بحث لائے ہیں، جن کو جانے بغیر دہشت گردی جیسے مرض کا علاج ممکن نہیں۔ محترمہ سلطانہ مہر کا کہنا تھا کہ عمران بھنڈرنے درست طور پر دہشت پسند مغربی سامراج کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

اس ساری تقریب میں ایک بات کو واضح طور پر محسوس کیا گیا کہ مقالہ نویسوں نے نارنگ کے سرقے کو چند الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد کتاب کی علمی نقطۂ نظر سے اہمیت پر زیادہ زور دیا۔ ہندوستان اور پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہاں شخصیات کی تضحیک کے پہلو کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس رجحان سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ علم سے محبت کرنے والوں کے لیے شخصیات کی صرف اتنی اہمیت ہوتی ہے جتنا وہ علمی معیار پر پورا اترتی ہیں۔اگلا مرحلہ یہ ہے کہ نارنگ کو اس کے کیے کی سزا ملے اور توجہ سرقے سے ہٹ کر علمی مباحث کی جانب مبذول ہو۔
آخر میں محترمہ سلطانہ مہر نے اپنے حاضرین کے علاوہ وارڈ اینڈ لائبریری کے تمام سٹاف اور بالخصوص سلیم ایوب کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس تقریب میں ہر ممکن معاونت کی۔اس طرح یہ تقریب ذہن میں کئی سوالات کو جنم دے کر ختم ہوئی۔