لگھ بھگ 50 کتابوں کے مصنف ،معروف شاعر،نقاد ، محقق اور ناول نگارانیس ناگی سات اکتوبر بروز جمعرات لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری میں دوپہر کے وقت کتابوں کے مطالعے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
انہیںجمعرات کی رات ہی لاہور میں رضا بلاک اقبال ٹاؤن میں نماز جنازہ کے بعد دفن کردیا گیا
ڈاکٹر انیس ناگی سرکاری ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد لاہور میں ہی مقیم تھے۔
عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی اور تمام ادارتی عملے نے انیس ناگی کے انتقال کو ڈاکٹر وزیر آغا کے انتقال کے بعد ایک اور بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

انکا خاندانی نام یعقوب علی ناگی اور قلمی نام انیس ناگی تھا۔اردو کے معروف افسانہ نگار منٹو پر انکا بے شمار کام ہے اور انکے ناولوں میں اہم ترین ناول ‘‘زوال‘‘ ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انکا دوسرا مقبول ناول ‘‘دیوار کے پیچھے‘‘ ہے جسے اردو میں ناول کی نئی روایت کا آغاز کہا جاتا ہے جس میں انسان کے وجودی کرب کا تخلیقی بیان ہے۔
انیس ناگی کی ایک اور اہم تخلیق‘‘جنس اور وجود ‘‘ ہے ۔انیس ناگی نے ان آٹھ مضامین میں عورت کے حوالے سے ایسے موضاعات پر قلم اٹھایا ہے جن سے ہمارا اکثر بلایا بالواسطہ سامنا ہوتا ہے ۔ اور جن سے جوجوہ صرف نظر میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔
انیس ناگی کی یہ تحریریں احساس ہوتا ہے کہ بہت توجہ اور سنجیدگی سے لکھی گئی ہیں اور معیق ، بے حد تجزیاتی او رپر مغز ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے موضوعات پر کھلے اظہار کے یے ایک جرارت رندانہ درکار ہے جو شاید

مصلحتا کم کم پائی جاتی ہے۔ ممتاز مفتی سے ضمیر الدین سے ہوتے ہوۓ ڈاکٹر سلیم اختر تک عورت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن محدود انداز میں جزویاتی ٹرلیمنٹ میں بعض کوششیں کامیاب رہی ہیں ۔ منٹو اپنے ویزن کے باعث یکتا ہے۔
انیس ناگی نے پاکستانی عورت کی جنسیات کوسمجھنے کے لیے کسی حد تک کلینکل انداز اختیار کیا ہے لیکن کہنے کی طرح اعدادو شمار کی بھر مار سے گریز کیا ہے۔ اپنے عمیق مطالعے اور زندگی کے معاملات کی گہری بصیرت کی وجہ سے انیس ناگی کے یہ مضامین اپنے میدان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے وسیلے سے پاکستانی عورت کو سمجھا جاسکتا ہے اس اعتبار سے "جنس اور جود " اردو میں پہلی کتاب ہے جس میں پاکستان کی تمدنی حالت میں پاکستانی عورت کا وجودی مطالعہ کیا گيا ہے۔
بعض ایک این جی اوز حقوق نسواں کی پرسور و زور چمپیئن سمجھی جاتی ہیں لیکن شاید انہوں نے پاکستانی عورت کی مجموعی صورتحال کو گہرے تجزیاتی حوالوں سے سمجھنے سے گریز کیا ے کہ وہ تمام کاروائی مغربی طرز احساس کے تحت سر انجام دیتی ہیں ان کے مغربی ڈزنر ز کو بس اتنا ہی چاہیے ہے۔

انسان اعصابی تاروں میں گندھا ہوا ایک ایسا معجزہ ہے جس کی شخصیت کی تشکیل میں خاصے پیچیدہ عناصر اپنی تمامتر پیچیدگیوں سمیت بھر پور طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ بچپن کے تجربات ، ماحول ، معاشیات ، عمرانیات ، مذہب ، تاریخ اور پھر جینیز ۔۔ ۔ ۔ سب چگر سے بنتی ہے جو اس کے جنسی ، نفسیانی اور سماجی وجود کی تشکیل کرتی ہے۔
پاکستانی عورت دوہرے جبر اور استحصال کا شکار ہے۔۔ ۔اس کے اپنے کنبے ۔۔ ۔باپ بھائی ، خاوند، بیٹا اور دوسرے بیرونی عناصر کا استحصال جس کا مرد خود بھی شکار ہے۔
انیس ناگی پاکستانی عورت کی فارمولیسن میں خاصا کلیت کا شکار دکھائي دیتا ہے کہ اسے منزل مقصود کے حصول کے لیے سر توڑ جدوجہد کے امکانات نظر نہیں آتے۔ بعض جگہ اس کے ساتھ اختلاف کی گنجائش بھی ہے لیکن مجموعی طورپر یہ مضامین سوچ کی ایک نئی راہ کرتے ہیں ۔ مختصر اور کسے ہوۓ یہ مضامین "صاحب حال" لوگوں کے لیے کوزوں میں دریا بند ہیں ۔ صاحبان عمل کے لیے بھی دعوت او رٹیکٹکس کے دورازے وا کرتے ہیں او رصاحبان قلم کے لیے بھی دعوت عام ہیں کہ وہ ان مضامین سے شعر و ادب کے حوالے سے ادارک کی کس سطح پر استفادہ کرتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کتاب سے وابستگی کا ایسا عاشق کم پیدا ہوا ہو گا۔ ناول، شاعری، تنقید اور دستاویزی فلم، غرض کسی گھر بند نہیں۔ ترجمے پر اترے تو اردو دنیا کو سینٹ جان پرس، کامیو اور پابلو نرودا سے متعارف کرایا۔ اس پر بھی بیان مزید وسعت کا تقاضا کرے تو اپنا رسالہ نکال لیتے ہیں۔ چوٹ کرنے سے گھبراتے ہیں نہ چوٹ کھا کر بد مزہ ہوتے ہیں۔
انیس ناگی نے تنقید میں بھی کام کیا اورنظمیں بھی لکھیں ان کے ہاں مکروہ ، ممنوع اور نامانوس الفاظ بکثرت نظر آتے ہیں ۔ ان کی نظم میں انتشار، بے سمتی ، اور ابہام سے پر تصورات موجود ہیں۔ انیس کی نظم کا کافرد بے سمتی کا شکار ہے۔اس طرح لسانی تشکیلات سے وابستہ دوسرے شعراءمیں سلیم الرحمن ، زاہد ڈار وغیرہ شامل ہیں۔