
پاک فوج کے زیرِ اہتمام چلنے والے ادارے ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس
اینڈ ٹیکنالوجی راولپنڈی کے کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ میں
غیر نصابی سرگرمیوں کے مقابلے منعقد ہوئےجن کا بنیادی حدف تو مقابلے اور
سیکھنے کے رجحانات کو پروان چڑھانا تھا مگر ساتھ ہی حاصل شدہ تمام آمدنی کو
سیلاب زدگان کے لیے عطیہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ یوں یہ مقابلے جہاں
مستقبل کے لیے ایک اچھی امید تھے، وہیں حال کے لیے بھی اہم ثابت ہوئے۔
جہاں مختلف اصناف کے مقابلے ہوئے، وہیں ایک مقابلہ شاعری کا بھی تھا مگر
یہ مقابلہ اس انداز سے مختلف تھا کہ اس میں تمام شعراءکو ایک کیفیتِ مزاج
دے دی گئی، جس میں شاعر اپنے آپ کو ڈھال کر کچھ ارشاد کر سکے۔ ڈھائی گھنٹے
کے مقررہ وقت میں اس کیفیت کے تحت اردو یا انگریزی میں اپنے جذبات کا اظہار
بزبانِ شعر کرنے کا حدف مقرر کیا گیا۔
عالمی اخبارفیملی کے ایک رکن، ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر و ادیب، سید زین
عباس نے اس مقابلہءشاعری میں اپنا لوہا منوانے کا فیصلہ کیا۔ اور بفضلِ
خدا، اپنا لوہا منوا کر ہی دم لیا. اپنی نوعیت کے اس انوکھے مقابلے میں
پندرہ جامعات کے شعرا سے بازی لیتے ہوئے اول انعام کے حقدار قرار پائے۔۔
باقی کا احوال خود ان کی زبانی جانتے ہیں۔
بقلم سید زین عباس زیدی۔
”نظم کے لیے میں نے مایوسی کا انتخاب کیا۔ موضوع اگرچہ شاعرانہ تھا، پھر
بھی وہاں کچھ مشکلات تھیں جنہوں نے شاعری جیسے پر کیف کام کو امتحان میں
تبدیل کرنا تھا۔ ایک تو روایتی کمرہ امتحان کا خوف، دوسرے وقت ِ مقرر،اس سب
کے علاوہ ہے کہ خود ساختہ مایوسی خاصہ مشکل کام ہے۔ پہلے پہل تو اسکی عادت
تھی مگر احساس ہوتا ہے کہ شاید لحظہ بھر مایوسی بھی دستور ِ کریمی کے خلاف
ہے، جسے خدائے رحمان پر یقین ہو وہ کیونکر مایوس ہو سکتا ہے۔
اس نظم میں بہت سی خامیاں موجود ہیں جن کی وجوہات اوپر بیان کر چکا ہوں،
خدا وند ِ کریم نے ایک بار پھر میری اہلیت سے بڑھ کر مجھے نوازا۔۔۔
زین عباس نے یہ نظم سنا کر نہ صرف داد پائی بلکہ مقابلہ بھی جیتا ..
نظم پیشِ خدمت ہے۔۔۔
زندگی ایک تماشے سے کچھ کم نہیں
وہ بھی ایسا کہ اب آنکھ اکتا گئی
یہ غلط ہے کہ امید با قی نہیں
موت کی اب بھی امید ہے دائمی
ہیں صحیفوں کے وعدے ابھی بے اثر
پر مجھے اب بھی کامل یقیں ہے ادھر
گو کہ منجی و ہادی نہیں آسکے
پر عذابوں کے وعدے تو سچے ہوئے
خوں رگوں کی بجائے سڑک پر بہے
ایسے عالم میں کیا کوئی زندہ رہے
بادلوں سے کہیں آگ برسا کیے
یا کہ صحرا بھی پانی میں بہنے لگے
قلب میں خوں قلم میں سیاہی نہیں
حد یہ ہے لب پہ کوئی دہائی نہیں
اہل زر ،زر پرستی میں مخمور ہیں
اہل حق ،حق پرستی سے معزور ہیں
بعد شب اب بھی دست دعا بے اثر
وہ خزاں ہے کہ موج صبا بے اثر
کتنی صدیوں سے آدم کے بیٹے یونہی
ظلم کے سامنے سر جھکاتے رہے
ان سروں پر مگرتاج سجتے رہے
جو اٹھائے گئے وہ قلم ہو گئے
ہاں مگر آج سے پیشتر ہر جگہ
کوئی نہ کوئی تو سر اٹھاتا رہا
لاکھ کے سامنے سینکڑوں کا قیام
یا ہزاروں کے آگے بیاسی کا نام
اب مگر سر جھکانے کی عادت وہی
عافیت کے صحیفوں کی زینت ہوئی
ان سروں پر مگر تاج بھی نہ سجے
اب یہ سر بھی سرِ بام کاٹے گئے
کاٹ کر ان کے کاسے بنائے گئے
اورعجائب گھروں میں سجائے گئے
ہاں تبھی مائیں بیٹوں پہ نوحہ کناں
نسل آدم کے حصے فغاں ہی فغاں
زندگی تلخ سے تلخ تر ہو گئی
ر اہ امید اور پر خطر ہو گئی
بام و در موت کی بندشوں میں مقید
موت بھی اسقدر تلخ و ذلت پذیر
آج سے قبل یہ زندگی یوں نہ تھی
لوگ مرتے تھے پر موت بھی یوں نہ تھی
اب یہ بیم و رجا میں معلق خرد
کیا لکھے ،کیا کہے ،بعد از ایں شد و مد
اب بھی یوسف پہ ہے دور بازار کا
ہے مگر منتظر وہ خریدار کا