
بالآخر بلی تھیلے سے باہر آہی گئی پاکسان سے جان بچا کر بھاگنے والے کمانڈو جنرل نے اپنے ہم رتبہ و ہم منصب ماضی کے ایک کردار سکندر مرزا کی پیروی میں برطانیہ میں جلا وطنی کو ترجیح دی ۔ سکندر مرزا کو تو خالی ہاتھ ملک بدر کردیا گیا تھا جبکہ پرویز مشرف ، جو قارون کے خزانے پہلے ہی منتقل کر چکا تھا ، گارڈ آف آنر لے کے رخصت ہوا ۔ آج انہی خزانوں کی چمک اور گرمائیش ہے جو ’ یونین فلیگ ‘ کے سائے تلے آل پاکستان مسلم لیگ ، مُش لیگ ، کا افتتاح ہوا ۔ ’
مُش اور مُش لیگ ‘ دونوں کا ماضی ، حال اور مستقبل قارئین کی نظر ہے :
سابق جنرل پرویز مشرف کی فوجی اور سیاسی زندگی پر ایک نظر ’ سب سے پہلے پاکستان ‘ جنرل صاحب کی آپ بیتی ہے جس میں آپ نے اپنے فوجی کیرئیر پہ تفصیل سے لکھا ہے ۔ اسی سےماخوذ آپ کی عوام کی دلچسپی کے کچھ واقعات سے اس کالم کا آغاز کیا جاتا ہے۔
آپ کے فوج میں کمیشن لینے کے کچھ عرصہ بعد ، جبکہ آپ ایک سیکنڈ لیفٹینیٹ تھے ، 1965 کی جنگ شروع ہوگئی ۔ عین اس وقت آپ کو گھر کی یاد ستائی ۔ یونٹ سے چھٹی نہ ملنے پہ آپ یونٹ سے بھگوڑا ہوگئے ۔ کورٹ مارشل کے آرڈر ہوگئے ۔ آپ کے دوست ، اور آپ کے دورِ اقتدار میں اشرفیوں میں کھلینے والے لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی ، نے آپ کو صورتِ حال سے آگاہ کیا چنانچہ آپ نے یونٹ جوائین کرلی اور کورٹ مارشل سے بچ گئے ۔ بریگیڈئیر کے رینک تک آپ کا ’ ڈوزئیر ‘ سرخ ’ اینٹریز ‘ سے

بھرا ہونے کی بنا پہ آپ کی جرنیلی کا خواب دھندلا چکا تھا کہ صدر زرداری کا جاوید پاشا کے نام سے کوئی دوست آپ کے کام آیا ، یہ وہی جاوید پاشا صاحب ہیں جنھوں نے بعد میں پرویز مشرف سے پہلے بی بی اور پھر زرداری کو رہائی دلوا کر ملک سے باہر بجھوایا اور بعد میں خفیہ ڈیلز میں بھی رول ادا کرکے انہیں دوبارہ ملک کے اندر کرانے میں بھی رول ادا کیا ، اور اس طرح بی بی مرحومہ کے پہلے دورِ حکومت میں آپ کو جرنیلی مل گئی جو بالآخر ان کی گندم نما جو فروش صورت اور سیرت سے متاثر ہوکر نواز شریف جیسے بھولے بادشاہ نے انہیں سپہ سالاری دے دی ۔ کارگل کا کارنامہ ان کے دورِ سپہ سالاری کا ایک سیاہ باب ہے جس پہ آرمی کے بیشتر سنئیر ریٹائیرڈ افسران بالخصوص سابقہ آرمی سربراہان نے ان کے کورٹ مارشل کی سفارش کی ۔ یہ ہے جنرل صاحب کے پینتیس سالہ فوجی کیرئیر کا خلاصہ کہ کمیشن لینے کے بعد بھی اور سپہ سالاری کے وقت بھی ایک ہی گونج سنائی دیتی ہے اور وہ ہے ’ کورٹ مارشل ‘ کی !
آپ کے ہمعصر آپ کو وائی کے ٹو یعنی یحییٰ خان دوم ( یا یحیٰ خان ثانی) کہتے ہیں جس کی وجہ آپ کا بہت زیادہ روشن خیال یا کھلے لفظوں میں طائوس و رباب کا اس قدر رسیا ہونا ہے کہ سر پہ جام رکھ کرہالی وُڈ طرز کا فلمی ڈانس آپ کی خصوصیت ہے ۔ آپ کی روشن خیالی کے چند نمونے یُو ٹیوب پہ موجود کچھ ویڈیوز میں سے پیش کئے جا رہے ہیں :
http://www.youtube.com/watch?v=4sUVpRLP5S4&feature=grec_index
http://www.youtube.com/watch?v=3xoctNSw44E&feature=related
http://www.youtube.com/watch?v=YUYqi6shWyM&feature=related
آپ کی فوجی لائف اور طرزِ زندگی کے بعد اگر ان کے نو سالہ دورِ اقتدار پہ نظر ڈالی جائے تو اُس پہ آپ کے یہ ارشادات ہی کافی ہیں :
”میں خلوص دل سے اپنے سابقہ دور اقتدار کے دوران کیے گئے غلط فیصلوں اور منفی اقدامات پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں”۔
” میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور میں انہیں دوبارہ کبھی نہیں دہراؤں گا “
”میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ میں نے بعض فیصلے ایسے کیے تھے جن کے منفی سیاسی اثرات مرتب ہوئے اوران سے میری مقبولیت کو بھی نقصان پہنچا۔ میں ان تمام فیصلوں پر اس موقع پر نیک نیتی سے قوم سے معافی مانگتا ہوں “
اعترافِ گناہ اور ان معافیوں کے بعد مزید کچھ کہنے کی نوبت ہی نہیں رہتی ۔ ان کے ہمایتی بلاشبہ اسے ان کی روشن خیالی کہہ سکتے ہیں لیکن ان کی غلطیاں ، اور اب معافیاں، نہ تو پاکستان کو وہ وقار واپس لوٹا سکتی ہیں جو ان کی پالیسیوں کی وجہ سے گنوایا گیا اور نہ ان لوگوں کے ذخموں پہ مرحم رکھ سکتی ہیں جو رسوائیوں کے اتھاہ سمندروں میں ڈوب گئے۔

اب انتہائی اختصار سے پیش کی گئی آپ کی پینتیس سالہ فوجی زندگی ایک طرف اور دس سالہ سیاسی زندگی دوسری طرف ، اور اس دس سالہ سیاسی زندگی میں بھی ان کے کرتوت ، جن پہ یہ حضرت قوم سے معافیاں مانگ رہے ہیں بلکہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ، دیکھ کر بھی کوئی یہ کہے کہ جنرل مشرف ہی پاکستان کا مسیحا ہے تو میں ایسے لوگوں کے حق میں محض دعا ہی کر سکتا ہوں ۔
مُش لیگ کے قیام کے محرکات’ مُش لیگ ‘ کے قیام کے محرکات سے پہلے پارٹی کے اعلان کے موقع پہ آپ کے فرمودات جو پاکستان کے عوام ، بالخصوص آپ کے سپورٹرز ، کے لئے کسی دلچسپی یا تفریحی سے کم نہ ہوں گے :
آپ نے اعلان فرمایا کہ ” جو بھی خطرات ہوں، وہ آئیندہ عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس جائیں گے “
جبکہ دوسری طرف بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں :
” میں لندن میں اپنی جماعت کے قیام کا اس لیے اعلان کر رہا ہوں کیونکہ مجھے پاکستان میں اپنی جان کا خطرہ ہے “
جنرل صاحب ملک سے بھاگنے کے وقت سے لے کر آج تک یہی فرماتے آئے ہیں کہ ، ’ میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں ‘ یا پھر یہ کہ ’ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ‘ ! آپ واقعی کسی سے نہیں ڈرتے اسی لئے تو اتنی جلدی ، فیس بک میں اپنے مداحوں کی خوش آمد میں آکر ، پارٹی کھڑی کر دی ۔
ہے ناں مزے کی بات ! کیا پاکستان کے عوام سے اسے بڑا مذاق بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو اپنی ہی جان کا خطرہ ہے وہ اپنے عوام کی جان کا کیا خاک محافظ ہوگا ؟
سید ، شاید سیاست میں آنے کے بعد آپ کو اس جھوٹے یا سچے خاندانی پس منظر کا سہارا لینا پڑے ۔
پرویز مشرف کو اپنی پارٹی بنانے کا خیال کیوں آیا ؟یہ موضوع چھیڑنے سے قبل میں ایک لطیفہ نما سیاسی واقع آپ تک پہنچا دوں۔ سن صحیح طرح سے یاد نہیں مگر الیکشن کا دور تھا، راولپنڈی کے حلقہ 37 میں مسلم لیگ کے شیخ رشید ، پیپلز پارٹی کے آغا ریاض الاسلام اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ تھا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنی ایک خاص سٹریٹیجی کے تحت اپنے تمام جیالوں کو قاضی صاحب کے جلسوں کو کامیاب کرانے کا حکم دیا ۔ مقصد قاضی صاحب کی ’ گُڈی ‘ کو ہوائوں میں رکھنے کے علاوہ شیخ رشید کو نفسیاتی دبائو میں لانا تھا ۔ قاضی صاحب ایسے ’ ھرے بھرے ‘ مجمعوں میں مکے لہرا لہرا کر مستقبل کے وعدے اور دھمکیاں دیتے رہے مگر جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو بڑی مشکل سے اپنی ضمانت بچا پائے ۔ بالکل یہی حال مشرف صاحب کا ہے کہ جنھوں نے فیس بُک پہ اپنے مداحوں کی تعداد اور ملک کے اند اور باہر زدراری حکومت کی ناکامی کا ’ دورِ پرویزی ‘ سے موازنہ کرنے والی اپنی لابی اور کچھ خاموش اکثریت کی حکومت پہ طنز و تنقید سے یہ اندازہ کر لیا کہ وہ پاکستان کے عوام میں اب بھی بہت مقبول ہیں ، چنانچہ اپنی آل پاکستان مسلم لیگ ، جسے میں مختصراّ ’ مُش لیگ ‘ لکھوں گا ، کا اعلان فرما دیا ، جوکہ میرے خیال میں پہلا محرک ہو سکتا ہے ۔
’ مُش لیگ ‘ کی بنیاد کی دوسری وجہ جنرل ’ مُش ‘ پہ دوسری پارٹیوں کے دروازے بند ہونا بھی ہو سکتی ہے ۔ ’ق‘ لیگ آپ کی خصوصی کوششوں کی بدولت معرضِ وجود میں آئی اور آپ کو ایک چھوڑ دس دس بار باوردی صدر بنانے کے نعرے لگاتی رہی لیکن الیکشن میں ناکامی اور آپ کی وردی اترتے ہی آپ کو ناقابل برداشت بوجھ سمجھنے لگی ۔ جنرل صاحب نے ’ ق ‘ لیگ کی صدارت حاصل کرنے کو بڑے ہاتھ پائوں مارے مگر چوہدری صاحبان نے ایک نہ چلنے دی ۔ واقفانِ حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شیخ رشید صاحب نے اپنی عوامی مسلم لیگ بھی جنرل صاحب کی سیٹی پہ ہی بنائی تاکہ چوہدری برادران سے سودا بازی میں مشکل درپیش آنے کی صورت میں وہاں سے تمام پنچھیوں کو دانہ ڈال کر دھیرے دھیرے نئے آشیانے پہ اکٹھا کر لیا جاتا ۔
مگر اِدھر آپ کی چمڑی ، آپ وردی کو اپنی کھال یا چمڑی کہنا پسند فرماتے تھے ، اُتری ،

اور نئے آرمی چیف نے فوج کی سپہ سالاری سنبھالی اور آپ صدر جنرل مشرف سے سکڑ کر صرف صدر مشرف رہ گئے اور مزید ستم یہ ہوا کہ صرف چھ ماہ بعد ہی آپ مزید سکڑ کر سابقہ صدر ہوئے ، اُدھر دونوں لیگوں نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں ۔ چنانچہ جس کسی کو بھی اپنے آشیانے پہ بجلیاں گرنے کا شک گذرا فورا شاخِ نازک سے پرواز کر گیا ۔ اور یوں صدر جنرل پرویز مشرف ، پھر صدر پرویز مشرف اور آخر میں صرف پرویز مشرف گارڈ آف آنر لے کر ملک سے ایسے بھاگے جیسے ’ سڑے گراں سے جوگی ‘ ! اور گھر سے بھاگا ہوا یہ دانشور ، وہ بھی صرف نام کا ، دن کو علم و دانش کے موتی بکھیرے ، راتوں کو مئے خانوں کے پھیرے اور فرصت میں طبلے پہ ساز چھیڑے ! یوں کبھی اِن کے در ، کبھی اُن کے در اور کبھی در بدر !
ایم کیو ایم دوسری سیاسی پارٹی ہے جس میں داخلے اور کسی باعزت عہدے کی خواہش آپ کے دل میں مچلتی رہی ، کہ آپ کی فیملی کے بے شمار افراد ایم کیو ایم میں پہلے سے شامل ہیں ، مگر الطاف بھائی جیسا شاطر سیاستدان آپ کو اپنی آستین کا سانپ بنانے کی کبھی رسک نہیں لے سکتا تھا ، چنانچہ یہ در بھی آپ پہ وا نہ ہوسکا ۔
حالات سے مجبور جنرل مُش کے پاس جب کوئی چارہ باقی نہیں رہا تو آپ نے مُش لیگ کا دھماکہ کر ڈالا ، جو کہ فی الحال تانگہ پارٹی بھی نہیں ، کہ تانگہ کم بخت بھی ’ سِکس سِیٹر ‘ ہوتا ہے جبکہ یہاں تو ہر سُو صرف آپ ہی آپ کے جلوے ہیں ، لہذا میں اسے صرف ’کوچوان پارٹی ‘ ہی کہوں گا ۔
جنرل صاحب کا اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا ایک اور مقصد اپنی اہمیت کو بڑھانا اور منوانا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اب آپ صرف سید پرویز مشرف ہی نہیں بلکہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ، ’ تا حیات چئیرمین ‘ ، یا کوئی ’ چیف ایگزیکیٹو‘ طرح کی شئے ہوں گے ۔ پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں جب اور جہاں کسی سیاسی گول میز کانفرنس کی میز سجے گی وہاں ایک کرسی صدر آل پاکستان مسلم لیگ ، اگر یہ سانسیں لیتی رہی تو ، کے لئے بھی مخصوص ہوگی۔
یہ پارٹی بنانے کا ایک اور محرک آپ کے طاقتور بیرونی آقائوں کی یہ چال بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک سابقہ ڈکٹیٹر کو نہیں بلکہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کو پرانے این آر او یافتہ مہروں سے ایک نئے این آر او کی مدد سے ایک دفعہ پھر پرانا کھیل دہرا کر پاکستان کے عوام کو کوئی نیا سرپرائیز دیں ۔
وطنِ عزیز میں کرپشن کرنے یا کرپشن چپھانے کے لئے سیاست بہترین سٹیج ہے جہاں اداکاری کے سارے جوہر دکھانے کے نادر مواقع ہوتے ہیں ۔ سو آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پچھلا سارا کھایا پیا ہڑپ اور نئے کی پھر سے تڑپ ! اور پھر اعجاز الحق یا انوار الحق کے ہم پلہ بھی تو کوئی چائیے ، حمزہ شہباز یا حسین نواز کو آنکھیں دکھانے بھی تو کوئی ہو اور آخر کو بلاول کے مقابلے میں بلال کو بھی تو ہونا چائیے !
مُش لیگ کی کامیابی کے امکاناتآل پاکستان مسلم لیگ کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے سے پہلے ماضی میں بنائی گئی دوسری جرنیلی پارٹیوں کا حشر بھی ذہن میں رکھنا پڑے گا ۔ ایوب خان پہلا ڈکٹیٹر تھا جس نے کنونشن مسلم لیگ بنائی جو ایوب خان کے تخت سے دست برداری کے ساتھ ہی اسپرو کی گولی کی طرح تحلیل ہوگئی ۔ ضیاء الحق نے خود تو کوئی پارٹی نہیں بنائی نہ کسی میں شامل ہوا لیکن مسلم لیگ کے مردہ گھوڑے میں جان ڈلوائی جو اس کی زندگی میں ہی ٹوٹ کر نواز اور جونیجو لیگ میں بٹ گئی ۔ اسلم بیگ نے جسٹس پارٹی بنائی جو اس کے گھر تک ہی محدود رہی ۔ ائیر مارشل اصغر خان نے تحریک استقلال بنائی جو ملکی سطع پہ کوئی پذیرائی حاصل نہ کرسکی اور آج تک کسی خاطرخواہ کامیابی کے بغیر محض آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ جنرل مشرف نے نواز لیگ میں سے ’ ق‘ لیگ بنوائی اور اس پہ قبضے کے خواب لے کر ہی ملک سے بھاگ نکلے اور اب مُش لیگ بنا ڈالی ، جس کی کامیابی کے امکانات کچھ یوں نظر آتے ہیں:
وطنِ عزیز پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنی کامیابی کے لئے ہمیشہ امریکہ کی طرف ہی دیکھتی آئی ہیں ۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف اور ان کی لابی کا یہ خیال ہے کہ امریکہ انہیں اقتدار میں واپس لائے گا ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ امریکہ نے جنرل صاحب کو کوئی ایسے اشارے دئیے ہوں ، جن کی بنا پہ آپ نے بڑی پھرتی سی لندن میں بیٹھ کر ہی مُش لیگ کا اعلان کر ڈالا ، جس کی ایک وجہ تو عوامی رائے عامہ کا اندازہ لگانا جبکہ دوسری ، جسے میں اہم سمجھتا ہوں ، نواز شریف کو جنرل مشرف کا بھوت دکھا کر دبائو میں لاتے ہوئے اپنی شرائط پہ سودا بازی کرنا مقصود ہو ۔
جنرل صاحب نے ایک طرف تو امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے پتے اسی طور کھیلنے شروع کر دئیے ہیں جو کبھی مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا انداز تھا ۔ یعنی کبھی طالبان فیکٹر کو ایکسپلائیٹ کرتے ہوئے نواز شریف پہ تنقید اور ان کے طالبان سے رابطے ظاہر کرنا ، کبھی ڈاکٹر قدیر کے کردار پہ حملے جسے اپنے آقائوں پہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہو کہ ان کے آنے سے ڈاکٹر صاحب تک رسائی ممکن ہو سکے گی اور کبھی امریکہ اور یورپ ( نیٹو ) کو یہ شہہ ، کہ افغانستان کی جنگ جیتے بغیر وہاں سے فوجیں واپس بلانا مغرب کی بدترین غلطی ہو گی کیونکہ اسطرح شدت پسندی نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ ممکنہ طور پر یورپ اور امریکہ تک پھیل جائی گی ، دے کر اپنا امیج بڑھانا کہ ان سے بہتر خطے میں ان کا کوئی دوسرا وفادار نہیں ۔
امریکہ کی سپورٹ کے حصول کے لئے آپ نے ، ملکی وقار کو دائو پہ لگاتے ہوئے ، انڈیا کی خوشنودی حاصل کرنے کو بھی ہاتھ پائوں مارنے شروع کردئیے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ایک جرمن میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں آپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو فوجی تربیت دی تاکہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہو سکیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستانی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کی ان سرگرمیوں کو نظر انداز کیے رکھا تاکہ انڈیا کو کشمیر پر مذاکرات کے لئے مجبور کیا جاسکے ۔ انڈیا ہمیشہ جنرل مشرف کو پسندیدہ سمجھتا رہا ہے کیونکہ انڈیا کو جتنی رعائیتیں جنرل صاحب کی بادشاہت میں ملیں وہ پہلے کبھی اسکے خوابوں میں بھی نہیں تھیں ، حتاکہ یہ بات بھی ریکارڈ پہ ہے کہ موجودہ صدر زرداری کو محبوبہ مفتی نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں ملاقات کرکے یہ ’ قیمتی ‘ مشورہ دیا تھا کہ انہیں جنرل مشرف کی کشمیر پالیسی کو جاری رکھنا چائیے۔
اس کے علاوہ آپ نے فوج کی ہمدردیاں حاصل کرنے کو بھی فوج کے حکومت میں رول کو اہمیت دی ہے اور مزید برآں کسی نئے فوجی انقلاب کی گھنٹی بجا کر فوج اور حکومت کے درمیان غلط فہمیاں اور خلیج پیدا کرنے کی کوشش کے علاوہ اپنی اہمیت بڑھانے اور یہ تاثر دینے کی سعی کی ہے کہ ابھی فوج میں ان کے خیرخواہ موجود ہیں ۔
کھیلے جانے شطرنج کے ان پتوں کی روشنی میں مُش لیگ کا مستقبل ، جنرل مُش بذاتِ خود ہیں ۔ لہذا یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا امریکہ انہیں واپس لانے کو بیتاب ہے یا پھر امریکہ کے پاس کون سے دوسرے آپشنز ہیں ۔ جنرل صاحب کے واپس آنے کے دو راستے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ آرمی کے اندر کوئی انقلاب آئے جو جنرل کیانی کو راستے سے ہٹا کر جنرل مشرف کے کسی وفادار جنرل کو آگے لائے جو آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کرے جوکہ بالکل ناممکن بات ہے کیونکہ آرمی ڈسپلن کے اندر ایسی کسی کاروائی کا سوچنا ہی بے وقوفی ہے اور دوسری صورت میں ملک کی مختلف چھوٹی پارٹیاں مل کر ایک مضبوط اتحاد بنائیں جو جنرل صاحب کے ہاتھ بیعت کر لیں اور انہیں سربراہ مان لیں، اور یہ بھی فی الحال ناممکنات میں سے ہے ۔
امریکہ جو کہ کچی گولیاں نہیں کھیلتا وہ مریل گھوڑوں پہ کبھی جوا نہیں کھیلے گا ۔ جنرل صاحب بھلے امریکہ کی خوشنودی میں ناک رگڑتے رہیں مگر امریکہ ان پہ دست شفقت رکھنے سے پہلے ان کی ، یا دوسرے لفظوں میں ان کی مش لیگ کی ، کامیابی کے امکانات کا بغور جائزہ لے گا اور مش لیگ ، جو کہ آل پاکستان مسلم لیگ ہے ، کی کامیابی کے امکانات کے لئے بھی پورے پاکستان ، یعنی ملک کی چاروں اکائیوں ، پہ نظر دوڑانی پڑے گی ۔
جنرل صاحب کا اپنا تعلق صوبہ سندھ سے ہے لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں بڑی پارٹیاں ان کے راستے کا پتھر ہیں ۔ قوم پرست سندھی تو ویسے ہی آپ کے دشمن ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی کے حمائیتی آپ کو بے نظیر بھٹو کا قاتل سمجھتے ہوئے ہمیشہ نفرت سے دیکھیں گے۔ مسلم لیگ (ن) تو ویسے ہی دشمن ٹھہری جبکہ ایم کیو ایم آپ کو اپنی کمیونٹی میں سب سے بڑا حریف سمجھتے ہوئے آپ کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔ لہذا سندھ میں اپنی فیملی کے انتہائی قریبی لوگوں ، اور شاید پیر پگاڑا کی برائے نام مدد ، کے علاوہ آپ کو خاطر خواہ حمایت ملنا بہت مشکل ہے ۔
بلوچستان تو پہلے ہی آپ کے خون کا پیاسا ہے ۔ اکبر بگتی کا قتل اور چیف جسٹس کی معطلی اس صوبے کے عوام بھولنے والے ہر گز نہیں ۔ سو یہ صوبہ بھی آپ کے ہاتھ سے گیا ۔
پنجاب میں نواز لیگ تو پہلے ہی جان کی دشمن تھی ، اب آپ نے چوہدری برادران کو بھی اپنے دشمنوں کی صف میں کھڑا کر لیا ہے ۔ آپ کے خلاف تحریک بھی پنجاب میں ہی اٹھی ۔ ایسے میں تانگے کی چند سواریوں سے بڑھ کر آپ کے جھنڈے اٹھانے والے کوئی نہیں ہوں گے۔

اور اب آخر میں خیبر پختونخواہ ، جہان طالبان بستے ہیں ، جہاں مولانا عبدالعزیز رہتے ہیں اور جہاں اُن بے شمار بچوں ، جنھیں لال مسجد میں فاسفورس بموں سے بھون دیا گیا ، کے والدین اور اُن ان گنت قیدیوں ، جنھیں ڈالروں کے عوض گوآنٹاناموبے کیمپوں میں پہنچا دیا گیا ، کے لواحقین رہتے ہیں جو تمام کے تمام جنرل صاحب سے حساب لینے کو ایک ایک دن گن رہے ہیں ۔اب یہاں کوئی ذی عقل خود ہی مُش لیگ کی کامیابی کا اندازہ لگا سکتا ہے ۔
کسی پارٹی کی کامیابی کا دارومدار اس کی تنظیم ، ووٹ بینک ، سٹریٹ پاور اور نچلی سطع تک کی لیڈرشپ پہ ہوتا ہے جبکہ جنرل صاحب کی پارٹی ، جوکہ ابھی تک کوچوان پارٹی ہی ہے ، کے پاس ایسی تنظیم بالکل مفقود ہے جو انہیں الیکشن میں جتوانا تو درکنار ان کا ائیرپورٹ پر استقبال کرنے کے قابل بھی نہیں !
مزید برآں ، مُش لیگ کی کامیابی کے امکانات کو جنرل صاحب کے اپنے مستقبل کے ساتھ بھی پرکھنا پڑے گا کہ جنھیں :1

۔ ملک واپسی کی صورت میں قانونی خطرات اورمقدمات کاسامنا ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ ان کے3 نومبر2007ء کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے اقدام اور قومی مصالحتی آرڈی ننس این آر او کو خلاف قانون اورآئین کے منافی قرار دے کر کالعدم قرار دے چکی ہے ۔
2۔ انہیں ملکی آئین توڑنے پہ غداری کے مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہےم
۔
3۔ لال مسجد آپریشن اور بے گناہوں کا خون کرنے کے مقدمات کا بھی امکان ہے ۔
4۔ نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاکت کا مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے ۔
ان تمام عوامل کی روشنی میں اگر جنرل صاحب خود یا ان کا کوئی اور حمائیتی یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ ، جسے اپنے ایجینڈے پہ عمل کرانے کو ایک سے بڑھ کے ایک وفادار مل سکتا ہے تو ایسے میں وہ ایک ، ایسی ’ کوچوان پارٹی ‘ یا ایسے مردہ گھوڑے پہ جوا کھیلے گا تو وہ محض احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ لہذا ان تمام عوامل کی روشنی میں مش لیگ کا مستقبل بھی ماضی کی باقی تمام جرنیلی پارٹیوں سے کچھ مختلف نہیں ہوگا۔