کراچی کی سڑکیں خون میں رنگی اپنے رنگ بدل رہی ہے ۔۔۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ لوگ آج کل کینسر اور ہارٹ اٹیک سے نہیں مرتے بلکہ ان کی مزاج پرسی کرنے والے آتے جاتے رستوں میں مر رہے ہیں ۔۔ اب وہ زمانے گئے جب لوگ بوڑھے ہوتے ہی جائے نماز سنبھال کر اللہ اللہ کرتے تھے اور سوچتے تھے کہ آج یاکل ہماری باری ہے اور جوان نسل سینہ تانے اللہ اور موت دونوں سے دور بدمست ہاتھی کی طرح دنیا کو فتح کرنے کے خواب سجائے رات گئے تک سڑکوں پر بے مقصد پھرا کرتے تھے ۔۔۔
لیکن آج کل موت صرف جوانوں کے تعاقب میں بدمست ہاتھی کی طرح روز انہیں کا تعاقب کرتی ہے اور بوڑھوں کی گود میں جوان لاشیں گرا کر ہنستی بل کھاتی پھر اپنے نئے شکار پر چل پڑتی ہے ۔۔۔ مساجد ۔۔ پر رونق مقامات ۔۔ سکول ۔۔ موت کی پسندیدہ جگہیں ہیں اور شیطان سے دوستی اسے محبوب ہوئی ہے ۔۔ روز ایک لسٹ لے کر قریہ قریہ گھومتی ہے اور اپنا کام کر کے واپس ان کے سامنے دم ہلاتی ہوئی ایک نئی لسٹ لے کر شہر بھر میں پھیل جاتی ہے ۔۔۔
ہر طرف موت کا سناٹا بڑھ رہا ہے ۔۔ سکوت میں بھی بہت شور ہے ۔۔ ہر طرف ایک عجیب سی چیخ و پکار ہے ۔۔ خوف کی کوئی زبان نہیں ہوتی بس ایک احساس کی صورت ساری زندگی کو نگل جاتا ہے ۔۔ آہ فغاں دل میں ناسور اور آنسو روحوں میں شگاف ڈال دیتے ہیں ۔۔۔ زندہ ہوتے ہوئے بھی جیا نہیں جاتا ۔۔
کرفیو کا سناٹا کراچی کی سڑکوں پر پھیل رہا ہے ۔۔۔ اور دشمنوں نے اپنی پسند کے لوگوں کی ایک لمبی لسٹ نکال لی ہے اور انہیں پولیس اور ریجنرز کی سرپرستی میں مارنے کے لئے موت کو بھاری رشوت بھی دے دی ہے ۔۔ ۔۔ زندگی گھبرائی گھبرائی یہاں وہاں چھپتی پھر رہی ہے ۔۔۔آخر موت نے اسے روک ہی لیا ۔۔ کونسا پہر تھا یاد نہیں ۔۔ ہاں دن بیس اکتوبر کا تھا ۔۔ اور سال دوہزار دس کا ۔۔۔
موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ ۔۔ اوہ ۔۔ میرے خدا ۔۔ زندگی نے گھبر اکر موت سے پوچھا کہ تم کیوں میری دشمن ہوئی ہو ۔۔ موت نے ایک ادا سے لہرا کر مسکراتے ہوئے کہا ۔۔ جو خود اپنا دشمن ہو اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت ۔۔ تیری دنیا کی اوقات ایک مکھی کے پر سے بھی کم تر ہے ۔۔ اور اس حقیر دنیا میں زندہ تو “ زندہ لوگ “ رہتے ہیں ۔۔ تم جن سینوں میں سانس بن کر جیتی ہو وہ توبزدل ہیں ۔۔ مرے ہوئے لوگ جن کے جسم خوف سے گل سڑ رہے ہیں اور ان کی روحیں قید ہیں ۔۔ جن میں قوت پرواز نہیں ۔۔ انہیں اپنے پرائے کی پہنچان ہی کب ہے ۔۔ انہیں تو زندگی اور موت تک میں تمیز نہیں ۔۔۔
زندگی ! تم کان کھول کر سن لو ۔۔ بزدل ۔۔۔ بےبس ۔۔۔ بھکاری قوموں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔۔ تم لوگ جب جب اپنے منصب کو بھولو گے تب تب میں تمہیں تمہارے ہی دشمنوں کے ساتھ مل کر اسی بے دردی سے مارتی رہونگی ۔۔۔
ہاں ۔۔ بچنے کی ایک صورت ہے زندگی ۔۔۔ جاؤ کہہ دو ۔۔ ان مردہ روحوں سے جو تماش بینی کے لئے تو سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں لیکن ظلم کے خلاف ۔۔ اپنے حق کے لئے ایک ساتھ تو دور کی بات چند لوگ بھی مل کر آواز نہیں اٹھاتے ۔۔۔ جاؤ ان سے کہہ دو کہ موت سے بچنے کی ایک صورت ہے کہ ۔۔ ؟
زندگی نے گھبر اکو موت کو دیکھا ۔۔ جس کی آنکھوں میں نخوت اور آواز میں دھمک تھی ۔۔ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ان بزدل لوگوں سے کہو کہ آج اپنی منافقت کا اقرار کر لیں ۔۔
موت کی آواز میں قہر کی گونج تھی ۔۔ وہ گرج رہی تھی ۔۔
| اے مردہ لوگو آج کہہ دو کہ تم جس
کو زبانی کلامی خدا کہتے ہو اسے اپنا رازق اور مالک نہیں مانتے ۔۔۔ جس
رسول کو تم رحمت العالمیں کہتے ہو ۔۔ جو جہل کی موت بن کر آیا ۔۔مان لو اور
کہو کہ تم اس رسول کے وارث نہیں بن سکے ۔۔ جس مولا علی کا ترانہ تم
فخر سے سناتے ہو ۔۔ اقرار کر لو کہ تم اس رستے پر کبھی چلے ہی نہیں ۔۔ جس
حسین اور کربلا کی یاد تم مناتے ہو ۔۔ سچ بتاؤں تمہیں زندگی ۔۔۔۔جن
مسلمانوں کے سینے میں تم سانس بن کر دھڑکتی ہو وہ اس اسلام کے وارث ۔۔ اس
حسین کے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔ |
بھلا بزدل کب کسی کے وارث ہوئے ہیں ۔۔۔ سو تم سب کو مرنا ہی ہو گا ۔۔۔باری باری یومیہ بیس ۔۔ موت کا رقص شروع ہو چکا تھا ۔۔ اور زندگی بس ایک تماشائی رہ گئی تھی ۔۔