16.10.2026, 07:05am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ ۔از؛ ڈاکڑنگہت نسیم
21.10.2010, 01:30am , جعمرات (GMT+1)

ڈاکڑنگہت نسیم ۔سڈنی
کراچی کی سڑکیں خون میں رنگی اپنے رنگ بدل رہی ہے ۔۔۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ لوگ آج کل کینسر اور ہارٹ اٹیک سے نہیں مرتے بلکہ ان کی مزاج پرسی کرنے والے آتے جاتے رستوں میں مر رہے ہیں ۔۔ اب وہ زمانے گئے جب لوگ بوڑھے ہوتے ہی  جائے نماز سنبھال کر اللہ اللہ کرتے تھے اور سوچتے تھے کہ آج یاکل ہماری باری ہے اور جوان نسل سینہ تانے اللہ اور موت دونوں سے دور بدمست ہاتھی کی طرح دنیا کو فتح کرنے کے خواب سجائے رات گئے تک سڑکوں پر بے مقصد پھرا کرتے تھے ۔۔۔

لیکن آج کل موت صرف جوانوں کے تعاقب میں بدمست ہاتھی کی طرح روز انہیں کا تعاقب کرتی ہے اور بوڑھوں کی گود میں جوان لاشیں گرا کر ہنستی بل کھاتی پھر اپنے نئے شکار پر چل پڑتی ہے ۔۔۔ مساجد ۔۔ پر رونق مقامات ۔۔ سکول  ۔۔ موت کی پسندیدہ جگہیں ہیں اور شیطان سے دوستی اسے محبوب ہوئی ہے ۔۔ روز ایک لسٹ لے کر قریہ قریہ گھومتی ہے اور اپنا کام کر کے واپس ان کے سامنے دم ہلاتی ہوئی ایک نئی لسٹ لے کر شہر بھر میں پھیل جاتی ہے ۔۔۔

ہر طرف  موت کا سناٹا بڑھ رہا ہے ۔۔ سکوت میں بھی بہت شور ہے ۔۔ ہر طرف ایک عجیب سی چیخ و پکار ہے ۔۔ خوف کی کوئی زبان نہیں ہوتی بس ایک احساس  کی صورت ساری زندگی کو نگل جاتا ہے ۔۔ آہ فغاں دل میں ناسور  اور آنسو روحوں میں شگاف ڈال دیتے  ہیں  ۔۔۔ زندہ ہوتے ہوئے  بھی جیا نہیں جاتا ۔۔

کرفیو کا سناٹا کراچی کی سڑکوں پر پھیل رہا ہے ۔۔۔ اور دشمنوں نے اپنی پسند کے لوگوں کی ایک لمبی  لسٹ نکال لی ہے اور  انہیں پولیس اور ریجنرز کی سرپرستی میں مارنے کے لئے موت کو بھاری رشوت بھی دے دی ہے  ۔۔ ۔۔ زندگی گھبرائی گھبرائی یہاں وہاں چھپتی پھر رہی ہے ۔۔۔آخر موت نے اسے روک ہی لیا ۔۔ کونسا پہر تھا یاد نہیں ۔۔ ہاں دن بیس اکتوبر کا تھا ۔۔ اور سال دوہزار دس کا ۔۔۔ موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ  ۔۔  اوہ ۔۔ میرے خدا ۔۔

زندگی  نے گھبر اکر موت سے پوچھا کہ تم کیوں میری دشمن  ہوئی ہو ۔۔ موت نے ایک ادا سے لہرا کر مسکراتے ہوئے  کہا ۔۔ جو خود اپنا دشمن ہو اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت ۔۔ تیری دنیا کی اوقات ایک مکھی کے پر سے بھی کم تر ہے  ۔۔ اور اس حقیر دنیا میں  زندہ تو “ زندہ لوگ “  رہتے ہیں ۔۔ تم جن سینوں میں  سانس بن کر جیتی ہو وہ توبزدل ہیں ۔۔ مرے ہوئے لوگ جن کے جسم خوف سے گل سڑ رہے ہیں اور ان کی روحیں قید ہیں ۔۔ جن میں قوت  پرواز نہیں ۔۔ انہیں اپنے پرائے کی پہنچان ہی کب ہے ۔۔ انہیں تو زندگی اور موت تک میں  تمیز نہیں ۔۔۔

 زندگی ! تم کان کھول کر سن لو  ۔۔ بزدل ۔۔۔ بےبس ۔۔۔ بھکاری  قوموں  کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔۔ تم لوگ جب جب اپنے منصب کو بھولو گے تب تب میں تمہیں تمہارے ہی دشمنوں کے ساتھ مل کر اسی بے دردی سے مارتی رہونگی  ۔۔۔

ہاں ۔۔ بچنے کی ایک صورت ہے زندگی ۔۔۔ جاؤ  کہہ دو ۔۔ ان مردہ روحوں سے جو تماش بینی کے لئے تو سینکڑوں کی تعداد میں جمع  ہو جاتے ہیں  لیکن  ظلم کے خلاف ۔۔ اپنے حق کے لئے ایک ساتھ  تو دور کی بات چند لوگ بھی  مل کر آواز نہیں  اٹھاتے ۔۔۔ جاؤ ان سے کہہ دو کہ موت سے بچنے کی ایک صورت ہے کہ ۔۔ ؟

زندگی نے گھبر اکو موت کو دیکھا ۔۔ جس کی آنکھوں میں نخوت اور آواز میں دھمک تھی ۔۔ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ان بزدل لوگوں سے کہو کہ آج اپنی منافقت کا اقرار کر لیں ۔۔

 موت کی آواز میں قہر کی گونج تھی ۔۔ وہ گرج رہی تھی  ۔۔

  اے مردہ لوگو  آج کہہ دو کہ تم جس کو زبانی کلامی  خدا کہتے  ہو اسے اپنا رازق اور مالک نہیں مانتے ۔۔۔ جس رسول کو تم رحمت العالمیں کہتے ہو ۔۔ جو جہل کی موت بن کر آیا ۔۔مان لو اور کہو  کہ تم اس رسول کے  وارث نہیں بن سکے   ۔۔ جس مولا علی کا ترانہ تم فخر سے سناتے ہو ۔۔ اقرار کر لو کہ تم اس رستے پر کبھی چلے ہی  نہیں ۔۔ جس حسین اور کربلا کی یاد تم مناتے ہو ۔۔ سچ بتاؤں  تمہیں زندگی ۔۔۔۔جن مسلمانوں کے سینے میں تم سانس بن کر دھڑکتی ہو وہ  اس اسلام کے وارث ۔۔  اس حسین کے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔


بھلا بزدل کب کسی کے وارث ہوئے ہیں ۔۔۔ سو تم سب کو مرنا ہی ہو گا ۔۔۔باری باری یومیہ بیس ۔۔  

موت کا رقص شروع ہو چکا تھا ۔۔ اور زندگی بس ایک تماشائی  رہ گئی تھی ۔۔ 

:دیگر مضامین
(21.08.2010) اپنے بھائی عاصم نسیم کے خط کے جواب میں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.08.2010) اے اسیرانِ قفس منہہ میں زباں ہے کہ نہیں۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.07.2010) اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
(07.06.2010) بات نکلے گی پھر تو دور تلک جائے گی“نگہت نسیم۔سڈنی””
(02.06.2010)  امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
(18.04.2010) یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.04.2010) جب مفادات ایک ہوں تو ۔۔۔؟ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.03.2010) یا نبی کہتی تھی ماں فجر میں ۔از۔ نگہت نسیم
(05.03.2010) پولیس کا ہے فرض مرمت آپ کی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2010) خلقت شہر نے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(05.02.2010) زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.11.2009) خون آشام وادیوں میں زیتون کے پھل ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں