گزشتہ برس عالمی اخبار کی

پہلی سالگرہ پر ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ عالمی اخبار کی دوسری سالگرہ پر ‘‘مصطفیٰ علی ہمدانی ایوارڈ‘‘ کا اجراء کیا جائے گا ۔شکر ہے پروردگار کا کہ ہمارا یہ وعدہ بھی ایفا ہو رہا ہے اور یہ پہلا ایوارڈ اس بار وینکور میں مقیم عالمی اخبار کے معاون مدیر اعلیٰ محترم ڈاکٹر شمس جیلانی بھائی کو متفقہ فیصلے کے بعد ان کی بے لوث خدمات پر یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے جو انکی عالمی اخبار سے پہلے روز سے انسیت اور تعلق کے علاوہ اردو زبان و ادب سے انکی خاص محبت ہے ۔
یہ ایوارڈ انہیں ان کی دینی ، ادبی ، سماجی اور صحافتی خدمات پر دیا جا رہا ہے ۔ شمس بھائی اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود بلاگ میں ایک ذمیداری سمجھ کر شریک ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں عالمی اخبار کو متعارف کروانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔
عالمی اخبار کے لئے ان کے لکھے ہوئے دو طویل سلسلے “حضرت علی ابن طالب کی سوانح حیات اور بنت رسول سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ‘ کی سوانح حیات دنیا بھر میں عالمی اخبار کے قارئین میں بہت مقبول رہے ۔
ڈاکٹر شمس جیلانی کو ذاتی طور پر میری طرف سے،نائب مدیر اعلیٰ ڈاکٹر نگہت نسیم کی طرف سے،عالمی اخبار کے ادارتی عملے اور تمام قلم کاروں اور قارئین کی طرف سے بہت بہت مبارک ۔ مصطفیٰ علی ھمدانی پاکستان کی نشریاتی تاریخ کا باب اول ہیں جنہوں نے تیرہ اور چودہ اگست سنتالیس کی درمیانی رات کو پہلی بار شب بارہ بجے پاکستان بننے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کے بہت سے اہم اعلانات انکے حصے میں آئے جن میں آل انڈیا ریڈیو کا آخری اعلان اور بابائے قوم قائد اعظم کی وفات کا اعلان اہم ترین ہیں۔ وہ فارسی اور عربی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور اردو کے علاوہ فارسی میں شاعری کرتے تھے۔اس ایوارڈ کی تیاری کے لیئے ہم سب برلین میں مقیم عالمی اخبار کے گرافکس انچارج عالی جناب
عبدالمناف غلزئی کے ممنون ہیں اور یہ ایوارڈ بذریعہ ڈاک ڈاکٹر شمس جیلانی کو وینکور روانہ کیا جا رہا ہے۔ کاش عالمی اخبار کی کوئی مالی حیثیت ہوتی تو ہم اس ایوارڈ کے ساتھ کچھ زر نقد بھی پیش کر سکتے۔