انیسویں قسط کا اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں حیران اور کچھ کچھ پریشان سا ہو گیا کہ جس شخص سے میری قطعا” شناسائی نہیں، وہ میرا منتظر کاہے کو ? مگر جب اس اجنبی شخص نے اپنا مدعا بیان کیا تو نہ صرف میری حیرانی کافور ہوگئی، بلکہ میری پریشانی بھی خوشی میں ڈھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں تھا کہ صبح جب آغا سروری صاحب سے ملاقات میں انہوں نے اپنی خدمات کی پیشکش کی تھی تو میں نے بھی تکلف کو برطرف رکھتے ہوئے ان سے کسی دن نیشاپور جانے کے لئے کرائے کی گاڑی کا بندوبست کرنے کی درخواست کی تھی۔ دفتر سے میرے نکل جانے کے بعد سروری صاحب نے اس کام کی ذمہ داری مینیجر محمد صاحب کو سونپ دی اور محمد صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔ کیسے? وہ ایسے کہ جیسے ہی ہم مہمان خانے میں داخل ہوئے، انہوں نے ہمیں دھر لیا اور ہماری معلومات مین اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کرائے کی گاڑی کر کے نیشاپور جائیں گے تو یہ ایک انتہائی بیش قیمت سفر بن جائیگا اور اگر کسی گروہ یا قافلے کے ہمراہ جائیں گے تو زیارات بھی باآسانی ہو جائیں گی اور جیب پر بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔ 
اگر آپ کسی گروہ میں ضم ہو کرجانا چاہیں تو کل صبح اسی مہمان خانے میں مقیم (اردو بولنے والے) زائرین کی ایک چھوٹی بس نیشاپور جا رہی ہے اور اس میں صرف دو نشستوں کی مزید گنجائش ہے۔ اگر آپ کو منظور ہو تو آپکے نام لکھ کر فہرست کا باب بند کردوں اور باقی کی انتظامی کاروائی کروں۔ میں نے بلا توقف جواب دیا کہ نیکی اور پوچھ پوچھ! ہمارے خیال میں نیشاپور کی زیارات کا اس سے اچھا موقع ہمیں شاید میسر نہیں آسکتا تھا۔ کیونکہ اتنا لمبا سفر اکیلے کرنا اور زبان کی نابلدی اس سفر کے لطف کو کرکرا کرنے کے لئے کافی تھی۔
محمد صاحب کے ساتھ ضروری معلومات کا تبادلہ اور کاغذی کاروائی کے بعد جب ہم اپنے کمرے کی جانب چلے تو میری خوشی کا عالم دوچند ہو چکا تھا۔ نیشاپور جانے کے جوش نے ساری تھکن کو ہوا میں اڑادیا تھا۔ ہم دونوں اللہ تعالٰی کا شکر اور اپنے کریم اور مشکل کشا آقا (ع) کا ایک اور انعام عطا کرنے پر شکریہ ادا کرتے رہے۔ بظاہر اچانک سے تشکیل پا جانے والا یہ پروگرام دراصل ایک اچانک پروگرام نہ تھا۔ یہ بھی عالمِ بالا کا ایک منظم منصوبہ تھا جسکو امام رضا (ع) کی مکمل تائید حاصل تھی۔ ہم چونکہ مہمانِ امام تھے، تو امام نے اپنی مہمان نوازی کی انتہا کردی تھی اور ہمیں ایک لمحے کے لئے بھی کسی مشکل یا الجھن کا شکار نہیں ہونے دیا۔ نئے دیار سے بالکل ناواقف زائرین کے لئے نیشاپور کی زیارات بھی ضروری اور اس پر مشہد تا نیشاپور سفر بھی ایک مشکل مرحلہ۔ مگر میں صدقے جاوءں اپنے میزبان کی میزبانی کے۔ میں آج بھی اس انوکھے سفر اور اہتمامِ سفر پر حیرت زدہ ہوتا ہوں اور اپنے امام کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
وہ رات بھی کیا عجیب رات تھی۔ سردی اپنے عروج پر اور میں گرمیء جوش میں تا دیر چھت کو تکتا رہا اور اپنے خیالات میں صبح کا سفر کرتا رہا۔ ذہن میں عجیب و غریب مگر روحانیت اور پاکیزگی سے بھرپور خیالات آتے رہے۔ میں دیگر ساتھی مسافران کے ساتھ بس میں بیٹھا کبھی اس موڑ سے گزرتا، کبھی اس سڑک پر چلتا۔ اسی طرح سیدھا چلتے چلتے اور موڑ کاٹتے کاٹتے میں نیند کی آغوش میں جا گرا اور رات بھر یہی مقدس سفر کرتا رہا۔
صبح نیشاپور جانے کی خوشی میں آنکھ خود بخود کھل گئی۔ ہم نماز سے فارغ ہو کر، مغسول ہوکر اور نئے لباس زیب تن کرکے تیار ہو گئے۔ چائے پی کر نیچے استقبالئے پر آکر بیٹھ گئے۔ ہم سے پہلے بھی چند ساتھی موجود تھے اور آہستہ آہستہ باقی احباب بھی آنا شروع ہو گئے۔ یہاں ہماری اپنے ہمسفروں سے باقاعدہ ملاقات ہوئی۔ اس گروہ میں ہمارے علاوہ عاشق علی صاحب اور انکی اہلیہ فرینکفرٹ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ انہی کے ساتھ انکی ہمسایہ بتول باجی بھی تھیں۔ مصطفی صاحب جدہ سے جبکہ انکی اہلیہ لکھنئو سے آئی ہوئی تھیں۔ چوتھی فیملی راشد علی صاحب کی تھی جو لاہور سے تشریف لائے ہوئے تھے اور ہمارے میرِ کارواں بھی تھے۔ راشد صاحب ویسے تو لاہور کے رہائشی ہیں مگر اپنے درجن بھر اہلخانہ کے ساتھ سال کا زیادہ تر وقت زیارات کے سفر میں گزارتے ہیں۔ اسی لئے فارسی زبان اور زیارات کے مقامات سے ایسے آشنا ہیں، جیسے میں پنجابی اور آبپارہ کی دکانوں سے۔ چنانچہ محمد صاحب نے بس کا انتظام کرکے اس کاروان کو راشد علی صاحب کے حوالے کیا اور ہم صبح آٹھ بجے اپنی زندگی کے ایک اور سفرِ ظفر پر روانہ ہو گئے۔ مہمان خانے کے داخلی صحن میں ہم سب اکٹھے ہوئے اور افراد اور سامان کی گنتی کرکے عملے سے رخصت ہوئے۔ ہماری بس باہر کی سڑک پر تیار کھڑی تھی، سو ہم قطار بنا کر گلیوں سے گزرتے ہوئے بس کی جانب چل پڑے۔
درحقیقت تو یہ ایک روحانی سفر تھا مگر یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ہم پکنک پر جارہے ہوں۔ مجھے اپنا بچپن یاد آنے لگا جب کہیں سیر پر جانے کا پروگرام بنتا تھا تو رات پھر نیند نہیں اتی تھی اور سویرے ہی تیار ہو کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ بچپن ہی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ہم نے گلی کی دکانوں سے اشیائے خوردونوش بھی خرید لیں جن میں چپس، بوتلیں، ٹافیاں اور اسی قسم کی دیگر اشیا شامل تھیں، جنکو ہم راستے میں ایک دوسرے سے بانٹ کر لطف اندوز ہوتے رہے۔ انہی گلیوں کو عبور کرکے جب ہم بڑی سڑک پر آگئے تو روضہءمنورہ نے ایک نئے اور جدا رنگ میں ہمارا استقبال کیا۔ کیا خوبصورت اور باوقار انداز ہے اس روضے کی جاذبیت کا۔ اس اندازِ جاذبیت پر میں قربان جاءوں۔ میں نے بس میں سوار ہونے سے قبل امام (ع) پر متبائن درود و سلام کیا اور زیارت کے ساتھ دعائے سفر پڑھ کر اپنے آقا سے رخصت چاہی۔ ڈرائور صاحب نے بھی باآواز بلند دعائے سفر تلاوت کی اور ایک نعرہء صلوات کے ساتھ میری زندگی کے ایک اور روحانی سفر کا آغاز ہوا۔
میں کھڑکی کے واسطے روضہءاقدس سے روحانی و بصری رابطہ استوار کئےہوئے تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ عظیم الشان گنبد اور عالی مرتبت مینار مجھ سے محوِ گفتگو ہیں اور میں انکی روحانیت میں جذب ہو چکا ہوں۔ جب سڑک کا سرا نزدیک آیا تو روضہء منورہ نے ہم سبکو امام ضامن (ع) کی ضمانت میں لے کر مولا کی قدم بوسی کرنے ینشاپور کی ارض مقدس کی جانب خداحافظ کہہ دیا۔ وہ لمحاتِ فراق بہت کرب دہ تھے، جب ہم روضہ ء اطہر کی جانب جانے کی بجائے، اس سے دور ہوتے جارہے تھے۔ مگر ساتھ ہی نیشاپور کی جانب پیش قدمی نے دل کو دوبارہ سے پرجوش کردیا۔
نیشاپور، مشہد سے کم وبیش 85 کلو میٹر کے فاصلے پر بینالود کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک خوبصورت اور سرسبزوشاداب شہر ہے۔ اسکا نام اسکے بانی، ساسانی بادشاہ شاہ پور اول کے نام سے موسوم ہے، جس نے اسے تیسری صدی عیسوی میں بسانے کا آغاز کیا۔ اس شہر کی ہمیشہ سے ایک تاریخی حیثیت رہی ہے۔ شاہراہ ریشم پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ شہر ایران کو وسط ایشیائی ریاستوں سے ملاتا ہے۔ اولا” یہ شہر صوبہ رضوی خراسان میں خاصی اہمیت کا حامل تھا مگر وقت کے نشیب و فراز اسکی اہمیت میں بھی کمی اور زیادتی کا باعث بنتے رہے۔ نویں صدی میں اس شہر کو اس وقت خاصی شہرت حاصل ہوئی، جب طاہری سلطنت کے دور میں یہاں کی چینی مٹی (سرامکس) کی مصنوعات کو مغربی منڈیوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔
اس دور میں یہ شہر بغداد اور قاہرہ کا حریف بن گیا۔ 1037ع میں سلطنت سلجوق کے پہلے فرمانروا سلطان طغرل نے اس شہر کو اپنا دارالخلافہ اور مسکن قرار دیا تو اسکی حیثییت میں اضافہ ہو گیا مگر سلجوقوں کا جھکاءو مغرب کی جانب ہونے کے باعث یہ دوام پائیدار ثابت نہ ہو سکا۔ تاریخ کی ورق گردانی سے پتا چلتا ہے کہ سن ایک ہزار ع میں نیشاپور دنیا کے دس بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔بادشاہ ، ملکہ، شہزادہ اور شہزادی، انسانی قبیل کی وہ عجیب و غریب اصناف ہیں جو کہیں تو اتنے طاقتور ہیں کہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ملکوں تو کجا، بر اعظموں پر حکومت کرتے ہیں۔ اور کہیں اتنے نازک طبع ہو جاتے ہیں زرا سی ٹھیس انکو دیوانہ کردیتی ہے۔ درد کی اس ٹیس کا مداوا کرنے میں یہ اسی طاقت کا ایسا استعمال کرتے ہیں جسکی گونج صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ طاقت کا ایسا ہی استعمال 1221ع میں نیشاپور کی اسی سرزمین نے سہا جب چنگیز خان کا داماد یہاں ایک جنگ میں مارا گیا۔
اپنے سرتاج کی ہلاکت کا درد شہزادی کے دل میں آگ کے ایک الاؤ کی مانند جل اٹھا۔ اسی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے شہزادی نے اپنی فوجوں کو قتل عام کا حکم دیا۔ شہزادی کی بدلے کی آگ کی پاداش میں اس شہر کا ایک بھی ذی روح زندہ نہ چھوڑا گیا اور کم و بیش سترہ لاکھ انسانی کھوپڑیوں کے مینار خون کے تالابوں میں جابجا اس شہر کی گلیوں اور کوچوں میں کھڑے کر دئے گئے.
اتفاقا” کوئی قصر تاریک تھا
انتقاما” کئی گھر جلائے گئے
خدا جانے کہ شہزادی کے دماغ پر براجمان کالی ماتا کے من کی اگنی کو خون کے یہ دریا اور ہڈیوں کے یہ ہار بجھا پائے ہوں گے یا نہیں، مگر اس خونخوار شہزادی کی بارگاہِ رب العزت میں پیشی کا تصور کرکے میرا دل کانپ اٹھتا ہے۔
جہاں خون کے پیاسے اس شہر کو خاک و خون میں غلطاں کرکے بھی اسکے مکین رہے، وہیں اپنے عدل و انصاف کی شہرت رکھنے والے بادشاہ نوشیروان کی والدہ کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ صرف جنگ و جدل اور فساد و قتال ہی اس شہر کا مقدر نہ تھا۔ وہ وقت بھی آیا جب یہ شہر علم و فن کا گہوارہ تصور کیا جانے لگا۔ نیشاپور تاریخ کی متعدد ادبی اور ثقافتی شخصیات کا مسکن رہا ہے۔ مشہور ریاضی دان اور رباعی کے لفظ سے ہی زہن میں آجانیوالی شخصیت عمر خیام کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ اسکے علاوہ مشہور شاعرِ اہلبیت جناب فرید الدین عطار اور ایران کے معروف مصور جناب کمال الملک بھی اسی شہر کے فرزند تھے۔ اسکے علاوہ بھی سینکڑوں معروف شخصیات کو اسی شہر سے وابستگی کا اعزاز حاصل ہے۔ مثلا”
۔ صحیح بخاری کے بعد احادیث کے سب سے صحیح مجموعے، صحیح مسلم کے موءلف جناب حجاج بن مسلم۔
۔ امام الحکیم ۔ ایک اور محدث اور علمی شخصیت۔
۔ حیدر یغما ۔ ایک ناخواندہ شاعر تھے جنکا مجموعہء کلام شائع بھی ہوا۔
۔ فارسی کے عظیم شاعر، ادیب، نقاد اور مدرس جناب پروفیسر محمد رضا شافعی۔
۔ استاد پرویز مشکاتیان جو کہ موسیقی کے ایک عظیم محقق تھے اور سنطور بجانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
۔ جناب سعادت خان، جنہیں وکیلِ مطلق اوربرہان الملک بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے اٹھارویں صدی میں اودھ، ہندوستان (لکھنوء) میں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
ازمنہء قدیم میں نیشاپور آتش پرستوں کی ایک چھوٹی سی بستی ہوا کرتا تھا۔ ایک بزرگ عورت ان لوگوں کی روحانی پیشوا تھی جس نے ایک پہاڑی کی چوٹی پر آگ کا ایک الاءو روشن کیا ہوا تھا۔ یہ آگ ہمہ وقت روشن رہتی تھی اور اسکے بیچوں بچ ایک عریض پتھر رکھا ہوتا تھا جو اسی آگ کی تپش کے باعث خود بھی سرخ رہتا تھا۔ یہی پتھر ان پجاریوں کا خدا تھا، جسکی وہ پوجا کرتے تھے اور اسی سے اپنی مرادیں مانگتے تھے۔ ایک روز جب آسمانِ ولایت کے آفتابِ ہشتم نے اس علاقے پراپنی ضیاپاشی کی تو یہ آتشِ کفر اس نور کی تاب نہ لاسکی اور ٹھنڈی ہو گئی۔ افتخارِ توحید، امام رضا (ع) کے یہاں سے گزر نے اس آگ کو گلزار کردیا۔ امام (ع) سندِ ولایت کے ساتھ پیش قدم ہوئے اور اس پتھر پر جا کر ایستاد ہوگئے۔ پتھر آپکے احترام میں یوں پگھل گیا ، گویا پتھر نہیں موم ہو۔ اسی پتھر پر امام (ع) کے قدم ہائے مبارک تا صبحِ قیامت ثبت ہوگئے۔ پجاری اپنے آتشکدے میں یہ اعجازِ امامت دیکھ کر مبہوت ہوگئے اور ہادی و نجات دہندہ امام کے دستِ مبارک پر مشرف با ایمان ہوگئے۔ (اللھم صل علی محمد وآل محمد)۔ اس واقعے کے بعد دیگر اہل قریہ اور گردونواح کے لوگ بھی دائرہء اسلام میں آنا شروع ہوگئے۔ اور یوں یہ شہر عاشقانِ ولایت کا ایک عظیم مرکز بن گیا۔ یہ مقام بعد ازاں "قدم گاہ مبارک امام رضا (ع)" کے نام سے مشہور ہوگیا۔
اس پتھر کو اٹھا کر محفوظ کر لیا گیا اور شاہ سلیمان صفوی کے دور میں یہاں ایک خوبصورت ہشت پہلو عمارت، ایک گنبد کے ساتھ تعمیر کردی گئی۔ یہ مقام ایک خوبصورت اور سرسبز و شاداب باغ ہے۔ اسی عمارت میں یہ مبارک پتھر ایک دیوار میں نصب ہے اور چاندی کی ایک جالی نے اس دیوار کا احصا کیا ہوا ہے۔ یہ جالی غلامانِ امام کے جھرمٹ میں ہمہ وقت چھپی رہتی ہے۔ اسی عمارت یعنی قدم گاہ کے پہلو میں پانی کا ایک چشمہ بھی جاری ہے جسکے وجود کی داستان عاشقانِ امام کے دلوں میں عقیدت کی حدت کو مزید مہمیز کر دیتی ہے۔ اس چشمے کی حقیبت کچھ یوں ہے کہ جب یہ علاقہ مامون کی جانب سے امام رضا (ع) کی زیرِ سر پرستی دیا گیا اور امام (ع) کی یہاں تشریف آوری کی خبر پھیلی تو ہر طرف سے جانثارانِ امام یہاں جمع ہونا شروع گئے۔ امام (ع) مومنین کے جمِ غفیر میں تشریف فرما ہیں کہ نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ آقا وضو کی غرض سے اٹھے اور پانی طلب فرمایا۔ لوگوں نے جوابا” پانی کی بجائے آنسوءوں کا نذرانہ پیش کرنا شروع کردیا اور امام کو روتے ہوئے بتلایا کہ پانی یہاں ایک نایاب جنس ہے۔

کریم امام نے لوگوں کی ڈھارس بندھائی اور اعجازِ امامت سے پہاڑی کے ایک پتھر کو جو ٹھوکر لگائی تو وہ حکم ِ امام اور اذن ِ الہی سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی اگلنے لگا۔ اس آب ِ فردوس سے نہ صرف اس خطے، بلکہ دور دور کے علاقوں سے لوگوں نے سیراب ہونا شروع کیا۔ اسی پانی کی بدولت یہاں زراعت کا اغاز ہوا اور یہ بے آب وگیاہ چٹیل پہاڑی علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک سر سبز و شاداب نخلستان میں ڈھلنے لگا۔ وہ دن ہے اور آجکا دن ہے، یہ چشمہ ء فیض اسی طرح تشنگان ِ عقیدت کی جسمانی اور روحانی پیاس بجھا رہا ہے اور انشا ء اللہ تا صبح ِ قیامت بجھاتا رہیگا۔ (اللھم صل علی محمد و آل محمد)۔
دوسری روایات کے تحت جب امام (ع) نماز کے لئے قیام پذیر ہوئے تو چشمے کا پانی آپکے مبارک قدموں کے درمیان سے جاری ہوا اور پتھر پر جو آپکے پائے مبارک کے نشان ثبت پیں، وہ چشمے کا معدن ہے۔ مولا کے قدموں کے نشانات چاہے آتشکدے کے پتھر پر ثبت ہوں یا سرچشمے کے پتھر پر، یہ ایک حقیقت ہے کہ امام (ع) نے جب کفر و غربت کے اس صحرا میں اپنے مبارک قدم رنجا فرمائے تو نہ صرف اہل علاقہ کو ایمان کی دولت ملی، بلکہ وہ دنیاوی و معاشی طور پر بھی خوشحال ہو گئے۔ اسی لئے تو یہ ہستیاں درِ عطا، باب الحوائج، یداللہ اور خدا کے نمائیندہ ہیں۔ میرے ناقص خیال کے مطابق یقینا” مولا نے اس علاقے کو عطا کرنے کے لئے ہی یہاں کا سفر کیا تھا۔
تاریخ کے عروج و زوال، پیچ و خم، نشیب و فراز اور مدوجذر سے گزرتا ہوا آجکا نیشاپور کم و بیش تین لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل، اپنے صوبے کا دوسرا بڑا صنعتی مرکز ہے۔ صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کے میدان میں گندم اور کپاس کی پیدوار کے ساتھ ملکی معیشت اور ترقی میں اسکا ایک واضح حصہ ہے۔ یہی ایران کا معدنِ فیروزہ بھی ہے جو دنیا بھر کو دو ہزار سالوں سے فیروزہ مہیا کررہا ہے۔ یہ فیروزہ پوری دنیا میں اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتاہے اور اسکا رکھنے والا بڑے فخر سے اسکے نیشاپوری ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ہماری بس شہر ِ مقدس مشہد کی گلیوں اور بازاروں سے ہمیں آشنا کرتی ہوئی شاہراہ (موٹروے) پر آگئی۔ گردوپیش کے ہر لمحہ بدلتے ہوئے ماحول اور مناظر نے میرے سیاحتی مشاہدے کو خود پر مرتکز کئے رکھا۔ گلیاں، بازار، سڑکیں، دوراہے، چوراہے، شش راہے، ٹریفک، بس اسٹاپ، ریلوے لائنیں (فارسی میں راہِ آہن کہتے ہیں)، تختہ ہائے اشتہارات، عمارات، دفاتر، اسکول، اسپتال، کالج، ان مناظر میں موجود چلتے پھرتے انسان اور بہت کچھ میرے مشاہدے اور علم میں اضافہ کرتے رہے۔
پہلے پہل تو میں کھڑکی سے باہر ان نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہا مگر جب ایک سیدھی شاہراہ پر گردوپیش میں کچھ قابل مشاہدہ نہ رہا تو میں نے سیاحتی اور معلوماتی کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ بس اپنی رفتار سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی اور میں ایک بار پھر اوراق ِِکتاب کے توسط سے ماضی میں قدم رکھ کر انہی اوقات اور اسی ماحول کا حصہ بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے