
لاہور میں مقیم اردو مرثیے کی ایک قد آور شخصیت اور استاد مقام شاعر وحید الحسن ہاشمی ہفتے کے روز81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
مرحوم ہاشمی صاحب کافی عرصے سے علیل چلے آ رہے تھے اور ادبی محفلوں میں شریک ہونے سے معذور تھے۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے نے خاص طور پر مدیر اعلیٰ اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے اردو مرثیے کے لیئے ساری حیات کام کرنے والے وحیدر الحسن ہاشمی کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے اور دعا کی ہے کہ پروردگار شاعر محمد و آل محمد کو جوار معصومین میں جگہ عطا فرمائے۔

وحید الحسن ہاشمی 1930 میں جونپور بھارت میں پیدا ہوئے تھے اور وحید تخلص کرتے تھے۔انکے والد کانام مولوی سید شبیر حسن اور دادا میر انتظام علی تھے۔ میٹرک انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول جونپور سے،ایف اے،آر ایس کے ڈی انٹر کالج جونپور سے،بی اے الہ آباد یونیورسٹی سے،ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا، انکے اساتزہ میں ڈاکٹر عبداللہ،ڈاکٹر عبادت بریلوی،پروفیسر وقار عظیم،پروفیسر عابد علی عابد اور پروفیسر عباس شوستری جیسے جید افراد شامل تھے۔
مرحوم شعبہ تعلیم سے منسلک رہے اور لاہور میں وطن ہائی سکول،قزلباش حسینیہ ہائی سکول اور پاکستان ماڈل ہائی سکول میں پڑھاتے رہے۔ وہ پیام عمل،خواجگان،تنظیم الاسلام اور تہزیب الاخلاق کے اعزازی مدیر بھی تھے۔
انکی اولاد میں بیٹی شمع فاطمہ کے علاوہ چار بیٹے ہیں جن میں سے ڈاکٹر شبیہ الحسن استاد،ادیب اور محقق ہیں اور انہوں نے اپنے والد کی نگارشات اور تخلیقی کام کو سنبھالنے کے سلسلے میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔
کتناحسیں فریبِ نظر کھا رہے لوگ
دو کشتیوں میں پاؤں ہیں اور جا رہے ہیں لوگ
وحید الحسن ہاشمی کے ہم عصروں میں احسان دانش،احمد ندیم قاسمی،ڈاکٹر وحید قریشی،ڈاکٹر آغا سہیل،ڈاکٹر سہیل احمد خان،ڈاکٹر خورشید رضوی،تابش دہلوی۔ سید حسن عباس زیدی،قیصر بارہوی،شاہد نقوی،سید آل رضا اور متعدد دیگر اردو ادب کی قدآور شخصیات شامل ہیں۔
مرثیہ نگاری اگر چہ وحید الحسن ہاشمی کی شناخت بنا لیکن تنقید کے علاوہ لگ بھگ تمام اصناف سخن میں انہوں نے طبع آزمائی کی جن میں غزل،نظم،نعت،سلام،نوحہ،منقبت اورنثر نگاری شامل ہیں۔
شعور عشق دل حق شناس رکھتے ہیںبہ فیض نعت شفاعت کی آس رکھتے ہیںمرحوم وحید الحسن ہاشمی نے خود کو مختصر مرثیے کا بانی بتایا ہے اور مختصر مرثیے پر انکا تنقیدی اور تحقیقی کام ایک پوری نسل کے لیئے روشنی ثابت ہو گا۔ وہ مرثیہ نگاری میں انیس و دبیر کی روایت رثا کو تو ساتھ لے کر چلے لیکن زبان و بیان کی جدت سے بھی استفادہ کیا۔ انہوں نے تیس سے زیادہ مرثیے لکھے جن میں انکے مقبول مراثی میں ''حقیقت موت''،''قیادت''،''جوہر تقویٰ''،''قوم و قومیت''،''کربلا کربلا''،''کشمکش''،''شباب''،''پیری''،اور ''اسوہ بتول'' شامل ہیں۔
وحید الحسن ہاشمی درجن بھر سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور خود انکی متنوع ادبی زندگی کے بارے میں جن اہل قلم نے لکھا ان میں عاصی کرنالی،احمد عقیل روبی،انتظار حسین،حسن عسکری کاظمی،ڈاکٹر آغا سہیل،ڈاکٹر سلیم اختر،ڈاکٹر مسعود رضا خاکی،ڈاکٹر حسن رضوی،علی عباس سید، انکے بیٹے ڈاکٹر شبیہہ الحسن،ساحر لکھنوی،مامون ایمن،حنیف اسعدی،ڈاکٹر سجاد باقر رضوی،سحر انصاری،خیال امروہوی،ڈاکٹر سید عبداللہ،انور سدید،اختر ہاشمی،نیساں اکبر آبادی،حفیظ تائب اور متعدد دیگر اہل قلم شامل ہیں۔

انکی زندگی اور فن کے بارے میں ایک مفصل کتاب 1998 میں جناب عباس رضا نے تحریر کی تھی جو ''وحید عصر'' کے نام سے شائع ہوئی جسمیں لگ بھگ ہر رخ سے انکی ذاتی اور ادبی زندگی کا جائزہ لیا گیا۔
انکی دیگر تخلیقات میں تنقیدی جہتیں،ہل من ناصر،معصومین، چراغ صحرا،العطش،لہو،مباحثے،جدید فن مرثیہ نگاری،شعراب،یاسین،اجر رسالت،شب عاشور،الصراط اور طاہرین شامل ہیں
سوارِ دوش پیمبر کوئی دکھاؤ توحسین ابنِ علی کا جواب لاؤ تو۔۔۔بجز حسین کہیں بھی نماز واجب میںنبی کی پُشت پہ بچہ کوئی دکھاؤ تو