اکیسویں قسط کا اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں پریشانی کے عالم میں چاروں طرف چلتے پھرتے زائرین کو دیکھ کر اپنے کسی
ایک ساتھی کو بھی پہچاننے کی غرض سےتلاش کرنےلگا مگر اطراف میں کہیں بھی
میرا مقصود نظر موجود نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشانی
کی یہ کیفیت عارضی ہی رہی اور جلد ہی اطمنان میں ڈھل گئی، جب دور سے کسی
نے میرا نام پکارا۔ میں آواز کی سمت مڑا تو دور سیڑھیوں کے پیچھے سے راشد
صاحب ہاتھ ہلاتے ہوئے نظر آئے۔ میں دوڑتا ہوا ان تک پہنچا اور سیڑھیوں کی
دوسری جانب دیکھا تو وہاں تو ماحول ہی کچھ اور تھا۔ دھوپ میں سبز گھاس پر
ایک لمبی سی صف نما چٹائی بچھی ہوئی تھی جس پر تمام ساتھی اپنی اپنی سہولت
کے انداز میں بیٹھے تھے اور وسط میں ایک طویل دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ دستر
خوان کے ایک کنارے پر دو دیگچے رکھے ہوئے تھے جن میں سے راشد صاحب کی اہلیہ
کھانا پلیٹوں میں نکالنے کی ذمہ داری ادا کررہی تھیں اور ان کے بچے ان
پلیٹوں کو صف پر براجمان دیگر احباب تک پہنچانے میں مصروف تھے۔ ظہرانے کا
یہ مرحلہ میری معلومات کے مطابق ہمارے نظام العمل میں شامل نہیں تھا، سو
میں حیران تو ہوا، مگر اتنی اعلٰی ضیافت میں دعوت پا کر خوشی خوشی دستر
خوان پر بیٹھ گیا۔ بیگم راشد صاحبہ نے علی الصبح ہی اپنے خاص لاہوری انداز
میں چنے کی دال اور چنا پلاءو پکایا تھا۔ ایران میں اپنے قیام کے چوتھے ہی
روز پاکستانی طعام نے دل خوش کر دیا۔ اس وقت اس باغ کا منظرکسی پر فضا مقام
کا سا تھا جہاں کسی اور علاقے کے لوگ پکنک منانے آئے ہوں۔ اور حقیقتا” بھی
ایسا ہی تھا۔ قدمگاہ پر عموما” زائرین اور سیاح حضرات کی تعداد ہی زیادہ
ہوتی ہے۔ ہم لوگ بھی اس وقت ایسے ہی کسی خاندان کا منظر پیش کر رہے تھے۔ گو
کہ ہم سب زمین کے مختلف گوشوں سے اٹھ کر آئے تھے، مگر ایک خاندان کی صورت
میں یکجا تھے۔ ہم سب کا ایک خاندان ہونا غلط بھی نہیں۔ کیونکہ یہ محبانِ
اہلبیت کا ہی ایک خاندان تھا، جسکے افراد ظاہرا” تو دنیا کے الگ الگ گوشوں
سے متعلق تھے ، مگر سب ولایت کی ڈور کے ذریعے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے۔
یہاں سبکا مطمعءنظر بھی ایک تھا اور مقصدِ سفر بھی ایک۔ امام موسی کاظم
(ع) کے فرمانِ ذیقدر کے مطابق محبانِ اہلبیت حقیقی بھائی ہیں، چاہے انکے
والدین مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی دسترخوان پر ہم سب کو نہ صرف ایک دوسرے
کے مفصل تعارف کا موقع بھی میسر آیا بلکہ یہیں ہر اپنے ان ہمسفروں سے ایک
طویل دوستی کا بھی آغاز ہوا۔ نئے دوستوں کا مل جانا بھی امام (ع) کے
انعامات میں سے ایک تھا،جس پر میں اپنے آقا کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔
آج بھی ان دوستوں کی یاد تنہائی میں لبوں کو متبسم کردیتی ہے۔
کھانے
سے فارغ ہو کر میں تو وہیں چٹائی پر قیلولہ کرنے لیٹ گیا۔ سردی کی دھوپ
میں اس طرح قیلولے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ میری دیکھا دیکھی باقی دوست بھی
لیٹنا شروع ہوگئے جبکہ خواتین کھانا سمیٹ کر باغ میں چہل قدمی میں مشغول
ہوگئیں۔ اسی دوران راشد صاحب اپنے بچوں سمیت ہم سب کے لئے چشمے کے پانی کی
بوتلیں بھر کر لے آئے۔ یہ پانی نیشاپور کا خاص تبرک ہے جو دنیا بھر سے آئے
ہوئے زائرین اپنے ساتھ اپنے اپنے وطن ضرور لے جاتے ہیں۔ اولی الامر امام
(ع) کی ایک ضربِ پا کے نتیجے میں جاری ہونے والے اس چشمے کا پانی نہ صرف
متبرک ہے، بلکہ یہ اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ بارہ صدیوں سے جاری یہ چشمہ
آلِ ابراہیم (ع) کے سلسلے آلِِ عبا (ع) کا جاری کردہ زم زم ہے۔
اب
وقت تھا یہاں سے اپنی نئی منازل کی جانب کوچ کرنے کا۔ ہم نے اٹھ کر سامان
سمیٹنا شروع کیا اور بس میں پہنچا کر خواتین کے اکٹھا ہونے کا انتظار کرنے
لگے۔ اب وہ وقت شروع ہوا جب دل بھاری ہونے لگتا ہے۔ ابھی یہاں آئے ہوئے دیر
ہی کتنی ہوئی تھی کہ کوچ کا وقت بھی آگیا۔ میں قلبی طور پر تو اس باغِ
فردوس سے نکالے جانے پر تیار نہ تھا، مگر ہم تو ٹھہرے پردیسی مسافر۔ ویسے
بھی ہم تو مہمان تھے اس امام کے، جو خود بھی غریب الوطن امام کے نام سے
مشہور ہے۔ لیکن ہزار آفرین اپنے میزبان کے کہ خود تو پردیس میں جامِِ شہادت
نوش کیا اور اپنے مہمانوں کو سوا بارہ صدیوں سے ایسے اپنے سایہ ء رحمت میں
لے رکھا ہے کہ ایک لمحے کے لئے بھی پردیس کے احساس کا تصور تک نہیں ہوتا۔
ذاتی طور پر میرا تجربہ تو یہ کہتا ہے کہ کبھی کبھار اپنے ملک میں مجھے
اجنبیت اور بیگانگی کا احساس ہوتا رہتا ہے، مگر سرزمین ِامام پر لحظے کے
ہزارویں حصے کے لئے بھی کبھی ایسا احساس نہ ہوا۔ اسے کہتے ہیں اپنی اصل کی
کشش۔
ِ
میرے استفسار پر راشد صاحب نے وضاحت کی کہ وقت چونکہ کم ہے اور ابھی نیشاپور ہی کے علاقے میں چند اہمیت کی حامل زیارات باقی
ہیں،
سو ہمیں قدمگاہ کو جلد خیرباد کہنا پڑ رہا ہے۔ اب دل کو زرا سکون سا محسوس
ہوا کہ عبادات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایران کے دیگر شہروں کی طرح نیشاپور
بھی متعدد زیارات، مشہور شخصیات کے مقابر اور سیاحتی مقامات کا حامل شہر
ہے، جس سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لئے کئی ایام درکار ہیں۔ مگر باہر سے
تشریف لائے ہوئے زائرین کو چونکہ اس شہر کے لئے ایک ہی دن مل پاتا ہے تو
اس میں چند چیدہ چیدہ مقامات پر ہی حاضری ممکن ہو پاتی ہے۔ (میں قارئین کے
ذوق کے پیشِِ نظر مشورتا” عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر نیشاپور کا زائرانہ
اور سیاحتی دورہ مقصود ہو تو اپنے سفر کو محض ایک یوم تک محدود نہ رکھا
جائے۔) بس ایک بار پھر اپنے مسافروں سے بھر چکی تھی اور ہم سب اپنی اگلی
منزل یعنی باغ ِمحروق جانب چل پڑے۔
باغِ
محروق یہاں سے چھ، سات کلو میٹر پر واقع دو شاہزادگان کا مدفن ہے، جو
امامزادگانِِ محروق کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ دو شاہزادے گلشنِ امام موسی
ابن جعفر (ع) کے دو پھول تھے۔ جنکےاسم ہائے گرامی تو محمد اور ابراہیم (ع)
تھے، مگر بعد از شہادت آپکو "محروق" کا لقب بھی مل گیا اور تاریخ نے آپ
دونوں شاہزادگان کو اسی دلدوز نام سے یاد رکھا۔ محروق کا مطلب ہے "جلا
ہوا"۔ آپ دونوں حضرات کو آلِ رسول (ع) سے ہونے اور حق کا پرچم بلند کرنے کے
جرم کی وہ سزا دی گئی جس کا ارتکاب بڑے بڑے ظالمین کو بھی کپکپا دیتا ہے۔
مگر واہ رے مسلمان کے بھیس میں منافق! رسول (ص) کا کلمہ پڑھ کر اسی کے گلشن
کو نذرِ آتش کرنے کی تیری جراءت پر حیرت ہے۔ درِِ سیدہ کو جلا کر بھی تیرے
خبیث قلب کی آگ نہ بجھی تو یہ تو پھر اس مظلومہ کی اولاد تھے۔ ان دونوں
برادرانِ امام کو بھی اپنے آقا تک پہنچنے نہ دیا گیا اور گرفتار کرکے جلا
دیا گیا۔ لعنۃ اللہ علی القوم الظلمین۔ وسیعلموالذین ظلموا ای منقلب
ینقلبون۔
جس
وقت میں ان امامزادگان کے دربارِِ مبارک میں حاضر تھا، میرا دل گھٹن کا
شکار تھا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ آگ تازہ تازہ لگی ہو اور اس کے
دھوئیں نے سارے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہوا کا راستہ بند کر دیا ہو
اور چہار اطراف موت نے اپنا راج جما لیا ہو۔ یہ گھٹن کھانسی کے زریعے موت
کے منہ میں پھینک ڈالے گی۔ یوں تو تاریخِِ محمد و آل محمد (ع) ظلم و جور
سہنے اور حق کا پرچم سدا بلند رکھنے کی ایک کھلی کتاب ہے اور اس گھرانے کا
ہر ہر فرد ظلم سہنے میں اپنی اپنی ذات میں بے نظیر ہے مگر اب تک کی گئی
میری زیارات میں یہ دو شاہزادگان ایسے تھے جن کی تکلیف نے میرے دل کو مسل
کے رکھ دیا تھا۔ جس زیارت پر بھی جانا ہوتا تھا، درودوسلام کے بعد اپنی
ذاتی حاجات کا لالچ کچھ نہ کچھ رازونیاز ضرور کروا لیتا تھا، مگر یہ وہ
مقام تھا، جہاں اپنے لئے کچھ مانگنے پر دل مائل ہی نہ ہوا۔ بس زیارات کے
مناسک بجا لایا اور ضرٰیحِِ مبارک کو چوم کر بجھے ہوئے دل سے دو آنسو ٹپکا
کر باہر نکل آیا۔ اس دربار میں دل سے آنسوءوں کا پانی بہنے کی بجائے درد و
الم کا دھواں اٹھتا ہے۔ یہ ہے تاریخِِ آل محمد (ع) اور لوگ آساں سمجھتے ہیں
مسلماں ہونا۔۔۔۔۔۔

مزارِِ
مقدس کی حدود سے باہر آکر میں باغ کی ایک بینچ پر براجمان ہو گیا اور
اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ جب طاقت دشمن کے ہاتھ میں تھی تو اس نے اسی قوت
کے نشے میں اس پاکیزہ گھرانے کے آثار کو اپنے تئیں مٹا ڈالا تھا، مگر میں
کئی صدیوں بعد اسی جگہ بیٹھا ان شہدائے حق پر درودوسلام بھیج رہا تھا۔ ان
کم سن شاہزادوں کی خدماتِِ دینِِ حق کا صلہ اللہ تعالی نے یوں دیا کہ آج ان
کا دشمن ان شانئک ھوالابتر کا مصداق ہے اور ان کا مشہد، باغِِ محروق کے
عنوان سے چوبیس گھنٹے رونقوں کا مرکز ہے۔ آپ حضرات کا یہ روضہ ایران کی
دسویں صدی کی تعمیرات کا ایک تاریخی شاہکار ہے۔ شاہ طہماسپ اول کے دور میں
تعمیر کی گئی اس عمارت میں رنگین ٹائلوں کا حیرت انگیز استعمال کیا گیا ہے۔
اس احاطے میں مسجد کی تعمیر کا سہرہ محمد خانِ نامی نیشاپوری کے سر جاتا
ہے۔ یہ روضہ ایک سر سبز و شاداب خوبصورت باغ کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ میں
بینچ پر بیٹھا اس عمارت کے شکوہ میں ڈوبا ہو حیرت زدہ ہو رہا تھا جبکہ میری
پشت پر ایک اور حسین باغ تھا، جس کی راہداری کے گرداگرد قطار در قطار ایک
ہی وضع قطع کے درخت خاموش کھڑے تھے۔ یہ خوبصوت راہداری تاریخ کی ایک اہم
ترین شخصیت عمر خیام نیشاپوری کی آخری آرامگاہ تک جاتی ہے۔
کون
عمر خیام? ریاضی دان، ماہرِِ علومِِ نجومِ و شموس، شاعر، معلم، فلسفی اور
حکیم ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشاپوری۔ بیک وقت علوم کی کئی جہات پر
ملکہ رکھنے والی یہ شخصیت بلا شبہ سرزمینِ فارس کا فخر ہے۔ آپ 1048ء میں
نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدئی تعلیم کے بعد ترکستان چلے گئے جہاں قاضی
ابوطاہر نے آپ کی تربیت کرکے اس ہیرے کو تراش کرشمس الملک خاقانِ بخارا کے
دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے آپکو اپنے دربار میں بلا کر شاہی
معمار کا درجہ دیا اور شاہی محل کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں پر آپ نے
موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز کیا۔ آپ کو اصل
شہرت اپنی رباعیات کے لیے حوالے سے حاصل ہوئی۔ ان رباعیات کا ترجمہ دنیا کی
قریباً تمام معروف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ اپکی مشہور تصانیف میں ما الشکل
من مصادرات اقلیدس ، زیچ ملک شاہی ، رسالہ مختصر در طبیعیات ، میزان الحکم ،
رسالۃ اکلون و التکلیف ، رسالہ موضوع علم کلی وجود ، رسالہ فی کلیات
الوجود ، رسالہ اوصاف یا رسالۃ الوجود ، غرانس النفائس ، نوروزنامہ ،
رعبایات خیام ، بعض عربی اشعار اور مکاتیب خیام فارسی ہیں۔ یہ تمام تصانیف
علوم و فنون کا معرکۃ الآرا اور بیش قدر خزینہ ہیں۔
حکیم
عمر خیام کے موضوع پر پو دنیا جہاں کے کتب خانے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں انکی
شخصیت موضوع بھی نہیں مگر اس قیمتی ہستی کے ذکر سے پہلوتہی کرنا خیانت کے
زمرے میں آتا ہے۔ ماننا پڑتے گا کہ آپکے افکار ، مشاہدات اور تجربات کو
بنیاد بناتے ہوئے انہی علوم سے بہرہ مند ہوتے ہوئے دنیا آج کہاں سے کہاں
پہنچ گئی ہے۔ مگر افسوس ہوتا ہے اپنی لاعلمی پر کہ ہمیں اس عظیم شخصیت کا
صرف شاعری کے حوالے سے تعارف حاصل ہے اور شاعری بھی وہ جو شازونادر ہی کسی
کی بصارت یا سماعت کے قریب سے گزری ہو۔ فہم و ادراک تو درکنار۔ مغرب سے
درآمد اور ردشدہ نظامِ تعلیم نے ہمیں اپنے اسلاف کی جانب پھٹکنے تک نہ دیا
اور سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے والی مشینوں میں بدل کر رکھ دیا۔ آج عالم
یہ ہے کہ چہار جا انسانی صورت میں ڈگری یافتہ گدھے اپنے آجر کی معاشی سلطنت
کا بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں یا اقتصادی بندر اپنے آجر کی ڈگڈگی پر محوِِ
رقص ہیں۔ آج جو بظاہر تعلیم یافتہ جوان ہے اسے ایک ہی راہ پر ڈال کر اسکی
فکری اور عملی صلاحیتوں کو مسدود کر کے اسکے لئے باقی میدان معدوم کردئے
گئے ہیں۔ جبکہ پانچ سو سال قبل کے قدیم دور کا یہ شخص بیک وقت ڈاکٹر بھی
تھا اور آسٹرانومر بھی، میتھمیٹیشن بھی اور سکالر بھی، فلاسفر بھی اور
ریلیجئیس فگر بھی، شاعر بھی اور ٹیچر بھی، آرکیٹیکٹ بھی اور ادیب بھی۔ ان
تمام اصنافِ علوم کا بظاہر کوئی جوڑ نظر نہیں آتا مگر عمر خیام کا ان سب پر
دسترس رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ علم کی نہ کوئی حد ہے نہ اسکی حد بندی
ممکن ہے۔ اور نہ ہی یہ کسی کی ذاتی میراث ہے۔ یہ انبیاء (ع) کا ترکہ ہے
جسکو رسولِِ گرامی قدر (ص) کی ذاتِِ اقدس نے ایک شہر کے استعارے کے طور پر
دنیا کے سامنے پیش کردیا اور اپنے تلمیذِِ ذی اطاعت علی بن ابی طالب (ع) کی
صورت میں اپنا دروازہ کھول کر اس شہر کی شہریت کو بھی بلا قیمت پیش کر
دیا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جن افراد نے اس دروازے کے زریعے اس شہر کی
شہریت حاصل کی، انکا دنیا میں بول بالا ہے اور جس جس نے ان سے روگردانی
کی، وہ دنیا میں بھی رسوا ہی رہا اور آخرت میں اسکی رسوائی کے کیا کہنے۔
میری
نظروں کے سامنے محروق امامزادگان کر مزار کی پرشکوہ عمارت تھی اور پشت پر
حکیم عمرخیام کا مزار۔ میرے دیگر ساتھی اس وقت میری نظروں ہی کے سامنے روضے
کے خوبصورت باغیچے میں عکسبندی میں مصروف تھے، جبکہ میں تاریخ کے جھروکوں
سے پانچ صدیاں قبل کے نظارے کر رہا تھا۔ میں نے مڑ کر دیکھا اور اپنے ہی
مقام پر کھڑ ے ہوکر اس عظیم تاریخی شخصیت کو سورہء فاتحہ کا ہدیہ پیش کیا۔
میں نے زائرہ کو مزارِِ عمر خیام کی جانب چلنے کو کہا۔ ہم ابھی اپنے قدم
اٹھایا ہی چاہتے تھے کہ ہمارے قافلہ سالار کی جانب سے بس کی جانب پیش قدمی
کا حکم صادر ہوا کہ ابھی چند منازل اور طے کرنا باقی تھیں اور وقت بخارات
کی مانند اڑا جا رہا تھا۔ کم وقت کے دوروں کا یہ ایک واضح نقصان تھا جسے
میں محسوس کرتا ہوا اپنے قدم پلٹ رہا تھا۔ نیت کہیں کی کی تھی اور ایک آواز
نے قدموں کو کہیں موڑ کر رکھ دیا تھا۔ دیگر کئی مقامات کی طرح میں نے
مدفنِِ عمر خیام پر حاضری کو بھی خدا کی رضا کے تحت کسی اور موقع کے لئے
اٹھا رکھا اور اپنے قدموں کو مہمیز کرتے ہوئے بس کی جانب لپکا کہ ایک اور
سعادت چند قدموں کے فاصلے پر ہماری منتظر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے