14.10.2026, 03:25pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ذالحجہ 24عید مباہلہ تمام مسلمانوں کو مبارک ہو ۔۔۔۔۔ از؛۔۔۔۔۔ آغا عبدالحسین بڈگامی
26.09.2016, 01:07am , سوموار (GMT+1)

آغا عبدالحسین بڈگامی کشمیری
بسم تعالی
رسول خدا  حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحجاز اور یمن کے درمیاں نجران نامی علاقےمیں مقیم عیسائیوں کو24 ذیحجہ 9 ہجری قمری کواللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دی جسے مباہلہ کہتے ہیں۔اور اس دن توحیدی عقیدے کا مشرکانہ عقیدے کا آمنا سامنا ہونا تھا ایکدوسرے کے عقیدے کے بارے میں خدا سے غضب کی دعا کرنی تھی اور توحیدی قافلے کو دیکھ کرہی مشرکوں نےدبے الفاظوں میں اپنی شکست کا اعلان کیا ، اسطرح عقائد کا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل کا لا علمی وبی عملی پر غلبہ ہوا جسے اہل بصیرت عید مناتے ہیں ۔کیونکہ اس کامیابی پر اللہ نے ایک آیت نازل فرمائی ہے۔
آیئے اس نورنی دن کے تاریخی منظر پر طائرانہ  نظرکرکے اپنے اذہان اور عقیدے کو متبرک کرتے ہیں۔

نجرانی عیسائیوں کو اسلام کی دعوت ہجری کا نواں سال ہے، مکہ معظمہ اور طائف  توفتح ہو چکا ہے ۔ یمن ،عمان اور اسکے مضافات کے علاقے بھی توحید کے دائرے میں آ ہوچکے ہیں اس بیچ حجاز اور یمن کے درمیاں واقع  نجران نامی ہے جہاں عیسائی مقیم ہیں اور شمالی آفریقہ اور قیصر روم کی عیسائی حکومتیں ان نجرانی عیسائیوں کی پشت پناہی کررہے ہیں ، شاید اسی وجہ سے ان میں توحید کے پرچم تلے آنے کی سعادت حاصل کرنے کا جذبہ نظر نہیں آتا ہے لیکن ان  پر رحمۃ للعالمین  مہربان ہورہے ہیں ۔

  حضرت رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نجرانی عیسائیوں کے بڑے پادری"ابو حارثہ "کے نام اپنا خط روانہ کرتے ہیں ،جس میں عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کا خط سربمہر ایک وفد کے ہمراہ نجران روانہ ہوتا ہے ۔ جب مدینہ سے آنحضرت کا نمایندہ خط لے کے نجران پہنچتا ہے جہاں وہ وہاں کےبڑے پادری ابو حارثہ کے ہاتھ آنحضرت کا خط تقدیم کرتا ہے ۔ ابوحارثہ خط کھول کر نہایت دقت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہے اور فکر کی گہرایوں میں کھوجاتا ہے ۔ اس دوران شرحبیل جو کہ درایت اور مہارت میں شہرہ شہر ہوتا ہے اسکو بلاوا بھیجتا ہے اس کے علاوہ علاقے کے دیگر معتبر اور ماہر اشخاص کو حاضر ہونے کو کہا جاتا ہے   ۔ سبھی اس موضوع پر بحث و گفتگو کرتے ہیں ۔ اس مشاورتی مجلس کا نتیجہ بحث یہ نکلتا ہے کہ ساٹھ  افراد پر مشتمل ایک ھیئت حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ کیا جاتا ہے جن کی قیادت ابوحارثہ بن علقمہ ،(حجاز میں کلیسای روم کے نمایندہ اورنجران کے بڑے پادری) اورعبدالمسیح بن شرحبیل معروف بہ عاقب(علاقائی پادری)اوراھتم یا اہم بن نعمان معروف بہ سید (نجران کے سب سے بڑے قابل احترام بزرگ شخصیت) کر رہے تھے۔

نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت اور فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوتا ہے ۔ میر کارواں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے گھر کا پتہ پوچھتا ہے، معلوم ہوتا کہ پیغمبر اپنی مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔
نجران کا کارواں مسجد النبی میں داخل ہوتا ہے اور سبوں کی نظر یں ان پر ٹک جاتی ہیں ۔پیغمبر نے  نجران سے آئے افراد کے نسبت بے رخی ظاہر کرتے ہیں ، جو کہ ہر ایک کیلئے سوال بر انگیز ثابت ہوا ۔ ظاہر سی بات ہے کارواں کے لئے بھی ناگوار گذرا کہ پہلے دعوت دی اور اب بے رخی دکھا رہیں ہیں ! آخر کیوں ۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی علی  علیہ السلام نے اس گتھی کو سلجھایا ۔ عیسائیو سے کہا کہ آپ فاخرانہ لباس، تجملات اور سونے جواہرات کے بغیر، عادی لباس میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، آپکا استقبال ہوگا۔  

اب کارواں عادی لباس میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے ۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ  ان کا گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں اور انہیں اپنے پاس بٹھاتے ہیں اورمیر  کارواں ابوحارثہ نے گفتگو شروع ہوتی ہے :

ابوحارثہ آپکا خط موصول ہوا ، مشتاقانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے گفتگو کریں۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جی ہاں وہ خط میں نے ہی بھیجا ہے اور دوسرے حکام کے نام بھی خط ارسال کرچکا ہوں اور سبھوں سے ایک بات کے سوا کچھ نہیں مانگا ہے وہ یہ کہ شرک اور الحاد کو  چھوڑ کر خدای واحد  کے فرمان کو قبول کرکے محبت اور توحید کے دین اسلام کو قبول کریں ۔

ابوحارثہ:اگر آپ اسلام قبول کرنے کو ایک خدا پر ایمان لانے کو کہتے ہیں تو  ہم پہلے سے ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؛  اگر آپ حقیقت میں خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو عیسی علیہ السلام کو کیوں خدا مانتے ہو اور سور کے گوشت کھانے سے کیوں اجتناب نہیں کرتے ۔

ابوحارثہ: اس بارے میں ہمارے پاس بہت ساری دلائل ہیں؛ از جملہ یہ کہ حضرت  عیسی علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے ، پیسان سے مبتلا بیماروں کو شفا بخشتے تھے ۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ؛ آپ نے عیسی علیہ السلام کے  جن معجرات کو گنا وہ صحیح ہیں لیکن یہ سب خدای واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا اس لئے عیسی علیہ السلام کی عبادت کرنے کے بجائے اسکے خدا کی عبادت کرنی چاہئے ۔

پادری "ابوحارثہ" یہ جواب سن کے خاموش ہوا۔ اور اس دوراں کارواں میں شریک کسی اور  نے ظاہرا شرحبیل(عاقب) نے اس خاموشی کو توڑا ۔

 عاقب -عیسی، خدا کا بیٹا ہے کیونکہ انکی والدہ مریم نے کسی کے ساتھ نکاح کئے بغیر  انہیں جنم دیا ہے ۔
اس دوران اللہ نے اپنے حبیب کو اسکا جواب وحی  میں فرمایا:
ان َّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّہ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَہ كُن فَيَكُونُ{آل عمران /59}
 عیسی کی مثال آدم کے مانند ہے؛کہ اسے(ماں ، باپ کے بغیر)خاک سے پیدا کیا گیا۔

اس پر اچانک خاموشی چھا گئ اور سبھی بڑے پادری " ابو حارثہ "کو تک رہیں ہیں اور وہ خود شرحبیل کے کچھ کہنے کے انتظار میں ہے اور خود شرحبیل خاموش سرجھکائے بیٹھا ہے۔

آخر کار اس رسوائی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئےہیں اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لئے مباھلہ کیا جائے ۔ خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو کے جھوٹے پر عذاب کی درخواست کریں۔

ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں کریں گے ۔ لیکن ان کے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سنا:
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيہ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ اَبْنَاءنَا وَابْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَاَنفُسَنَا وانفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَہ ِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَہ اللّہ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61}
آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عسی کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کوبلاو، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاو ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاو۔ پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

 سچ اور جھوٹ کو اپنی حقانیت بیان کرنے کے لئے خطاب الہی ہوا ہے کہ وہ  اپنے بیٹوں ، خواتین اور  اپنے نفوس کو لے کے آئیں ؛ اسکے بعد مباھلہ کریں اور جھوٹے پر الہی لعنت طلب کریں گے ۔

حق ا و رباطل کی بے نظیر پرکھ قائم کرنی ہے۔ علم و عمل کا امتحان  لینا ہے ۔ ظاہر اور باطن کا مظاہرہ کرنا ہے۔ دو آسمانی ادیان کے ماننے والوں کی حقیقت کو عیاں کرنا ہے کہ کس کا آسمان کے ساتھ ابھی رابطہ برقرار ہے اور کس نے یہ رابطہ منقطع کیا ہے ۔غرض طے یہ ہوا کہ کل سورج کے طلوع ہونے کے بعد  شہر سے باہر (مدینہ کے مشرق میں واقع)صحرا میں ملتے ہیں ۔ یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئ ۔

مباہلے کا اہتمام
 24 ذیحجہ 9ہجری آ پہنچا۔مدینہ منورہ  کے اطراف و اکناف میں رہنے والےلوگ مباھلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس جگہ پر پہنچ گئے ۔ نجران کے نمایندے آپس میں کہتے تھے کہ ؛ اگر آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ میدان میں حاضر ہوتے ہیں ، تو معلوم ہوگا کہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزیزوں کو لے آتا ہے تو وہ اپنے دعوے کا سچا ہے۔

سبھوں کی نظریں  شہر کے دروازے پر ٹکی ہیں ؛ دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرین کی حیرت میں اضافہ ہوا ، جو کچھ دیکھ رہے تھے اسکا تصور بھی نہیں کرتے تھے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ایک ہاتھ سے حسن بن علی علیہم السلام کا ہاتھ پکٹرے اور  دوسرے ہاتھ سےحسین بن علی  علیہم السلام کو آغوش میں لئے بڑ رہے ہیں ۔ آنحضرت کے پیچھے پیچھے انکی دختر گرامی سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا چل رہی ہیں اور ان سب کے پیچھے  امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔
صحرا میں ہمہمہ اور ولولے کی صدائیں بلند ہونے لگیں :

 کوئی کہہ رہا ہے دیکھو ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  اپنے سب سے عزیزوں کو لےآیا ہے۔
 دوسرا کہہ رہا ہے اپنے دعوے پر اسے اتنا یقین ہے کہ ان کو ساتھ لایا ہے ۔

اس بیچ  جب بڑے پادری ابو حارثہ کی نظریں پجتن پاک علیہم السلام پر پڑی تو کہنے لگا : ہاے رے افسوس اگر اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اسی لمحے میں ہم اس صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے ۔
دوسرے نے کہا  ؛تو پھراس کا سد باب کیا ہے ؟

جواب ملا اس(پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کےساتھ صلح کریں گے اور کہیں گے کہ ہم جزیہ دیں گے تاکہ آپ ہم سے راضی رہیں۔  اور ایسا ہی کیا گیا۔ اس طرح حق کی باطل پر فتح ہوئی ۔

 مباھلہ پیغمبر کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا نام ہے ۔ مباھلہ پیغمبر  خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےاھل بیت علیہم السلام   کا اسلام پر آنے والے ہر آنچ پر قربان ہونے کیلئے الہی منشور کا نام ہے ۔تاریخ میں ہم اس مباھلے کی تفسیر کبھی امام علی  علیہ السلام کی شہادت ، کبھی امام حسن بن علی علیہم السلام شہادت کبھی امام حسین  بن علی علیہم السلام کی شہادت کبھی امام علی بن حسین علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام محمد بن علی  علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام جعفر بن محمد علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام موسی بن جعفر علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام علی بن موسی علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام محمد بن علی علیہم السلام کی شہادت ، کبھی امام علی بن محمد علیہم السلام کی
شہادت ، کبھی امام حسن بن علی علیہم السلام  کی شہادت اور کبھی امام مھدی بن حسن کی غیبت سے ملاحظہ کرتے ہیں۔

 جس سے غدیر خم میں کافروں کی اسلام کے نسبت نا امیدی کی نوید کو سنتے ہیں ۔ ( الیوم ییس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوھم واخشون)[سورہ مائدہ/1]۔ جی ہاں مباہلہ اور غدیر ہمیں اسلامی قیادت کی نشاندہی کررہے ہیں  ۔ جسے امامت و لایت کہتے ہیں۔ اور یہی ولایت ہےجو کہاسلام کی بقا کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن اسلام پر آنچ آنے نہیں دیتے ہیں ۔

اللہ کی بارگاہ میں دست بہ  دعا ہیں کہ ہمیں مباھلہ میں فتح پانے والے اسلام پر عمل کرنے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے والے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین


:دیگر مضامین
(20.09.2016) عید غدیر کے موقع پر تمام مسلمانان عالم کومبارکباد
(17.09.2016) سفیر ِ حسین سیدنا مسلم ؑ بن عقیل ؑ بن ابی طالب ۔ از ۔ ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
(14.09.2016) دنیا بھر میں مسلمان خواب خلیل کی یاد میں عید قربان منا رہے ہیں
(13.09.2016) لبیک الھم لبیک کی صدائیں اور میدان عرفات کا منظر
(11.09.2016) یوم عرفہ کی کیا فضيلت ہے ؟
(10.09.2016) عید الضحیٰ اور فلسفہ قربانی ایک اہم موضوع ہے
(07.09.2016) جنگِ ستمبر کے جنگی ترانے قوم کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے تھے۔
(05.09.2016) حج بیت اللہ کے ارکان و شرائط اور واجبات پر ایک گہری نظر بہت ضروری ہے
(02.09.2016) کہکشاں۔اردو کے معروف شاعر علی سردار جعفری کی ایک کامیاب ادبی وڈیو سیریز
(30.08.2016) ٭29 اگست 2005ء کوپرویز مہدی لاہور میں وفات پاگئے
(29.08.2016)  آباد گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا  ۔از۔ شاھین اشرف علی
(26.08.2016) پچیس اگست ۔ مقبول اور معروف شاعر احمد فراز کی 8ویں برسی پر
(24.08.2016) جرمنی میں ہر سال جل جانے والے پندرہ سال سے کم عمر کے تیس ہزار بچوں کا علاج
(23.08.2016) اردو غزل کی معروف شاعرہ ادا جعفری کا 22 اگست یومِ پیدائش ھے
(21.08.2016) چینی بادشاہ کا 2100 سال پرانا مقبرہ دریافت، خزانہ اور نوادرات برآمد
(18.08.2016) کویت میں یوم آزادی کے سلسلے کی اہم کامیاب تقریبات
(16.08.2016) دنیا ئے موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 19 ویں برسی
(15.08.2016) تیرہ اور چودہ ۔اگست 1947 کی رات قیام پاکستان کی نوید سنانے والی آواز، مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(12.08.2016) ایک اور آخری دن ۔۔۔۔۔۔۔۔  شہناز پروین سحر  کی کتاب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.08.2016) چودھری رحمت علی !کوئے یار کو ترستا مسافر باعث افتخار



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں