|
پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔از؛ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
10.12.2011, 07:07am , ہفتہ (GMT+1)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ۔پاکستان
شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کائنات انسانی کو دو کردار مل گئے۔ یزیدیت جو بدبختی ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت جو عدل، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت ٹھہری، قیامت تک حسین بھی زندہ رہے گا اور حسینیت کے پرچم بھی قیامت تک لہراتے رہیں گے، یزید قیامت تک کے لئے مردہ ہے اور یزیدیت بھی قیامت تک کے لئے مردہ ہے، حسین رضی اللہ عنہ کی روح ریگ کربلا سے پھر پکار رہی ہے۔ آج سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی روح اجڑے ہوئے خیموں سے ہمیں صدا دے رہی ہے۔ آج علی ا کبر اور علی اصغر کے خون کا ایک ایک قطرہ دریائے فرات کا شہدائے کربلا کے خون سے رنگین ہونے والا کنارہ ہمیں آواز دے رہا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والو! حسینیت کے کردار کو اپنے قول و عمل میں زندہ کرو۔ یزیدیت کو پہچانو، یزیدیت تمہیں توڑنے اور تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے، حسینیت تمہیں جوڑنے کے لئے ہے۔ حسینیت اخوت، محبت اور وفا کی علمبردار ہے، یزیدیت اسلام کی قدریں مٹانے کا نام ہے۔ حسینیت اسلام کی دیواروں کو پھر سے اٹھانے کا نام ہے، یزیدیت قوم کا خزانہ لوٹنے کا نام ہے، حسینیت قوم کی امانت کو بچانے کا نام ہے۔ یزیدیت جہالت کا اور حسینیت علم کا نام ہے۔ یزید ظلم کا اور حسین امن کا نام ہے۔ یزید اندھیرے کی علامت ہے اور حسین روشنی کا استعارہ ہے۔ یزیدیت پستی اور ذلت کا نام ہے جبکہ حسینیت انسانیت کی نفع بخشی کا نام ہے۔
اس دنیائے فانی میں اپنے مکرو فریب اور جبروتشدد سے حاصل کی ہوئی قوت کے بل بوتے پر کسی کا بظاہر کامیاب نظر آنا اور اقتدار حاصل کرلینا، اصل کامیابی نہیں۔ بلکہ حقیقی اوردائمی کامیابی یہ ہے کہ انسان کو تخت ملے یا تختہ وہ دنیاوی جاہ وحشمت کے لئے اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑے۔ قرآن حکیم میں ہے کہ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَاوَاہمْ جَہنَّمُ وَبِئْسَ الْمِہادُہ (آل عمران، 3 : 197) ’’(ان کے) یہ (دنیاوی) فائدے تھوڑے ہی دنوں کے لئے پھر (آخر کار) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے،،۔ بتایا جارہا ہے کہ ظالم و فاسق لوگوں کا کچھ وقت کے لئے اقتدار کے نشے میں بدمست ہونا تمہیں ان کی کامیابی کا مغالطہ نہ دے کیونکہ ان کے یہ دنیاوی فوائد تو چند روزہ ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ گرفت فرمائیں گے تو یہ سب مال و متاع اور جاہ و حشمت دھری کی دھری رہ جائے گی اور یہ لوگ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ مزید برآں آخرت کے ساتھ ان کی دنیا بھی جہنم زار بنادی جائے گی۔ بے شمار لوگ ایسے ہوئے کہ جو کرسی اقتدار پر بیٹھ کر تکبر کرتے رہے اور اپنے زعم باطل میں خدا بن بیٹھے مگر ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ نہ صرف اس جھوٹی خدائی کے تخت سے ہٹا دیئے گئے بلکہ انہیں اسی دنیا میں نشان عبرت بنا کر نیست و نابود کردیا گیا۔ کسی شاعر نے ایسے ہی نشہ اقتدار میں بدمست حکمران کے لئے کیا خوب کہا ہے۔
تم سے پہلے بھی کوئی شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا
جو شخص اللہ کے دین سے بغاوت کرتا ہے، قوت ربانی کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے چند دنوں کے لئے اسے ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ ظلم میں اپنی انتہاء اور بدبختی میں اپنی آخری حد کو پہنچ جائے۔ جب اس کا ظلم اپنے انجام کو پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور گرفت آتی ہے، اسے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے اور آنے والی نسلوں میں اس کا نام تک لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یزید کہ جس نے دنیا کی چند روزہ حکومت اور اقتدار کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کرتے ہوئے خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کی انتہاء کردی اور کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں بھوک اور پیاس سے نڈھال اہل بیت نبوت اور ان کے انصار میں سے ستر افراد کو شہید کیا تھا اسی یزید پر وہ وقت بھی آیا کہ لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ستر افراد کے بدلے میں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار یزیدیوں کو قتل کیا گیا۔ یزید کہ جس نے مدینہ طیبہ میں گھوڑوں اور اونٹوں کا لشکر بھیجا تھا، تین دن تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لشکر کے گھوڑوں کو باندھا گیا اور تین دن تک مسجد میں نمازیں اور جماعتیں معطل رہیں اس پر وہ وقت بھی آیا کہ اس کی قبر پر اونٹ اور گھوڑے باندھے گئے جہاں وہ گندگی پھیلاتے تھے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کا خانوادہ خود تو شہید ہوگئے مگر اسلام کو زندگی عطا کرگئے، خود تو دنیا سے رخصت ہوگئے مگر امت کو جینا سکھاگئے۔ پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ
شہادت حسین رضی اللہ عنہ ہمیں دو طرح کا پیغام دیتی ہے۔ عملی جدوجہد کا پیغام
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا پہلا پیغام عملی جدوجہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ، تعلق حسین رضی اللہ عنہ اور نسبت حسین رضی اللہ عنہ کو رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے عمل، حال اور حقیقت میں بدل دیا جائے، اسے حقیقی زندگی کے طور پر اپنایا جائے یہی نسبت اور تعلق ہمارا اوڑھنا بچھونا ہو۔ اس نسبت اور تعلق کو حقیقی زندگی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ پہچان لیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے؟ یزید نے اسلام کا کھلا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی۔ مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ اسلام کا نام لیتا تھا، بیعت بھی اسلام پر لیتا تھا، وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں، اسلام کا کھلا انکار تو ابولہبی ہے، یزیدیت یہ ہے کہ اسلام کا نام بھی لیا جائے اور اسلام سے دھوکہ بھی کیا جائے، اسلام کا نام لیا جائے اور امانت میں خیانت بھی کی جائے، نام اسلام کا لیا جائے اور آمریت مسلط کی جائے، اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو کچلا جائے اور اسلام کے مقدس نام کو پامال کیا جائے۔ یزیدیت، اسلام سے منافقت اور دجل و فریب کا نام ہے۔ اسلامی نظام کے ساتھ دھوکہ کرنے، امانتوں میں خیانت کرنے، بیت المال میں خیانت کرنے اور قومی ذرائع اور دولت کو اپنے تعیشات پر خرچ کرنے کا نام یزیدیت ہے۔ روح حسین رضی اللہ عنہ آج ہم سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ میری محبت کا دم بھرنے والو! میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت رسمی ہی ہے یا میری محبت میں آج تم پھر کوئی معرکہ کربلا برپا کرتے ہو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت میں آج تم پھر وقت کے یزیدوں کو للکارتے ہو یا نہیں۔ روح حسین رضی اللہ عنہ آج پھر دریائے فرات کو رنگین دیکھنا چاہتی ہے، آج پھر ایک نیا معرکہ کربلا برپا ہوتا دیکھنا چاہتی ہے اور تمہارے صبرو استقامت کا امتحان لینا چاہتی ہے۔ روح حسین رضی اللہ عنہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کون اسلام کا جھنڈا سر بلند کرتے ہوئے تن من دھن کی بازی لگاتا ہے، کون ہے جو مجھ سے حقیقی پیار کرتا ہے۔ شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سبق یہ ہے کہ دیکھو! کیا تمہارے دور کے حکمران اسلام کا نام لینے میں مخلص ہیں؟ کیا وہ اسلامی نظام کو نافذ کرنے اور بپا کرنے میں مخلص ہیں؟ کہیں وہ اسلام کی امانت میں خیانت تو نہیں کررہے یا اسلامی نظام کے نفاذ میں دھوکہ تو نہیں کررہے؟ اگر وہ اسلام کا نام بھی لیتے ہیں اور منافقت اور دجل و فریب بھی کرتے ہیں توجان لو کہ ان کا کردار یزیدیت کا کردار ہے۔ حسینیت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں جہاں تمہیں یزیدیت کے کردار کا نام و نشان نظر آئے، حسینی لشکر کے غلام بن کر یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لئے خواہ تمہیں اپنا مال، اپنی جان اور اپنی اولادیں ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔
امن کا پیغام
اہل ایمان کے لئے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا دوسرا پیغام، امن کا پیغام ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کا مہینہ آتا ہے تو پورے پاکستان اور امت مسلمہ کے لئے فسادات کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ گولیاں چلنے لگتی ہیں، کرفیو نافذ ہونے لگتا ہے، قتل و غارت گری ہوتی ہے، ایک دوسرے کے گلے کاٹے جاتے ہیں، جنگ اور فتنہ و فساد کا ایک عجیب ماحول بن جاتا ہے، غیر مسلموں کے لئے مسلم قوم وجہ استہزاء بن جاتی ہے، غیروں کے نزدیک مسلمان نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر متفق ہیں، نہ صحابہ اور اہل بیت پر، ان کا قرآن پر اتفاق ہے نہ اسلام پر، بلکہ یہ تو ایسی امت ہے جو امن پر بھی متفق نہیں ہے آخر کس منہ سے ہم عالم کفر کے سامنے اسلام کی بات کریں اور انہیں اسلام کی دعوت دیں۔ نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔ ایمان کا مرکز ومحور
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نسبت وتعلق ایمان کا مرکز و محور ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہ وَالَّذِينَ مَعَہُ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا۔
(الفتح، 48 : 29)
’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے ہوئے، سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ (صرف) اﷲ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں،،۔
اس آیۃ کریمہ میں صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کا تعارف کروایا جارہا ہے لیکن تعارف اور شناخت کروانے کے لئے ان کی صفات کو سرفہرست بیان نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان مقدس ہستیوں کی شناخت والذین معہ کہہ کر کروائی ہے کہ ان تمام کی شناخت اور پہچان یہ ہے کہ یہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنگت اور صحبت والے ہیں۔ دوسرے لوگوں سے ان کی انفرادیت اور امتیاز یہ ہے کہ انہیں آپ کی رفاقت نصیب ہوئی ہے۔
اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے محبت کا تعلق
سورہ الفتح کی مذکورہ آیت مبارکہ میں والذین معہ کے الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اہل بیت پاک اور صحابہ کرام دونوں سے برابری کا تعلق رکھنا ضروری ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنگت اور نسبت والوں میں سے کسی ایک سے منہ پھیرلیا، خواہ وہ صحابہ کرام ہوں یا اہل بیت پاک، اس نے اپنا آدھا تعلق تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاٹ لیا اور اپنے آدھے ایمان کو مفلوج کرلیا لہذا اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کامل تعلق قائم اور ایمان سلامت رہے تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام دونوں کا ادب و احترام اور محبت و تعظیم اپنے اوپر لازم کرلے۔
امت مسلمہ کی طبقاتی تقسیم
بدقسمتی سے تاریخی حالات کچھ اس طرح کے ہوئے ہیں کہ امت مسلمہ مختلف طبقات میں تقسیم ہوتی چلی گئی ہے اگرچہ ایک جماعت ہر دور میں موجود رہی ہے جس نے اعتدال کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ تاہم ذیل میں ہم ان دو گروہوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں سے ایک گروہ حُبِّ اہل بیت میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ نوبت بغضِ صحابہ تک جا پہنچی جبکہ دوسرا گروہ حُبِّ صحابہ میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ نوبت بغضِ اہل بیت تک جاپہنچی۔ بعض لوگوں نے اہل بیت اطہار کی طرف جھکاؤ کیا اور اس نسبت میں وہ اتنا آگے بڑھ گئے کہ صحابہ کرام کے طبقے کی اہمیت اور تعلق ان کی نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ یک طرفہ تعلق میں وہ اتنا آگے بڑھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کٹ گئے، جب تعلق کٹ گیا تو صحابہ کرام کی نسبت اعتقاد، سوچ اور فکر میں وہ ادب و احترام اور محبت نہ رہی جو کہ ضروری تھی گویا انہوں نے ایمان کے ایک حصے کو قبول کیا اور دوسرے کو ترک کردیا۔ یہ کیفیت سیدنا حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کے آخری دور میں اس وقت کے معروضی حالاتِ سیاست، بنو امیہ کے اس وقت کے حکمرانوں اور بطور خاص یزیدیوں کے معرکہ کربلا میں اہل بیت اطہار کے ساتھ ظالمانہ، فاسقانہ سلوک اور بربریت و درندگی نے پیدا کی۔
جب اس گروہ کی توجہ صرف اہل بیت اطہار پر اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رہی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کی دوسری جہت یعنی صحابہ کرام کو اس گروہ نے نظر انداز کردیا تو رفتہ رفتہ نہ صرف صحابہ کرام سے تعلق ٹوٹا بلکہ ذہن بھی بالعموم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف ہوگئے۔ ان کا مقام و مرتبہ ذہنوں سے اتر گیا اور ان کے فضائل و کمالات اور ایمان میں درجات ذہنوں سے محو ہوگئے۔ اس کے رد عمل میں کچھ لوگوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ذکر کو اسی طرح اجاگر کیا جس طرح ایک گروہ نے اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کے طبقے کو اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے اپنی توجہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ذکر پر مرکوز رکھی اور رد عمل کے طور پر اپنا قلبی، جذباتی اور ذہنی تعلق اہل بیت اطہار سے کاٹ لیا اور صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا ذکر کرتے کرتے اور اہل بیت کا ذکر چھوڑتے چھوڑتے نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ جس طرح پہلا گروہ صرف اہل بیت رضی اللہ عنھم کو ایمان کا حصہ تصور کرتا ہے اور خود کو نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کاٹ چکا ہے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مقام و مرتبہ کو بھی داخل ایمان نہیں سمجھتا اسی طرح دوسرا گروہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے تعلق ہی کو ایمان گردانتا ہے اور اہل بیت پاک سے اپنا قلبی اور جذباتی تعلق ختم کرچکا ہے۔ اس بد نصیب امت کی حالت اب یہ ہے کہ اس میں دو گروہ اب واضح طور پر ایک دوسرے کی ضد بن چکے ہیں۔ ایک طبقے کو یہ تاثر دیا جارہا ہے اور کئی نسلوں سے ذہن یہ بنائے جارہے ہیں کہ سنی وہ ہے جو فقط صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بات کرے۔ اگر کوئی حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ یا دیگر آئمہ اہل بیت کی بات کرتا ہے، واقعہ کربلا بیان کرتا ہے یا اہل بیت اطہار سے محبت اور ان کے فضائل کا ذکر کرتا ہے تو فوراً یہ ’’الزام،، دے دیا جاتا ہے کہ یہ تو شیعہ ہے، شیعہ نواز ہے یا شیعت کی طرف جھکاؤ ہے۔ اسی طرح دوسرے طبقے کا یہ ذہن بنادیا گیا ہے کہ اگر اہل بیت پاک کی بات ہو تو مومن اور مسلمان ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بات ہو تو مسلمان ہی نہیں۔
اس طرح ایک طبقے نے صرف اہل بیت پاک کو اپنالیا اور ایک طبقے نے فقط صحابہ کرام کو۔ یوں اس امت کو ظالمانہ انداز سے دو دھڑوں میں تقسیم کردیا گیا۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت، غلامی اور تعلق کو اپنے گروہ کے ساتھ مختص قرار دے کر ایمان کے دو ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ اہل بیت پاک رضی اللہ عنھم سے تعلق ایمان کا ایک حصہ تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے تعلق ایمان کا دوسرا حصہ تھا۔ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک نے ایمان کے ایک حصے کو اپنالیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا۔
دین اسلام پر اس سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں ہوگا کہ اہل بیت اطہار کی محبت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بے ادبی کی جائے۔ اسلام کے اندر اس چیز کی کوئی گنجائش نہیں، بے شک اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کی محبت عین ایمان ہے۔ جس شخص کے دل میں اہل بیت پاک رضی اللہ عنھم کی محبت نہیں وہ مسلمان نہیں۔ وہ اسلام سے خارج اور جہنم کا ایندھن ہے۔ دل کے اہل بیت پاک رضی اللہ عنھم کی محبت سے خالی ہونے کا مطلب دل کا اسلام، ایمان، قرآن اور نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہونا ہے۔ جس طرح اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے ایمان میں یہ درجہ ہے اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے ایمان میں یہی درجہ ہے لہذا جو شخص صحابہ کرام بشمول خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کی طرف سے کسی کی طرف کسی قسم کی ناپاکی منسوب کرتا ہے خواہ وہ اہل بیت پاک رضی اللہ عنھم کی محبت کے نام پر کرے یا کسی اور حوالے سے وہ شخص کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ وہ صحابہ کرام، خلفائے راشدین یا ازواج مطہرات کا ہی منکر نہیں وہ منکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
اہل بیت کون ہیں؟
بیت عربی زبان میں گھر کو کہتے ہیں۔ گھر تین قسم کا ہوتا ہے۔
1. بیت نسب 2. بیت مسکن یا بیت سکنٰی 3. بیت ولادت۔
اسی اعتبار سے گھر والوں کے بھی تین طبقے ہیں۔
1. اہل بیت نسب 2. اہل بیت سکنٰی 3. اہل بیت ولادت
٭ اہل بیت نسب سے مراد انسان کے وہ رشتہ دار ہیں جو نسب میں آتے ہیں یعنی وہ رشتہ دار جو باپ اور دادا کی وجہ سے ہوتے ہیں مثلاً چچا، تایا، پھوپھی وغیرہ نسب کے رشتے ہیں۔
٭ اہل بیت مسکن سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو گھر کے اندر آباد ہوتے ہیں یعنی شوہر کی بیوی۔
٭اہل بیت ولادت سے مراد وہ نسل ہے جو گھر میں پید اہوئی ہے۔ اس میں بیٹے، بیٹیاں اور آگے ان کی اولاد شامل ہے۔ جب مطلق اہل بیت کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد مذکورہ تینوں طبقات ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ اہل ایمان ہوں۔ ان میں سے کسی ایک طبقے کو خارج کردینے سے اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہوتا۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
انَّمَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيُذْہِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيرًاہ
(الاحزاب، 33 : 33)
’’اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے
یعنی اے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے دامن، سیرت، کردار اور اعمال کے ظاہر وباطن کو ہر نجس اور ناپاکی سے اس طرح پاک فرما دے کہ تم طہارت اور پاکیزگی کا قابل تقلید نمونہ بن جاؤ اور قیامت تک طہارت اور پاکیزگی تم سے جنم لیتی رہے۔
جب انسان متعصب ہوجاتا ہے تو پھر اسے اپنے مطلب کی چیز کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ جب دین تعصب کی نظر ہوجاتا ہے تو ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالنے لگتا ہے۔ وہ دو طبقے جو حب صحابہ اور حب اہل بیت رضی اللہ عنھم کے نام پر افراط و تفریط کا شکار ہوئے ان میں سے ایک طبقے نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے اس میں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو نکال دیا۔ گویا انہوں نے اہل بیت میں سے اہل بیت مسکن کو نکال دیا۔ جب اہل بیت میں سے بیویاں ہی نکل جائیں تو پھر اولاد کا گھر سے کیا تعلق رہا؟ بہر حال انہوں نے ازواج مطہرات کو نکال کر کہا کہ اہل بیت سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔
بے شک مذکورہ چاروں ہستیاں اہل بیت میں شامل ہیں اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چادر تطہیر میں چھپایا اور ان کے اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا انکار فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار ہے مگر سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ایک طبقے نے کچھ اہل بیت مراد لئے اور باقی چھوڑ دیئے۔ اس کے رد عمل کے طور پر دوسرے طبقے نے کہا کہ اہل بیت سے مراد صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ، سیدہ دوعالم حضرت فاطمۃ الزہراء اور حسنین کریمین رضی اللہ عنھما اہل بیت میں شامل ہی نہیں۔ دونوں طبقوں نے قرآن پاک کو گویا سکول کا رجسٹر داخل خارج سمجھ لیا ہے کہ جسے چاہا داخل کردیا اور جسے چاہا خارج کردیا۔ من مانی تاویلیں کرکے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نہ صرف امت بلکہ نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی متنازعہ بنا دیا۔
ارے نادانو! جو گھر والا ہے وہ تو ہر گھر والے کو پیارا ہے اور وہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے پھر جو بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبی تعلق والا ہے، آپ کے گھر میں ہے یا آپ کی نسل پاک میں سے ہے اور اہل ایمان ہے۔ اسے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل بیت اور ہر ایک کو پیارا ہونا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبی تعلق ہونا، آپ کے گھر میں ہونا یا آپ کی اولاد پاک میں سے ہونا تو ایک طرف حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر صرف خدمت کرتے تھے اور سودا سلف لاکر دیتے تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل بیت میں شامل فرمایا ہے حالانکہ نہ تو ان کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبی تعلق تھا نہ وہ اہل بیت مسکن میں سے تھے اور نہ ہی وہ آپ کی اولاد پاک میں سے تھے، بیت کی تینوں نسبتیں مفقود تھیں لہذا محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت کے ہاتھ بڑھاتے ہوئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھی اہل بیت میں شامل فرمالیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔ (مستدرک امام حاکم 3 : 691 رقم 6539) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے اہل بیت میں سے کسی ایک طبقے کو خارج نہیں کیا تو ہم کسی ایک طبقے کو خارج کرکے کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انصاف کررہے ہیں؟ یقیناً یہ انصاف نہیں بلکہ محض جہالت اور تعصب ہے۔
قابل غور نکتہ
یہ بات قابل غور ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب بھی کوئی کام رد عمل کے طور پر شروع ہوگا اس میں اعتدال وتوازن نہیں ہوگا۔ اس میں افراط و تفریط اور انتہا پسندی ہوگی۔ وہ کام اعتدال اور میانہ روی کے اس تصور سے ہٹ کر ہوگا جس کا اسلام نے درس دیا ہے۔ اسلام کی اصل تعلیم اعتدال اور میانہ روی ہے۔ امت مسلمہ کو امت وسط بھی دراصل اسی لئے کہا جاتا ہے کہ باری تعالیٰ نے امت مصطفوی کو وہ وقار اور کردار عطا کیا ہے جو توسط و اعتدال پر مبنی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد
راہ اعتدال کو چھوڑ کر افراط و تفریط کا راستہ اپنانے والوں کے لئے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا درج ذیل فرمان ایک تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ایک مشابہت ہے۔ ان سے یہود نے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ ماجدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور نصاریٰ ان کی محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے معتقد ہوگئے۔ ہوشیار! میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے۔ ’’ایک زیادہ محبت کرنے والا جو مجھے میرے مرتبے سے بڑھائے گا اور حد سے تجاوز کرے گا۔ دوسرا بغض رکھنے والا جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے گا،، (مسند احمد بن حنبل 2 : 167، رقم 1376) خود شیعہ مذہب کے نزدیک معتبر کتاب ’’نہج البلاغہ،، میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’میرے معاملہ میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت کرنے والا، حد سے بڑھانے والا۔ وہ محبت اس کو غیر حق کی طرف لے جائے گی۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا، وہ بغض اس کو خلاف حق کی طرف لے جائے گا اور سب سے بہتر حال میرے معاملہ میں میانہ رو جماعت کا ہے پس اس میانہ رو جماعت کو اپنے لئے ضروری سمجھو اور (بڑی جماعت) سواد اعظم کے ساتھ وابستہ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ اسی جماعت پر ہے اور خبردار! اس جماعت سے الگ نہ ہونا کیونکہ جو شخص جماعت سے الگ ہوگا وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہوگا جس طرح ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیئے کا شکار ہوتی ہے،،۔ (ترجمہ و شرح نہج البلاغہ جلد اول، 383) بغض اہل بیت رضی اللہ عنھم اور بغض صحابہ رضی اللہ عنہ کا منطقی نتیجہ
آج کچھ لو گ ایسے بھی ہیں جو حب علی رضی اللہ عنہ میں افراط کی وجہ سے راہ اعتدال کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ بغض علی رضی اللہ عنہ کی بناء پر راہ اعتدال پر نہیں رہے۔ پہلا گروہ ایسا ہے جو سارا سال اپنے مذہبی اجتماع فقط سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت رضی اللہ عنھم کے حوالے سے کرتا ہے۔ اس گروہ نے نہ تو کبھی سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی اجتماع کیا ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ذکر کے حوالے سے، اہل بیت کے علاوہ انہوں نے ہر ایک سے اپنا تعلق قطع کرلیا ہے اور دوسرا گروہ ایسا ہے جو سارا سال مدح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نام پر اجلاس اور اجتماع کرتا ہے۔ اس گروہ کی کیفیت یہ ہے کہ محرم الحرام کے مہینے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن بھی کبھی اہل بیت اور شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر اجتماع نہیں کرتا۔ جس طرح پہلے گروہ نے اہل بیت پاک اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے علاوہ اسلام کے باقی تمام موضوعات چھوڑ دیئے ہیں اسی طرح دوسرے گروہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے موضوع کے علاوہ باقی تمام موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ دونوں طرف ردعمل (Reaction) ہو رہا ہے اور اعتدال کی راہ چھوٹی جارہی ہے۔ اہل بیت رضی اللہ عنھم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا باہمی تعلق
راہ اعتدال سے ہٹ جانے والے دونوں گروہوں کے لئے دنگا فساد کی فضا ختم کرنے اور امن و سلامتی کی فضا قائم کرنے کے لئے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اہل بیت رضی اللہ عنھم اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی آپس میں کوئی لڑائی نہ تھی بلکہ یہ سب ایک دوسرے سے محبت کرنے والے، پیار کرنے والے اور ایک دوسرے پر جانیں قربان کرنے والے لوگ تھے۔ امام محمد باقر اور احترام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ’’کشف الغمہ فی معرفۃ الآئمۃ،، میں عروہ بن عبداللہ سے مروی ایک واقعہ مذکور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر سے سوال کیا کہ تلواروں کے دستے پر چاندی چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار کے دستے پر چاندی چڑھائی تھی۔
عروہ بن عبداللہ نے بھی شاید یہ رائے قائم کرلی تھی کہ اہل بیت رضی اللہ عنھم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں مخالفت ہے چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ آپ بھی صدیق کہتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر امام محمد باقر رضی اللہ عنہ جلال میں آکر کھڑے ہوگئے، قبلہ رخ منہ کرلیا اور فرمایا نعم الصدیق، نعم الصدیق، نعم الصدیق فمن لم یقل لہ الصدیق فلا صدق اللہ قولا فی الدنیا ولا فی الآخرۃ۔ (کشف الغمہ فی معرفۃ الآئمۃ، 2 : 359) ’’ہاں وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں اور جو انہیں صدیق نہ کہے گا اس کی بات کو اللہ دنیا میں بھی جھوٹا کردے گا اور آخرت میں بھی،،۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اورعظمت وشان علی رضی اللہ عنہ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ جب میرے والد یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اکٹھے بیٹھے ہوتے تو میں دیکھتی کہ میرے والد اکثر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ تکتے رہتے، ان کی نگاہ ہر وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے پر رہتی، ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ ابا جان! جب آپ خود اتنے بلند مرتبہ ہیں تو پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو کیوں دیکھتے رہتے ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اے عائشہ رضی اللہ عنہ ! میں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ ہر وقت تکتا رہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی عزت کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : النظر الی وجہ علی عبادۃ۔ ’’(حضرت) علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو (فقط) دیکھنا (بھی) عبادت ہے،،۔ انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ (المستدرک الحاکم، کنزالعمال 11 : 601) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذکر علی عبادۃ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر عبادت ہے،،۔ بے شک صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کے درمیان بے حد قلبی محبت موجود تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حُبِّ علی رضی اللہ عنہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دو مرتبہ فرمایا۔ ’’تم نہیں جانتے ہو کہ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ عزیز و پیارا اور بہتر ہوں؟،، سب نے کہا ’’ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،،۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللھم من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔ ’’اے اللہ! جس کا میں دوست ہوں علی (رضی اللہ عنہ) بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! اس سے محبت رکھ جو علی (رضی اللہ عنہ) سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی رکھے،،۔ اس واقعہ کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ ھنیئا یا ابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولی کل مومن ومومنۃ۔ (مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد، 565) ’’اے ابن ابی طالب! تم صبح و شام خوش رہو اور تمہیں ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت کا مولیٰ ہونا مبارک ہو،،۔ کتب سیرو تاریخ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں آپ کے پاس دو دیہاتی لڑتے ہوئے آئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کردیا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ ہمارے درمیان کیا فیصلے کرے گا؟ فوثب علیہ العمر واخذ بتلبیبہ وقال ویحک ماتدری من ھذا؟ ھذا مولاک ومولی کل مومن من لم یکن مولاہ فلیس مومن۔ (الصواعق المحرقہ، 179) ’’پس یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کا گریبان پکڑ کر فرمایا ’’جانتا ہے یہ کون ہیں؟ یہ تیرے اور ہر مومن کے مولیٰ ہیں اور جس کے یہ مولیٰ نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہے،، ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور احترام حسنین کریمین رضی اللہ عنہ
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب ایران فتح ہوا تو ایران کے آخری بادشاہ یزد گرد کی بیٹی حضرت شہر بانو رضی اللہ عنہ جنگی قیدی بن کر مال غنیمت میں آئیں جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا تو اہل مدینہ اور اسلامی لشکر سوچنے لگا کہ دیکھتے ہیں ایران کے بادشاہ یزد گرد کی بیٹی شہر بانو کس خوش نصیب کے حصے میں آتی ہے۔ جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے شہر بانو کی باری آئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ یزد گرد کی بیٹی شہزادی ہے اسے میں جس کی زوجیت میں دوں گا وہ بھی شہزادہ ہی ہوگا۔ لوگ سوچنے لگے کہ دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں شہزادہ کون ہے؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے حسین رضی اللہ عنہ ! ہمارے ہاں شہزادہ تو ہی ہے اور حضرت شہر بانو رضی اللہ عنہ کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں دیدیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ترجیح دی کیونکہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نہیں بلکہ آپ کے اہل بیت پاک بھی دل وجان سے عزیز اور محبوب تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے دروازے پر تشریف لے گئے اور وہاں جاکر دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہوئے حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ اتفاق سے ان کو حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ خیال کرکے کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو مجھے کب اجازت دیں گے، واپس آگئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس خیال سے واپس چلے گئے ہیں تو آپ فوراً حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے آپ کے تشریف لانے کی اطلاع نہ تھی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میں اس خیال سے واپس آگیا کہ جب آپ نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے؟،، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انت احق بالاذن منہ وھل ابنت الشعر فی الراس بعد اللہ الا انتم۔ (الصواعق المحرقہ، 179) ’’تم اس سے زیادہ اجازت کے مستحق ہو اور یہ بال سر پر اللہ تعالیٰ کے بعد کس نے اگائے سوائے تمہارے (یعنی تمہاری بدولت ہی راہ راست پائی اور تمہاری برکت سے اس مرتبے کو پہنچا،، ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : اذا جئت فلا تستاذن۔ (الصواعق المحرقہ، 179) ’’آپ جب تشریف لایا کریں تو بغیر اجازت کے آجایا کریں،،۔
مذکورہ تمام واقعات سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت پاک کے درمیان کسی قسم کی عداوت یا رنجش نہیں تھی بلکہ ان کے درمیان باہم محبت و الفت کا رشتہ تھا۔ بے شک تمام صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کا ادب و احترام اور محبت و مودت عین ایمان ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑنا بالواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی ہے خواہ کوئی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھے یا ہاتھ باندھ کر رفع یدین کرے یا نہ کرے، یہ اپنا اپنا مسلک ہے اس سے ایمان پر زد نہیں آتی البتہ اسلام کی حد کو کبھی توڑنے کی کوشش نہ کیجئے، یہ حد صحابہ کرام اور اہل بیت پاک کے ادب و احترام کی حد ہے۔
جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی طرف کفر منسوب کرتا ہے یا گالی دیتا ہے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کفر منسوب کرنا یا گالی دینا چاہے ظاہراً یا باطناً ہو، اشارے یا کنایہ سے ہو، بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ہو، کیونکہ ایسے شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ بالواسطہ طور پر اپنی اس گستاخی و زبان درازی کا نشانہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنا رہا ہے جو یقیناً کفر ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی تعریف تو عمر بھر کرتا رہے، عظمت صحابہ رضی اللہ عنہ کے نعرے لگاتا رہے مگر اپنے دل میں اہل بیت رضی اللہ عنھم کی محبت نہ رکھے، اس کے دل میں اہل بیت رضی اللہ عنھم کے بارے میں بغض ہو اور اہل بیت رضی اللہ عنھم اطہار کا ذکر سن کر اس کے دل میں گھٹن آئے اس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
آیئے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ سے دوسرا سبق امن کا حاصل کریں۔ ہر کسی کو یاد حسین رضی اللہ عنہ اپنے اپنے طریقے سے منانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ہر ایک کو عظمت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی یاد منانے کا حق حاصل ہونا چاہئے کہ پاک سر زمین ہے ہی اس لئے کہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی عظمت کے ترانے گونجیں، اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کی عظمت و محبت کے ترانے گائے جائیں۔ جس سر زمین پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بے ادبی اور گستاخی ہو، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو گالی دی جائے یا اہل بیت رضی اللہ عنھم پر طعن زنی ہو، الزام تراشی اور گستاخی ہو پھر وہاں مسلمان زندہ بھی رہیں تو وہ مسلمان بے حمیت ہیں۔ مسلمانوں کی سر زمین پر نہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف زبان کھلنی چاہئے اور نہ ہی اہل بیت پاک رضی اللہ عنھم کے خلاف بے ادبی کی زبان کھولنے کی اجازت ہونی چاہئے۔
افسوس! پاکستان کی سر زمین وہ زمین ہے جس پر مدتوں سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے، زبان درازیاں ہو رہی ہیں، گستاخی رسول پر کتابیں لکھی گئیں، لٹریچر چھاپے جارہے ہیں مگر آج تک کوئی گستاخ رسول پھانسی پر نہیں چڑھایا گیا۔ اس بدبختی کی انتہاء پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اسی سر زمین پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی گستاخیاں ہورہی ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اور خلفائے راشدین کی گستاخی میں کتابیں اور لٹریچر چھاپا جا رہا ہے مگر آج تک صحابہ رضی اللہ عنہ کے کسی گستاخ کو پھانسی پر نہ لٹکایا گیا۔ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کی گستاخی ہوتی رہی، اس سر زمین پر امام حسین رضی اللہ عنہ کو (نعوذ باللہ) باغی قرار دیا جاتا رہا، یزید کی خلافت اور فضیلت پر کتابیں لکھی جاتی رہیں، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف اس ملک میں زبانیں کھلتی رہیں، لوگ اپنا اور اپنے بیٹوں کا نام یزید رکھنے لگے، یزیدیت اور بغض اہل بیت فروغ پاتے پاتے انتہا تک جا پہنچا مگر اس ملک میں کسی دشمن اہل بیت کو پھانسی پر نہ لٹکایا گیا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک میں یہ قانون نافذ کردیا جائے کہ جو کوئی گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتکب ہو اسے حد کے طور پر پھانسی پر لٹکایا جائے۔ جو گستاخ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہل بیت ہو اسے تعزیراً پھانسی پر لٹکایا جائے۔ شاتم رسول، شاتم صحابہ اور شاتم اہل بیت کی سزا اگر پاکستان کی سر زمین پر بلا امتیاز سزائے موت نافذ کردی جائے تو فقط دو تین گستاخوں کو پھانسی پر لٹکانا ہوگا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے اور اس لحاظ سے پاکستان میں مکمل امن ہوجائے گا۔ مذکورہ قانون کے علاوہ یہ قانون بھی ہونا چاہئے کہ جو کوئی کتاب یا لٹریچر گستاخی رسول، گستاخی صحابہ کرام یا گستاخی اہل بیت اطہار پر مبنی ملے، اسے ضبط کرلیا جائے یا جلا دیا جائے۔ پھر ایک قانون یہ بھی ہو کہ کسی دوسرے کے مسلک پر تنقید نہ کی جائے، نہ کسی کو گالی دو اور نہ بے ادبی کرو، ادب و احترام سے چلو، قرآن وسنت کی رو سے اپنے اپنے مسلک کے دائرے میں چلتے رہو، اپنے مسلک کی حقانیت پر خوب دلائل دو اور مسلک کی تعریف کرو مگر دوسرے کو نہ برا بھلا کہو، نہ گالی دو اور نہ تحقیر کرو۔ یہ اصولی بات ہے حتی کہ قرآن پاک میں یہ ہے کہ کافروں کے بتوں کو بھی گالی نہ دو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو گالی نہ دینے لگیں۔ اپنے مسلک اور عقیدے پر چلا جائے اور دوسرے پر طعن نہ کیا جائے۔ ان تین قاعدوں اور اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے پاکستان فرقہ وارانہ فسادات سے بچ جائے گا۔
|