لندن میں سید عشرت حسین کے گھر پر مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا 15.12.2010, 01:05am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار ملٹی میڈیا
لندن میں اتوار کے روز سید عشرت حسین کے گھر پر شام میں ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا جسمیں زیادہ تر نوجوانوں نے شرکت کی۔ یہ سالانہ مجلس سید عشرت حیسن کے دونوں بیٹوں کی رسم سقائی کے موقع پر منعقد ہوتی ہے
اس سال اس مجلس عزا سے شاعر،ادیب اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے خطاب کیا اور مرثیہ نو تصنیف پیش کیا۔
مجلس عزا میں مختلف سوز خوانوں نے سوز،سلام اور مرثیہ پڑھا جس کے بعد صفدر ھمدانی نے سوگواران حسین سے خطاب کرتے ہوئے خاص طور پر نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اگر خود کو اہلبیت کے ماننے والے اور مولائے متقیان علی علیہ السلام کے غلام کہتے ہیں تو اس غلامی کو ثابت کرنے کے لیئے انہیں اپنے ذاتی علم میں اضافہ کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برس سے منبر کو ذاتی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جارہا ہےاور اس منبر سے اسوہ اہلبیت اور علوم اہلبیت کا ذکر بہت کم ہورہا ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زر دیا کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کی آمیزش سے مجالس پڑھنے کی کوشش کریں۔
مجلس کے اختتام پر نوحہ و ماتم ہوا اور سید عشرت حیسن کے دونوں بیٹوں کی رسم سقائی ادا کی گئی جس کے بعد نیاز امام حسین تقسیم کی گئی۔
...............۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن میں ریحان جعفری اورحنا جعفری کے گھر پر اتوار بارہ دسمبر ۲۰۱۰ کو سالانہ مجلس عزا منعقد ہوئی جسمیں بڑی تعداد میں سوگواران حسین نے شرکت کی
مجلس عزا میں شاعر اہلبیت اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے مرثیہ نوتصنیف پیش کیا۔
مجلس عزا کا آغاز تلاوت حدیث کساٗ سے ہوا جس کے بعد معروف سوز خوان نثار حیدر نے پہلے شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی کی رباعیات اور بعد میں سلام اور مرثیہ پیش کیا جس کے بعد زیدی برادران نے سوز وسلام اور مرثیہ نزر امام مظلوم کیا۔ ان کے بعد جناب عابدی نے ڈاکٹر پیام اعظمی کا مرثیہ تحت اللفظ میں پیش کیا
آخر میں شاعر اہلبیت اور مرثٰیہ نگار صفدر ھمدانی نے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا لیکن اس سے قبل شرکائے مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پچیس تیس سال میں کربلا والوں کی یاد کی حامل مجالس روایتی مجالس بنتی چلی جا رہی ہیں اور علم و فکر ان مجالس سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے اس امر پرزور دیا کہ عام انسان کو علم حاصل کرنا ہے کیونکہ روز محشر اس نے اپنا حساب خود دینا ہے اور کوئی اسکی جگہ جواب نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولائے متقیان علی ابن ابی طالب نے اسی لیئے علم کو حقیقت وحدانیت قرار دیا ہے کہ علم یقین دلاتا ہے جبکہ یقین معرفت اور معرفت توثیق تو حید ہے۔
خطاب کے بعد شاعر اہلبیت نے حضرت عون ومحمد اور حضرت علی اصغر کی شہادت کی مناسبت سے مرثیہ پیش کیا۔ مرثیے کے اختتام پر نوحہ و ماتم ہوا اور شرکائے مجلس عزا کے لیئے نیاز امام حسین پیش کی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں تنظیم محبان اہلبیت کے زیر اہتمام مجالس محرم
الحرام کی خمسہ مجالس کی پانچویں اور آخری مجلس جمعہ دس دسمبر کو منعقد ہوئی جس میں اسد جعفری کی تلاوت کے بعد حاجی موسیٰ علی خان نے حدیث
کساٗ پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ کاظم عباس اور سید انتصار مہدی نے امام مظلوم کو نزرانہ عقیدت پیش کیا۔
تنظیم محبان اہلبیت کے روح رواں پرویز جعفری نے اپنے خطاب میں خمسہ مجالس کی آخری مجلس کے موقع پر شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجالس کی یہ طرز انہی مجالس کا احیا ہے جن میں منبر سے علم اور عظمت آل رسول بیان کی جاتی تھی اور شرکا مجلس کچھ لیکر مجالس سے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے یقین ظہار کیا کہ اگلے برس انشااللہ مکمل عشرہ مجالس عزا منعقد کیا جائے گا۔
جناب پرویز جعفری نے اس موقع پر کنور مہندر سنگھ بیدی کے چند قطعات بھی پیش کیئے انکے بعد چوہدری
اسلم نے صفدر ھمدانی کی رباعیات پیش
کیں جسکے بعد ناظم مجلس عزا پرویز جعفری نے لندن سے مدعو کردہ
دانشور،شاعر،ادیب،صحافی اور مرثیہ نگار
صفدر ھمدانی کو دعوت خطاب دی گئی
شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی نے آج کی تقریر میں اس خمسہ مجالس کے منتظمین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ مولائے کائنات سے عشق کا تقاضہ ہے کہ حصول علم کو اپنی عادت بنائی جائے اور ہر امر کو عقلی سطح پر پرکھا جائے۔
انہوں نے سورہ والعصر کو
ہی سرنامہ گفتگو بناتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کے بعد حق اور صبر کے حوالے نہج البلاغہ
میں مولائے متقیان
کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک نے جس جس ترتیب سے سورہ والعصر میں فکر انسانی کے لیئے رزق فکر پیش کیا ہے مولائے کائنات نے اسی ترتیب سے اس سورہ مبارکہ کی تفسیر اور تفصیل پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولا علی علیہ السلام فکر ختم المرسلین کا سلسلہ ہیں اور یہی سلسلہ آل رسول کے ہر فرد میں نظر آتا ہے۔
مجلس عزا کے بعد نوحہ و ماتم ہوا اور عزاداران حسین کے لیئے نیاز امام مظلوم پیش کی گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں تنظیم محبان اہلبیت کے زیر اہتمام مجالس محرم
الحرام کی خمسہ مجالس کی چوتھی مجلس جمعرات نو دسمبر کو منعقد ہوئی جس میں اسد جعفری کی تلاوت کے بعد حاجی موسیٰ علی خان نے حدیث
کساٗ پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ کاظم عباس اور سید انتصار مہدی نے امام مظلوم کو نزرانہ عقیدت پیش کیا
چوہدری
اسلم نے حسب سابق صفدر ھمدانی کی رباعیات پیش
کیں جسکے بعد ناظم مجلس عزا پرویز جعفری نے لندن سے مدعو کردہ
دانشور،شاعر،ادیب،صحافی اور مرثیہ نگار
صفدر ھمدانی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے آج کی تقریر میں سورہ والعصر کو
ہی سرنامہ گفتگو بناتے ہوئے ایمان کے بعد عمل صالح کے حوالے نہج البلاغہ میں مولائے متقیان
کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک نے عمل صالح کے لیئے ہی اپنے صالح بندے ہر عہد میں زمین پر بھیجے اور زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اہلبیت انہی صالح بندوں میں سے ہیں۔
صفدر ھمدانی نے کہا کہ اسلام کی وحدت اور اتحاد کو فرقہ بندی نے پارہ پارہ کیا ہے اور یہ کام کسی اور نے نہیں خود مسلمانوں کے اس طبقے نے ہی سب سے زیادہ سر انجام دیا ہے جس کے ذمے مسلمانوں کی غالب اکثریت کی قیادت تھی۔ منبر اور مسجد کو ذاتی مفادات اور تعلقات کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے اور عوام کو دین الہی،دین ختم الانبیا اور دین اہلبیت کی بجائے عوامی سہولت کے مطابق دین پہنچایا جا رہا ہے۔ایسے میں افراد کی ذمیداری اور فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے انفرادی علم میں اضافہ کریں
مجلس عزا کے بعد نوحہ و ماتم ہوا جس کے اختتام پر تبرک تقسیم کیا گیا
منہاج الحسین برلین (رجسٹرڈ) کے
مرکز "مسجد المجتبٰی" میں اس سال عشرہء محرم الحرام کی مجالس سے خطاب کرنے
کے لیے ویانا، آسٹریا میں مقیم حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا صفدر علی
صفدری صاحب کو دعوت دی گئی تھی، مولانا صاحب کی کرم نوازی کہ انہوں نے یہ
دعوت قبول کی اور سات دسمبر سے یہاں کے مؤمنین کو اپنے علم سے مستفید فرما
رہے ہیں۔ مولانا صاحب کا موضوعِ کلام "امام الزمان (عج) کی معرفت" ہے، اس
موضوع کو مولانا صاحب نے کئی ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا اور ہر روز ایک پر
بات کرتے ہیں، مثال کے طور پر چند ذیلی موضوعات یہ ہیں :
فلسفہء غیبت امام الزمان کے حالات (قبل از غیبتِ کبرٰی) امام الزمان کی ضرورت امام الزمان کے انتظار کی صورتیں (ہمارے فرائض) امام الزمان اور نوجوان امام الزمان اور خواتین وغیرہ، وغیرہ
ہر روز مجالس کا آغاز تلاوتِ قران مجید سے ہوتا ہے جس کے بعد حدیثِ کِساء پڑھی جاتی ہے ۔ مجلس کے بعد ماتمِ امامِ مظلوم اس کے بعد حاضرین کی خدمت میں مولا حسین علیہ السلام کی نیاز پیش کی جاتی ہے۔
سب
سے آخر میں ہر روز سوال و جواب کی نشست منعقد کی جاتی ہے جس میں مؤمنین
بہت ذوق و شوق سے حصہ لے رہے ہیں، پہلے دو دنوں کی ان نشستوں کے بعد خواتین
نے اس سلسلہ سے بھی استفادہ کی خواہش ظاہر کی ہے اور اب مجلس کی طرح عبادت
کے اس حصہ سے بھی مستفیض ہو رہی ہیں۔
منہاج
الحسین برلین (رجسٹرڈ) کے صدر جناب صفدر علی ملک صاحب، ان کی انتظامیہ و
دیگر مؤمنین قابلِ ستائش ہیں کہ انہوں نے اس قدر مفید پروگرام کا انتظام و
اہتمام کیا، ان مجالس میں بہت سے برادرانِ اہلِ سنت و الجماعت شریک ہو کر
اور مولانا موصوف کے ساتھ سوال و جواب کی ان نشستوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
ان مجالس کے نقیب، تنظیم کے جنرل سیکریٹری جناب حیدر علی جعفری صاحب ہیں .......................... جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں تنظیم محبان اہلبیت کے زیر اہتمام مجالس محرم
الحرام کی خمسہ مجالس کی تیسری مجلس بدھ آٹھ دسمبر کو منعقد ہوئی جس میں تلاوت کے بعد حاجی موسیٰ علی خان نے حدیث
کساٗ پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ کاظم عباس اور سید انتصار مہدی نے امام مظلوم کو نزرانہ عقیدت پیش کیا
چوہدری اسلم نے صفدر ھمدانی کی رباعیات پیش
کیں جسکے بعد ناظم مجلس عزا پرویز جعفری نے لندن سے مدعو کردہ دانشور،شاعر،ادیب،صحافی اور مرثیہ نگار
صفدر ھمدانی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے آج کی تقریر میں سورہ والعصر کو
ہی سرنامہ گفتگو بناتے ہوئے ایمان کے حوالے نہج البلاغہ میں مولائے متقیان کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک نے زمانے کی قسم کھاتے ہوئے
انسان کو خسارے سے خبردار کیا ہے اور مختصر سورہ میں اولیں خوشخبری ایمان والوں کے لیئے اور مولا علی فرمان ہے کہ ایمان کے چار ستون ہیں صبر،یقین،عدل اور جہاد جبکہ عدل کی چار شاخیں ہیں اشتیاق،خوف،دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔ جنت کا مشتاق خواہشوں کو بھلا دے گا اور دوزخ سے خوف کھانے والا محرمات سے کنارہ کشی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دعویٰ عشق علی ایک امتحان ہے اورمولائے کائنات سے عشق کے اظہار کی اولیں شرط حصول علم ہے۔ انہوں نے پہلے حصے میں خطاب کے بعد دوسرے حصے میں مرثیہ نو تصنیف پیش کیا اور تسلسل کلام میں فلسفہ نعرہ حیدری بیان کیا۔
مرثیے کے اختتام پر مصائب شہزادہ علی اکبر بیان کیئے گئے جس پر مومین و مومنات میں گریہ زاری جاری رہی اور بعد میں ماتم ونوحہ ہوا اور شرکا میں نیاز تقسیم کی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں تنظیم محبان اہلبیت کے زیر اہتمام مجالس محرم الحرام کی خمسہ مجالس کی دوسری مجلس منگل سات دسمبر کو منعقد ہوئی جس میں گزشتہ روز کی طرح تلاوت اسد جعفری نے کی اور حاجی موسیٰ علی خان نے حدیث کساٗ پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ چوہدری اسلم نے صفدر ھمدانی رباعیات پیش کیں جسکے بعد لندن سے مدعو کردہ دانشور،شاعر،ادیب،صحافی اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے آج کی تقریر میں سورہ والعصر کو ہی سرنامہ گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک نے زمانے کی قسم کھاتے ہوئے انسان کو خسارے سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن جو فصاحت و بلاغت کا ایک معجزہ ہے اسمیں خلاق دو جہاں نے سورہٗ بقرہ جیسی طویل سورتیں بھی رکھی ہے اور سورہ کوثر اور والعصر جیسی مختصر ترین سورتیں بھی جو اس امر کی دلیل ہیں کہ اپنے اختصار کے باوجود یہ مختصر ترین صورتیں بھی خلاصہ قرآن ہیں لیکن اپنی جامعیت کے حوالے سے یہ کسی صورت بھی کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ محمد و آل محمد سے محبت ہے جو انسان کے اس خسارے کو نفع میں بدل سکتی ہے۔ انہوں نے دین اسلام میں فرقہ بندی کی لعنت کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیئے اور مرکزیت کو کمزور کر نے کے لیئے فرقہ بندی کا زہر سرایت کیا گیا ہے اور ضروری ہے مجالس عزا میں اہل سنت کو بھی مدعو کیا جائے کہ انکے بے جا شکوک دور ہوں کہ اور مسلمانوں کے دو بڑے فرقے مل کر نواسہٗ رسول کا غم منائیں
جرمنی کے شہر شٹٹگارٹ میں تنظیم محبان اہلبیت کے زیر اہتمام مجالس محرم الحرام کا آغاز ہو گیا ہے اور خمسہ مجالس میں سے استقبال محرم الحرام کی مجلس چھ دسمبر کی رات آٹھ بجے منعقد ہوئی جسمیں مقامی مومنین و مومنات نے شرکت کی۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جناب پرویز جعفری اور سید انتصار مہدی کی قیادت میں اس تنظیم نے جرمنی کے اس صنعتی شہر میں مجالس محرم کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اولین مجالس سے خطاب کے لیئے لندن سے معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار اور دانشور صفدر ھمدانی کی خطاب کی دعوت دی گئی ہے
مجلس کا آغاز کاظم عباس اور اسد جعفری نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد حدیث کساٗ حاجی موسیٰ علی خان نے پڑھی اور شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی کی رباعیات چوہدری اسلم نے پیش کیں۔
تنظیم کے روح رواں پرویز جعفری نے شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی کو خطاب کی دعوت دی اور انکا مختصر تعارف کروایا جس کے بعد صفدر ھمدانی سوگواران حسین سے اپنے ایک گھنٹے کے خطاب میں علم اور اسکی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی اور مختلف رخ سےاس عہد میں منبر کے غلط استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ذکر آہلبیت میں تجارتی اور منفعت بخش اذہان نے اسے عبادت سے تجارت بنا دیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ سامنے آئیں اور ذکر اہلبیت شروع کریں تاکہ علمی مجالس کا احیا کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ سامعین کو اپنے علم اور مطالعے میں اضافہ کرنا چاہیئے تا کہ وہ خطبا اور زاکرین کی مجالس پر ہی انحصار نہ کریں۔ انہوں نے قرآن کی سورہ والعصر کو سرنامہ گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ آج کا انسان اسی وجہ سے خسارےمیں ہے کہ اس نے علم سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں