16.10.2026, 02:17am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
26.10.2014, 09:10am , اتوار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا مہینہ ہے ، اسی ماہ سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے -

التوبۃ ( 36 ) اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے )
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2958 ) ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :
لہذا تم ان میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو } اس کا معنی یہ ہےکہ :
یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سےاس آيت { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں مروی ہے :
تم ان سب مہینوں میں ظلم نہ کرو اورپھر ان مہینوں میں سے چارکو مخصوص کرکےانہيں حرمت والے قراردیا اوران کی حرمت کوبھی بہت ‏عظيم قراردیتے ہوئے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔

قتادہ رحمہ اللہ تعالی اس آیت : { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں کہتے ہيں

حرمت والے مہینوں میں ظلم وستم کرنادوسرے مہینوں کی بنسبت یقینا زيادہ گناہ اوربرائي کا باعث ہے ، اگرچہ ہرحالت میں ظلم بہت بڑي اور عظيم چيز ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنے امرمیں سے جسے چاہے عظيم بنا دیتا ہے :

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہيں :
بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کواختیارکرکے اسے چن لیا ہے : فرشتوں میں سے بھی پیغبر چنے اورانسانوں میں سے بھی رسول بنائے ، اورکلام سے اپنا ذکر چنا اورزمین سے مساجد کواختیار کیا ، اورمہینوں میں سے رمضان المبارک اورحرمت والے مہینے چنے ، اورایام میں سے جمعہ کا دن اختیارکیا ، اورراتوں میں سے لیلۃ القدر کوچنا ، لہذا جسے اللہ تعالی نے تعظیم دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو ، کیونکہ اہل علم وفہم اورحل وعقد کے ہاں امور کی تعظیم بھی اسی چيز کےساتھ کی جاتی ہے جسے اللہ تعالی نے تعظيم دی ہے ۔

تفسیر ابن کثیر اور تفسیر ابن کثیر سورۃ التوبۃ آیت نمبر ( 36 ) میں ہے ۔
محرم الحرام کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھنے کی فضیلت :

ابوہریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( رمضان المبارک کے بعدافضل ترین روزے اللہ تعال کے مہینہ محرم الحرام کے روزے ہيں )
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1982 ) ۔

یکم محرم الحرام کے اہم واقعات

1. آغاز ایام عزاء
محمد و آل محمد (ص) کے حزن واندوہ کا پہلا دن ہے ۔ تمام انبیاء و ملائکہ ، تمام اہل اسلام کے لئے غم اندوہ کا دن ہے ۔

2. یکم محرم الحرام کے دن خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔آپ کے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔

نام ونسب
آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و*کنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی
آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

ہجرت
ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ” تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے” مگر کسی کافر کی ہممت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔

عمر ابن الخطاب ، رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں
ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا “جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔” [صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 ]

مزید ایک موقع پر فرمايا ” اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زندگی کے اہم واقعات
آپ ایک انصاف پسند حاکم تھے۔ یک مرتبہ آپ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جھاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔

جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :
1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔
3-باریک کپڑا نہ پہننا۔
4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔
اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

شہادت
یکم محرم کو ایک ایرانی مجوسی غلام ابولولو فیروز نامی بدبخت نے آپ کو اس وقت شہید کردیا جب آپ نماز پڑھارہے تھے۔آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

3. آج جناب زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی

4. واقعہ شعب ابی طالب (ع)
مولوی شبلی صاحب نے لکھا ہے کہ اہل قریش تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کو محصور کرکے تباہ کر دیا جائے چنانچہ تمام قبائل نے ایک معاہدہ مرتب کیا کہ کوئی شخص خاندان بنی ہاشم سے نہ قرابت کرے نہ ان کے ہاتھ خرید و فروخت کرے نہ ان سے ملے نہ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان جانے دے جب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کے لئے حوالے نہ کر دیں ۔ یہ معاہدہ منصور ابن عکرم نے لکھا اور در کعبہ پر آویزاں کردیا گیا ۔ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان بنی ہاشم کے ساتھ شعب ابو طالب میں پہاڑ کا ایک درہ تھا جو خاندان ہاشم کا موروثی تھا پناہ گزیں ہئے تین سال تک بنی ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ پتے کھا کھا کے بسر کرتے تھے ابن سعد کی روایت ہے کہ بچے جب بھوک سے روتے تھے تو باہر آواز آتی تھی قریش سن سن کر خوش ہوتے تھے ۔(سیرت النبی ،ج/۱ص/۱۸)

علامہ حلبی نے لکھا ہے :
”حضرت ابو طالب (ع) یہ معمول بنا لیا تھا کہ ہررات حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے کہ میرے پاس میرے ہی فرش پر سو رہو پھر جب سب لوگ سو جاتے تھے تو آپ حضرت کو اس جگہ سے ہٹا دیتے اور اپنے بیٹوں یا حقیقی بھائیوں یا چچا زاد بھائیوں سے کسی کو حکم دیتے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو رہے اس خوف سے کہ شب کو کوئی دشمن دھوکے سے حضرت کو قتل نہ کر دے“ ( سیرت حلبیہ ،ج/۱ص/۳۴۲)

قریش کے بائیکاٹ ختم ہونے کی وجہ
اس شعب سے نکلنے کی بھی جو صورت ہوئی وہ جناب ابو طالب (ع)کے کمال ایمان کی دلیل ہے جب شعب میں تقریبا تین برس ہو گئے تو ایک روز حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب ابو طالب سے کہا: اے چچا مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ عہد نامہ قریش کے وہ تمام الفاظ جو ظلم اور قطع برادری پر مشتمل تھے کیڑوں نے کھا لئے اور اس میں سے صرف وہ ٹکڑا باقی رہ گیا ہے جس پر خا کا نام لکھا ہوا تھا”و کان ابو طالب لا یسک فی قولہ “ جناب ابو طالب (ع) کا یہ حال تھا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو خبر یا وحی بیان کرتے تھے اس میں ذرہ برابر شک نہیں کرتے تھے یہ سنتے ہی اس پر بھی یقین کر لیا اور شعب سے نکل کر قریش کے پاس گئے اور کہا : کہ جو تم نے عہد نامہ لکھا ہے اسے کیڑا کھا گیا ہے اور خدا کے نام کے سوائے اس کا کوئی مضمون باقی نہیں رہا ۔

محمد (ص) نے مجھ سے ایسا بیان کیا ہے اس کا کاغذ کو منگا کر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی خبر صحیح ہو کہ تم سب ہم لوگوں پر ظلم و قطع رحم کر رہے ہو اور اگر ان کی خبر جھوٹ نکلے تو ہم سب لوگ جان جائیں گے کہ تم لوگ ہی حق پر ہو اور ہم لوگ باطل پر ہیں یہ سن کر سب کے سب جلدی گھڑے ہو گئے اور اس عہد نامہ کو اتار لائے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو فرمایا ہے بالکل صحیح ہے ۔
اب تو ابو طالب کا نفس خوب مضبوط ہو گیا ان کی آواز میں بھی طاقت آگئی کہنے لگے اب تو تم لوگوں پر اچھی طرح واضح ہو گیا کہ اس معاملہ میں تم ہی لوگ ظلم و ستم کرتے اورقطع رحمی کا ارتکاب کر رہے ہو اس پر ان سب نے اپنے اپنے سر جھکالئے پھر اس عہد نامے کے توڑ نے کو آمادہ ہو گئے ۔

4. جنگ ذات الرقاع
یہ واقعہ ۴ ء ہجری کا ہے ، مدینہ منورہ کے اطراف میں جو کفار (قبیلہ انمار ، ثعلبہ اور غطفان ) رہتے تھے وہ لوگ مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہتے تھے لیکن رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چار سو یا سات سو افراد کے ساتھ مدینہ کے باہر تشریف لے گئے جہاں پر ان کفار سے جنگ ہوئی ، یہ جنگ تین دن تک ہوتی رہی آخر کار اسلام کو کامیابی حاصل ہوئی۔ایک قول کی مطابق یہ جنگ ماہ جمادی الاول ۴ ھء میں دشمن مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ھتا لہٰذا آنحضرت (ص) نے اصحاب کو لیکر ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے آگے بڑھے لیکن وہ سامنے نہ آئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔

5. اسلام میں زکات اصول کرنے کی ابتداء

6. یزید کے خلاف اہل مدینہ کا قیام۔

7. یکم محرّم الحرام، کفّار قریش کااصحاب و انصار سےاقتصادی بائیکاٹ
بعض مورخین کے بقول ہجرت نبوی (ص) سے 6 سال قبل یکم محرم کے دن ، حضور اکرم (ص) اور آپ (ع) کے اصحاب و انصار کے بائیکاٹ کے لئے کفّار قریش نے معاہدہ کیا ۔ کفّار کے سرغنے اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے ، اسی لئے انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو روکنے اور مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

اس معاہدے کی روسے ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے کسی قسم کالین دین کرے ۔ اس معاہدے کے تحت حضور اکرم (ص) اور آپ (ص) کے انصار واجبات تین سال تک مکے کے نزدیک ایک درے میں محصور رہے جسے شعب ابی طالب کہتے ہیں ۔

8. حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کو اس مدت میں سختیاں جھیلنی پڑیں ، لیکن آپ (ص) کے باوفا اصحاب نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا ، شعب ابی طالب میں محاصرے کے دوران ، پیغمبر اکرم (ص) کے عزیز چچا حضرت ابوطالب اور شریک حیات حضرت خدیجۃ الکبری (ع) نے وفات پائی ۔

قریش کے بعض سردار جو مسلمانوں سے خونی رشتہ رکھتے تھے ، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نادم ہوگئے اور انہوں نے حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کا محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ معاہدے کا متن دیکھنے گئے تو وہ انگشت بدنداں رہ گئے ، پوری تحریر کو سوائے خداوند عالم کے نام کے دیمک نے چاٹ لیا تھا ۔اس طرح مسلمانوں کا بائیکاٹ ہجرت سے تین سال قبل 15 رجب کو ختم ہوگیا ۔

حضرت خدیجہ الکبریٰ

حضرت خدیجہ ، مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔

جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراھیم جوکہ ماریہ قبطیہ رضي اللہ تعالی عنہا سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبطورھدیہ پیش کی گئ تھیں ۔

 حدیث میں ذکر
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت خدیجہ کو بہت یاد کرتے تھے۔ حافظ ابن کثیر   ( البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 144 ) نے مختلف لوگوں سے روایت لکھی ہے کہ حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سامنے حضرت خدیجہ کو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے۔

 جس پر حضرت عائشہ  رضي اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ

 ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔(جو زندہ رہتی)
(البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 144 )

 وفات
حضرت خدیجہ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی جب حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی۔ اس سال کو عام الحزن کا نام ملا۔ روایات کے مطابق انہیں جنت میں موتیوں سے تیار کردہ گھر ملے گا۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نے ایک دن حاضر ہو کر حضرت خدیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدیجہ ہیں ان کا ساتھ اور کھانا پینا ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام بھیجا ہے اور میں بھی انہیں سلام کہتا ہوں۔

 اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ انہیں بشارت دے دیجئے کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک بڑا خوشنما اور پرسکون مکان تعمیر کرایا ہے۔ جس میں کوئی پتھر کا ستون نہیں ہے۔ یہی روایت امام مسلم نے حسن بن فضیل کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔۔۔ اسی روایت کو اسی طرح اسماعیل بن خالد کی روایت سے بخاری نے بھی بیان کیا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 143 )

اولاد
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کی تعداد سات جن میں تین بیٹے اورچار بیٹیاں ہیں جن کے نام ذيل میں دیے جاتے ہيں :
بیٹے :

1 – القاسم رضی اللہ تعالی عنہ

2 - عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ

3 - ابراھیم رضي اللہ تعالی عنہ

بیٹیاں :
1 - زینب رضي اللہ تعالی عنہا

2 - رقیہ رضي اللہ تعالی عنہا

3 - ام کلثوم رضي اللہ تعالی عنہا

4 - فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا

حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تمام اولاد ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گئی۔

9. یکم محرم سنہ 19 ہجری قمری کو اسلامی لشکر نے مصر کو فتح کیا

یہ سرزمین اس وقت رومی بادشاہت کے زیر قبضہ تھی اور اہل مصر رومی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے اور وہ دلی طور پر مسلمانوں کی کامیابی چاہتے تھے ۔ آخر کار اسلامی لشکر نے رومی فوج کو شکست دے کر مصر کے شہر یکے بعد دیگرے فتح کرلئے اور یہ ملک بھی اسلامی حکومت کے دائرے میں شامل ہوگیا ۔

10. یکم محرم سنہ 1011 ہجری قمری کو مشہور مسلمان عالم دین شیخ حسن بن زین الدین نے وفات پائی

وہ عظیم مرجع تقلید شہید ثانی کے فرزند تھے ۔شیخ حسن 959 ہجری قمری میں جنوبی لبنان میں واقع شہر جیل عامل میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے بچپن سے ہی قرآن کریم اور دیگر دینی علوم حاصل کرنا شروع کئے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وہ حوزہ علمیہ نجف اشرف گئے ۔ آپ نے قوی حافظے اور بھر پور صلاحیتوں کی بنا پر بہت جلدی دینی علوم پر عبور حاصل کرلیا ۔ انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کیں ۔ ان کی مشہور ترین کتاب” معالم الدین و ملاذ المجتہدین “ہے ۔ اس کتاب کی وجہ سے وہ صاحب معالم کے لقب سے مشہور ہوئے ۔

پہلی محر م کے دن کے اعمال
یہ سال کا پہلا دن ہے اور اس کے لئے دوعمل بیان ہوئے ہیں ۔

1.۔ روزہ رکھے اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا سے روایت کی ہے ۔کہ جوشخص پہلی محر م کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کر ے تو وہ اس کی دعا ء قبو ل فرما ئے گا۔ جیسے حضرت زکر یا علیہ السلام کی دعاء قبو ل فر مائی تھی ۔

2. ۔ امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ پہلی محرم کے دن دو رکعت نمازادا فرماتے اورنماز کے بعداپنے ہاتھ سو ئے آسما ن بلند کر کے دعاء پڑھتے تھے :

شیخ طوسی نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے ۔3. یو م عاشور کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے

پہلی محر م کی رات کے اعمال

کتاب اقبال میں اس رات کی چندنمازیں ذکر فرمائی ہیں :

1. ۔ سو رکعت نماز کہ ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید پڑھے :

  1. 2. ۔ دو رکعت نماز کہ پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ انعام اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ یاسین پڑھے :

3. ۔ دورکعت نماز کہ ہر رکعت میں سو رئہ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے

حوالہ جات

1. ^ ابن عساکر
2. ^ ابن عساکر
3. ^ دمع السجوم ص 252
4. ^ خصائص الکبریٰ ، الصواحق المحرقہ
5. ^ بخاری شریف، مشکوٰۃ ، مستدرک الحاکم، خصائص الکبریٰ
6. ^ صحیح البخاری
7. ^ ترمذی شریف
التماس دعا


:دیگر مضامین
(25.10.2014) معروف ذاکر اہلبیت اور خطیب ملت علامہ نسیم عباس رضوی جہان فانی سے کوچ کر گئے
(25.10.2014) آغاز محرم الحرام ۔قربانی کے درس کی یاد۔از؛ صفدر ھمٰدانی
(25.10.2014)  سورج کی روشنی سے چلنے والا ڈی جے سسٹم تیار کر لیا گیا
(23.10.2014) خانہ کعبہ کے کلید بردار شیخ عبدالقادر الشیبی74 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
(23.10.2014) شیخ نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی
(21.10.2014) معروف فن کارسلیم ناصر کی پچیسویں برسی خاموشی سے گزر گئی
(15.10.2014) محبت اپنی فطرت میں دین جیسی ہوتی ہے  ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(14.10.2014) اقلیتوں کا تحفظ۔ ہماری دینی ذمہ داری۔ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
(11.10.2014) خطرناک اور خوفزدہ کرنے والا ایبولا وائرس کیا ہے؟ ۔۔ تحریر۔ محمد فیصل
(08.10.2014)  لاہور: بحریہ ٹائون سیکٹر ای میں دنیا کی 7ویں بڑی مسجد کا افتتاح
(06.10.2014) برطانیہ میں روبوٹ سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دینے لگے
(05.10.2014)  مسجد نمرہ میں مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبداللہ کا خطبہ حج
(03.10.2014) حج و عمرہ۔ فلسفہ ، عملی مشکلات اور علاج۔۔۔۔۔۔ از۔۔۔۔ پروفیسر محمد عقیل
(30.09.2014) واقعہ کربلا کے تذکروں سے ہم کو دو کرداروں کی پہچان ہوتی ہے ۔ایک حسینی دوسرا یزیدی
(27.09.2014) مشرقی لندن کی امامبارگاہ جس نے کیمونٹی میں اتحاد کی بجائے پھوٹ ڈالی
(22.09.2014) ایک ماہ سے عمران خان اور طاہر قادری صاحب کی تقاریر سن رھے ہیں
(21.09.2014)  پاکستان کی 80 سالہ تاریخ میں کبھی اتنا تباہ کن سیلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔
(16.09.2014) جاوید چوہدری کے کالم کے جواب میں ایک محب وطن کا جواب ۔از: فہد جاوید ۔ فیصل آباد
(14.09.2014) آسکر پسٹوریس ٹرائل: ایتھلیٹ قتل عمد کے الزام سے بری، قتل خطا کے مجرم قرار
(12.09.2014) عوام پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کب تک جاری رہے گی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں