16.10.2026, 06:44am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
01.11.2014, 09:45am , ہفتہ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
ساتویں محرم الحرام بروزمنگل عمر ابن حجاج کو پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا کہ امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے  پھر مزید احتیاط کے لیے چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا۔ اور پانی کی بندش کر دی گئی۔

پانی بند ہو جانے کے بعد عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی  جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا  پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی جس کا جواب حضرت عباس نے دیا۔  آپ نے غالباََ طعنہ زنی کے جواب میں خیمہ سے انیس قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔

 اور یہ بتادیا کہ ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے۔لیکن ہم اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں۔

آج ساتویں تاریخ ہوگئی۔ آج کربلا میں نہر کے گھاٹ پر پہرے بٹھادئیے گئے کہ کافر اگر پانی پینا چاہیں تو پلادینا مگر رسول کی اولاد کو پانی نہ دینا۔ یہ غالباً آج ہی تاریخ ہے سات محرم کہ جب فوجوں کے ہجوم ہونے لگے تو مسلم ابن عوسجہ نے امام زین العابدین علیہ السلام سے یہ کہا کہ آقا زادے! ذرا آپ کچھ ادھر آئیں تو میں کچھ بات کروں۔ آپ چلے گئے۔ مسلم ابن عوسجہ نے کہا: شہزادے ! دیکھ رہے ہیں آپ، یہ فوجیں چلی آرہی ہیں اور یہ صرف ہمارے امام کے ایک سر کیلئے آرہی ہیں۔ آپ ہم میں موجود ہیں اور آپ کے رگ و پے میں علی کا خون دوڑ رہا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے ہم بغیر امام نہ ہوں گے۔ یہ جو مسلم نے کہاتو امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک انگڑائی لی اور فرماتے ہیں کہ :مسلم! مجھے شجاع بنانا چاہتے ہو، ارے کس کی مجال ہے کہ میں موجود ہوں اور میرے باپ کو کوئی میلی نظر سے دیکھ سکے۔ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔

امام حسین علیہ السلام کا گھر بھی ایسا گھر تھا کہ کبھی چشم فلک نے نہ دیکھا ہوگا۔ امام زین العابدین  اپنے دادا امیرالموٴمنین علیہ السلام سے مشابہ تھے۔ بائیس سال کی عمر تھی جب کربلا میں آئے تھے۔جب کبھی گھوڑے پر سوار ہوکر گزر جاتے تھے تو یہی گمان ہوتا تھا کہ علی جارہے ہیں۔ دوسرا بیٹا نانا کا ہم شکل ، سر سے پاؤں تک معلوم ہوتا تھا کہ رسول ہیں۔ کیسا پُر رونق گھر تھا ۔ کربلا میں سارا گھر تباہ ہوگیا۔

جب امام زین العابدین علیہ السلام نے مسلم سے یہ کہا تو جنابِ مسلم ابن عوسجہ چپ ہو

گئے۔امام زین العابدین آئے خیمے کی طرف اور غلام کو آواز دی کہ گھوڑے پر زین رکھ کر لے آؤ۔ آپ اندر چلے گئے۔ پھر واپس آئے تو خَود تھا سر پر۔ جسم مبارک پر زرہ تھی اور مسلح تھے۔ غلام نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ آپ سوار ہوئے، میدانِ کربلا میں ٹہلنا شروع کیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ علی  آئے ہیں اور ٹہل رہے ہیں۔ کبھی فوجوں کی طرف نگاہِ غیظ کہ میرے باپ کے قتل کیلئے جمع ہوئے ہیں اور کبھی اپنے مظلوم باپ کی طرف نظر۔ جب تھوڑی دیر ہوگئی اور امام حسین  نے یہ طور دیکھے تو آواز دی: بڑی دیر سے ٹہل رہے ہو، آؤ نا____گھر میں چلے آؤ۔ باپ کا جو حکم ہواتو گردن جھکائے ہوئے واپس ہوئے اور خیمے میں داخل ہوگئے۔ خیمے میں داخل ہونا تھاکہ اس کے بعد اس وقت نہ نکل سکے کہ جب تک ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہ پڑ گئیں۔ ایک مرتبہ ذرا نکلے تھے اور جنابِ اُمّ کلثوم پھر لے گئی تھیں۔ جاتے ہی بخار چڑھا اور بخار شدید ہوتا گیا، یہاں تک کہ صبح ہوئی ہے آٹھویں کی____تو آپ اٹھ کر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ قدرت کو منظور تھا یہی کہ سلسلہٴ امامت قائم رہے اور پھر یہ بھی تو تھا کہ یہ شہزادیاں تنہا کس طرح جائیں گی! کوئی تو ہو جو کبھی اُن سے بات کرسکے۔ اس لئے یہ بخار چڑھا اور ایسا چڑھا کہ آپ اٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ صبح کے وقت کچھ افاقہ ہوتا تھا، پھر آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔ نویں تاریخ کو کمزوری بہت بڑھ گئی۔ ذرا رات کو آنکھ کھلی تھی تو پھوپھی سے کچھ باتیں کرلیں۔

فرماتے ہیں: پھوپھی جان! میرے بابا کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا:اصحاب سے باتیں کررہے ہیں۔ تو سرکتے سرکتے کچھ آگے آئے اور امام حسین کی یہ بات جو سنی کہ میرے ساتھیو! میرے صحابیو! مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ۔ میں کل شام تک شہید ہوجاؤں گا۔ یہ آواز جو سنی تو آپ نے ایک چیخ ماری۔ امام حسین  کے کانوں میں یہ آواز پہنچی، دوڑتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اُٹھا کر اندر لے گئے۔ فرماتے ہیں: بہن زینب ! میرے بیٹے کا خیال رکھنا۔ نمازِ صبح کے وقت افاقہ سا ہوا، نماز پڑھی۔ گھر میں بھائیوں کو دیکھ لیا، چچاؤں کو دیکھ لیا۔ باپ کا دیدار کرلیا۔ سب صحیح و سالم تھے۔ ادھر آفتاب نکلا، اُدھر بخار کی شدت ہوئی اور غشی طاری ہوگئی۔

حبیب ابن مظاہر مارے گئے، زہیر بن قین مارے گئے، مسلم ابن عوسجہ مارے گئے، قاسم کی لاش آگئی اور خیمہ میں بیبیوں کا ماتم ہوگیا۔ مگر امام زین العابدین  پر ابھی غشی طاری ہے۔ علی اکبر بھی اُٹھ گئے دنیا سے۔ علی اصغر کی ننھی سی لاش کو سپردِ خاک کیا جاچکا۔علی اصغر کی قبر بناکر امام حسین  خیمے کے دروازے پر آئے اور آواز دی: میری بہنو! میراآخری سلام، جنابِ زینب  نے عرض کیا: بھیا!خیمے میں آجائیے۔ خیمے میں آئے تو بہن نے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور رونا شروع کیا۔ امام  نے فرمایا: بہن! اب رونے کا وقت نہیں۔ میرا امتحان ختم ہورہا ہے۔ تمہارا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ بہن! اتنی خواتین کو ساتھ لے کر جانا ہے، صبر سے کام لینا، بددعا نہ کردینا۔

پھر فرماتے ہیں : اچھا بہن!ذرا مجھے میرے بیمار فرزند تک تو لے چلو۔ میں اُس کو آخری مرتبہ دیکھ لوں۔ آپ امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے میں آئے۔ عالمِ غشی میں آنکھیں بند ہیں۔ بیٹھ گئے، آواز دی، زین العابدین  بیٹا! باپ آیا ہے، ذرا آنکھیں کھولو،کچھ باتیں کرلو۔آپ کی آنکھ نہ کھلی۔ شانہ پکڑ کر ہلایا، بیہوشی نہ ٹوٹی۔ نبض پرہاتھ رکھا، بخار کی شدت محسوس ہوئی۔ خیال آیا :ارے یہ بخار کی یہ کیفیت! کمزوری کی یہ حالت!اِن ہاتھوں میں ہتھکڑیاں کیسے پڑیں گی؟ پاؤں میں بیڑیاں کس طرح پڑیں گی؟ آخر باپ کا دل تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یہ آنسو بیمار کے چہرے پر پڑے، آپ نے آنکھیں کھول دیں۔ آنکھیں جو کھولیں تو صبح باپ کو دیکھا تھا کہ نہ کوئی زخم ہے، نہ کپڑوں پر خون کا کوئی نشان تھا۔ اب جو آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک شخص سر سے پاؤں تک زخمی، خون میں ڈوبا ہوا سامنے ہے۔

پریشان ہوگئے۔ امام حسین  نے فرمایا: بیٹا! گھبراؤ نہیں، تمہارا مظلوم باپ تمہیں ملنے کیلئے آیا ہے۔ امام حسین کو پہچانا۔ خیال آیا کہ میرے باپ اتنے زخمی ہوگئے۔ اتنے عزیز تھے، دوست تھے، وہ کیا ہوئے؟ تو پوچھتے ہیں: بابا! وہ بچپن کے دوست حبیب کہاں گئے کہ آپ زخمی ہیں؟ فرمایا: بیٹا! وہ مارے گئے۔ کہا: مسلم بن عوسجہ کیا ہوئے؟ بیٹا وہ بھی مارے گئے۔ آخر میں عرض کرتے ہیں: پھر میرے بہادر اور جری چچا عباس کہاں گئے جو آپ زخمی ہوگئے؟ فرماتے ہیں :بیٹا! نہر کے کنارے بازوؤں کو کٹائے ہوئے سورہے ہیں۔

اس کے بعد عرض کرتے ہیں: بابا! میرے بھائی علی اکبر ؟ فرماتے ہیں: سینے پر نیزہ کھا کر دنیا سے اُٹھ گئے۔ بیٹا! اب میں آیا ہوں تم سے رخصت ہونے کیلئے۔ تھوڑی دیر باقی ہے کہ میں بھی نہ رہوں گا۔ یہاں بہنوں کا ساتھ ہے، کمزوری ہے، تکلیف زیادہ ہو تو بددعا نہ کرنا۔

امام حسین  میدان میں آئے، اِدھر دیکھا، اُدھر دیکھا۔ کوئی نہ تھا تو ایک مرتبہ آپ نے آواز دی۔ یہ غالباً آخری مرتبہ کا استغاثہ ہے:”ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا“ ۔ ”کوئی ہے جو اس عالم بیکسی میں میری فریاد رسی کرے“۔ یہ آواز وہ تھی جو عالم کے ہر ذرّہ تک پہنچی اور تو کسی نے جواب نہ دیا لیکن خیموں سے بیبیوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں۔اب جو امام  نے خیموں کی طرف مڑ کر دیکھا تو کیا قیامت دیکھی!امام زین العابدین علیہ السلام ایک تلوار پکڑے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر سرکتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ جنابِ اُمّ کلثوم پیچھے سے قمیص کا دامن پکڑے ہوئے____ارے بیٹا! کدھر جارہے ہو؟عرض کرتے ہیں: پھوپھی جان! میرا مظلوم باپ فریاد کررہا ہے، مجھے جانے دیجئے۔



:دیگر مضامین
(31.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(30.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(29.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(28.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(27.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(26.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(25.10.2014) معروف ذاکر اہلبیت اور خطیب ملت علامہ نسیم عباس رضوی جہان فانی سے کوچ کر گئے
(25.10.2014) آغاز محرم الحرام ۔قربانی کے درس کی یاد۔از؛ صفدر ھمٰدانی
(25.10.2014)  سورج کی روشنی سے چلنے والا ڈی جے سسٹم تیار کر لیا گیا
(23.10.2014) خانہ کعبہ کے کلید بردار شیخ عبدالقادر الشیبی74 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
(23.10.2014) شیخ نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی
(21.10.2014) معروف فن کارسلیم ناصر کی پچیسویں برسی خاموشی سے گزر گئی
(15.10.2014) محبت اپنی فطرت میں دین جیسی ہوتی ہے  ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(14.10.2014) اقلیتوں کا تحفظ۔ ہماری دینی ذمہ داری۔ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
(11.10.2014) خطرناک اور خوفزدہ کرنے والا ایبولا وائرس کیا ہے؟ ۔۔ تحریر۔ محمد فیصل
(08.10.2014)  لاہور: بحریہ ٹائون سیکٹر ای میں دنیا کی 7ویں بڑی مسجد کا افتتاح
(06.10.2014) برطانیہ میں روبوٹ سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دینے لگے
(05.10.2014)  مسجد نمرہ میں مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبداللہ کا خطبہ حج
(03.10.2014) حج و عمرہ۔ فلسفہ ، عملی مشکلات اور علاج۔۔۔۔۔۔ از۔۔۔۔ پروفیسر محمد عقیل
(30.09.2014) واقعہ کربلا کے تذکروں سے ہم کو دو کرداروں کی پہچان ہوتی ہے ۔ایک حسینی دوسرا یزیدی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں