16.10.2026, 10:17am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
03.11.2014, 01:25am , سوموار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
نویں محرم کی شب حر بن یزید تمیمی  حضرت امام حسین کے لشکر میں  شامل ہو گئے

نویں محرم الحرام بروز جمعرات کی شب کو امام حسین اور عمر بن سعد میں آخری گفتگو ہوئی۔آپ کے ہمراہ حضرت عباس اور علی اکبر بھی تھے۔آپ نے گفتگو میں ہر قسم کی حجت تمام کر لی۔

نویں کی صبح کو آپ نے حضرت عباس کو پھر کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا۔

 تھوڑی دیر کے بعد امام حسین نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر پھر عباس سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی آپ نے سعی بلیغ شروع کردی جب بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے۔ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا کہ دشمنوں نے آکر اسے بند کر دیا۔

 دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا حتی  کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے اور اپنا تعارف کرایا لیکن کچھ نہ بنا ۔

 مورخین لکھتے ہیں کہ نویں تاریخ کو شمر کو فہ واپس گیااور اس نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اگرحسین (ع) بیعت نہیں کرتے تو انھیں قتل کرکے ان کی لاش پرگھوڑے دوڑادے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو شمر کو چار ج دے دے ہم نے اسے حکم تعمیل حکم یزید دے دیا ہے۔

  ابن زیاد کا حکم پاتے ہی ابن سعد تعمیل پر تیار ہو گیا۔اسی نویں تاریخ کو شمر نے حضرت عباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیش کش کی انھوں نے بڑی دلیری سے اسے ٹھکرادیا
( تفصیل کے لیے ملاخطہ ہوذکر العباس از176تا182)

اسی نویں کی شام آنے سے پہلے شمر کی تحریک سے ابن سعد نے حملہ کاحکم دے دیا۔امام حسین (ع) خیمہ میں تشریف فرما تھے۔آپ کو حضرت زینب(ع) پھر حضرت عباس (ع) نے دشمن کے آنے کی اطلاع دی۔حضرت نے فرمایا کہ مجھ پر ابھی غنودگی طاری ہو گئی تھی۔میں نے آنحضرت کو خواب میں دیکھا۔انھوں نے فرمایا کہ انک تروح غدا حسین (ع) تم کل میرے پا س پہنچ جاؤ گے .

 جناب زینب رونے لگیں اور امام حسین (ع) نے حضرت عباس (ع) سے فرمایا کہ بھیا تم جاکر ان دشمنوں سے ایک شب کی مہلت لے لو۔حضرت عباس(ع) تشریف لے گئے اور لڑائی ایک شب کے لیے ملتوی ہو گئی۔  تا کہ یزیدی لشکر کو ایک رات اور یہ سوچنے کاموقع مل جائے اور نواسہ رسول یہ رات اپنے پروردگارکی عبادت اور دعا میں بسر کریں ۔رات کی تاریکی صحرائے کربلا میں ہرطرف پھیل چکی تھی

 ۔امام حسین (ع) نے اہل حرم کے خیموں کی پشت پر خندق کھودنے کا حکم دیا اور جب خندق تیار ہوگئی تو اس میں آگ جلوادی تا کہ دشمن کا لشکر پیچھے سے خیموں پر حملہ نہ کرسکے اور پھر پشت خیمہ سے مطمئن ہو گئے تو حضرت امام حسین علیہ السلام نےاپنے اصحاب کو خیمے میں طلب کیا اور چراغ گل کرکے فرمایا جوجانا چاہتا ہے وہ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاکر چلا جائے ۔لیکن امام مظلوم علیہ السلام کے اصحاب باوفا نے اس بات کا پختہ عزم رکھا تھا کہ وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے نواسۂ رسول (ص) اور دین کا دفاع کریں گے ۔

رفقاء سے سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام کا تاریخی خطاب

ابن سعد کے دستے واپس لوٹنے کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام  نے اپنے رفقاء کو جمع کیا۔ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے بعد آپ علیہ السلام  نے اپنے اصحاب سے نہایت فصیح و بلیغ خطاب فرمایا کہ

’’میں کسی کے ساتھیوں کو اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر نہیں سمجھتا اور نہ کسی کے اہل بیت کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا دیکھتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ تم سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا کرے گا۔ اگر تم میں سے کوئی جانا چاہتا ہے تو رات کی تاریکی میں چلا جائے۔ بے شک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں جب مجھے قتل کریں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہیں ہو گی مگر آپ علیہ السلام  کے اصحاب اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے

’’اے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے، ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، ہاتھوں اور جسموں سے آپ رضی اللہ عنہ کا دفاع کریں گے۔ جب ہم قتل ہو جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔‘‘
(البدایہ والنہایہ، 8 / 176 - 177)

آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے جذبات سن کر انہیں اجازت مرحمت فرمائی اور پھر آپ  کے اصحاب نے آپ  کی معیت میں رات بھر نوافل ادا کئے اور بارگاہِ ایزدی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ مغفرت کی دعائیں مانگیں۔
(البدایہ والنہایہ، 8 / 177)، (ابن اثیر، 4 / 59)

نو محرم کی رات کو صحرائے کربلا میں خدا کے برگزیدہ ،باایمان اور شجاع بندوں کی عبادت و مناجات کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب تعداد میں تھوڑے تھے لیکن پہاڑ سے زیادہ ثابت قدم تھے ۔چنانچہ ایک لمحے کے لئے بھی سیّد الشّہدا علیہ السلام  کی مددو نصرت سے غافل نہ ہوئے .

 حسین (ع) ابن علی (ع) نے فطرتیں بدلی ہیں اک شب میں
بجھی ہے شمع اور محفل سے پروانے نہیں جاتے

72 جان نثار ، اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے کھڑے تھے اور حقیقی معنوں  میں “کل ایمان “ کل کفر و نفاق سے جنگ و مقابلے کے لئے تیار تھا ۔

امام حسین نے اس مختصر ترین فوج کو منظم کیا۔ میمنہ پر زبیر بن قیس کو اور میسرہ پر حبیب بن مطہر کو متعین کرکے علم عباس کو مرحمت فرمایا ۔ جنگ کے آغاز سے پیشتر اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی اور ان سے تائید اور نصرت چاہی۔ اس کے بعد اتمام حجت کے لیے دشمنوں کی صفوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

” اے لوگو! جلدی نہ کرو ۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کاجو حق ہے اسے پورا کرلینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو ۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلوگے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی ۔ تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے “

جونہی آپ تقریر کے اس حصے پر پہنچے تو خیموں سے اہل بیت کی مستورات کی شدت رنج سے چیخیں نکل گئیں۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اور اپنے بھائی عباس کو انہیں چپ کرانے کے لیے بھیجا۔ جب خاموشی طاری ہوئی تو آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

” لوگو ! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں ۔ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے رسول پر ایمان لائے؟ کیا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ میرے والد کے چچا نہ تھے؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہ تھے؟ کیا تمہیں رسول اللہ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے؟

 اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے۔ ہے ۔ تو بتاؤ کہ تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا ہے؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے میرے متعلق رسول اللہ کی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کرسکتے ہو ۔ تم مجھے بتاؤ کہ کیا آپ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے     “

لیکن کوفیوں اور ان کے سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صرف حر بن یزید تمیمی پر آپ کی اس تقریر کا اثر ہوا اور وہ یہ کہتے ہوئے حضرت امام حسین کے لشکر میں آ شامل ہوا۔

” یہ جنت یا دوزخ کے انتخاب کا موقع ہے۔ میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے “

نو یں محرم روز تا سو عا بھی کہتے ہیں
 امام جعفر صادق  سے روایت ہے کہ نویں محرم  روز تا سو عاہے کہ اس  دن فوج یزید نے امام حسین اوران کے انصار کاگھیراؤ کرکے لوگوں کوان کے قتل پرآمادہ کیا ابن مرجانہ اورعمر سعد اپنے لشکر کی کثرت پرخوش تھے اورامام حسین کوان کی فوج کی قلت کے با عث کمزور ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہوگیاتھا کہ اب امام حسین کاکوئی یارومدد گارنہیں آسکتا اورعراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کریں گے امام جعفر صادق  نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب وضعیف یعنی امام حسین پر میرے والد بزرگوارفدادقربان ہو ں ۔


:دیگر مضامین
(02.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(01.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(31.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(30.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(29.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(28.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(27.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(26.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(25.10.2014) معروف ذاکر اہلبیت اور خطیب ملت علامہ نسیم عباس رضوی جہان فانی سے کوچ کر گئے
(25.10.2014) آغاز محرم الحرام ۔قربانی کے درس کی یاد۔از؛ صفدر ھمٰدانی
(25.10.2014)  سورج کی روشنی سے چلنے والا ڈی جے سسٹم تیار کر لیا گیا
(23.10.2014) خانہ کعبہ کے کلید بردار شیخ عبدالقادر الشیبی74 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
(23.10.2014) شیخ نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی
(21.10.2014) معروف فن کارسلیم ناصر کی پچیسویں برسی خاموشی سے گزر گئی
(15.10.2014) محبت اپنی فطرت میں دین جیسی ہوتی ہے  ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(14.10.2014) اقلیتوں کا تحفظ۔ ہماری دینی ذمہ داری۔ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
(11.10.2014) خطرناک اور خوفزدہ کرنے والا ایبولا وائرس کیا ہے؟ ۔۔ تحریر۔ محمد فیصل
(08.10.2014)  لاہور: بحریہ ٹائون سیکٹر ای میں دنیا کی 7ویں بڑی مسجد کا افتتاح
(06.10.2014) برطانیہ میں روبوٹ سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دینے لگے
(05.10.2014)  مسجد نمرہ میں مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبداللہ کا خطبہ حج



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں