18.10.2026, 12:57am , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 23ویں قسط
23.12.2010, 08:03pm , جعمرات (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
بائیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیگر کئی مقامات کی طرح میں نے مدفنِِ عمر خیام پر حاضری کو بھی خدا کی رضا کے تحت کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھا اور اپنے قدموں کو مہمیز کرتے ہوئے بس کی جانب لپکا کہ ایک اور سعادت چند قدموں کے فاصلے پر ہماری منتظر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

بس نے جب باغِ محروق کی حدود سے اپنے وجود کو جدا کیا تو میری نظر سڑک کے کنارے پرگڑے ایک بورڈ پر جا رکی جو بائیں جانب کو مزار ِ شیخ فرید الدین عطار کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔ میری خواہش کے برعکس ڈرائور نے بس کو بائیں کی بجائے دائیں جانب موڑ کر میری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔  
میری دیگر تشنہء تکمیل خواہشات میں ایک خواہش جناب عطار کے مزار پر حاضری بھی تھی۔ چونکہ آپ کے بارے میں کچھ کتابوں میں کچھ نہ کچھ پڑھ رکھا تھا تو مزار پر حاضری کی خواہش فطری تھی۔ شیخ پیشے کے اعتبار سے تو عطار (کیمسٹ) تھے، مگر ذہنی و قلبی رجحان شاعری و تصوف کی جانب تھا۔ اپنے اسی رجحان کی بدولت آپ نے ادویات کے شعبے کو خیر باد کہا اور عرفا کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے گھر چھوڑ دیا۔ آپ نے کئی سفر کئے، جن میں کوفہ، بصرہ، مکہ، مدینہ، دمشق، خوارزم، ترکمانستان اور ہندوستان شامل ہیں۔ آپ ایک بلند پایہ شاعر ِ اہل ِ بیت تھے اور غزل، مثنوی، قصیدہ اور رباعی، تمام اصناف پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپکے ہمعصر شاعر عبدالرحمن جامی کہتے ہیں کہ عطار اسرار، توحید، عرفان اور حقائق کو مثنویات اور غزلیات میں اسطرح پیش کرتے ہیں کہ سننے والے پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 70 برس کے سن میں آپکا انتقال اس کشت و خون کے دوران ہوا جب چنگیز خان کی دختر کے منہ کو نیشاپور کا خون لگا ہوا تھا۔

ہماری بس آگے کی جانب پیش قدم تھی، جبکہ عطار کا مزار پشت کی جانب کہیں تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اس مرقد کو اپنی محدود بصارت سے تلاش کرتا رہا، مگر مزار ظاہر ہے اسی سڑک پر تو تھا نہیں، جو نظر آجاتا۔ اسی طرح اس سڑک کو پیچھے چھوڑتے چھوڑتے ہم آگے کی جانب بڑھتے رہے اور میں فاتحہ کا غائبانہ و متبائن ہدیہ پیش کرتا رہا۔ 

جہاں مجھے خیام و عطار کے مزارات پر غیر حاضری کا قلق تھا، وہیں  حضرت بی بی شطیطہ رح کے مزار پر ہدیہءعقیدت پیش کرنے کا روحانی انبساط پروان چڑھ رہا تھا۔ بمشکل آدھ گھنٹے کا سفر طے کرکے ہم ایک زیر ِ مرمت عمارت پر جا پہنچے، جو قدرے اونچائی پر واقع تھی۔ چونکہ ان دنوں اس مزار کی تعمیر و مرمت کا کام جاری تھا، سو اینٹ، بجری، گارے اور رنگ کا سامان ایک کثیر مقدار مین بکھرا پڑا تھا۔ اس شکستگی کے باوجود مرقد کا وقار و شکوہ برقرار تھا۔ اور کیوں نہ ہو تا، کہ کلام پاک میں اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ (٦۲﴾ سورہ یونس

جب خوف، حزن، ملال اور قلق جیسی محسوسات نہ ہوں تو رونق اور وقار کا وجود یقینی ہوتا ہے۔ خدا کے ایسے ہی بے خوف و خطر اولیاء میں سے ایک ذات حضرت بی بی شطیطہ نیشاپوری (رح) کی ہے۔ آپ بظاہر ایک غریب و تنگدست، جبکہ حقیقتا” دولت ِ اصل سے مالا مال تھیں۔  آپ کے عشق ِ اہلبیت (ع) اور امامِ معصوم کی جانب سے جوابا” اقبالِ عشق کی داستان بھی کیا عجیب روحانی داستان ہے۔ یہ داستان عاشقان ِ اہلبیت کے عشق اور قوت ِ ایمانی کے لئے ایک شرر کا درجہ رکھتی ہے۔ ابنِ شہرِ آشوب نے ابو علی بن راشد سے اس طویل روایت کو نقل کیا ہے۔ یہ تمام قصہ اس بی بی کے مزار کے احاطے میں دیوار پر فارسی زبان میں درج ہے۔ اپنے قاریئین کی معلومات و روحانیات میں اضافے کے واسطے میں اس روایت کو شیخ عباس قمی {صاحب ِ مفاتیح} (رح) کی معرکۃ الآرا تصنیف احسن المقال سے نقل کررہا ہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے۔ 

یہ بات یے اس وقت کی جب نیشاپور کے شیعان اکٹھے ہوئے اور محمد بن علی کو امام موسی کاظم (ع) کی خدمت میں اپنی جانب سے تحائف و ہدایہ بھیجنے اور کچھ مسائل کے حل کے لئے نمائیندہ کے طور پر منتخب کیا۔ لوگوں نے مل کر تیس ہزار دینار، پچاس ہزار درہم اور دوہزار کپڑے کے تھان ہدیہءامام کی نیت سے اکٹھے کئے۔ جب محمد بن علی عازمِ سفر ہونے لگے تو بی بی شطیطہ ایک درہمِ سالم اور چار درہم کے مساوی قیمت کا سوت کے کچے کپڑے کا ٹکڑا، جو انہوں نے بدستِ خود کاتا تھا، امام (ع) کو تحفتا” ارسال کرنے کے لئے پہنچ گئیں۔ اور فرمایا، "ان اللہ لا یستحیی عن الحق"۔ یعنی "اگرچہ میرا تحفہ قیمت میں انتہائی قلیل ہے، مگر بے شک خدا حق سے حیا نہیں کرتا"۔ محمد بن علی نے اس ایک درہم کو موڑ کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔

 پھر اکابرین آگے بڑھے اور کاغذات کا ایک دستہ اپنے نمائیندے کو تھمایا۔ دستے میں ستر (70) اوراق تھے۔ ہر ورق پر ایک سوال تحریر تھا اور باقی کا صفحہ جواب لکھنے کی غرض سے خالی چھوڑا ہوا تھا۔ ان اوراق کو ایک لفافے میں بند کر کے ان کو کمر بند سے تین تہوں میں کس کر مہربند بھی کیا ہوا تھا۔ یہ دستہ محد بن علی کے حوالے کرکے تنبیہ کی گئی کہ منزل پر پہنچ کر رات کو یہ دستہءسوالات امام کی خدمت میں پیش کرنا اور سویرے واپس لے لینا۔ صبح کو پانچوں مہروں کو توڑ کر دیکھنا کہ تمہارے مہریں توڑنے سے قبل اگر اس صحیح سالم دستہء صفحات پر جوابات درج ہیں تو سمجھ جانا کہ تم صحیح در پر پہنچے ہو۔ پس یہ تحائف خدمتِ امام (ع) میں بصد احترام ہدیہ کرنا، بصورتِ دیگر سب واپس لے آنا۔

چنانچہ یہ صاحب اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے اور مدینے پہنچ کر امام (ع) کی تلاش میں اپنے اندازے کے مطابق عبداللہ بن افطح کے پاس پہنچ گئے۔ چند سوالات کر کے انکا امتحان لیا۔ درست جوابات نہ پا کر مایوس پوئے اور اللہ تعالے سے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کی۔ اللہ تعالی نے دعا کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے جھٹ سے اسکا نتیجہ بھی عیاں کر دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں اسی عالم میں پریشان بیٹھا ہوا تھا کہ کہاں جاؤں۔ اس پر آشوب دور میں کس سے اپنے امام (ع) کا پتا معلوم کروں کہ اسی اثنا میں ایک جانب سے ایک نوجوان چلتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔ جن سے آپکو ملنے کی تمنا ہے، وہ آپکو بلا رہے ہیں۔ چنانچہ میں اس جوان کے ساتھ ہو لیا اور وہ مجھے میرے درِ مقصود، باب الحوائج الی اللہ امام موسی ابن جعفر کاظم علیہ السلام کے دولتکدے پر لے گیا۔ مجھے دیکھتے ہی امام (ع) نے فرمایا کہ ابوجعفر! کیوں مایوس ہوتے ہو؟ اور کاہے کو یہودونصاری سے امید باندھتے ہو؟ میری جانب آؤ۔ میں ہوں حجت خدا اور ولی اللہ۔ پھر فرمایا کہ تمھارے تمام سوالات کے مفصل جوابات میں نے دے دئے ہیں جو تم کاغذوں کے پلندے میں لائے ہو۔ اور ہاں وہ سامان بھی لے آؤ۔ اور وہ درہم بھی لاؤ جو شطیطہ نے بھجوایا ہے۔ محمد بن علی بیان کرتے ہیں کہ مولا نے میری اس جیب کی نشاندہی تک فرمائی، جس میں وہ درہم رکھا ہوا تھا۔ پھر عالمِ لدنی امام نے فرمایا کہ شطیطہ کا بھیجا ہوا وہ پارچہ بھی لاؤ جو تم نے بلخ کے دو بھائیوں کی جانب سے دئے گئے کپڑے کے تھان کے درمیان میں رکھا ہوا ہے۔ 

محمد بن علی فرماتے ہیں کہ امام (ع) کی یہ گفتگو سن کر میری عقل دنگ رہ گئی اور میں انگشت بدندان کھڑا ہو گیا۔ ایک طرف تو جوابات کے لئے صبح کا انتظار بھی نہ کرنا پڑا اور سامان کی اس قدر عمیق تفصیل بھی امام نے خود ہی بیان فرما دی۔ میں تکمیلِ حکمِ امام میں وہ سب کچھ اٹھا لایا جو مولا نے منگوایا تھا اور سب کا سب امام کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس سامان میں سے آپ نے صرف بی بی شطیطہ (رح) کا دیا ہوا درہم اور پارچہ اٹھایا اور وہی الفاظ دہرائے، جو شطیطہ نے ادا کئے تھے، یعنی "ان اللہ لا یستحیی عن الحق"۔ (سبحان اللہ) ساتھ ہی چالیس درہموں سے بھری ایک تھیلی بھی عنایت فرمائی اور فرمایا کہ اس سے کہنا کہ یہ ہماری طرف سے تحفہ ہے۔ پھر مولا نے اپنے کفنِ مقدس کا ایک ٹکڑا تھمایا اور فرمایا کہ یہ کپڑا ہماری اپنی زمین قریہءصیدا کا ہے، جو کہ ہماری جدہ جناب سیدہ زہرہ سلام اللہ علیہا کی بستی ہے۔ اور اس متبرک کپڑے کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی دختر اور ہماری خواہر حلیمہ نے اپنے ہاتھوں سے کاتا ہے۔ شطیطہ سے یہ بھی کہنا کہ ان درہم و پارچہ کے اس تک پہنچنے کے انیس (19) دن تک اسکی مہلت حیات ہے۔ پس ان چالیس (40) درہموں میں سے 
سولہ (16) اپنی ذات پر خرچ کرلے اور باقی چوبیس (24) کو صدقہ کردے۔ شطیطہ کو یہ خبر بھی پہنچا دینا کہ اسکا جنازہ ہم خود آکر پڑھائیں گے۔

ابو جعفر محمد بن علی مزید بیان فرماتے ہیں کہ بعد ازاں امام مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ جب تم اپنے شہر میں ہمیں دیکھو تو ہمیں نہ پہچاننا کہ یہ تمہاری حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تمام تحائف و ہدایہ ان کے مالکان کو واپس کر دینا۔ اب ان مہروں کو توڑو اور تسلی کر لو کہ میں نے تمھارے مسائل کے درست جوابات دئے ہیں یا نہیں، قبل اس کے کہ تم مجھ تک آتے اور سوالات پوچھتے۔ 

راوی فرماتے ہیں کہ میں نے مہروں کو دیکھا تو وہ اپنی اصل حالت میں یوں تھیں کہ گویا کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔ پس میں نے وسط میں سے ایک ورق کھینچا اور سوال پڑھا۔ اس پر سوال درج تھا کہ اس بارے میں شریعت کا کیا فرمان ہے کہ ایک شخص نے خدا کی خاطر نذر مانی کہ میں فلاں کام کے بدلے ہر قدیم غلام کو آزاد کروں گا، جبکہ اسکی ملکیت میں کئی غلام ہیں۔ وہ کس کس غلام کو آزاد کرنے کا پابند ہو گا؟

محم بن علی فرماتے ہیں کہ میں نیچے امام (ع) کے دست خط میں جواب دیکھا۔ امام نے تحریر فرمایا تھا کہ

"اس سلسلے میں اسکی ملکیت کا ہر وہ غلام آزادی حاصل کرے گا، جو چھ (6) ماہ سے زائد کی مدت میں اسکا غلام رہا ہوگا۔ " 

امام (ع) نے صرف جواب پر اکتفا نہ کیا، بلکہ قرآن کریم سے اسکی دلیل بھی بیان فرمائی کہ

خدا کا ارشاد ہے، والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم۔
مقصد یہ ہے کہ اس آیۃءکریمہ میں اللہ تعالے نے چاند کو اپنی منازل میں سیر کرنے کو خوشہءخرمہ سے تشبیہ دی ہے اور اسے "قدیم" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ چونکہ کھجور کی لکڑی چھ ماہ کی مدت میں ہلالی شکل اختیار کر کے قدیم ہو جاتی ہے۔ پس ہر وہ شے قدیم ہے، جس پر چھ ماہ گزر جائیں۔ اسکے برعکس تازہ وہ شے ہے، جو کسی کی ملکیت میں چھ ماہ سے کم عرصے میں رہی ہو۔

 (امام کے اس استدلال پر سبحان اللہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا۔ بیشک آپ ہی وارثِ علمِ لدنی ہیں۔)

راوی پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اگلی مہر توڑی اور ورق نکال کر پڑھا تو اس پر اہل خراسان کی جانب سے سوال درج تھا،

"اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے کہ ایک شخص یہ کہتا ہے میں خدا کی نذر میں مال کثیر صدقہ کروں گا۔ یہاں صدقہ کی کتنی مقدار کثیر کے پیمانے پر پورا اترے گی؟ "

اس سوال کے جواب میں میرے آقا نے تحریر فرمایا تھا کہ

صاحبِ منت کے پاس اگر گوسفند ہیں تو وہ چوراسی (84) گوسفند، اور اگر اونٹ ہیں تو چوراسی (84) اونٹ، الغرض جو بھی جنس اسکے تصرف میں ہے، چوراسی کی تعداد میں صدقہ کرے تو اسکی منت پوری ہوجائیگی۔

اس جواب کی دلیل کے طور پر امام (ع) نے قرآن کریم کی آیت "ولقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ" یعنی "خدا نے بہت سے مقامات پر آپکی مدد فرمائی۔" کو برہان کے طور پر بیان فرمایا۔ پھر اس آیت کی تشریح اور اسکو اس سوال کے جواب کے طور پر پیش کرنے کے جواز میں مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے رسول خدا (ص) کے اس آیت سے قبل کے مواطن شمار کئے تو وہ چوراسی تھے، کہ جنہیں خداوند عالم نے لفظ کثیر سے موصوف کیا۔ سبحان اللہ

ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں  نے تیسری مہر توڑی اور کاغذ نکال کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا کہ کیا حکم ہے اس شخص کے لئے، کہ جس نے کسی کی قبر کشائی کر کے میت کا سر بھی قلم کیا ہو اور کفن بھی چرا لیا ہو۔

اس مشکل سوال کے جواب میں مشکل کشا امام (ع) نے تحریر فرمایا تھا کہ چونکہ اس نے حرز سے چوری کی ہے، سو دیت کی سو اشرفیاں اسکو جرمانہ دینا پڑے گا اور سر قلم کرنے کی پاداش میں اسکا ہاتھ کاٹا جائیگا۔ 

بظاہر یہ فیصلہ انتہائی عجیب و غریب صورت کا حامل ہے، مگر وارثانِ سلونی ہی ان مسائل کی عمیق گہرائیوں کو جانیں۔ امام (ع) نے اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ایک مردہ کو اس بچے کی مانند قرار دیا ہے، جو کہ شکمِ مادر میں روح پھونکی جانے سے قبل کی حالت میں ہو۔

اتنا پڑھ کر ٹھاٹھیں مارتے ہوئے بحرِ حیرت میں غلطاں محمد بن علی نے اپنا سامان لپیٹا اور امام (ع) کی قدم بوسی کر کے اپنے وطن خراسان کی جانب واپس چل پڑے۔ جب واردِ خراسان ہوئے تو دیکھا کہ۔ ۔ ۔ ۔جاری ہے


:دیگر مضامین
(23.12.2010) معروف شاعر اورادیب سید اقبال حیدر کے بھائی زوار حیدر کا انتقال
(14.12.2010) برطانیہ ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں محرم الحرام کی مجالس عزا
(06.12.2010) صفدر ھمدانی کے اہل خانہ کی طرف سے 60ویں سالگرہ کی سرپرائز پارٹی
(03.12.2010) شاعر،ادیب،براڈکاسٹر، صحافی،محقق اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی کے اعزاز میں تقریب
(30.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 22ویں قسط
(23.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 21ویں قسط
(20.11.2010) مرثیہ نگار وحید الحسن ہاشمی ہفتے کو لاہور میں انتقال کر گئے
(15.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 20ویں قسط
(03.11.2010) سید حسن زکی کاظمی کی مجلس سوئم باب المرآد میں منعقد ہوئی
(03.11.2010) عالمی اخبار کی طرف سے پہلا ''مصطفیٰ علی ھمٰدانی ایوارڈ'' ۔
(31.10.2010)  سید حسن ذکی کاظمی کو اتوار کو لندن میں سپرد خاک کر دیا گیا
(28.10.2010) وزیر آغا اور انیس ناگی کے بعد اب پروین فنا سید بھی رخصت ہو گئیں
(23.10.2010) اردوسی چاشنی کسی اور زبان میں نہیں۔ قونصل جنرل بارسلونا مسعود خان راجہ
(21.10.2010) اک اور قلم دوست مرثیہ نگار ہم کو چھوڑ کو چل دیا
(14.10.2010) اسلام آباد کے نوجوان شاعر زین عباس کا اعزاز ۔ عالمی اخبار کا افتخار
(09.10.2010) معروف ادیب اور صحافی منو بھائی صحت یاب ہو کر گھر آ گئے
(08.10.2010) نقاد ، ناول نگار اور شاعر انیس ناگی لاہور میں انتقال کر گئے
(30.09.2010) ناتالی سیال سویڈن کے ہودنگے کیمون سے تیسری بار منتخب ہوئی ہیں
(25.09.2010)  محسن احسان کی وفات اردو ادب کے لیئے بہت بڑا نقصان ہے
(24.09.2010) معروف شاعر،ادیب اور کالم نگار سید اقبال حیدر سخت علیل ہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں