16.10.2026, 11:59pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 26ویں قسط
12.01.2011, 08:41am , بدھ (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد

 پچیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت میں ایک پہاڑی پر موجود مزار کے صدر دروازے پر کھڑا تھا اور میری نظروں کے سامنے بیک وقت ایک دل نشین اور دل سوز منظر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گو کہ اندھیرے نے قوتِ بصر کو ایک قلیل فاصلے تک ہی رسائی دی تھی، مگر آدھے چاند کی مدھم چاندنی اور شہری انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی روشنیوں کے باعث میلوں پر محیط قبرستان "بہشتِ رضا" پردہءبصارت پر جلوہ نما تھا۔ منظر میں دلنشینی یوں تھی کہ ہماری نظروں کے سامنے ایران کے بیشمار مشہور اور وسیع قبرستانوں میں سے ایک قبرستان تھا، جو اپنے شکم میں سینکڑوں علماء، مشائخ، اساتید، طلاب، شہداء اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیشمار گمنام اہلِ قبور کو سموئے ہوئے ہے۔ اور منظر کی دلسوزی اس احساس کے تحت تھی کہ رفتگان اپنے پسماندگان کو یادوں کے ایک عمیق سمندر میں دھکیل کر خود آسودہءخاک استراحت فرما ریے ہیں۔ موت ایک اٹل حقیقت سہی، مگر فراق کا کرب محسوس کرنا بھی انسان ہونے کا فطری تقاضا ہے۔ ویسے بھی قبرستان وہ گوشہءزمین ہے جہاں سخت سے سخت سنگدل انسان بھی اپنے مخفی فطری جذبات کا غماز ہو جاتا ہے۔ پس میں بھی تاحدِ نگاہ پھیلے ہوئے پرسکوت و پرسکون قبرستان کا دیدار کرتے ہوئے اداس کھڑا فاتحہ تلاوت کررہا تھا اور ساتھ ہی دل میں خوشی کی ہلکی سی لہر بھی مؤجزن تھی کہ میری نظروں کے سامنے کوئی عام قبرستان نہ تھا، اسکا نام ہی امام رضا (ع) کی جنت تھا۔ یہ وہی قبرستان ہے، جہاں پیوندِ زمین ہونے کی وصیت، دنیا جہاں کے مؤمنین کرتے ہیں۔  


 اسی قبرستان میں ان کئ علما اور دیگر مشہور شخصیات کے جسد ہائے خاکی  بھی مدفون ہیں، جو اولا” حرمِ امام رضا (ع) کے عجائب خانہ کے نزدیک دفن تھے۔ ہندوستانی و پاکستانی اور دیگر ممالک کے قبرستانوں کے برعکس ایران میں قبر سازی بھی منفرد انداز میں کی جاتی ہے۔ یہاں قبریں بلند کی بجائے زمین دوز ہوتی ہیں۔ قبر کی بالائی سل ہی اسکا کتبہ ہوتی ہے، جس پر لواحقین پھول رکھ کر چلے جاتے  ہیں اور کتبے کی جگہ پر مرحوم کی تصویر آویزاں ہوتی ہے۔  


ہم جوں جوں ٹیلہءخواجہ مراد (ر) سے قدم بہ قدم نیچے کی جانب رواں تھے، وہیں وہ قبریں بتدریج نظروں سے اوجھل ہوتی جارہی تھیں۔ چند ڈگ اور بھر کر بالآخر ہم سطح زمین سے ہم آہنگ ہو گئے اور وہ منظر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ میری زندگی کے اگلے سفر ِ زیارات (بشرط ِ اذن) کے واسطے اس ایک اور مقام کا اضافہ ہو چکا تھا، کیونکہ مشہد آکر بہشت ِ رضا نہ جانا سفر ِ زیارات کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ اس عظیم قبرستان کی سیر، اس میں آسودہءخاک مرحومین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کو ہدایہ ارسال کرنے کے لئے کئی دن درکار ہیں۔ مگر دن کی روشنی میں کم از کم اس قبرستان کا ایک دورہ کرنا بہت ضروری ہے۔ میں نے بارِدیگر فاتحہ خوانی کا سلسلہ شروع کیا اور اس دورے کو کسی اور وقت کے لئے مؤخر کردیا۔ ساتھ ہی ہم سب دعائے سفر تلاوت کرتے ہوئے باری باری بس میں سوار ہوگئے۔


یہ ہمارے آج کے سفر کا آخری پڑاؤ تھا۔ بس نے جب یہاں سے کوچ کیا تو ماحول میں کچھ دیر کے لئے خاموشی تو ہوئی، مگر یہ سلسلہ دوام پذیر نہ ہوسکا۔ اب چونکہ منزل قریب تھی، سو تمام احباب ایک بار پھر سے تازہ دم ہو کر بیٹھ گئے اور آغاز ہو گیا دن بھر کے سب کے اپنے اپنے مشاہدات، تجربات اور محسوسات کو ایک دوسرے سے سہم کرنے کا۔ گفتگو یقینیا” روحانی تھی مگر میں لاتعلق سا ہو کر اپنی ہی دنیا میں مگن تھا۔ اس وقت کی میری دنیا، ایران کے انہی گوشوں تک محدود تھی، جن کا حصہ بن کر میں لوَٹ رہا تھا۔ یہ تمام مقامات میرے قلب و ذہن پر ان مٹ نقوش کی مانند ثبت ہوچکے تھے۔ آج بھی میرا طائرِ تخیل زمان و مکان کی حدود سے بالا ایک ایسی پرواز کرتا ہے، جو مجھے انہی گلیوں، کوچوں، باغات، محلات، مکانات، بازاروں اور مقبروں تک لے جاتی ہے اور میں کم و بیش وہی کیف و سرور محسوس کرتا ہوں، جو ان لمحات میں حاصل کیا تھا۔ یا شاید سوچ میں اصل مشاہدے سے زیادہ لطف ہوتا ہے کہ اس میں منظر کو دہرانے کی آزادی اور پھر سے ان مناظر مین ضم ہو جانے کی تڑپ مؤجزن ہوتی ہے۔ سوچ کے پردے پر رواں یہ تماثیل کبھی لبوں کو متبسم  کرتی ہیں تو کبھی نینوں کو نم۔ میرا زہن اس وقت ایسی ہی سوچوں کے حوالے تھا کہ بس ایک موڑ مڑ کر سرزمینِ تقدس مآب شہرِ مشہد سے متصل ہو گئی۔


شہرِ مشہد کی مٹی کی یہ عجب تاثیر ہے کہ یہ اپنے وجود کا ازخود احساس دلاتی ہے۔ جیسے ہی بس مشہد کی حدود میں داخل ہوئی، ایک عجیب سا اطمنان اور سکون سا محسوس ہونے لگا۔ گو کہ بے کیفی اور پریشانی بہر حال نہیں تھی، مگر پھر بھی اپنی منزل ِ مقصود پر پہنچنے کا احساس، انبساط دلانے لگا۔ دنیا کے کئی شہروں کے بسنے والے اپنے اپنے شہروں کی توصیف میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا شہر زندوں کا شہر ہے، یہ کبھی سوتا نہیں۔ مگر میرے خیال میں یہ ضرب المثل شاید مشہد کے لیے کہی گئی ہوگی۔ مشہد اصلا” نہیں سوتا۔ رات کے اوقات میں بھی سڑکیں، گلیاں، شاہراہیں، چوراہے، کوچے اور بازار مکمل طور پر روشن اور پر رونق نظر آتے ہیں۔ گھڑی پر نظر نہ کی جائے تو وقت کا احساس بھی نہ ہونے پائے۔ یہ شہر فقط جلی نہیں ، بلکہ جلا بخش بھی ہے۔ یہاں زمانے کے دھتکارے ہوؤں کو پناہ اور مارے ہوؤں کو زندگی ملتی ہے۔


بس جوں جوں اپنی منزل سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی، توں توں میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جارہی تھی۔ اور پھر بس نے ایک ایسا موڑ کاٹا، جو میری زندگی کا ایک اور حسین موڑ ثابت ہوا۔ بس اسی شاہراہِ حرم پر آ چکی تھی اور میری نظروں کے سامنے وہی زیبا منظر تھا، جس سے اپنی آنکھوں کی طہارت کرنے کے لئے میرا قلب صبح سے مضطرب تھا۔ اس منظر کو دیکھتے ہی بس دردو کی صداؤں سے گونج اٹھی اور میں ایک بار پھر جذبات کی انتہاؤں میں غلطاں ہو چکا تھا۔ وہی بلند و بالا طلائی مینار، اسکا ہم نشین جاذب گنبد اور اس کے سر پر جھومتا ہوا نازاں پرچمِ اسلام۔ میری کیفیت اس شخص کی سی تھی، جسے اسکا بچھڑا ہوا ہمدمِ دیرینہ اچانک سے کسی بازار کی بھیڑ میں مل جائے۔ میرا ہمدم یہ روضہ ء منورہ اپنی باہیں پھیلائے  کمالِ جوش کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میں تمام بندھن توڑ کر اپنے مقام سے محوِ پرواز ہوا اور کائنات کے اس حسین ترین منظر میں جذب ہوگیا۔


تمام نظامِ کائنات یکبارِ دیگر تھم گیا۔ صرف نظارہءجنت تھا اور میں تھا۔ نیلگوں فضا میں خنک ہوائیں دھیرے دھیرے محوِ رقص تھیں، جو بلند قامت شجر ہائے فردوس کی ٹہنیوں اور پتوں سے اٹکھیلیاں کرتی ہوئی ان میں چھپے دلنشین سازوں کو بجا رہی تھی۔ تاحدِ نگاہ پھیلا ہوا سبزہ زارِ بہشت ان گنت پھولوں سے مزین تھا۔ یہی ہوا ان گل ہائے ارم کی خوشبوؤں کو ان کی پتیوں سے اڑا اڑا کر مغز کو معطر کرہی تھی۔ خوبصورت پرندے اپنی شیریں آوازوں میں چہچہا رہے تھے۔ ایک پرسکوت جھیل پر سے جب اس ہوا کا گزر ہوا تو اسکی خاموش سطح پر ہلکے سے ارتعاش نے معصوم سی ہلچل مچا دی اور جھیل کا پانی بھی ہوا کے ساتھ محوِ رقص ہو گیا۔ جھیل کے پانی پر پڑتی ہوئی نور کی لطیف شعائیں اسکو جھلملانے لگیں۔ اسی جھیل کے ایک کنارے پر سونے، چاندی، ہیرے، موتی، فیروزے، عقیق، زمرد، الماس اور یاقوت سے تعمیر شدہ ایک فلک بوس قصر تھا جسکے باغ کے بیچوں بیچ ایک جاذبِ نظر تخت بچھا ہوا تھا۔ تخت کی دونوں جوانب موالیان صف بستہ مؤدب کھڑے تھے۔ ایک حسین شاہزادہ اس تخت پر کمالِ وقار کے ساتھ تشریف فرما تھا اور اور میں اس کریم شاہزادے کی قدم بوسی کا شرف حاصل کر رہا تھا۔ وہ ابنِ وجہہ اللہ کے وجہہِ اکرم کا جمال اور ان لب ہائے پاکیزہ پر مچلتا ہوا تبسم مجھے مدہوش کردینے کو کافی تھا۔ عین اللہ کے فرزند کی ان شفقت بھری آنکھوں سے ٹپکتا ہوا پیار میری نجات کی ضمانت دے رہا تھا۔ خوشی، انبساط، اطمنان، سکون، کیف، سرور، مستی اور عشق کی لامتناہی ابعاد میں میرا اپنا وجود کہیں کھو چکا تھا۔ بقول حضرت امیر خسرو (رح) کے کہ:


نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم


پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم


(ترجمہ: نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا


پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گُوں
سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا)


گو کہ یہ اشعار حضرت خسرو نے سید المرسلین (ص) کی شان میں ارشاد فرمائے تھے، مگر "کلنا محمد" کے مصداق بلاشبہ امام رضا (ع) اپنے جدِ امجد جناب رسولِ خدا (ص) کا سراپا ہیں۔


بس کے اگلے موڑ کے ساتھ ہی لحظے کے ہزارویں حصے میں میرا تعلق جنت سے ٹوٹ کر اس محلے کی ایک چھوٹی سڑک کے ساتھ جڑ گیا، جس پر بس اپنی رفتار کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہماری قیام گاہ کی جانب رواں دواں تھی۔ میں نے مڑ کر لاکھ اسی منظر میں کھو جانے کی اپنے تئیں کوشش تو کی، مگر یہ تمام عوامل انسان کے اپنے بس کے تو ہیں نہیں۔ سو ناکامی ہوئی اور میں اپنے سفر کے اختتام کی جانب متوجہ ہوا۔ چند لمحوں میں بس نے ہمیں ہماری قیام گاہ کے دروازے پر اتار دیا اور یوں آج زندگی کے ایک اور حسین ترین دن کے ایک حسین ترین سفر کا اختتام ہوا۔ الحمد للہ۔


میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ قیام گاہ پہنچ کر عملے اور وہاں پر موجود دیگر مقیمین نے ہمارا استقبال کیا اور اپنی ارواح کے سینوں پر تمغوں کا اضافہ ہونے کی مبارکباد پیش کی۔ ہم بھی اس وقت خوشی کی انتہاؤں میں جھوم رہے تھے اور میں تو واقعئی اپنے آپ کو کچھ سمجھ رہا تھا۔ صبح سے لیکر اب تک لگاتار پندرہ گھنٹوں تک محو ِ سفر رہنا، یقینا” تھکن اور نیند کا باعث ہونا چاہئے تھا، مگر اس روح افزا دیار میں ان مظاہر کا کیا کام! جب ہم اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو استراحت ہی واحد کام رہ گیا تھا، مگر ہمیں تھکن نام کو نہ تھی، سو ہم نے فیصلہ کیا کہ باہر نکلا جائے اور مشہد کی ایک رات میں اسکی گلیوں اور بازاروں کا جائزہ لیا جائے۔


چونکہ سردی خاصی جان پکڑ چکی تھی، تو ہم نے اس کے تدارک کے لئے مزید گرم کپڑے پہن لئے اور نکل پڑے شاہراہ کی جانب۔ گلیوں میں تو خاموشی تھی، مگر سڑک پر آتے ساتھ ہی پرجوش زندگی کے کچھ خاکے دیکھنے کو ملے۔ سب سے پہلی نظر تو حرم ِ مطہر ہی نے اپنی جانب مبذول کی، جس کے سحر سے نکلنا ناممکن تھا۔ میں چل تو فٹ پاتھ پر رہا تھا مگر نظریں گنبد پر تھیں۔ خاصی دیر تک یہی منظر میری آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا رہا اور میں اپنے آقا سے باتیں کرتا رہا۔ ہم دونوں یونہی آگے کی جانب بڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک غل برپا ہوا اور گاڑیوں کا ایک غول چنگھاڑتا ہوا تیز ترین رفتار کے ساتھ ہماری جانب بڑھتا ہوا نظر آیا۔ ایسے مناظر ہمارے ملک میں  دن مین کئی بار دیکھنے کو ملتے ہیں، جب ارباب ِ اختیار اپنے قلعوں سے نکل کر سڑکوں پر آتے ہیں تو ایسا ہی ماحول ہوتا ہے، مگر انکی آمد پر عوام کو کافی فاصلے پر منجمد کر دیا جاتا ہے تاکہ اچھوتوں کی نظریں ان برہمنوں پر نہ پڑنے پائیں۔ یہاں گاڑیوں کاغل غپاڑہ تو کم و بیش ایسا ہی تھا، مگر اردگرد کے لوگ اسی طرح اپنی اپنی مصروفیات میں مگن تھے۔ کسی کو اس ہجوم سے کوئی سروکار نہ تھا۔ جو خریدو فروخت میں مصروف تھا، وہ ویسے ہی چیزیں دیکھتا رہا۔ جو فٹ پاتھ پر نصب ٹیلی فون بوتھ پر اپنے عزیز کے ساتھ محوِ گفتگو تھا، اس نے ویسے ہی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا اور جو میاں بیوی اپنے ننھے بچوں کو اپنی انگلیاں تھمائے چہل قدمی میں مصروف تھے، وہ ویسے ہی خراماں خراماں ٹہلتے رہے۔ ہم چونکہ اجنبی تھے، سو جب تک حقائق کا علم نہ ہوا، پریشان رہے۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے


:دیگر مضامین
(10.01.2011) صفدر ھمدانی مرثیہ نوتصنیف کی مجالس کے لیئے کویت پہنچ گئے
(04.01.2011) لندن میں اصغر کرمانی کے گھر پر 25 محرم الحرام کی سالانہ مجلس عزا
(01.01.2011) پچیس محرم الحرام کو اصغر کرمانی کے گھر پر سالانہ مجلس مرثیہ نو تصنیف
(23.12.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 23ویں قسط
(23.12.2010) معروف شاعر اورادیب سید اقبال حیدر کے بھائی زوار حیدر کا انتقال
(14.12.2010) برطانیہ ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں محرم الحرام کی مجالس عزا
(06.12.2010) صفدر ھمدانی کے اہل خانہ کی طرف سے 60ویں سالگرہ کی سرپرائز پارٹی
(03.12.2010) شاعر،ادیب،براڈکاسٹر، صحافی،محقق اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی کے اعزاز میں تقریب
(30.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 22ویں قسط
(23.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 21ویں قسط
(20.11.2010) مرثیہ نگار وحید الحسن ہاشمی ہفتے کو لاہور میں انتقال کر گئے
(15.11.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 20ویں قسط
(03.11.2010) سید حسن زکی کاظمی کی مجلس سوئم باب المرآد میں منعقد ہوئی
(03.11.2010) عالمی اخبار کی طرف سے پہلا ''مصطفیٰ علی ھمٰدانی ایوارڈ'' ۔
(31.10.2010)  سید حسن ذکی کاظمی کو اتوار کو لندن میں سپرد خاک کر دیا گیا
(28.10.2010) وزیر آغا اور انیس ناگی کے بعد اب پروین فنا سید بھی رخصت ہو گئیں
(23.10.2010) اردوسی چاشنی کسی اور زبان میں نہیں۔ قونصل جنرل بارسلونا مسعود خان راجہ
(21.10.2010) اک اور قلم دوست مرثیہ نگار ہم کو چھوڑ کو چل دیا
(14.10.2010) اسلام آباد کے نوجوان شاعر زین عباس کا اعزاز ۔ عالمی اخبار کا افتخار
(09.10.2010) معروف ادیب اور صحافی منو بھائی صحت یاب ہو کر گھر آ گئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں