انتیسویں قسط کا اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سانس ایک لمحے کو رکا اور پھر دل کی دھڑکن ایسے تیز ہوئی کہ گویا یہ
سینے کی دیواروں پر اپنا سر پٹخ رہا ہو۔ میں نے تھوک نگلتے ہوئے اپنے گلوئے
خشک کو تر کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے بت بنا سامنے
کا نظارہ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنے سامنے امیرالمؤمنین وصیء رسول اللہ حضرت علی ابن ابو طالب علیہ افضل السلام کو تشریف فرما دیکھا۔ اور جب دیکھا تو پھر نظریں کہیں اور نہ جا سکیں، وہیں جم کر رہ گئیں۔ کافی دیر تک میں مولا (ع) کو یقین، بے یقینی، عقیدت، محبت، حیا، خوف اور شرمندگی جیسی مختلف کیفیات کے مدوجزر میں ڈوبتے اور اچھلتے ہوئے دیکھتا رہا۔ بقول حضرت مہر علی شاہ؛
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں ۔ ۔ ۔
یہ سب یوں ہوا کہ عجائب گھر کی پہلی بالائی منزل (جو کہ مصوری کے شاہکاروں کی منزل ہے)، پر جو سب سے پہلا محیر العقول شاہکار ہے وہ مولا علی (ع) کا تمثالِ مبارک ہے۔ رہی بات میرے ہکا بکا رہ جانے کی، تو آقا کا ایک ادنی غلام ہونا اور ان معصوم ہستیوں کے مقام و مرتبے کی رفعت و بلندی کے لا متناہی فاصلے کا احساس اس بات کا متقاضی تھا کہ ان ہستیوں کی مبارک پرچھائیوں کا خاکہ بھی میرے پست زہن میں نہ سما سکے۔ کہاں حسن ِ فخر ِ یوسف، کہاں میرا محدود و پراگندا زہن! مگر ایران میں وارد ہوتے ساتھ ہی قدم قدم پر معصومین (ع) کی تصاویر جا بجا نظر آئیں ، جن میں سب سے زیادہ امام رضا (ع)، امام حسین (ع) اور غازی ابوالفضل عباس (ع) کے عکس ہائے مبارکہ ہوٹلوں، دفتروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر ناظر کے مشاہدے کا حصہ بنتے ہیں۔ اپنے ان آقاؤں کے الٰہی مقامات اور اپنے پست درجے کے پیش نظر میرے ذاتی خیال میں ان ہستیوں کی تصویر کشی ایک غلط اقدام تھا۔ اپنے اسی خیال کی بنا پر میں مسلسل ان مناظر سے کنی کتراتا رہا۔ مگر اس وقت جس منظر سے آنکھیں دوچار ہوئیں تو میں نہ صرف اپنے مولا کی اس شبہیہ کو تکتا رہا، بلکہ حونقوں کی مانند گھورتا رہا۔ وہ تصویر کیا تھی، یوں معلوم ہو رہا تھا کہ مولا بنفس نفیس کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ بنانے والے نے بھی کیا خوب اپنے تخیل کا اظہار اپنی انگلیوں کے ذریعے کاغذ پر کیا تھا۔ چہرہءانور کے خدوخال، آنکھوں کے ڈورے، ریش مبارک کے بال، پیشانی کے خطوط، یہاں تک کہ عمامے کے پیچ اور شانوں کی چوڑان تک اتنے واضح نظر آئے کہ اول ترین نظر پر ایک لمحے کو تو یوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمثال نہیں، حقیقت ہے۔ صرف یہی نہیں، رخ ِ زیبا کا جلال و جمال، حیدر کرار کا رعب و دبدبہ، شیر خدا کی ہیبت، قائد غرالمحجلین کے چہرے کا نور، وجہہ اللہ کی وجاہت، عین اللہ کی وسعت اور معصوم ِ دوم کی عصمت اس شبیہہ سے چھلک رہی تھیں۔ اس وقت تو میں اپنے نظریات کے برعکس ڈوب کر اس عکس کو دیکھتا رہا، جس کے وقار و شفقت کے ایک بیکراں سمندر نے مجھ ساحل پر کھڑے ایک غلام کو اپنے بھنور کے اندر کھینچ لیا تھا۔
ابھی میں ذہنی کشمکش اور ادھیڑبن کے گنجلوں میں ہی الجھا ہوا تھا کہ عقبی دیوار کے منظر نے میرا ہاتھ تھاما اور کھینچتے ہوئے اپنے سامنے لے جا کر ساکت و جامد کردیا۔ ایک بار پھر میری بے یقینی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی تھی کہ جس منظر کے حسن اور قوت ِ جاذبہ کا میں اپنے بچپنے سے معترف تھا، آج اصلی صورت میں میری نظروں کو جلا بخش رہا تھا۔ اس منظر نے پہلے تو میری آنکھوں کی پتلیوں پر اپنا عکس نقش کر کے مجھے منجمد کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انہی آنکھوں کے رستے دل میں اتر کر اسے مسل کر رکھ دیا۔ اس عمل سے اتنی حرارت پیدا ہوئی کہ میرا وجود پگھل کر رہ گیا اور میں زمین پر ڈھیر ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
پیغمبر ِ اعظم جناب ختمی مرتبت (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ "بیشک مؤمنین کے قلوب میں شہادت ِ حسین (ع) کے متعلق ایک ایسی حرارت ہے، جو کبھی سرد نہ ہوگی۔" آل ِ ابلیس کی سفاکی کی نفرین اور اہلبیت ِ رسول (ع) کی مظلومیت کی آگ میں میرا وجود جلنے لگا۔ میری نظروں کے سامنے پھیلی ہوئی دیوار کے بیس فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا وہ منظر نقشین تھا، جسکو اسکے خالق نے "شام ِ عاشورہ" کا عنوان دے کر پوری دنیا میں حسین (ع) کے متوالوں کے لئے ایک انمول تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس منظر میں راہوار ِ حسین اپنے راکب کے لاشے کو تیروں کے مصلے پر محو ِ سجدہ چھوڑ کر آیا ہے اور اپنی خون آلود آنکھوں سے مخدرات عصمت کو سوار ِ دوش ِ رسالت کی شہادت کی نوید سنا رہا ہے۔ رسول زادیاں اس مَرکب سے لپٹی اپنے امام کی مظلومانہ شہادت پر گریہ کناں ہیں۔ یہ پینٹنگ اس حد تک مفصل اور اصل ہے کہ دیکھنے والے کو یقینا” مجلوب کرکے 10 محرم 61ھ کی خون آشام شام میں لے جاتی ہے۔ مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہونے لگا کہ گویا میں بھی 61ھ کی شام ِ غریباں کو اپنے اس گناہگار وجود سے مشاہدہ کر رہا ہوں۔ اس پینٹنگ کی نقل کو میں اپنے بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں اور ہمیشہ اس نے دل کو ملول کیا ہے۔ آج میں نے اس شاہکارِ مصوری کو مصور کے ہاتھوں سے بنی ہوئی اصلی حالت میں دیکھنے کا اعزاز بھی پا لیا تھا۔ آج شاید پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا عزادار نہ ہوگا، جس نے اس تصویر کی زیارت نہ کی ہوگی۔ اس تصویر کی اس قدر مقبولیت یقینا” مصور کی عقیدت اور اسکی محنت کی اس بارگاہ میں قبولیت کی سند ہے۔ اس تصویر کی تخلیق کسی اور کا نہیں، اسی مرد ِ قلندر کا اعزاز ہے، جسے امام (ع) نے اپنے مرقد ِ منورہ کی ضریح کی تعمیر کے لئے منتخب اور آیت اللہ واعظ طبسی کے طفیل اس ارفع ذمہ داری پر فائز فرمایا تھا۔ میری مراد استاد محمود فرشچیان کی شخصیت ہے۔
یہ وہی استاد فرشچیان ہیں، جنکا ذکر تعمیر ِ ضریح ِ مبارک ِ امام رضا (ع) کے باب میں آیا تھا۔ آپ ایک مایہ ناز مصور، ماہر تعمیرات اور مجسمہ ساز ہیں۔ استاد صاحب تمام عالم میں ایرانی فنون کے حوالے سے ایک مانی ہوئی ہستی کا نام ہے۔ جناب 1930 میں اصفہان میں پیدا ہوئے، جو علوم و فنون کی ایک اہم آماجگاہ ہے۔ بچپن ہی سے آپکو مصوری اور دیگر فنون میں دلچسپی تھی۔ آپکی اسی دلچسپی کو مد ِنظر رکھتے ہوئے آپکے والد نے آپکو اسی میدان کی تعلیم دلوائی اور آپ نے اس دور کے دو نامور اساتید جناب حاجی مرزا آغا امامی اور عیسٰی بہارودی کے دربار میں زانوئے تلمذ طے کئے۔ بعد ازاں یورپ چلے گئے اور مختلف اداروں اور جامعات میں اپنی تشنگیءشوق کی سیرابی کی سبیلیں کھوجتے رہے۔ اس میدان میں اتنا عرق کشید کیا کہ بالآخر اپنی ہی ایک الگ صنفِ مصوری ایجاد کر ڈالی۔ وطن واپس آکر وزارت ِ ثقافت سے منسلک ہوگئے۔ پھر دانشگاہ تہران (تہران یونیورسٹی) کے مدرسہءھنر ہائے زیبا (اسکول آف فائن آرٹس) کے استاد اور ڈائریکٹر کے منصب کا قلمدان سنبھال لیا۔ استاد صاحب اپنے میدان میں ڈاکٹریٹ کی سند بھی رکھتے ہیں، جنکے فن پاروں کی نمائشیں ایران کے علاوہ دنیا بھر میں ستایندگان کی توجہات سمیٹتی ہیں۔ آپکے اعزاز میں حکومت کی جانب سے 2001 میں تہران کے سعدآباد خانہءفرھنگ میں آپکے نام کا عجائب گھر تعمیر کیا گیا جہاں آپکے نادر فن پارے نہایت سلیقے سے سجائے گئے ہیں۔ آجکل آپ نیو جرسی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ استاد محمود فرشچیان کا ایک الگ اسلوب ِ مصوری ہے، جو کہ روایتی ایرانی مصوری کی ترقی یافتہ صورت ہے۔ آپ اپنے فن پاروں میں اتنی قوت بھر دیتے ہیں کہ ایک تصویر طویل واقعات کی بھرپور عکاسی کرڈالتی ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا پینٹنگ میں شام عاشورہ کی کمال عکاسی کی گئی ہے۔
ہم نے مزید آگے بڑھ کر دیکھا تو اگلی دیوار پر حضرت موسٰی (ع) کے اژدھے کا سامری کے سانپوں کو پھنکارنے کا منظر بیان تھا۔ پھر بعنوان "بہ کعبہ ولادت" کی پینٹنگ میں مولا علی (ع) کا واردِ دنیا ہونے کو ایک جنت نما منظر میں پیش ہوتا دیکھا۔ اسکے علاوہ "وحیء اول"، "پیغمبر یوسف" اور "پیغمبر ابراہیم" نامی مصوری کے شاہکار اسقدر جاندار ہیں کہ ایک ناظر بذات ِ خود ان سے قوت اخذ کرکے ان واقعات کو ازخود درک کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
جیسا کہ سبکے علم میں ہے کہ امام رضا (ع) کا ایک معروف لقب "امام ِ ضامن" بھی ہے۔ مسلمان جب کہیں سفر پر جاتے ہیں تو کپڑے کی ایک کترن مین کچھ رقم باندھ کر اپنے پاس امام ضامن کی نیت سے رکھ لیتے ہیں۔ اس رسم کی ابتداء امام رضا (ع) کے دور سے ہی ہوئی، جب آپکے اسم ِ گرامی کا سکہ رائج ہوا۔ آپکے محبین اس سکے کو برکت اور اپنی حفاظت کے پیش نظر اپنے پاس رکھتے تھے۔ جونکہ ضامن کا مطلب ہی ضمانت دینے والا ہے، سو مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ ہماری حفاظت کی ضمانت امام رضا (ع) کے ذمے ہے۔ یہ سب کیوں ہے؟ اس لئے کہ جب مولا مدینے سے مرو یا خراسان کی جانب عازم سفر تھے، تو آپ نے جنگل میں ایک شکاری کو دیکھا جو ایک ہرنی کو بعد از شکار زبح کیا ہی چاہتا تھا۔ ہرنی اسکے چنگل سے چھٹکارہ پانے کے لئے ہر ہر حربہ آزما رہی تھی، مگر بے سود۔ اسی اثناء میں امام قریب پہنچے۔ جب ہرنی کی نظر وارث ِ سلیمان، کریم امام کے رخ ِ انور پر پڑی تو اس نے اپنی زبان میں آپ سے شکاری کی شکایت کی اور مدد کی درخواست کی۔ ہرنی کی فریاد سن کر امام (ع) نے شکاری سے فرمایا کہ "اسے چھوڑ دو۔ اسکا بچہ بھوکا ہے۔ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ جیسے ہی یہ اپنے بچے کی تغذیہءشیر کر لے گی، تمھارے پاس واپس آجائیگی۔" یہ سن کر یہاں شکاری نے ہرنی کو آزاد کیا، وہاں امام اس کے نزدیک آ کر بیٹھ گئے اور ہرنی کا انتظار کرنے لگے۔ امام (ع) مطمئن، جبکہ شکاری مضطرب رہا اور اپنے فیصلے پر پچھتانے لگا۔ یہاں پر پھر جانور اطاعت و یقین بر امام میں انسان پر سبقت لے گیا اور شکاری یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ ہرنی اپنے بچے کی بھوک مٹا کر واپس آئی اور شکرئے کے اظہار کے طور پر اپنے کریم امام کے قدموں میں اپنا سر رکھ کر بیٹھ گئی۔ شکاری اپنے پست خیالات پر شرمندہ ہوا اور اپنی خفت مٹانے کی غرض سے اور امام (ع) کے اس اعجاز ِ عظیم کے اعتراف کے طور پر ہرنی کو آزاد کر دیا۔ اس تاریخی واقعے کے بعد امام ِ ثامن، امام ِ ضامن بھی کہلائے جانے لگے۔
اس تمام واقعے کی عکاسی استاد فرشچیان صاحب نے اپنی ایک معرکۃ الآرا پینٹنگ "ضامن ِ آہو" یعنی "ہرنی کا ضامن" میں کی ہے، جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
عجائب گھر کے اس حصے کی سیر کا حق ادا کرنے کے واسطے چند گھنٹے نہیں، چند دن چاہئیں۔ ہمارے پاس چونکہ وقت نہایت قلیل مقدار میں تھا، سو ہم بس واجبی سا چکر ہی لگا سکے۔ ویسے تو استاد صاحب کے تمام ہی فن پارے ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر شام ِ غریباں اور ضامن ِ آہو کے بعد جس شاہکار نے مجھے اپنے اندر سمو لیا اور ایک بار پھر جذبات سے لبریز کرکے اشکبار کر دیا، وہ تھا ایک بزرگ کی گود میں چڑھے اور اسکے پہلو سے لپٹے ہوئے چند بچے۔
بزرگ چونکہ ایک معصوم و نورانی ہستی تھی، سو اسکا چہرہ نور بکھیر رہا تھا۔ دوبچے اس بزرگ کے ایک ایک کاندھے سے ٹکے آرام کی جنت میں محو ِ استراحت تھے، جبکہ ایک بچہ اس بزرگ کی گود میں سر رکھے اپنی ماں کی گود کی حدت محسوس کررہا تھا۔ یہ عکس دیکھ کر میں اس میں کھوتا چلا گیا اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کہ آخر کیا ہے جو مصور نے اس میں پیش کیا ہے اور اس عکس میں ایسا خاص کیا ہے جو مجھے اپنی جانب کھینچ کر اپنا آپ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مجھے اپنے محدود دماغ پر زیادہ زور دینے کی زحمت سے بھی چھٹکارہ مل گیا، جب میری نگاہ اس پینٹنگ کے عنوان پر پڑی۔ میں نے اس عنوان کو پڑھا اور سب میری سمجھ میں آگیا۔ اسی آن ِ واحد میں ذہن نے قلب کو بھی اس باب ِ عشق کے معانی سمجھا دئے اور قلب نے چشمہءچشم کو جاری کرکے میرے لبوں کو "یاعلی مدد" کے کلمات سے نغمہ سرا کردیا۔
اس تصویر کا عنوان تھا "شفقت ِ علی بر یتیمان"۔ یہ عکس مجھے اپنے مولا کے دور میں لے گیا جب آقا پوری پوری رات اپنے شانوں پر اجناس لادے بیواؤں اور یتیموں کی خدمت و کفالت میں گزار دیتے تھے۔ اس عکس کے زریعے میری چشم ِتصور نے دیکھا کہ بیت المال میں چند مشکیزے شہد کے آئے ہیں، جنہیں خلیفہءوقت نے صرف شہر کے یتیم بچوں کے لئے وقف کردیا ہے۔ صرف وقف ہی نہیں کیا، بلکہ ایک ایک یتیم بچے کو اپنے ہاتھوں سے شہد کھلانے کا ذمہ بھی اپنے ہی کاندھوں پر لے لیا ہے۔ دن بھر امور ِ سلطنت، قضاوت، محکمانہ کاروائیاں، تبلیغ، خانہ داری اور دیگر امور بھی انجام دینے ہیں اور رعایا کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ یتیموں کی بھوک بھی اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانی ہے۔ یہ سب دیکھ کر بھائی نے عرض کی کہ "بھیا! آُپ اسقدر زمہ داریاں نبھا رہے ہیں، کم از کم یتیموں کو شہد کھلانے کا کام تو میرے سپرد کردیجیئے کہ آپکو کچھ آرام مل جائے۔" مسلمانوں کے خلیفہ نے وہ جواب دیا کہ رہتی دنیا تک کے ماہرین ِ نفسیات نہ ایسی توجیہہ پیش کرسکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کا کوئی اور حکمران ایسی حکمت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ میرے آقا نے ارشاد ِ زریں فرمایا کہ "عقیل! جس بچے کا باپ نہیں ہوتا، خلیفہ اسکا باپ ہوتا ہے۔ یہ کام اگر تم نے کیا، اور اسکے نتیجے میں کسی بچے کے دل میں احساس ِ کمتری پیدا ہو گیا تو اسکا حساب علی نہیں دے پائے گا۔" (اللہ اکبر!) اس تصویر میں شاید وہی بچے تھے، جنکو انکے پیدا کرنیوالے والدین تو دور جاچکے تھے، مگر انکے روحانی و کفیل باپ کا ٹھنڈا سایہ انکے سروں پر سلامت تھا، جسکے تلے یہ بچے سکون کی نیند سو رہے تھے۔ روایات بتاتی ہیں کہ یتیم بچوں سے امام علی (ع) کی شفقت کا عالم دیکھ کر کوفہ کے صاحب ِ والدین بچے یتیم ہونے کی تمنا کیا کرتے تھے۔
ان شاہکار ہائے مصوری کے علاوہ استاد ِ محترم کی تخلیقات کی ایک شاندار دنیا اس منزل پر فن کے دلدادہ حضرات کے لئے سامان انبساط سے لدی پڑی ہے۔ صرف استاد فرشچیان کے فن پاروں کا احاطہ کرنے کے لئے ایک علیحدہ کتاب رقم کرنے کی ضرورت ہے، جسکی یہاں گنجائش نہیں لیکن استاد صاحب کو ان کی خدمات کے نتیجے میں خراج ِ تحسین پیش نہ کرنا خیانت کے زمرے آتا ہے۔ جہاں استاد صاحب کا ہر ہر فن پارہ اپنے اندر بڑی بڑی حکایتوں اور حقیقتوں کے ساتھ ایک دنیا سجائے ہوئے ہے، وہیں ایران کے دیگر مصورین کی تخلیقات بھی اس عجائب گھر کی رونق کو چار چاند لگانے میں عمل انگیز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہاں ماہر خطاط حضرات کی خطاطی کے ایسے ایسے نمونے پیش برائے نمائش ہیں جن کو دیکھ کر دل حیرت و انبساط کی بھول بھلئیوں میں کھو جاتا ہے۔ ان خطاط حضرات میں عماد القطب، مرزا محمد رضا کلہور، میر عماد، سلطان علی مشہدی، یاقوت مستسعمی، مرزا قلم رضا اصفہانی، درویش عبدالمالک طالقانی، قلم حسین امیرخانی اور یداللہ کابلی کی تخلیقات اپنی مثال آپ ہیں۔
جب میں مصوری اور خطاطی کی طلسماتی دنیا کے سحر سے جدا ہوا تو ایک نیا حیرت و عشق کدہ دو قدم کے فاصلے پر میرا استقبال کرنے کو موجود تھا۔ یہ وہ گوشہ تھا جو ابتدا سے انتہا تک فقط خیر ہی خیر تھا۔ آسمان رحمتِ خداوندی اور اس مقام کے درمیان برکات و حسنات کا اک اٹوٹ اتصال تھا، جس میں ہمارا ورود نہ صرف اس اتصال کے درمیان میں حائل ہو سکا، بلکہ نور کے اس سمندر نے ہمیں بھی شناوری کا اتم موقع فراہم کیا۔۔۔۔۔۔جاری ہے