تیسویں قسط کا اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آسمان رحمتِ خداوندی اور اس مقام کے درمیان برکات و حسنات کا اک اٹوٹ
اتصال تھا، جس میں ہمارا ورود نہ صرف اس اتصال کے درمیان میں حائل ہو سکا،
بلکہ نور کے اس سمندر نے ہمیں بھی شناوری کا اتم موقع فراہم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مقام تھا کلام ِ الٰہی کے نادر و نایاب اور گرانقدر نسخوں کے خزینے کا۔ آستان ِ قدس رضوی کے منتظم ِ اعلٰی، جناب آیت اللہ عباس واعظ طبسی کی ہدایت پر عجائب گھر میں قرآن ِ کریم کے نسخوں کی حفاظت و نمائش کے لئے اس علیحدہ عمارت کی تعمیر عمل میں لائی گئی، جسکا باقاعدہ افتتاح انقلاب ِ اسلامی ایران کی پانچویں سالگرہ کی مناسبت سے 11 فروری 1985ء کو کیا گیا۔ 400 مربع میٹر وسیع اس حصے میں قرآن ِ پاک کے ایسےایسے نسخے موجود ہیں، جو کسی بھی عاشق ِ قرآن کو یوں ورطہءحیرت میں ڈال کر ایسے اسکے عشق کو دوبالا کردیتے ہیں جیسے اسی روضے کا وقار و دبدبہ ایک زائر کے حواس و احساسات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عتبہءعالیہء امام ِ ثامن (ع) کے بیچوں بیچ کلام ِ پاک کے نسخوں کا یہ خزانہ یکدم دماغ میں حدیث ِ ثقلین کی تکرار کر دیتا ہے۔ یقینا” یہی وہ مقام ہے جو اس حدیث کا واضح مصداق بھی ہے۔ رسول ِ گرامی قدر (ص) نے ارشاد فرمایا تھا کہ؛
"میں تم میں دو گرانقدر اشیاء چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک کتاب ِ خدا اور دوسرے میری عترت، یعنی میرے اہل بیت۔ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ میرے پاس کوثر پر پہنچ جائیں گے۔ پس میرے بعد جو بھی ان ثقلین کا دامن تھامے رہے گا، بلا شبہ کبھی گمراہ نہ ہوگا۔"
مؤرخ چاہے جتنی بھی بددیانتی کر لے مگر تاریخ شاہد ہے کہ یہی وہ گھرانہ تھا، جس نے خدا کے فرمان "ہم ہی اس ذکر کے محافظ ہیں" اور مذکورہ بالا فرمان ِ رسول (ص) کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔ کبھی کسی نے اپنی پسلیوں پر جلتے ہوئے در کے وزن اور اس میں پیوست کیلوں کی چبھن کو برداشت کیا تو کبھی کسی نے اپنے گلوئے مبارک میں رسی کے آزار کو سہا۔ کسی نے صلح و زہر کے کڑوے گھونٹ اپنے حلق کے پار اتارے، تو کوئی نوک نیزہ پر بلند ہو کر اسی کلام کی تلاوت کرتا رہا۔ کوئی اپنے حجاب سے اس قرآن کو ڈھانپے رہا تو کوئی پابند ِ سلاسل ہو کر آئین ِ خدا کی حفاظت کا لطف حاصل کرتا رہا۔ کسی نے اس ذکر کے حجابات کو کھول کر بیان کیا تو کوئی دانشگاہیں قائم کرکے اسکی ترویج کرتا رہا۔ کوئی بھیانک زندانوں کی تاریکیوں میں بھی اپنے آفتاب ِ زہد سے حق کی ضیا پاشی کرتا رہا تو کوئی مدینے سے خراسان کے درمیان عازم ِ سفر رہ کر اس قرآن سے اپنے عہد کو وفا کرتا رہا۔ کسی نے اپنے تقو ٰی کی انتہا کرکے اسکی حفاظت کا حق ادا کیا تو کوئی اس ذکر کے عشق میں پانچ آمروں سے نبردآزما رہا۔ کوئی عین جوانی میں اس کلام کی حفاظت کرتا کرتا اپنے جد کے پاس کوثر پر پہنچ گیا تو کوئی طویل غیبت اختیار کر گیا۔ مگر اس خانوادے کا کوئی ایک فرد بھی، چاہے شش ماہا رضیع ہو یا اپنے بابا کے دل کا سکون سہہ سالہ معصومہءزندان، ایک لحظے کے ایک کروڑویں حصے کے لئے بھی خدا و رسول سے کئے گئے پیمان سے غافل ہونے کے تصور تک سے دور رہے۔ قرآن کی حفاظت اور نانا کے فرمان کی پاسداری پر مامور حزب اللہ کا یہ سپاہی تو اتنا کمسن تھا کہ اسے یہ بھی پتا نہ تھا کہ تیر کھا کر رونا ہے یا مسکرانا۔ مگر اس نے ترشول کو اپنے گلوئے خشک میں آرپار کر کے مسکرا کر اپنے ایفائے عہد کا اعلان کیا۔ یہ اسی تبسم کا اعجاز ہے کہ آج خدا کا دین بالاتر ہے۔ اسی راج دلارے کی پیاری بہن کو جب حفاظت ِ قرآن کا مرحلہ درپیش آیا تو رخ ِ زیبا طمانچوں سے سرخ تھا، کانوں سے لہو جاری تھا اور دامن خاکستر ہوچکا تھا۔ شیطان کی دشنام طرازی سے جو روح مجروح تھی، ان زخموں کا قصہ ایک طرف۔ اب نظروں کے سامنے ایک تیرہ و تاریک زندان تھا۔ بقول ِ شاعر؛
خدا ہی جانے دل سے کیا کہا ہو گا نگاہوں نے
سکینہ کو خبر کیا تھی کہ زنداں ایسے ہوتے ہیں !!!
مگر وقت ِ رخصت بابا نے جو ذمہ داری ان معصوم و سبک شانوں کے حوالے کی تھی، اسکی بجا آوری کے لئے اس بچی نے زندان کی ظلمت اور خوف سے بھی جنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور جنگ کرتے کرتے یہ ننھی شمع خود بجھ گئی مگر ایفائے عہد کا وہ تاابد ضوفشاں نور چھوڑ گئی جو انشاءاللہ کبھی بھی بجھ نہ پائے گا۔ کیا کہنے اس بجھنے اور جلنے کے کہ
اندھیرا خود پریشاں ہے
بجھا کیا تھا، جلا کیا ہے!
آج یہ عالم ہے کہ چہار دانگ ِ عالم میں خدا کے دین کا چرچا ہے اور اب زمانہ اس نہج پر پہنچا دکھائی دیتا ہے کہ قرآن کا مستضعفین کو طاقتور ہونے کا وعدہ پورا اور خدا کے نور کا چھا جانے کا عندیہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔
نور کے یہ تمام مظاہر مجھے شوکیسوں میں سجے قرآن ِ کریم کے خوبصورت نسخوں کے صفحوں ہر پھیلی سیاہی کے درمیانی روشن دانوں سے نظر آنے لگے۔ میری نظروں کے سامنے کلام ِ پاک کا وہ نسخہ کھلا ہوا رکھا تھا، جو اس وقت کاتب ِ وحی، وصیءرسول (ع) کے قلم مبارک کی نوک سے کاغذ پر اپنے نقوش ثبت کر رہا تھا، جب جبرئیل ِ امین اس ثقیل امانت کو قلب ِ پیغمبر کے سپرد کررہے تھے اور لسان ِ مبارک ِ ختمی مرتبت (ص) کی جنبش سے یہ آیات کا روپ دھار کر اذن اللہ کے پردوں سے ٹکرا کر یداللہ کی انگلیوں کو حرکت دے رہی تھی۔ وقت ِ زیارت مجھے اپنی آنکھوں کے مشاہدے کا یقین نہ آیا۔ یااللہ! کیا میری آنکھوں کو کوئی بصری دھوکہ تو نہیں ہو رہا؟ کیا منظر ہوگا، جب وحی نازل ہو رہی ہے اور کاتب ِ وحی اسی لمحے اسے لکھتا جا رہا ہے اور آج ساڑھے چودہ صدیوں بعد وہی نسخہءکیمیا آج میری انکھوں کو ضیاء بخش رہا ہے۔ ایک تو کلام ِ پاک بذات ِ خود ایک تبرک، اوپر سے اپنے وارث کے دست ہائے مبارک سے نوشتہ! یعنی یہ نسخہ سونے پر سہاگہ کا عملی نمونہ تھا۔ دل تو چاہا کہ کاش میرے ہاتھوں اور اس نسخے کے درمیان شیشے کی دبیز دیوار نہ ہوتی تو اسے اٹھا کر چومتا، آنکھوں سے لگاتا اور اپنے سیاہ وجود کو منور کرتا، مگر جس آئین کی حفاظت، آل ِ رسول (ع) نے اپنے پاکیزہ لہو کی سرحدیں معین کرکے فرمائی تھی، اسکے قلمی نسخوں کو ان برگزیدہ ہستیوں کے غلاموں نے کیا خوب محفوظ کیا ہے۔ حفاظت ِ قرآن کا ساڑھے چودہ سو سالہ تصوراتی سفر کرتے کرتے جو میری آنکھیں بھر آئی تھیں، اب حدت ِ عشق ِ اہل بیت کی وجہ سے خشک ہو چکی تھیں اور حفاظت کے اس کامران سفر کی زیارت کرکے چمک اٹھی تھیں۔ عشق کی اسی چمک نے لبوں کو بھی متبسم کردیا تھا اور میں خوشی کے عالم میں خدا کا شکر اور فرزندان ِ ایران کی تعریف و توصیف کرنے لگا۔
تاریخ کی کتب میں درج ہے کہ حسنین کریمین (ع) بھی بچپن میں اپنے والد بزرگوار کی دیکھا دیکھی خطاطی فرمایا کرتے تھے اور اپنی والدہءگرامی سے انعام بھی پاتے تھے۔ بڑے ہوکر بھی انہوں نے کتابت ِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ عجائب گھر کے انہی خانوں میں حسنین (ع) کے دست ہائے مبارکہ کے لکھے ہوئے نسخے بھی عاشقان ِ قرآن کی آنکھوں کو ٹھنڈک مہیا کرنے کے لئے سجے رکھے ہیں۔ اسکے علاوہ امام سجاد (ع) اور تمام آئمہ اطہار (ع) کے مبارک ہاتھوں سے لکھے گئے قرآن حکیم کے نسخے یہاں موجود ہیں۔ خود ضامن ِ آہو (ع) کا پست ِ آہو پر لکھا ہو قرآن، زائر کی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔
یہ تو تھا محافظین ِ قرآن کے قلمی نسخوں کا احوال۔ اگلا مرحلہ وہ تھا، جب ہماری نظروں نے دیگر نادر نسخوں کی زیارت کی۔ ان میں جو سب سے زیادہ قابل ذکر نسخے ہیں، ان میں سے ایک لکڑی کے اوراق پر آیات قرآنی کی کندہ کاری کے نتیجے میں وجود پانے والا نسخہ ہے۔ اسکے علاوہ ایک اور محیر العقل نسخہ بیشمار قیمتی جواہرات سے تیار کرکے پیش کیا گیا ہے، جس میں سے تین سو مختلف رنگوں کی شعاعیں، زائر کو دائرہءحیرت میں مقید کرلیتی ہیں۔ اسی متبرک گوشے میں ہمیں ہندوستان میں مغل شہنشاہیت کے بانی ظہیرالدین بابر، ایران کے معروف خطاط یعقوب مستسعمی، بایسنقر مرزا، عبدالقادر حسینی شیرازی اور استاد تبریزی کے لکھے گئے نسخوں کی زیارت کا بھی موقع ملا۔ اسکے علاوہ دنیا بھر کے عمائدین اور سربراہان ِ حکومت کی جانب سے مملکت ِ ایران کو پیش کئے گئے نسخہ ہائے قرآنی بھی یہاں موجود ہیں، جن میں سے ایک نہایت خوبصورت اور عظیم نسخہ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بے بہا خزانے کے علاوہ قرآن ِ کریم کے ہاتھ سے لکھے ہوئے بارہ ہزار نورانی نسخے اس حرم کے مرکزی کتب خانے میں محفوظ ہیں جو کہ پوری دنیا میں قرآن ِ کریم کے نسخوں کا سب سے پڑا خزانہ ہے۔ ان تمام نسخوں کی زیارت اور یہ تمام معلومات حاصل کرکے میرا انبساط اپنی حدود کو چھو رہا تھا اور میں فرط ِ جذبات سے لبریز ہو کر تبسم و اشکباری کا مرقع بنا ہوا تھا۔ دفتر سے معلوماتی مواد لے کر ہم آگے بڑھے اور قالینوں کے گوشے میں پہنچ گئے۔
یہ ایک اور حیرت کدہ تھا جو مجھ جیسے تشنہءنوادرات کی آنکھیں پھاڑے ڈالتا ہے۔ اتنے وسیع، خوبصورت اور حیران کن قالین کہ یہ اپنے اوپر بنے ہوئے نمونوں، مناظر کشی اور رنگوں کے امتزاجات سے دیکھنے والے کو مبہوت کردیتے ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے اور میں اپنے ایمان کے ساتھ جواب دوں تو قالین کیا ہوتا ہے، عجائب خانے کے اس حصے میں جاکر مجھے معلوم ہوا کہ قالین کہتے کسے ہیں۔ قالینوں کا گوشہ دو، چار سو مربع میٹر وسیع ہالوں پر مشتمل ہے۔ عجائب گھر کے اس حصے کا افتتاح 1988ء میں ہوا تھا، جس میں چونتیس ایسے قالین موجود ہیں، جنکی تاریخ پانچ سو سالوں پر محیط ہے۔ یہ تمام عجائب پارے، محبان ِ امام کی اپنے امام سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تمام قالین حیرت کا علیحدہ علیحدہ باب ہیں، مگر جو قالین سب سے زیادہ میرے لئے کشش کا باعث بنا، وہ ایک اتنا بڑا قالین تھا کہ جسکی پیمائش بھی میرے ذہن میں نہیں۔ اس وسیع و عریض قالین پر سمندری حیات بُنی گئی تھی۔ یہ سب کے علم میں ہے کہ خدا نے زندگی کے تین حصے پانی میں قرار دئے ہیں۔ اور آبی مخلوقات کی کتنی اقسام ہیں، انسان آج بھی اسی کھوج میں لگا ہوا ہے۔ اس قالین کے خالق نے سمندر پر کی گئی تحقیقات کو اس میں موجود مخلوقات کے ساتھ دھاگوں سے بُن کر رکھ دیا ہے، جو دیکھنے والے کی داد سمیٹے بغیر اسے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ عجائب خانے کی اس حیرت انگیز سیر کے دوران جس چیز کا قلق ہر ہر قدم پر ہوا، وہ کیمرے کے استعمال کا ممنوع ہونا تھا۔
ابھی اس حیرت کدے کے ڈھیروں عجائب پارے ہنوز ہماری توجہ کے منتظر تھے، مگر دامن ِ وقت اس حد تک سکڑ چکا تھا کہ اب اس میں معمولی سی گنجائش رہ گئی تھی۔ سو ہم نے سیڑھیاں اترتے ہوئے تاریخ ِ مشہد سے متعلق حصے کا رخ کیا جو اس روضے کی تزئین و آرائش میں استعمال ہونے والی اشیاء سے مزین ہے۔ مثلا” پرانی ضریح، زریں محرابیں، قدیم زمانوں میں یہاں استعمال ہونے والی قندیلیں اور وہ آلات ِ صفائی، جن سے حرم ِ مبارک کی غبار روبی کی جاتی تھی، بہت احترام کے ساتھ یہاں محفوظ کی گئی ہیں۔ یہیں پر ہمیں فیروزے سے جڑا ہوا ایک فولادی مور اور فیروزے کا ہی ایک جڑاؤ پنجہءعلم ِ مبارک غازی ابوالفضل عباس (ع) بھی زیارت کرنے کو ملا۔
یہاں، عجائب گھر کی پہلی منزل پر واقع آستان قدس رضوی کے مرکزی کتب خانے کی سیر یا اسکے ذکر سے پہلو تہی کرنا یقینا” خیانت ہے۔ یہ عجائب گھر کا وہ گوشہ ہے،جسے 1997ء میں اس گھر شامل کیا گیا ۔ یہاں مختلف علوم و فنون مثلا تاریخ، مصوری، آثار قدیمہ اور دیگر اصناف پر تین ہزار سے زائد کتب و رسائل موجود ہیں۔ اور یہ کوئی عام کتب نہیں، بلکہ وہ نادر اور قدیم کتب ہیں، جو بازار میں دستیاب نہیں۔ علم و فن کا یہ دریا، اپنے جاری ہونے کے وقت سے لیکر اب تک لاکھوں تشنگان ِ علم کی سیرابی بخوبی کرچکا ہے۔ یہاں محققین سارا دن اپنے اپنے میدانوں میں تحقیق کرتے رہتے ہیں اور یہ شعبہ دل و جان سے انکی مدد میں پیش پیش ہے۔ طلاب یہاں سے اپنے مطلوبہ مواد کی نقول اور سی ڈی باآسانی حاصل کرکے اپنے علم اور اپنے ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ اس عظیم کاوش پر رہبر ِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای، صدر ِ ایران ڈاکٹر احمدی نژاد، آستان ِ قدس رضوی کے منتظم اعلی آیت اللہ طبسی اور اس کتب خانے کے منتظم ڈاکٹر کفیلی خاص مبارکباد کے مستحق ہیں۔
جب ہم نچلی منازل کی جانب زینہ اتر رہے تھے، تو عجائب گھر کے اوقات کا بھی اختتام ہو گیا۔ ایک ایک زینہ اترتے ہوئے میں مڑ مڑ کر اس حیرت کدے کے درودیوار اور نوادرات کو الوداعی نظروں سے دیکھتا رہا۔ اس طلسم کدے سے باہر قدم رکھ کر دیکھا تو باہر کی دنیا ویسی ہی تھی، جیسی کہانی میں ایلس نے جاگنے کے بعد دیکھی تھی اور جیسی ہم چند گھنٹے قبل چھوڑ کر گئے تھے۔ ہمارے سامنے بھی وسیع و عریض افق تھا، جہاں شام کی سرخی نمودار ہو چکی تھی اور ہوا اپنی مستی میں جھوم کر کہیں زلفوں کو پریشان کر رہی تھی تو کہیں انچل اڑا رہی تھی۔
میں نے کہیں اور جانے کی بجائے معصومین (ع) کی تصاویر سے متعلق اپنی ذہنی کوفت سے آزادی پانے کی خاطر مولانا جواہری صاحب کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم واپس دفتر ِ روابط ِ بین الملل گئے اور مولانا صاحب کا اس قدر خوبصورت تحفہ دینے کا شکریہ ادا کیا اور بلا تامل اپنا مدعا بیان کیا۔ مولانا صاحب کی چھٹی کا وقت ہو چلا تھا مگر انہوں نے ہمیں بیٹھنے کی پیشکش کی۔ جواب دینے سے قبل اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور فرمایا کہ آپ بھی تو یقینا” ایسے بہت سے کام کرتے ہوں گے کہ جو آہکے آقا نے منع فرمائے ہیں۔ مزید فرمایا کہ آپکے ملک میں بھی بیشمار ایسی رسومات رائج ہیں کہ جنکا دین سے کوئ ربط نہیں، مگر پھر بھی عوام انکو دلی عقیدت اور عبادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ علمائے کرام حسب ِ توفیق عوام کی اصلاح کا فریضہ انجام تو دیتے ہیں، مگر انکی دلی عقیدت اور معاملات کے بگڑنے کے خدشے کے پیش نظر ان رسومات کے سد باب پر اتنا زیادہ زور نہیں دیتے۔ یہی صورت حال کچھ یہاں بھی ہے۔ ایران کی ثقافت چونکہ کئی ہزار سال پر محیط ہے، جو زرتشتی اور آتش پرستی کے عقائد تلے پروان چڑھی ہے۔ قدیم ایران میں مختلف فنون، جن میں مصوری پیش پیش ہے، کو مذہبی حیثیت حاصل رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایرانیوں کا مذہب تو بدل گیا، مگر ثقافت میں ہمیشہ سے اتنی قوت رہی ہے کہ وہ اپنا مقام کسی نہ کسی صورت میں قائم رکھتی ہے۔ مثلا” قدیم ایران میں نوروز یعنی بہار کی آمد کا تہوار منایا جاتا تھا۔ یہ تہوار وہاں کی ثقافت کا لازمی جزو ہے، جو آج بھی ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے، جب سورج خط استوا کو عبور کرکے حوت سے حمل میں داخل ہوتے ہوئے دن اور رات کی طوالت کو یکساں کر دیتا ہے۔ اس وقت کے مذہبی پیشواؤں کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ مبارک اوقات ہیں، جنکو انکے پیغمبر زرتشت نے ہی ترتیب دیا ہے۔ اسی ثقافتی تہوار کو علماء نے متروک کرنے کی بجائے اسلامی رنگ دے کر جاری رکھا۔ آج بھی یہ تہوار ایران، افغانستان، پاکستان، وسط ایشائی ریاستوں اور دیگر ممالک میں عبادات کرتے ہوئے منایا جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے اسلام سے پہلے بھی کعبہ کا طواف کیا جاتا تھا۔ خدا نے عربوں کی ثقافت کے مطابق اسی طواف کو حج جیسی واجب عبادت میں بدل دیا۔ نوروز کے علاوہ ایران میں ہی 21 دسمبر کی رات کو شب ِ یلدا کا تہوار منایا جاتا تھا۔ یہ ایران میں بسنے والے میترا مذہب کے پیروکاروں کا تہوار تھا، جنکا عقیدہ تھا کہ 21 دسمبر کی رات سال کی سرد اور طویل ترین رات ہوتی ہے، جسکے اختتام پر میترا، یعنی فارس کے نور و حق کے دیوتا کا ظہور ہوتا ہے۔ آج بھی ایران میں شب ِ یلدا منائی جاتی ہے، مگر عبادت ِ خدا اور صلہءرحمی کے جذبات کے ساتھ۔۔ ایران مں چونکہ مشترکہ خاندانی نظام رائج نہیں ہے، اسی لئے علمائے کرام نے اس رات کو تمام خاندان کے افراد کو اپنے والدین کی خدمت میں حاضر ہو کر اکٹھے ہونے کو احسن قرار دیا ہے۔
انہی ثقافتی اسباب کی بنا پر آج بھی ایران کے عجائب گھروں میں جہاں ہزاروں سال پرانے فن پارے محفوظ ہیں، وہیں جدید آرٹ کے نمونے بھی اپنی الگ اہمیت کے حامل ہیں۔ اور جہاں تک معصومین (ع) کے عکس ہائے مبارکہ کا تعلق ہے تو اسکے پیچھے جو سبب ہے، وہ اسی ثقافت کا عمل دخل ہے۔ جن لوگوں کو خواب میں ان ہستیوں کی زیارت کا شرف نصیب ہوا، انہوں نے کاغذ پر یہ عکس بنا ڈالے اور دیگر مؤمنین کو تبرکا” زیارت کے لئے پیش کرنے شروع کر دئے۔ یوں یہ سلسلہ چل پڑا اور اب یہ عالم ہے کہ ایران کا کوئی بھی گھر، دفتر، دکان، ہوٹل، اسٹیشن، ہوائی اڈہ ان تصاویر کے بغیر ادھورا ہے۔ جواہری صاحب کی مدلل و مؤثر گفتگو مجھے قائل کرنے کے لیئے کافی تھی، سو میں انکا شکریہ ادا کرتا ہوا اٹھا اور دل کو ایک اطمنان سا محسوس ہوا کہ اس عالمانہ گفتگو سے نہ صرف ذہنی الجھن دور ہوگئی، بلکہ معلومات میں بھی خاطر خواہ آضافہ ہوا۔
مولانا صاحب سے الوداعی شکریہ و مصافحہ کرتے ہوئے، زائرہ کی یاد دہانی پر میں نے ان سے ایک اور مدعا بیان کیا جسکے جواب میں ایک دفعہ پھر وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور اپنا عمامہ سر پر رکھتے ہوئے ہمیں کل صبح سات بجے ملاقات کرنے کا عندیہ دے کر ہمارے ساتھ ہی دفتر سے باہر آگئے۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے