16.10.2026, 10:17pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 32ویں قسط
01.03.2011, 08:37am , منگل (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
اکتیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا صاحب سے الوداعی شکریہ و مصافحہ کرتے ہوئے، زائرہ کی یاد دہانی پر میں نے ان سے ایک اور مدعا بیان کیا جسکے جواب میں ایک دفعہ پھر وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور اپنا عمامہ سر پر رکھتے ہوئے ہمیں کل صبح سات بجے ملاقات کرنے کا عندیہ دے کر ہمارے ساتھ ہی دفتر سے باہر آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام ہوتی ہے تو گھر جان کو جی چاہتا ہے

میں بھی عام انسانوں کی طرح جب اپنے گھر سے باہر ہوں، تو شام کے وقت کے چند خاص لمحات میں اداس ہو جاتا ہوں اور گھر پہنچ کر ہی طبیعت سنبھلتی ہے۔ مگر حرم ِ مطہر کی فضا کے کچھ اور ہی تقاضے ہیں۔ اداسی، تنہائی، ملال، رنج، گھر کی یاد، یہ سب عوامل ان حدود میں اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں۔ یہاں صورت ِ حال ایسے ہے کہ شام ہوتی ہے تو حرم جانے کی لگن دوچند ہوجاتی ہے۔ قبل از ازان، تلاوت ِ کلام پاک گھروں میں سوئے ہوئے افراد کو بھی کھینچ کر صف ہائے نماز پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔ صحن میں صفیں بچھنے اور نمازیوں سے پر ہونے کا عمل انتہائی سرعت کے ساتھ متوازا” جاری تھا اور میں ایک طرف کو کھڑا ہو کر بیک وقت تلاوت اور صف بندی کے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ جب ماحول کی ہل چل بتدریج ٹھہراؤ میں بدلنے لگی تو ہم دونوں بھی اپنی اپنی صفوں میں اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔ ایک دفعہ پھر ہم نے پاکیزہ دیار میں نماز ِ جماعت کا اعلی ترین اعزاز حاصل کیا۔ دعا و زیارات سے فارغ ہو کر ہم باہر کی جانب مائل ہوئے کہ میدان ِ شکم میں چوہوں کی دوڑ کا میلہ سجا ہوا تھا۔

باہر آئے تو مشہد کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں، گلیاں اور بازار روشن اور خریداروں سے پر۔ فٹپاتھوں پر روزمرہ کے استعمال کی اشیاء سجائے جزوقتی کاروبار کرنے والے حضرات آوازیں لگا کر گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مشغول تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ حرم سے باہر آریے تھے اور اتنے ہی اندر کی جانب گامزن تھے۔ حرم کی حدود پر کھڑا ہوکر میں نے حسب سابق اپنے ہمدم سے رازونیاز کیا اور اسکے ایک نئے رنگ سے متاثر ہوا۔ بازار کی جانب پلٹ کر جعفر صاحب کی دکان کا رخ کیا اور ان سے اپنے تجربات کا تذکرہ کرکے خوشی حاصل کی۔ ساتھ ہی ہم نے ان سے ایک بار پھر طعام کے متعلق مشورہ کیا تو انہوں نے چند ایرانی پکوانوں کا مجھے پسند آجانے کی ضمانت لیتے ہوئے اسی علاقے کے ایک اچھے ریستوران کا پتا سمجھا دیا۔ زائرہ چونکہ سابقا” بھی ان کھانوں سے لطف اندوز ہو چکی تھی تو اس نے بھی جعفر صاحب کی باتوں کی توثیق کی۔ یوں میں نے بھی ہمت کی اور ریستوران پہنچ کر ایران کے مشہور ِ زمانہ چلو کباب کا آرڈر دیا۔

چلو کباب کو ایران کے قومی پکوان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس میں اعلی معیار کے دم شدہ چاول زعفران کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ چاول کے اوپر حسب ِ زائقہ و حسب ِ ضرورت زرشک بھی چھڑک لیا جاتا ہے۔ طباق کے اطراف میں سیخ پر بھونے گئے ٹماٹر سجے ہوتے ہیں اور چاولوں کے اوپر تازہ مکھن کا ایک پیڑا زائقے کو دوبالا کرنے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ اس ڈش کا سب سے اہم جزو ایک فٹ لمبا گوسفند کے قیمے کا سیخ کباب ہوتا ہے۔ یہ ہے ایران کا سب سے مقبول، عام مستعمل اور بین الاقوامی شہرت یافتہ پکوان جو کئی صدیوں پر محیط اپنی تاریخ رکھتا یے۔ عموما” اسے "دوغ" یعنی لسی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے جو کہ آکل کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ ہم نے آرڈر تو دے دیا مگر چند دوستوں کے ڈالے گئے وسواس کے پیش ِ نظر میں ہنوز کھانے سے کترا رہا تھا، مگر جب بیرا دھواں اڑاتے ہوئے طباق ہمارے سامنے رکھ کر گیا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے جھٹ چمچہ کانٹا سنبھالا اور چاول اور کباب کے لقمے نوش کرنا شروع کر دئے۔ جوں جوں میں اس پکوان سے لطف اندوز ہوتا جا رہا تھا، توں توں میرے تمام خدشات اپنی موت آپ مرنا شروع ہوگئے اور میں خود اپنی سرزنش کرنے لگا کہ اتنے لذیذ کھانے سے اتنے دنوں تک اپنے دہن و معدہ کو محروم رکھا۔ زائقے سے تھوڑی سی آشنائی کے بعد یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیوں ہم پاکستانیوں کو ایرانی کھانوں سے رغبت نہیں ہو پاتی۔ وہ اس لئے کہ ایران میں پاکستان کے برعکس بکرے کی بجائے گوسفند کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے، جسکی اپنی ایک خاص مہک ہے اور اس مہک کے ہم لوگ عادی نہیں۔ صرف اس مہک کی بنا پر اتنے اعلی معیار کے کھانے کو رد کر دینا یقینا” کفران ِ نعمت ہے۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ مہک اتنی بھی ناگوار نہیں، جتنا بیان کر دیا جاتا ہے۔ دوسرے، چاولوں میں زعفران کی آمیزش، زرشک کا چھڑکاؤ، مکھن کی بہتی ہوئی انہار اور بھنے ہوئے ٹماٹروں کا عرق کسی کے بھی منہ کو پانی سے بھر دینے کے لئے کافی ہیں۔ سو میں نے خوب مزے لے لے کر اپنا شکم پر کیا اور اتنی خوش زائقہ نعمات عطا کرنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ (آج بھی کبھی ان کھانوں کی یاد آتی ہے تو ہم اپنے شہر کے ایرانی ریستوران میں جار کر یہی ڈش منگواتے ہیں۔)

اس پر تکلف عشائیے کے بعد ہم نکل کھڑے ہوئے چہل قدمی کے لئے۔ آج ہم سڑک کی دوسری جانب تھے، جسکے ساتھ ساتھ دکانوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جبکہ حرم کے صدر دروازے کے بائیں بازو پر بازار ِ رضا تھا۔ بازار ِ رضا ایک کلو میٹر طویل دومنزلہ بازار ہے جس میں دنیا جہان کی ہر جنس دستیاب ہے۔ کوئی زائر یا سیاح مشہد آئے اور بازار ِ رضا نہ آئے، ایسا شاید آج تک نہ ہوا ہو۔ ابھی تک تو میں نے مشہد کی سڑکوں پر موجود دکانیں دیکھی تھیں، پر آج اس بازار میں قدم رکھ کر حیرت کے اور جہان میں کھو گیا۔ تاحد ِ نگاہ دکانیں ہی دکانیں اور کوئی بھی دکان گاہکوں سے خالی نہیں۔ یہ بات آج بھی میرے لئے معمہ ہے کہ کیوں ایرانی بازار ہمہ وقت گاہکوں سے بھرے رہتے ہیں۔ ہم پردیسیوں یا سیاحوں کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ اپنے ہم وطنوں کے لئے تحائف لیجانا ضروری ہے، مگر اسی علاقے کے مکینوں کا ہر قسم کی دکان میں چوبیس گھنٹے بھیڑ مچائے رکھنا سمجھ سے باہر تھا۔ چاہے وہ پارچہ جات کی دکان ہو یا مصالحہ جات کی، ملبوسات کا ٹھیہ ہو یا ماکولات کا ڈھابہ، کہیں نگینہ فروشی ہو رہی ہو یا عکس بندی، درجن بھر افراد کی موجودگی ہمہ وقت دیکھنے کو ملے گی۔ پہلے پہل تو ہم دکان خالی ہونے کا ہی انتظار کرتے رہے مگر خریدار کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی نظر آئے۔ اتنی بھیڑ دیکھ کر ہم نے ہاہر آجانے کا فیصلہ کیا اور خریداری کو کل پر موقف کردیا۔

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں تھوڑی دیر اور چہل قدمی کی اور روضہء مبارک کی زیارت اور الوداعی سلام کرکے اپنی قیام گاہ کی جانب قدم بھرنا شروع کر دئے۔ تمام دن جو مناظر دیکھے تھے اور جتنا اضافہ اپنے علم میں کیا تھا، اسکو دہراتے دہراتے ہماری قیام گاہ بھی آگئی۔ استقبالیے کو عبور کرکے اپنے کمرے میں جایا ہی چاہتے تھے کہ وہاں پر پہلے سے موجود ہمارے دوستوں اور مینیجر صاحب نے چائے کی دعوت پر روک لیا۔ اس وقت وہاں بالکل پاکستانی ماحول بنا ہوا تھا۔ وہاں پر مقیم تمام زائرین خوش گپیوں میں مصروف تھے، جنکے لیئے راشد صاحب کی اہلیہ باورچی خانے سے اپنے بچوں کے زریعے چائے سے بھرے کپ بھجوائے جارہی تھیں۔ خواتین دوسرے کمرے میں ایک دوسرے کے ساتھ محو ِ گفتگو تھیں۔ وہ واقعی ایک مسافر خانہ تھا، جہاں کوئی آ رہا تھا اور کوئی جا رہا تھا۔ چونکہ ہم سب کی دوستی پرسوں ہی نیشاپور کے سفر کے دوران ہوئی تھی تو آج سب ایک دفعہ پھر اکٹھے ہوگئے تھے۔ دراصل چائے کی یہ دعوت، مصطفی بھائی اور انکی اہلیہ کے اعزاز میں تھی، جو جدہ سے مشرف ہونے کے لئے آئے تھے، جبکہ بھابی صاحبہ لکھنؤ سے، اور سویرے ان کی اپنی اپنی منازل کی جانب واپسی تھی۔ یہ ماحول دیکھ کر میرا دل مسرور کی بجائے ملول سا ہوگیا اورمجھے اپنی واپسی کا خیال آنے لگا۔ میں چائے کی چسکیاں تو بھر رہا تھا مگر خلاؤں میں کھویا ہوا اپنی واپسی کے مناظر دیکھتا ہوا۔ مصطفی بھائی اور انکی اہلیہ سے مل کر بھی ان کے لئے دل سے دعائیں نکلیں۔ چار سال بعد وہ دونوں چند دنوں کے لئے اس مقدس دیار میں ملے تھے اور نجانے اور کتنے سالوں کے لئے ایک بار پھر جدا ہونے جا رہے تھے۔ ایسے عشاق کی زیارات یقینا” اس بارگاہ میں لائق ِ قبولیت ہیں، جو اپنی مشکل سے حاصل کی گئی تعطیلات کو اس عظیم عبادت کے لئے معین کرتے ہیں۔

مصطفی بھائی کو رخصت کرکے میں بوجھل قدموں سے زینہ عبور کرتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ تعقیبات کے دوران زہن میں پورا دن کئے گئے تجربات حسب ِ سابق ایک فلم کی مانند چلنا شروع ہوگئے۔ اتنے قیمتی مناظر سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے کا انبساط اپنی جگہ تھا، مگر جو سعادت اگلے روز حاصل ہونے جا رہی تھی، اس نے دل کی دھڑکن کو دوچند کر دیا تھا اور اسی جوش و خروش نے آتی ہوئی نیند کو بھی سو کوس دور بھگا دیا۔ میں اپنے دماغ میں آنیوالے کل کی نقشہ گری کرتا کرتا نجانے کس وقت نیند کی آغوش میں جا گرا۔ ہم دونوں علی الصبح بیدار ہوگئے اور نماز سے فارغ ہو کر حرم کی جانب چل پڑے۔ حسب ِ سابق آج بھی روپہلی صبح طلوع ہوئی تھی۔ سورج آہستہ آہستہ افق کی سرزمین پر اپنا تخت بچھا نے لگا اور ہم ٹھنڈی ہوا کے سبک خرام جھونکوں کے برخلاف اپنی منزل کی جانب خوشی خوشی اور خراماں خراماں اپنا سفر طے کرنے لگے۔ ہمیں چونکہ مولانا صاحب نے سات بجے بلایا تھا اور ابھی سات بجنے میں کچھ وقت باقی تھا تو ہماری رفتار میں قدرتی ٹھہراؤ آگیا اور ہم گردوپیش سے مزید لطف اندوز ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی منزل طے کرنے لگے۔ آج ہمارے سینوں پر جو ایک اور تمغے کا اضافہ ہونے جا رہا تھا، وہ "مہمان امام" بننے کا اعزاز تھا، جسکا ٹکٹ دفتر روابط بین الملل سے صبح سات بجے مولانا جواہری صاحب کے ہاتھوں ملتا ہے۔

آستان ِ قدس رضوی کے زیر اہتمام مہمان سرائے امام رضا (ع) نامی ایک عمارت میں زائرین کے لئے ایک عالیشان اور پر تکلف ظہرانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش دو کروڑ زائرین ہر سال امام رضا (ع) کی زیارت کو تشریف لاتے ہیں۔ ان تمام زائرین کے لئے ایک وقت کا کھانا امام (ع) کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک عام زائر کو مہمان امام کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جو یقینا” ایک عظیم سعادت ہے۔ یہ سلسلہ کئی صدیوں سے جاری ہے۔ اس لئے ہر زائر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دے۔ ہر روز تقریبا” پانچ ہزار زائرین کو اس دعوت میں بلاوا دیا جاتا ہے۔ اس لئے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے ٹکٹ کا طریقہءکار وضع کیا گیا ہے، جسکی تقسیم سویرے سات بجے زائرین کی رہنمائی کے دفتر میں کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ سعادت صرف زائرین کے لئے ہے، سو ہر زائر کے لئے اپنی شناخت کے لئے اپنا پاسپورٹ دکھانا ضروری ہے، وگرنہ ٹکٹ نہیں ملتا۔ اس دعوت سے بہرہ مند ہونے کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے اور وہ ہے دفتر نذورات میں عطیہ جمع کرکے ٹکٹ حاصل کرنے کا۔ دفتر نذورات، خیابان ِ صفوی سے آتے ہوئے (جو ہمارا داخلی راستہ رہا ہے) صدر دروازے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ یہاں پچاس ڈالر یا اسکے مساوی ایرانی سکے کے عوض عطیہ جمع کروا کر بھی دسترخوان ِ امام کا ٹکٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حرم ِ مطہر میں بیشمار دفاتر ِ نذورات موجود ہیں، مگر یہ سہولت صرف خیابان ِ صفوی والے دفتر پر میسر ہے۔

ہمارے لئے چونکہ پہلا والا طریقہءکار زیادہ آسان تھا، سو ہم اپنے حساب سے سات بج کر چند منٹ بعد دفتر پہنچے۔ وہاں داخل ہوئے تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ ایک جم ِ غفیر تھا، جو قطار بنائے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ ایک جانب آقایان یعنی مرد حضرات، جبکہ دوسری جانب بانوان یعنی خواتین کی قطاریں تھیں۔ جبکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ہم صبح سات بجے آئیں گے اور ہمارے ٹکٹ طشت میں ہمارے سامنے رکھے ہوں گے۔ مگر یہاں تو صورت حال بالکل ہی مختلف تھی۔ غیر ایرانی زائرین کا اتنا بڑا ہجوم آج پہلی بار کہیں اکٹھا نظر آ رہا تھا۔ اب مجھے کھٹکا لگا کہ ہمارے دیر سے پہنجنے کی وجہ سے آج پہلی مرتبہ کہیں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔ مگر ہم چند ہی تو لمحے لیٹ ہوئے تھے۔ مگر ان چند ہی لمحوں میں یہاں منظر بدل چکا تھا۔ میں آخری والی نشست پر جاکر اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ گیا اوراپنے کامیاب لوٹنے کی دعائیں کرنے لگا۔ مولانا جواہری صاحب سر جھکائے ایک ایک نشست پر جاکر پاسپورٹ سے جانچ پڑتال کرکے ایک ایک زائر کو ٹکٹ تھماتے جارہے تھے اور بتدریج میری جانب بڑھ رہے تھے۔ ان کے ایک ایک قدم کے ساتھ میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جارہی تھی۔ مجھے قوی امید تھی کہ کہ لیٹ ہوجانے کے باوجود میری باری آہی جائیگی۔ مگر اسی ادھیڑبن کے دوران میری امید دم توڑ گئی جب مجھ سے چار افراد قبل آج کے ٹکٹ ختم ہوجانے کا اعلان ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

:دیگر مضامین
(25.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 31ویں قسط
(23.02.2011) مانچسٹر اور بولٹن میں عید میلاد النبی کی پررونق تقریبات
(20.02.2011) صفدر ھمدانی کے بڑے بھائی اسد ھمدانی کا سوئم لاہور میں ہو گیا ہے
(18.02.2011) برلین میں خاتم النبین کے یوم ظہور کے سلسلے میں محفل میلاد کا انعقاد
(14.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 30ویں قسط
(13.02.2011) بھارت کے شہر لکھنؤ میں اہل تشیح نے ایام سوگ کے اختتام پر جلوس نکالا
(11.02.2011) معروف افسانہ نگار بیگم اختر جمال کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
(30.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 28ویں قسط
(29.01.2011)  نعت گو اور نعت خوان مظفر وارثی کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا
(26.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 27ویں قسط
(25.01.2011) زہرا صفدر ۔ کنگز کالج لندن سے ایم ایس سی سائیکالوجی اور سائکاٹری کی ڈگری
(22.01.2011) صفدر ھمدانی کویت کے بارہ روزہ دورے کے بعد واپس لندن روانہ ہو گئے
(20.01.2011) صفدر ھمدانی نے کویت میں پاکستان کے سفیر جناب افتخار عزیز سے ملاقات کی
(18.01.2011)  عبداللہ عباسی کی دعوت پر صفدر ھمدانی کا دورہ ریڈیو کویت
(12.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 26ویں قسط
(10.01.2011) صفدر ھمدانی مرثیہ نوتصنیف کی مجالس کے لیئے کویت پہنچ گئے
(04.01.2011) لندن میں اصغر کرمانی کے گھر پر 25 محرم الحرام کی سالانہ مجلس عزا
(01.01.2011) پچیس محرم الحرام کو اصغر کرمانی کے گھر پر سالانہ مجلس مرثیہ نو تصنیف
(23.12.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 23ویں قسط
(23.12.2010) معروف شاعر اورادیب سید اقبال حیدر کے بھائی زوار حیدر کا انتقال



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں