شعبہ نفسیات میں کام کرنے کی وجہ سے مجھے اب تک خود کشی جیسے سانحات پر کوئی افسوس اور دکھ نہیں ھونا چاھیئے لیکن ھمیشہ کی طرح آج پھر کڑھ رھی ھوں اور اپنے آپ کو جلا کر راکھ کر رھی ھوں ۔
دوستو!
بے حسی بھی ایک نعمت ھے جس کی قیمت حساس لوگ ھی جان سکتے ھیں جنہیں آئے دن کے آزار ھی مارے رکھتے ھیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق دکھ سہتے رھتے ھیں ۔ واقعہ کوئی نیا نہیں ھوا تھا تو بھلا دہائی سنتا کون ۔۔ ٹھیک بارہ گھنٹوں بعد سب ویسے کا ویسا تھا اور کچھ اگر نہیں بدلا تھا تو واقعہ جو جو ں کاتوں پڑا ھے ۔
اور واقعہ یہ ھے کہ “ نجی ٹی وی چینل کے بائیس سالہ کارکن نوجوان محمد اعظم نے تین ماہ کی تنخواہ نہ ملنے پر خودکشی کر لی “ ۔۔ پھر اُس کے بعد کے جلسے جلوس ، بیانات اور تعزیت سب کچھ وہی جو ھوتا آیا ھے ۔۔ لیکن خود کشی کا واقعہ اپنی جگہ ویسے ھی تازہ پڑا ھے ۔
مجھے میرے دوست ھمیشہ سمجھاتے ھیں کہ خود کشی ایک حادثاتی موت ھے جیسے اور لوگ کبھی آپریشن کے دوران تو کبھی ھارٹ اٹیک سے مر جاتے ھیں ۔۔لیکن میر اسوال اُن سب سے یہی ھوتا ھے کہ ھم انہیں بچانے کے لیئے سر توڑ کوششیں بھی تو کرتے ھیں ۔۔ ھم انہیں کبھی جاتا نہیں دیکھ سکتے پھر خود کشی کرنے والوں کوکیوں نہیں روک سکتے ۔۔ کیوں نہیں بچا سکتے ۔۔ مجھے کیوں لگتا ھے کہ جب کوئی خود کشی کرتا ھے تو جیسے انسانیت کا دعوی کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ پڑتا ھے ۔
ھم یہ کہہ کر کبھی اپنی دامن نہ بچا سکیں گے کہ دنیا میں ایک ملین لوگ سالانہ خود کشی کرتے ھیں ۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ھو گی کہ ان کی تعداد جنگوں میں مرنے والوں سے زیادہ ھے ۔اور سب سے زیادہ خود کشی ایشیا( چین ، بھارت اور جاپان ) میں ھوتی ھے اور ھر سال اس کا تناسب بڑھ رھا ھے ۔
کتابوں میں لکھا ھے کہ نفسیاتی الجھنیں ، تنہائی ، احساس ٍ جرم ، شرمندگی ،ناکامیاں ، غربت ، گھریلو حالات ، آپس کی تلخیاں اور ناچاکیاں ، خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیئے اعزازی طور پر ، کبھی حادثاتی تو کبھی احتجاجی طور پر خود کشی کر لی جاتی ھے ۔ لیکن ایک منٹ کے لیئے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے یقین دلا دیجئے کہ ان سب میں کو ئی ایک وجہ بھی ایسی نہیں ھے جن کا سد باب نہ ھو سکتا ھو ۔
بایئس سالہ نوجوان محمد اعظم کو تین مہینے کے تنخواہ نہیں ملی تھی ۔۔
دوستو !
غربت وسائل سے محرومی کا نام نہیں ھے بلکہ امید سے محرومی کا نام ھے ۔ ھم لوگ غریب تھے لیکن امید سے کبھی محروم نہیں تھے ۔ ھماری خودداری کا سودا کرنے والے سرکاری لوگ خود ایئر کنڈیشنڈ گھروں اورگاڑیوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور ھم جیسے لوگوں کو آٹے ،بجلی اور بےروزگاری میں الجھا رکھا ھے۔
گزشتہ سے پیوستہ اور حالیہ حکومتی دور میں مہنگائی کے بڑھتے ھوئے طوفان اور بنیادی ضروریاتٍ زندگی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ لا قانونیت نے عدم تحفظ جیسے احساسات کو جنم دیا ھے اور خود کشی کی وہ سب وجوہات پیدا کر دی ھیں جو کتابوں میں لکھی ھوئی ھیں۔
سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ خود کشی کرتے ھیں اور کیسے مر جاتے ھیں بلکہ میرا سوال یہ ھے کہ کیوں اتنی خوبصورت زندگی جس کو بچانے کا حکم الہی ھے ، علاج اور تیمارداری مومن کی پہچان رکھ دی ۔۔پھر غفلت کہاں ھو رھی ھے ۔
حکومت نے ملک بھر میں کسی منصوبہ بندی کے بغیر ٹی وی چینلوں کی وبا پھیلا دی ہے اور ایسے زیادہ تر چینل گورنر پنجاب جیسے بڑے اور بااثر لوگوں کے ہیں جو صحافت میں خرکاری کر رہے ہیں ۔ یہ ایک چینل کی بات نہیں صرف لاہور میں ہی ایسے کم ازکم 5 ٹی وی چینل ہیں جنکے ملازمین کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہوئیں ۔
پمرا کا کام کیا یہی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینل کی نشریات بند کردے جنکے پروگرام حکموت وقت کے حق میں نہ ہوں ۔اگر یہ واقعی ریگولیٹری اتھارٹی ہے تو یہ بھی اسکا کام ہے کہ یہ یقینی بنائے کہ ان ملازمین کو تنخواہیں مل رہی ہیں یا نہیں ۔ملک میں جاری لاقانونیت اب کینسر کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گئی ہے۔ یہ ایک خود کشی تو وہ تھی جو ہو چکی لیکن جو سینکڑوں لوگ روازنہ خود کشی کے احساس سے گزر رہے ہیں انکا کون سوچے گا۔
صحافیوں کی تنظیموں اور انکے عہدیداروں کے بیانات بھی صرف لفاظی ہیں اور خود ان صحافتی تنظیموں کے عہدیدار بڑے بڑے ٹی چینلوں پر اینکر پرسن کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں جیسے لولی لنگڑی عدلیہ ہے وہ اپنے طور ان حالات کا نوٹس لے اور ایسے چینلوں کے مالکان پر مقدمے چلائے جائیں جو مزدور کی مزدوری اسکا خون خشک ہونےکے بعد بھی ادا نہیں کرتے ۔
اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی اور فوری عملی اقدام نہ کیئےگئے تو پھر ہو سکتا ہے کہ کتنے ہی گھروں کے دروازوں پر یہی لکھا ہوا ملے کہ۔۔۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرؤں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
( مصطفیٰ زیدی )