15.10.2026, 05:46pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرؤں ۔از نگہت نسیم
05.12.2008, 01:54am , جمہ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

شعبہ نفسیات میں کام کرنے کی وجہ سے مجھے اب تک خود کشی جیسے سانحات پر کوئی افسوس اور دکھ نہیں ھونا چاھیئے لیکن ھمیشہ کی طرح آج پھر کڑھ رھی ھوں اور اپنے آپ کو جلا کر راکھ کر رھی ھوں ۔
دوستو!
 بے حسی بھی ایک نعمت ھے جس کی قیمت حساس لوگ ھی جان سکتے ھیں جنہیں آئے دن کے آزار ھی مارے رکھتے ھیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق دکھ سہتے رھتے ھیں ۔ واقعہ کوئی نیا نہیں ھوا تھا تو بھلا دہائی سنتا کون ۔۔ ٹھیک بارہ گھنٹوں بعد سب ویسے کا ویسا تھا اور کچھ اگر نہیں بدلا تھا تو واقعہ جو جو ں کاتوں پڑا ھے ۔

اور واقعہ یہ ھے کہ “ نجی ٹی وی چینل کے  بائیس سالہ کارکن نوجوان محمد اعظم نے تین ماہ کی تنخواہ نہ ملنے پر خودکشی کر لی “ ۔۔ پھر اُس کے بعد کے جلسے جلوس ، بیانات اور تعزیت سب کچھ وہی جو ھوتا آیا ھے ۔۔ لیکن خود کشی کا واقعہ اپنی جگہ ویسے ھی تازہ پڑا ھے ۔

مجھے میرے دوست ھمیشہ سمجھاتے ھیں کہ  خود کشی ایک حادثاتی موت ھے جیسے اور لوگ کبھی آپریشن کے دوران تو کبھی ھارٹ اٹیک سے مر جاتے ھیں ۔۔لیکن میر اسوال اُن سب سے یہی ھوتا ھے کہ ھم انہیں بچانے کے لیئے سر توڑ کوششیں بھی تو کرتے ھیں ۔۔ ھم انہیں کبھی جاتا نہیں دیکھ سکتے پھر خود کشی کرنے والوں کوکیوں نہیں روک سکتے ۔۔ کیوں نہیں بچا سکتے ۔۔ مجھے کیوں لگتا ھے کہ جب کوئی خود کشی کرتا ھے تو جیسے انسانیت کا دعوی کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ پڑتا ھے ۔

ھم یہ کہہ کر کبھی اپنی دامن نہ بچا سکیں گے کہ دنیا میں  ایک ملین لوگ سالانہ خود کشی کرتے ھیں ۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ھو گی کہ ان کی تعداد جنگوں میں مرنے والوں سے زیادہ ھے ۔اور سب سے زیادہ خود کشی ایشیا( چین ، بھارت اور جاپان ) میں ھوتی ھے اور ھر سال اس کا تناسب بڑھ رھا ھے ۔

کتابوں میں لکھا ھے کہ نفسیاتی الجھنیں ، تنہائی ، احساس ٍ جرم ، شرمندگی ،ناکامیاں ، غربت ، گھریلو حالات ، آپس کی تلخیاں اور ناچاکیاں ، خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیئے اعزازی طور پر  ، کبھی حادثاتی  تو کبھی احتجاجی طور پر خود کشی کر لی جاتی ھے ۔ لیکن ایک منٹ کے لیئے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے یقین دلا دیجئے کہ ان سب میں کو ئی ایک وجہ بھی ایسی نہیں ھے جن کا سد باب نہ ھو سکتا ھو ۔

بایئس سالہ نوجوان محمد اعظم کو تین مہینے کے تنخواہ نہیں ملی تھی ۔۔

 دوستو !

غربت وسائل سے محرومی کا نام نہیں ھے بلکہ امید سے محرومی کا نام ھے ۔ ھم لوگ غریب تھے لیکن امید سے کبھی محروم نہیں تھے ۔ ھماری خودداری کا سودا کرنے والے سرکاری لوگ خود ایئر کنڈیشنڈ گھروں اورگاڑیوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور ھم جیسے لوگوں کو آٹے ،بجلی اور بےروزگاری میں الجھا رکھا ھے۔

گزشتہ سے پیوستہ اور حالیہ حکومتی دور میں مہنگائی کے بڑھتے ھوئے طوفان  اور بنیادی ضروریاتٍ زندگی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ لا قانونیت نے عدم تحفظ جیسے احساسات کو جنم دیا ھے اور خود کشی کی وہ سب وجوہات پیدا کر دی ھیں جو کتابوں میں لکھی ھوئی ھیں۔

سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ خود کشی کرتے ھیں اور کیسے مر جاتے ھیں بلکہ میرا سوال  یہ ھے کہ کیوں اتنی خوبصورت زندگی جس کو بچانے کا حکم الہی ھے ، علاج اور تیمارداری مومن کی پہچان رکھ دی ۔۔پھر غفلت کہاں ھو رھی ھے ۔

حکومت نے ملک بھر میں کسی منصوبہ بندی کے بغیر ٹی وی چینلوں کی وبا پھیلا دی ہے اور ایسے زیادہ تر چینل گورنر پنجاب جیسے بڑے اور بااثر لوگوں کے ہیں جو صحافت میں خرکاری کر رہے ہیں ۔ یہ ایک چینل کی بات نہیں صرف لاہور میں ہی ایسے کم ازکم 5 ٹی وی چینل ہیں جنکے ملازمین کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہوئیں ۔

پمرا کا کام کیا یہی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینل کی نشریات بند کردے جنکے پروگرام حکموت وقت کے حق میں نہ ہوں ۔اگر یہ واقعی ریگولیٹری اتھارٹی ہے تو یہ بھی اسکا کام ہے کہ یہ یقینی بنائے کہ ان ملازمین کو تنخواہیں مل رہی ہیں یا نہیں ۔ملک میں جاری لاقانونیت اب کینسر کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گئی ہے۔ یہ ایک خود کشی تو وہ تھی جو ہو چکی لیکن جو سینکڑوں لوگ روازنہ خود کشی کے احساس سے گزر رہے ہیں انکا کون سوچے گا۔

صحافیوں کی تنظیموں اور انکے عہدیداروں کے بیانات بھی صرف لفاظی ہیں اور خود ان صحافتی تنظیموں کے عہدیدار بڑے بڑے ٹی چینلوں پر اینکر پرسن کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں جیسے لولی لنگڑی عدلیہ ہے وہ اپنے طور ان حالات کا نوٹس لے اور ایسے چینلوں کے مالکان پر مقدمے چلائے جائیں جو مزدور کی مزدوری اسکا خون خشک ہونےکے بعد بھی ادا نہیں کرتے ۔

اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی اور فوری عملی اقدام نہ کیئےگئے تو پھر ہو سکتا ہے کہ کتنے ہی گھروں کے دروازوں پر یہی لکھا ہوا ملے کہ۔۔۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرؤں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
( مصطفیٰ زیدی
)
 


:دیگر مضامین
(20.11.2008)  کھیل ھی کھیل میں سارے جگنو مار دیئے ۔از نگہت نسیم
(09.11.2008)  ہماری سویر کیسے ھو؟ از نگہت نسیم
(07.11.2008) میرا بھی ایک خواب ھے ۔از نگہت نسیم
(02.11.2008) صحافت عبادت ھے یا تجارت۔ از نگہت نسیم
(01.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ
(14.10.2008) امن کی فاختہ تو پاکستان میں موجود ہے ہمیں علم نہ تھا
(14.10.2008) امن کی فاختہ پاکستان کے آسمان پر کہیں نظرنہیں آرھی
(14.10.2008) قانون اور پاکستان میں “ن “ کا نقطہ
(14.10.2008) چالیس ھفتوں کی کہانی ایک ھفتے میں ختم
(14.10.2008) جونہی فیصلہ ہوا بھولی عوام کو مزید گمراہ کردیا جائے گا
(14.10.2008) جمہوری خاندان کی خاندانی آمریت
(14.10.2008) ‘‘تو ایک اک حرف جی اٹھے گا‘‘
(14.10.2008) قوموں کے مزاج انکے عروج و زوال کے امین ہوتے ہیں
(14.10.2008) احمد فراز ، اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال
(14.10.2008) بین المذہبی کانفرنس یا امریکی نیاز مندی
(14.10.2008) اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا
(14.10.2008) رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ھے
(14.10.2008) سیاسی استخارے اور ھم بیچارے
(14.10.2008) لانگ مارچ کا ایک دور اندیشانہ اختتام
(14.10.2008) غلطیاں یا مشعلٍ راہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں