|
معروف شاعر عزم بہزاد کا سوئم اتوار کو نارتھ کراچی میں ہوا
06.03.2011, 10:20am , اتوار (GMT+1)
عالمی اخبار کراچی بیورو
کراچی کے معروف و مقبول ہر دلعزیز شاعر عزم بہزاد گزشتہ رات خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
انا للہِ وانا الیہ راجعون
انکی نمازِ جنازہ آبعد نمازِ جمعہ اجمیر نگری، نارتھ کراچی میں ادا کی گئی جس کے بعد انکی تدفین عمل میں آئی۔انکی آخری رسومات میں انکے دوستوں،قلم کاروں،اعزا اور احباب نے شرکت کی
دعا ہے اللہ رب العزت محترم عزم بہزاد پر اپنا خاص کرم فرمائے اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ (آمین)
عزم
بہزاد کا سوئم 6مارچ بروز اتوار، ظہر تا عصر مسجد ابوبکر صدیق، سیکٹر 8،
نارتھ کراچی میں ہوا
وہ بہزاد لکھنوی کے پوتے اور ریڈیو کے نیوز ریڈر انور بہزاد کے بھتیجے تھے
آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمدشاہ
اور کراچی پریس کلب کے نائب صدر اور ادبی کمیٹی کے چیئرمین فاضل جمیلی نے
عزم بہزاد کی اچانک رحلت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے
اردو شاعری کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ عزم صاحب کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں اور سورہ فاتحہ تلاوت کریں۔
کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رو رہی ہے کسی دیوار پر ناخن نے لکھا ہے رہائی کسی گھر میں اسیری کی اذیت رو رہی ہے کہیں منبر پہ خوش بیٹھا ہے اک سجدے کا نشہ کسی محراب کے نیچے عبادت رو رہی ہے یہ ماتھے پر پسینے کی جو لرزش تم نے دیکھی یہ اک چہرے پہ لا حاصل مشقت رو رہی ہے عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے یہ خاموشی نہیں سب التجائیں تھک چکی ہیں یہ آنکھیں تر نہیں رونے کی ہمت رو رہی ہے جو بعد از ہجر آیا اس کی کیسے وصل کہہ دوں شکائت سے گلے مل کر ندامت رو رہی ہے اسے غصہ نہ سمجھو عزم یہ میرے لہو میں مسلسل ضبط کرنے کی روایت رو رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی دیا جلانے کی کوشش میں خود جل جانے والے یہ اک خلوت کا رونا ہے جو باتیں کرتی تھی یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دل پگھلانے والے کسی تماشے میں رہتے تو کب کے گم ہو جاتے اک گوشے میں رہ کر اپنا آپ بچانے والے ہمیں کہاں ان ہنگاموں میں تم کھینچے پھرتے ہو ہم ہیں اپنی تنہائی میں رنگ جمانے والے اس رونق میں شامل سب چہرے ہیں خالی خالی تنہا رہنے والے یا تنہا رہ جانے والے اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے عزم یہ شہر نہیں ہے نفسا نفسی کا صحرا ہے یہاں نہ ڈھونڈو کسی مسافر کو ٹھہرانے والے
|