|
یمن میں تبدیلی کی قیادت کرنے والی خاتون ۔ از ۔ ایلِس ہیکمین
07.04.2011, 05:01pm , جعمرات (GMT+1)
ایلِس ہیکمین
: تیونس اور مِصر میں دو صدُور کی معزولی اور لیبیا میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ اب یمن میں بھی احتجاجی مظاہروں کی لہر دنیا کی توّجہ حاصل کر رہی ہے۔ تیزی سے زور پکڑتی ہوئی تشدد کی یہ لہر پریشان کُن ہے اور یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس کا نتیجہ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی فوری معزولی کی شکل میں برآمد ہوتا ہے یا یمن میں تبدیلی آنے میں نسبتاً زیادہ دیر لگے گی۔ لیکن یمن میں ایک چیز دوسروں سے مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ یمن میں تبدیلی لانے کی تحریک کی بین الاقوامی سطح پر پہچان ایک خاتون سے ہے۔
دی واشنگٹن پوسٹ، دی ٹورنٹو سٹار اور ٹائم میگزین جیسے معروف صحافتی اداروں میں جگہ پانے والی صحافی اور انسانی حقوق کی فعال علمبردار توّکل کرمان یمنی خواتین کی ایک مثبت تصویر پیش کرتی ہیں۔ یمنی حکومت کے خلاف فروری میں شروع ہونے والے مظاہروں سے بہت پہلے ہی سے یمن میں اُنہیں آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کی نڈر محافظ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
جنوری 2010 میں الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صحافیوں کو جیل میں پھینکنے، دارالحکومت کے جنوب میں واقع صُوبے اِبّ میں دیہاتیوں پر ایک شیخ کے مظالم اور ایک مقتول ڈاکٹر کے اہلِ خانہ کو انصاف نہ ملنے کے خلاف بات کرنے کے علاوہ وِکی لیکس کے منظرِ عام پر آنے سے بہت پہلے وہ اس حد تک آگے بڑھ گئی تھیں کہ انہوں نے حکومت پر القاعدہ کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اُن کا احتجاج آج بھی جاری ہے اور وہ پُر امن تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
یہ یمنی عورتوں کے بارے میں مشہور کیے گئے اُس تصوّر میں ایک صحت مند تبدیلی کی علامت ہے جو سر سے پاؤں تک بُرقعے میں چھُپی ہوئی عورت یا کم سِن دُلہن نجود علی کی تصویروں سے تخلیق ہوا ہے جس پر اپریل 2008 میں یمن میں چھوٹی عمر کی شادیوں پر بحث چھِڑ گئی تھی۔
یمن کی عورتوں کے لئے سبھی کچھ بہرحال اتنا اُمید افزا نہیں ہے۔ یمن کی پارلیمنٹ کے ارکان (301 کی مجموعی تعداد میں صِرف ایک خاتون ہے) ابھی تک نجود جیسی لڑکیوں کو جس کی عمر طلاق کے وقت نو سال تھی، اسکول کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے شادی سے بچانے کے لئے عمر کی کم از کم حد مقرر کرنے پر مُتفق نہیں ہوئے۔ عورتوں میں ناخواندگی کی شرح ابھی تک 67 فیصد کی افسوس ناک سطح پر ہے، عورتیں روایتی طور پر غذا کی قلت کا سب سے پہلا شکار ہوتی ہیں (اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں ہر تیسرا شخص شدید غذائی قلّت کا شکار ہے) اور بہت سوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی مُشکل سے اور محدود طور پر مِلتی ہے۔ سیاست میں عورتوں کی شرکت انتہائی کم ہے اور دو خاتون وزرا ہونے کے باوجود 2006 میں عالمی اقتصادی فورَم کے صِنفی انڈیکس میں شامل ہونے کے بعد سے یمن کا نمبر ہمیشہ سب سے نیچے رہا ہے۔
لیکن اُمید کی کرن اب بھی موجود ہے۔
کرمان اور انسانی حقوق کی دیگر ایکٹوسٹ خواتین مثلاً سمیعہ الاغبری یمن کے دارالحکومت میں جاری مظاہروں میں سب سے اگلی صف میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ عمومی طور پر یمن کی عورتوں کی نمائندہ نہ ہوں لیکن وہ دوسروں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ درحقیقت جب 13 فروری کے مظاہروں میں ایک پولیس والے نے الاغبری کو زمین پر گِرا دیا تو ایک یمنی شخص اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے ’’ سبز حجاب کا انقلاب۔۔۔۔۔۔ سمیعہ الاغبری اور دیگر تمام انقلابیوں کے نام‘‘ کے عنوان سے پوری نظم لِکھ ڈالی جو اگلے روز ’نشوان نیوز‘ ویب سایٹ پر شائع ہوئی تھی۔
اگرچہ ساری عورتیں سڑکوں پر احتجاج نہیں کر رہی ہیں لیکن یمن میں بہت سی متاثر کُن خواتین موجود ہیں۔ کرمان اور الاغبری کے علاوہ یمن کی خواتین میں انسانی حقوق کی ایکٹوِسٹ، صحافی، ڈاکٹر، مُعلّم، سول سوسایٹی کی رُکن، ماہرِ تعلیم، سیاسی قیدیوں کی بیویاں، فوٹو گرافر اور یہاں تک کہ ٹویٹرز بھی شامل ہیں۔
درجنوں خواتین تمام تر مُشکلات کے باوجود مقامی کونسلوں اور پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصّہ لے کر ہار چُکی ہیں۔ آزاد جریدے ’یمن ٹائمز‘ کی چیف ایڈیٹر نادیہ السکّاف کے مطابق کِسی سیاسی جماعت کی حمایت کے بغیر انتخابات میں جیتنا بہت مُشکل ہے اور سیاسی عزائم رکھنے والی بیشتر خواتین اس وقت یہ دیکھنے کی مُنتظر ہیں کہ موجودہ صُورت حال کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔
ان کے علاوہ ایسی خواتین بھی موجود ہیں جنہوں نے خاموشی کے ساتھ خود اپنے انقلاب شروع کر دیے۔ مئی 2010 میں صنعا کے جنوب میں واقع زمار کے دیہی علاقوں میں ناخواندگی ختم کرنے کے ایک کورس نے خواتین کو گھروں میں جا کر اپنے شوہروں اور بھائیوں سے تعلیم، وراثت اور سیاسی شمولیت کے حقوق مانگنے پر آمادہ کر دیا۔ کورس کے مُنتظمین کو اِن خواتین کے مَرد رشتہ داروں کے ٹیلی فون آئے جو پریشان تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کِن موضوعات پر بحث میں حصّہ لیتی رہی ہیں۔ کورس کی شُرکا نے متحد ہوکر جلوس بھی نکالا اور ایک شخص کو اپنی 12 سالہ بیٹی کی شادی کرنے سے روک دیا۔
22 جنوری کو جب سیکورٹی والوں نے احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کرنے پر کرمان کو حراست میں لیا تو اُنہوں نے اپنا زیادہ تر وقت ساتھی قیدی خواتین کے ساتھ اُن کے حقوق پر گفتگو کرکے گزارا۔ رہا ہونے کے بعد ’یمن ٹائمز‘کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’میں جیل کے بارے میں جان کر اور قیدیوں کے ساتھ گفتگو کرکے بہت خوش ہوں۔‘
لیکن کرمان کے بارے میں سب سے مُتاثر کُن چیز شاید یہ ہے کہ وہ صرف یمنی عورتوں کے حقوق کی نہیں بلکہ یمن کے پورے معاشرے کی بات کرتی ہیں اور بے روزگاری اور کرپشن جیسے قومی سطح کے مسائل کو موضوع بناتی ہیں۔
یہ تصوّر کرنا ابھی بہت قبل از وقت ہے کہ یمن میں کوئی خاتون صدر آئے گی لیکن کرمان نے ایک ایسے مُلک کے بارے میں میڈیا کوریج کو ایک نئی اور خوش آئند جہت فراہم کی ہے جس کی مغرب والوں کے ذہن میں پہچان ہمیشہ القاعدہ، غربت اور ستم زدہ عورتوں سے بنتی ہے۔
###
* ایلِس ہیکمین صنعا، یمن میں ’دی یمن ٹائمز‘کے ساتھ دو سال تک رپورٹر اور فیچر ایڈیٹر کے طور پر کام کرنے کے بعد حال ہی میں لندن واپس آئی ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔
|