|
دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکیں۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔۔ اشاعت مکرر
01.09.2014, 01:40am , سوموار (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم
میں اپنی ڈاکٹری کے شعبے کے اتنے اہم امتحان میں مصروف ہوں کہ میری اگلی ساری پیشہ وارانہ زندگی کا دارومدار اسی امتحان پر ہے لیکن نہ جانے اس حالت میں بھی پاکستان کے حالات اور مسلم امہ کی بے بصری سکون نہیں لینے دیتی،کوئی کتاب ،کوئی سوال،کوئی موضوع پڑھتی ہوں تو اسکا رخ پاکستان اور عالم اسلام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ان حالات میں بھی قلم پکڑ،امتحان کی تیاری چھوڑ،امت مسلمہ کے فکری امتحان کو موضوع بنائے ہوئے ہوں
ہماری ایک بڑی اکثریت دوسروں کی غلطی نکالنے اور دوسرے کو مورد الزام ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن کوئی بھی تو اپنے اندر جھانکنے کو تیار نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اچھے اچھے خیال تو بہت مرتبہ باندھے ہیں ۔۔ اور خیالی منصوبے تو ہر وقت ہی بناتے ہیں ۔۔لیکن کیوں زیادہ تر وہ خیالی منصوبہ بندی سے آگے نہیں بڑھ پاتے ۔۔؟ شائد اسی لیئے کہ وہ زیادہ تر فکر و تکمیل سے عاری ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ او.ر ۔۔ شائد اسی فکر سے عاری منصوبہ بندیوں نے بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود مسلم ممالک کو عالمی اسٹیج پر تنہا کر دیا ہے اور اسوقت خلیج کے اسلامی ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ فکر ،تدبر،شعور اور دانش مندی سے عاری ہونا بھی ہے
دوستو یہ فکر ہی تو ہے جو فہم و دانش کو جنم دیتی ہے اور یہی دانش معاشرے میں دانشور پیدا کرتی ہے اور دانشور اپنی فکری تدبر سے ملک کو خود کفیل بنا دیتے ہیں ۔
سوچنا ۔۔ فکر کرنا ۔۔ ایک دوسرے کو تحمل اور اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر سننا تو جیسے گناہ کبیرہ ہو گیا ہے ۔۔ اب بھلا ایسے میں پھر بانی پاکستان قائد اعظم جیبوں کی بجائے دلوں میں کیوں کر رہیں ۔
اپنے امتحان کی تیاری کے سلسلے میں آج میں سائیکاٹری کی ایک کتاب پڑھ رہی تھی جس کا موضوع “خیال “ تھا ۔۔ جس میں لکھا تھا کہ غورو فکر کا مرکز ہمارا دماغ ہے جو بڑی فکر اور سوچ بچار کے بعد کوئی رائے، نظریہ ، مقصود یا تجویز دیتا ہے جسے عرف عام میں “خیال “ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔۔...۔ میں کتاب پڑھتے ہوئے سوچے جا رہی تھی کہ لکھنے والے نے یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ “خیال “ کی منصوبہ بندی میں فکر و شعور کی کیا اہمیت ہے اور حاصل فکر کا تکمیل سے کتنا گہرا رشتہ ہے ۔۔ سوچتی ہوں کہ وہ خیال ( تجویز) ہی کیا جس کو تکمیل کی فکر نہ ہو۔ ۔۔ اور یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ اسی ‘‘فکر‘‘ کے فقدان نے ہمیں دوسری اقوام میں پرایا کر دیا ہے اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کا ہی نہیں پوری امت مسلمہ کا ہے ۔اس لئے شائد آپ سب کو سوچنے پر لگا دیا ۔معافی چاہتی ہوں اگر ناگوار گرا ہو تو ۔۔۔
خود کو نہ بدلنے والے رویوں نے ہمیں تباہی کے اس دہانے پر پہنچایا ہے ..یہاں آپکی بیداریء فکر کے لیئے جناب محمد احمد کی نظم پیش خدمت ہے ..امید کرتی ہوں کہ آپ میرے غم میں برابر کے شریک ہونگے
" بے حسی "
ٹھیک ہے شہر میں قتل و غارت گری کی نئی لہر ہے پر نئی بات کیا یہ تو معمول ہے
ٹھیک ہے کہ کئی بے گناہ آگ اور خون کے کھیل میں زندگی ہار کر جینے والوں کے بھی حوصلے لے گئے اور پسماندگاں دیکھتے رہ گئے یہ بھی معمول ہے شہر اب پھر سے مصروف و مشغول ہے
ٹھیک ہے کہ ستم کالی آندھی کی مانند چھایا رہا کتنی صبحوں پہ ظلمت کا سایہ رہا کتنے دن تک ہوا نوحہ خوانی کی خواہش میں گُھٹتی رہی اور دھرتی کے سینے سے کتنے دنوں ہُوک اُٹھتی رہی کتنے دن سے یہاں عافیت کا چمن خاک ہے، دھول ہے
ٹھیک ہے کہ پسِ پُشت رکھے ہوئے خون آلود ہاتھ میرا رہبر ہی تھا جو محبت کا پرچار کرتا رہا دل ہی دل میں کہیں مُسکراتا رہا اور نقاب اپنے چہرے پر اوڑھے ہوئے مرنے والوں کا ماتم بھی کرتا رہا یہ نفاقِ طرحدارِ اہلِ ستم تو روایت میں صدیوں سے منقول ہے اور معمول ہے
پر مجھے کیا پڑی ہاں مجھے کیا پڑی کہ میں سوچُوں یہاں کون ظالم ہے اور کون مظلوم ہے کون قاتل ہے اور کون مقتول ہے
جس پہ گولی چلی وہ مِرا سر نہ تھا آگ جس پر لگی وہ مِرا گھر نہ تھا پھر مجھے کیا پڑی ہاں مجھے کیا پڑی کہ میں سوچُوں جو بستی میں اُفتاد ہے کس کی ایجاد ہے میرا دل اپنی دُنیا میں مشغول ہے میری دُنیا میں سب حسبِ معمول ہے ( محمد احمد )
دوسروں کی غلطیاں نکالنے کی بجائے اپنی حق اور سچ بات کو کسی خوف کے بغیر کھل کرکہنا ایک سچے انسان اور مسلمان کی نشانی ہے۔ میں نے انسان اور مسلمان اس لیئے لکھا کہ مسلمان دینی فلسفے کی رو سے عام انسان سے بہت ارفع و اعلیٰ اور بلند ہے، یہ تو آج کا مسلمان ہے جو عام انسان سے بہت کم تر ہے، اور اسکی وجہ اسکی بے عملی اور مطالعے سے دوری ہے اور ظاہر پسند اور بے عمل ملاں مولوی کے ہاتھوں یرغمال بننا ہے ۔ ان بے عمل منبر نشینوں نے مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور یہ مسلمان اس پر راضی برضا ہے۔ یہ ظالم اپنی غلطی کو اللہ کی مرضی کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے۔
بابا صفدر ھمدانی نے اسی موضوع پر عالمی اخبار کے ایک بلاگ میں تبصرہ کرتے ہوئے کیادرست کہا ہے کہ ۔۔۔۔ہم کیسے منحوس ترین دور میں خلق کیئے گئے ہیں بس ہماری سزا یہی کافی ہے۔ ہم کن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور کن سے اپنی بات کہتے ہیں بس اسی کو تو جہنم کہتے ہیں۔ ارے بھیا یہ کن لوگوں کو تاریخ اور کتابوں کے نام بتا رہے ہو جن کو اپنے نبی کی تاریخ پیدائش کا ہی علم نہیں۔ بدبخت قوم ہے یہ اگر اسے قوم کہا جائے ۔ ہمیں دین ،مذہب اور مسلک کے درمیان فرق معلوم نہیں۔ ہم اپنا دین ملاں سے لیتے ہیں عالم دین سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔
میں تو اب یہ سمجھتی ہوں کہ کوئی سنے یا نہ سنے،پڑھے یا نہ پڑھے،سوچے یا نہ سوچے بس ہمیں اپنے حصے کی روشنی جلائے جانا ہے
|