17.10.2026, 03:01am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 35ویں قسط
22.03.2011, 01:04am , منگل (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
چونتیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زائرہ پلٹی تو اس نے جلدی سے مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا اور بتایا کہ گھر سے فون تھا۔ تمام عبادات و سعادات پر گھر والے مبارکبارد دے رہے تھے اور ابّو نے ایک یاددہانی وقت نکل جانے سے پہلے کروادی ہے، جسے ہم بھولے بیٹھے تھے۔ ابھی وقت ہے جلدی چلیں۔ اس بابت جان کر میں نام ِ امام لے کر اٹھا اور ہم ایک اور سعادت سمیٹنے کے لئے باہر کی جانب دوڑ پڑے۔۔۔۔۔۔

ہماری قیام ِمشہد کی آخری زیارت حضرت خواجہ ربیع کا مرقد منورہ تھا، جسکی زیارت کیئے بغیر مشہد آنا نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔ آپ اسقدر جلیل القدر ہستی تھے، کہ جنکی زیارت کو بڑے بڑے علماء اپنے لئے باعث نجات و برکت گردانتے ہیں۔ حضرت ربیع ابن الہیثم الاسعدی الثوری المعروف خواجہ ربیع (ر) کا مقام اتنا عالی اس لیئے ہے کہ آپ تابعین میں سے تھے۔ اسلام کے اوائل کی آٹھ مقتدر و متقی ترین شخصیات میں آپکا شمار ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آپ کوفہ کے شہری ہونے نے کے ناطے مولا علی علیہ السلام کے قریبی صحابی بھی تھے۔ ساتھ ہی ساتھ آپکو عظیم صحابیءرسول (ص) حضرت عبداللہ ابن مسعود (ر) کی ہم نشینی کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپکی اہل بیت (ع) سے محبت و عقیدت مثالی تھی اور جوابا” امام علی (ع) اور دیگر اہلبیت (ع) بھی آپکی بہت عزت کیا کرتے تھے۔


امام علی (ع) کا مشہور زمانہ خطبہ جس میں آپ نے متقین کی صفات بیان فرمائی ہیں، کی فرمائش آپ حضرت نے ہی فرمائی تھی۔ تاریخ کا یہ بہت مشہور واقعہ ہے کہ اسی محفل میں خواجہ ربیع کا بھتیجا ہمام، اس خطبے کی سنگینی کی تاب نہ لا کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تھا۔ (تفصیلات کے لئے نہج البلاغہ خطبہ نمبر 193 المعروف بہ خطبہءہمام ملاحظہ فرمائیں۔) خواجہ ربیع کا زہد و تقویٰ اپنی مثال آپ ہے۔ آپکے بارے میں مشہور ہے کہ جب سجدہ کرتے تھے تو اتنا طویل ہو جاتا تھا کہ لوگوں کو مصلے پر چادر کا گمان ہوتا تھا۔ اپنے آقاؤں کی مانند آپکی زندگی بھی زہد و تقویٰ، عبادت و پرہیزگاری اور جودوسخا کا مرقع تھی۔ بھوکے اور نادار لوگوں کو اپنے دولتکدے پر لانا اور انکی خدمت کرنا آپکے معمولات میں شامل تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اپ حدیث و تفسیر کے ایک نامی گرامی استاد بھی تھے۔ آپکے اس مقام کی توثیق شیخ طبرسی نے اس طرح کی ہے کہ آپکو ان علوم کا پیشرو گردانا ہے۔

حوادث ِ زمانہ نے آپکو اپنے آقایان کی سنت ِ سفر پر عمل پیرا ہونے کے لئے آمادہ کیا اور آپ اواخر ِ عمر میں سپاہ ِ اسلامی کے ہمراہ خراسان تشریف لے آئے، جہاں واقعہءکربلا کے دو سال بعد یعنی 63ھ میں آپکا وصال ہوا۔ آپکو خراسان ہی میں دفن کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز اور ہر مقام کی ہئیت میں تبدیلی واقع ہونا ایک فطری امر ہے۔ آج آپ کا مرقد ایک خوبصورت باغ اور عوامی قبرستان کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ اس قبرستان میں دیگر مرحومین کے علاوہ انقلاب ِاسلامی اور ایران عراق جنگ کے سینکڑوں شہداء بھی مدفون ہیں۔

خواجہ ربیع کا مقبرہ ایک انتہائی خوبصورت عمارت ہے، جسکا گنبد اور درودیوار حسین و دلکش روایتی ایرانی ٹائلوں سے مزین ہیں۔ یہ مقام تمام عاشقان ِ اہل بیت کے لئے مرجع خلائق ہے، جہاں سارا سال زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اس مرکز ِ تجلیات کو انقلاب ِ اسلامی کی کامیابی کے بعد اسکا کھویا ہوا وقار لوٹایا گیا اور اب اسکا انتظام و انصرام آستان ِ قدس رضوی کے ذمے ہے۔ ایران کی زیارات کے باوقار اور خوبصورت مقامات میں سے یہ ایک ہے۔

ہم نے یہاں جانے کا ارادہ تو کرلیا تھا، مگر کیسے اور کہاں جانا ہے، یہ ابھی تک معلوم نہ تھا۔ حدود ِحرم سے باہر آئے تو خیال آیا کہ جعفر بھائی زندہ باد! دوڑے دوڑے انکی دکان پر پہنچے، مگر وہ کسی کام کی وجہ سے وہاں موجود نہیں تھے۔ انکے ملازمین تو تھے، مگر مسئلہ وہی زبان کا تھا۔ اب کیا کیا جائے! اچانک سے خیال میں ڈالا گیا کہ اصغر بھائی بھی تو موجود ہیں۔ میں نے جھٹ سے انہیں فون ملایا اور اپنی مشکل کا تذکرہ کیا۔ جواب آیا "مشکل ندارد۔" انہوں نے ہمیں وہاں جانے کے لیئے بس کا نمبر اور بس پکڑنے کا سارا طریقہ سمجھا دیا۔ میرے لیئے یہ ایک اور خوشگوار تجربہ ہونے جا رہا تھا۔ ابھی تک ایرانی طیارے اور ایرانی ٹیکسیوں میں سفر کے تجربات تو خاصے خوشگوار تھے، البتہ بس کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری نہ تھی۔ اصغر بھائی کے بتائے گئے راستوں سے ہوتے ہوئے ہم ایستگاہ اتوبوس یعنی بس اسٹاپ پر پہنچ گئے۔ اسٹاپ پر بنے ہوئے بلیط خانہ یعنی ٹکٹ گھر سے اپنے مطلوبہ اسٹاپ کے ٹکٹ خریدے اور سامنے کھڑی ہوئی بس میں جاکر بیٹھ گئے۔ میں نے اپنی ساتھ والی نشست پر بیٹھے ہوئے صاحب کو اپنی منزل کے بارے میں بتایا اور ان سے درخواست کی کہ ہمارا اسٹاپ آنے پر بتادیں۔ انہوں نے تسلی دی اور تسلی سے بیٹھا رہنے کا اشارہ کیا، کیونکہ ہماری منزل اس بس کے اخری اسٹاپ پر واقع تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں بس چل پڑی اور میں نے شہر ِ مشہد کے ناشناختہ کوچوں، بازاروں، سڑکوں، عمارتوں، پلوں اور افراد کا راہ رفتن مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ بس اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔ مسافر اترتے رہے اور نئے مسافر سوار ہوتے رہے۔ میری گردن قدرے دائیں جانب مڑی رہی اور میں حسرت بھری نگاہوں سے اس مقدس شہر کی ایک ایک چیز کا الوداعی مشاہدہ کرتا رہا۔ کم و بیش آدھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہماری منزل آگئی اور میری ساتھ والی نشست والے صاحب نے مجھے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا۔ بس سے اترے تو نظروں کے سامنے ایک انتہائی خوبصورت مقام تھا۔ ایک پرشکوہ اور عظیم عمارت۔ عمارت کی گردن پر ٹکا ایک عظیم الشان گنبد اور اسکے مرکزی دروازے سے نکلتی ہوئی دورویہ شاہراہ، جسکے اطراف میں خوبصورت و بلند قامت درختوں کی خاموش قطاریں منظر کو مزید دلنشیں بنا رہی تھیں۔ وقت چونکہ سہہ پہر سے نکل کر شام کی آغوش میں ڈھلک رہا تو دھوپ کی چمک میں بھی شدت تھی۔ تازہ اور ٹھنڈی ہوا کا چلنا تو شاید مشہد کے موسم کا معمول تھا۔ اس شاہراہ ِ پیادگان پر بیسیوں زائرین کی آمدورفت کا سلسلہ جاری تھا۔ کوئی غم نہ پریشانی، اداسی نہ خوف، حزن نہ ملال۔ سب مصروف عمل ہیں۔ ہم نے بھی بسم اللہ پڑھ کر اس شاہراہ پر قدم رنجا کئے اور زیارات کے اس سفر ِ ظفر کی آخری عبادت ِ زیارت بجا لانے کی غرض سے عمارت کی جانب چل پڑے۔ مناسک ِ دخول سے فارغ ہوکر جب اندر پہنچے تو دل خوش ہوگیا۔ ایک وسیع و عریض ہال کے درمیان مدفن ِ خواجہ ربیع(ر) ایک خوبصورت ضریح کے احاطہ میں تھا، جسکے گرداگرد زائرین کا ہجوم تھا۔ عصر کے وقت اہل بیت (ع) کے ایک عاشق صحابی کے مرقد پر اسقدر بھیڑ تھی تو خود اس خانوادے کے ایک معصوم امام کے روضہءمنورہ پر ہمہ وقت عاشقان کی موجودگی یقینا” واضح اسباب رکھتی ہے۔ ہم نے بڑھ کر دیوار پر آویزاں زیارت کو تلاوت کیا اور دورکعت نماز ِ زیارت اس ارفع روح کے لئے ہدیتا” ادا کی۔ ضریح کو تھام کر دعا و مناجات کیں اور اپنے وجود کو اس پاکیزہ ماحول سے متاءثر کیا۔ میں نے آقا کے اس صحابی سے آقا کے حضور میں جلد دوبارہ اس دیار میں ورود کی سفارش کی درخواست بھی کی۔ کیونکہ بے شک یہ اولیائے کرام وہ مقرب ہستیاں ہیں، جنکی ریاضتوں نے انکو قرب ِ الہی و معصومین (ع) کے قابل بنایا۔ جوابا” خدا اور اسکے نمائندگان کی جانب سے بھی انکو تصرفات ِ فیض عطا ہوئے۔ ایسے اصحاب کے مراقد منورہ منزل تک پہنچنے کے زینے ہیں۔  میں بھی ایک زینے پر کھڑا نشان ِ منزل کو پانے کی کھوج میں تھا۔ وہاں عجیب سکون کا ماحول تھا۔ معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اس مقام کی چودہ صدیوں پر محیط ایک تاریخ ہے۔ مجھے اپنے وطن میں مدفون اولیاءاللہ کے مراقد یاد آنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ کیا خاص ہے ان ہستیوں میں کہ اتنے طویل عرصے گزرنے کے بعد بھی یہ قبور آج بھی اباد و پررونق ہیں۔ جبکہ دنیا سے کوچ کرجانیوالوں کا سلسلہ روزانہ ہی جاری رہتا ہے اور کچھ عرصے بعد قبروں کے نشان تک معدوم ہو جاتے ہیں۔ یقینا” کچھ نہ کچھ خاص اور عام مرحومین سے مختلف ہے جو ان خاص ہستیوں کا خاصہ ہے۔ اور وہ ہے حبل اللہ سے اٹوٹ تمسک۔ انکے عزم ِ عالیشان کے صلے کے طور پر اللہ تعالی نے نہ صرف تاقیامت انکی آرامگاہوں کو محفوظ رکھا، بلکہ صراط ِ مستقیم کا نشان راہ بھی بنادیا۔

چند لمحے اس پر سکون ماحول میں گزار کر ہم اٹھے اور باہر کی جانب آئے۔ روضے کے اطراف میں دور تک پھیلا ہوا ایک باغ تھا۔ باغ کے ایک جنگلے تک پہنچ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ محض ایک باغ نہ تھا، بلکہ ایک قبرستان تھا، جہاں شہدائے انقلاب مدفون تھے۔ اسی جنگلے پر ایک بورڈ پر امام رضا (ع) سے منقول ایک حدیث "ليس منّا من لم يأمن جاره بوائقه" یعنی "وہ ہم میں سے نہیں، جسکے آزار سے اسکے ہمسائے محفوظ نہ ہوں" درج تھی۔ ویسے تو ایران بھر کی دیواروں، چوراہوں، عمارتوں اور چوکوں پر صرف آیات ِ قرآنی اور احادیث ِ معصومین انتہائی دلکش رسوم الخط میں لکھی نظر آتی ہیں، مگر ایک قبرستان میں خصوصیت کے ساتھ اس حدیث کی نمائش سمجھنے میں مشکل لگی۔ بعد میں مختلف مقامات پر دیگر آیات و احادیث پڑھ کر معلوم ہوا کہ حکومتی انتظامیہ کی جانب سے تبلیغ کا یہ انوکھا انداز بہت مؤثر ثابت ہوا ہے اور لوگوں کو چلتے پھرتے علوم ِ محمد و آل محمد سے آشنا کرنے میں بہت ممد ثابت ہو رہا ہے۔ قبرستان عموما” تو اخروی زندگی کے لئے سبق حاصل کرنے کی جگہ سمجھی جاتی ہے، مگر جب اسلام نے عارضی زندگی کو دائمی زندگی کی کھیتی قرار دیا ہے، تو علماء کی جانب سے جہاں جہاں اور جیسے جیسے اس زندگی کو سنوارنے کے مواقع مل سکتے ہیں، بخوبی اور کاملا” ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مجھے دیواروں کا یہ انداز ِ تبلیغ اتنا بھایا تھا کہ اکثر اپنے قیام کے دوران میں کافی دیر تک ان تحریروں کو پڑھ پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی مجھے اپنے ملک کی دیواریں بھی یاد آتی تھیں، جن پر سوائے مغلظات اور بیہودگی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ کسی علاقے کے درودیوار بھی اس میں بسنے والی قوم کے مزاج اور اسکی لیاقت کے عکاس ہوتے ہیں۔ اسی خوبصورت عکاسی نے میرے دل میں ان لوگوں کے احترام کو مزید بڑھاوا دیا۔


میں نے ان تمام شہداء کی بلندیءدرجات کے لئے اجتماعی فاتحہ خوانی تو کی، مگر دل یہ چاہا کہ ان میں سے چند کی قبور پر جاکر کتبے بھی پڑھوں۔ چنانچہ میں آگے بڑھا اور کتبے پڑھتے پڑھتے قبرستان کے بیچ میں پہنچ گیا۔ ہر ہر قبر ایک علیحدہ علیحدہ داستان تھی، جو اس کامیاب مملکت کی تاریخ بھی تھی۔ قبرستان کی ایک دیوار پر ان مدفون مؤمنین کی تصاویر مع کوائف بھی آویزاں تھیں۔ فاصلے فاصلے پر چند قبور پر انکے وارثان بھی ہدیہ خوانی میں مصروف تھے، جو فاتحہ کی غرض سے لائے گئے پھلوں، مٹھائیوں اور دیگر پکوانوں کو قبور پر سجا کر ہی فاتحہ خوانی کررہے تھے۔ کچھ ہی فاصلے پر باغ میں نصب جھولوں پر کچھ بچے اپنی تفریح میں مصروف نظر آئے۔ بعد ازاں فاتحہ کا یہی کھانا تمام اہل خانہ کسی کونے میں دری بچھائے کھاتے ہوئے نظر آئے۔ شہداء کی فاتحہ خوانی اور فیملی پکنک کا یہ انوکھا انداز میرے لیئے بالکل نیا تھا۔ کیونکہ ہمارے یہاں قبرستان خوف اور وحشت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ویسے بھی یہاں قبرستانوں کا جو حال ہے، اس سے وحشت ہونا ایک فطری امر ہے۔ رہی تفریح کی بات، تو شہروں میں جاری دہشتگردی کی وجہ سے خاندانی تفریح کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے۔

دوسری جانب دیکھا تو ایک بزرگ خاتون اپنے لخت جگر کی قبر کی پائینتی پر ایک سفری کرسی پر براجمان نظر آئیں۔ وہ زیر ِ لب تلاوت تو کررہی تھیں، مگر ساتھ ہی ساتھ انکا ہاتھ، انکی گود میں رکھے ایک لفافے سے دانے نکال کر قبر پر بکھیرتا جا رہا تھا، جنہیں چگنے میں درجنوں کبوتر مصروف تھے۔ تاحد نگاہ پھیلی ہوئی بیشمار قبور میں سےتھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ ایسی قبور بھی زیر مشاہدہ آئیں، جن پر مدفون کے نام کی بجائے "گمنام شہید ابن روح اللہ خمینی" لکھا نظر آیا۔ اس منظر نے دل کو مسل کررکھ دیا۔ کیا کیا داستانیں نہ ہوں گی اس عبارت کے پیچھے! یہ کون پراسرار بندے ہیں، جو اسکی راہ میں اپنا خون تو دیتے ہیں، مگر انتہائی رازداری کے ساتھ کہ دنیا انکے نام و نسب تک سے ناواقف رہتی ہے۔ مجھے بعد کی معلومات سے معلوم ہوا کہ ایسے شہداء کی تعداد ہزاروں میں ہے، اور جمکران سے آگے ایک پورا قبرستان ایسے ہی گمنام شہداء کا ہے، جنکے ناموں کی جگہ صرف ابن امام خمینی لکھا ہوا ہے۔ ان شہداء کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے شہادت پر فائز ہونے سے قبل قصدا” اپنے ناموں کے تمغے ضائع کرڈالے اور اپنی شہادت کو کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے سفر میں شہید ہوجانیوالے ان بچوں کے نام کردیا، جو تیز رفتار اونٹوں کی پشتوں سے گرتے جاتے تھے اور ان ہولناک صحراؤں میں بھوک، پیاس، خوف اور موسم کی شدت سے جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرماجاتے تھے۔ کربلا برپا ہوئے چودہ  صدیاں گزر گئیں، مگر ان معصوم بچوں کے نام آج بھی سوائے خدا اور انکے وارث معصومین کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان معصوموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ انداز اس قدر انوکھا ہے، کہ اس پر سوائے حیرت زدہ ہونے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ان شہداء نے ایک عام انسان کی سوچ سے بالاتر کام کیا ہے، جس پر جو انعامات یہ خدا سے وصول کررہے ہوں گے، وہ بھی ہماری سوچ سے یقینا” بالاتر ہیں۔ ان تمام شہداء کے لیئے میرے پاس فاتحہ اور درود و سلام سے زیادہ بیش قیمت اور کوئی تحفہ نہ تھا، سو انکے حوالے کیا اور قبرستان سے باہر آگیا۔

اب چونکہ شام چھاتی جارہی تھی اور بڑھتے ہوئے سائے میرے اندر چھپے ہوئے کوچ کے خوف کو ابھار نے لگے ، سو ہم نے بوجھل قدموں کے ساتھ حرم کی حدود سے باہر نکلنا شروع کیا۔ مڑ کر ایک دفعہ جی بھر کے اس عظیم الشان مزار اور اس سے ملحقہ قبرستان کو دیکھا اور آئیندہ آنے کی حسرت لیئے بس کی جانب چل دئیے۔۔۔۔۔۔جاری ہے

:دیگر مضامین
(18.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 34ویں قسط
(17.03.2011) اسلام آباد کی مرکزی امام بارگاہ میں امام حسن عسکری کا جشن ولادت
(16.03.2011) حیدرآباد دکن کے نامور شاعرخواجہ شوق کا طویل علالت کے بعد انتقال
(13.03.2011) مسجد زہرا فرینکفرٹ میں امام حسن عسکری کی ولادت پر میلاد کی محفل
(09.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 33ویں قسط
(08.03.2011) معروف شاعر سید اقبال حیدر کے بھائی سید انوار حیدر کی کراچی میں تدفین
(06.03.2011) معروف شاعر عزم بہزاد کا سوئم اتوار کو نارتھ کراچی میں ہوا
(01.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 32ویں قسط
(25.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 31ویں قسط
(23.02.2011) مانچسٹر اور بولٹن میں عید میلاد النبی کی پررونق تقریبات
(20.02.2011) صفدر ھمدانی کے بڑے بھائی اسد ھمدانی کا سوئم لاہور میں ہو گیا ہے
(18.02.2011) برلین میں خاتم النبین کے یوم ظہور کے سلسلے میں محفل میلاد کا انعقاد
(14.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 30ویں قسط
(13.02.2011) بھارت کے شہر لکھنؤ میں اہل تشیح نے ایام سوگ کے اختتام پر جلوس نکالا
(11.02.2011) معروف افسانہ نگار بیگم اختر جمال کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
(30.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 28ویں قسط
(29.01.2011)  نعت گو اور نعت خوان مظفر وارثی کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا
(26.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 27ویں قسط
(25.01.2011) زہرا صفدر ۔ کنگز کالج لندن سے ایم ایس سی سائیکالوجی اور سائکاٹری کی ڈگری
(22.01.2011) صفدر ھمدانی کویت کے بارہ روزہ دورے کے بعد واپس لندن روانہ ہو گئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں