|
زرداری کی سرداری بھی بیزاری ہے۔ از۔ ڈاکٹرنگہت نسیم۔اشاعت مکرر
08.03.2013, 09:04am , جمہ (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
پریشان حال،مصیبتوں کے مارے،لوڈشیڈنگ سے بے حال،دہشت گردی کے ہاتھوں زندہ درگور اور اپنے ووٹ دینے کی سزا بھگتنے والے پاکستانی عوام کو مبارک ہو کہ انکے ‘‘محبوب‘‘ صدر نے ایک اور تاریخ مرتب کر دی ہے اور وہ یوں کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں مسلسل چار بار کسی بھی اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے صدر بن گئے ہیں۔ تاریخ تو اس گھرانے کی لونڈی ہے جب چاہے لکھ لیں۔
ہم سب کے بابا صفدر ھمدانی نہ تو خود خوش رہتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے صدر کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ ادھر صدر کا قوم یا اسمبلی سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے خطاب ختم ہوا ادھر انہوں نے کتاب چہرہ یعنی فیس بک پر یہ تحریر چسپاں کر دی۔
‘‘ صدر پاکستان آصف زرداری کا قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی میں خطاب افسوس کی بات ہے۔ مجھے اس تقریر کے مندرجات سے کوئی غرض نہیں۔ اگر ملک کا سربراہ ملکی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی قومی زبان میں تقریر نہیں کر سکتا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ کاش یہ لوگ انگریزی ہی بہتر بول سکتے۔ یاد رکھیں غیر ملکیوں کے لیئے اسمبلی میں ترجمے کی بہت بہتر سہولتیں ہیں۔مملکت خداداد پاکستان کا صدر،اپنی قومی زبان اردو کی بجائے،مری ہوئی انگریزی میں ڈرا سہما ہوا خود سے ہی خطاب کر کے جا چکا۔تقریر میں زر مبادلہ اور ترقی کے حوالے سے جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ شاید امریکہ یا جرمنی کی ہے۔بھائی جان انسان جھوٹ بولے تو... خوب ”رج” کر بولے۔یہ دراصل ایک ذہنیت ہے۔ انگریزی زدہ لوگ۔ کاش یہ انگریزی بھی تو درست بول سکیں۔ ویسے کیا چین،روس،ایران اور ایسے ہی خود دار ممالک کے صدور کو انگریزی نہیں آتی؟‘‘۔
صفدر ھمدانی صاحب فکر اور بے باک،کسی ڈر خوف کے بغیر بات کرنے والے انسان ہیں لیکن اب انہیں بھی کون بتائے کہ بابا اگر ہمارا صدر اردو میں تقریر کرتے تو ان کو ووٹ دینے والوں کو سمجھ آ جاتا کہ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں ووٹ دئے جائیں ۔۔ اب چونکہ خطاب انگریزی میں ہوا ہے سو اس سے اتنا تو ہو گا کہ لوگ کم از کم یہ تو کہیں گے کہ اپنا صدر پڑھا لکھا ہے ۔...۔ بس یہی ضروری ہوتا ہے صدر کے لئے کہ چار سفیروں کے لئے انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھ لے ( ویسے ٹی وی نے تو یہی دکھایا کہ ایک سفیر تو اگلی لائن میں باقاعدہ سو رہا تھا)۔
میں تو ایسے دل جلانے والے لوگوں سے پوچھتی ہوں کہ قائد اعظم نے کیا صدر زرداری سے پوچھ کر پاکستان بنایا تھا ؟ علامہ اقبال نے فرض کر لیں اگر کوئی خواب دیکھا بھی تھا تو کیا زرداری سے پوچھ کر خواب دیکھا تھا ؟ نہیں نہ ۔۔ تو پھر ان کا مسلہ تو نہیں ہے نا کہ پاکستان کیسے چلے گا ۔۔ آپ لوگ بھی نہ خود خوش ہوتے اور نہ کسی کو دیکھ سکتے ہیں ۔
صفدر ھمدانی کی تحریر میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ ۔۔۔ ویسے کیا چین،روس،ایران اور ایسے ہی خود دار ممالک کے صدور کو انگریزی نہیں آتی جو وہ کسی بھی بیرونی ملک کے دورے میں بھی انگریزی نہیں بولتے،پریس کانفرنس بھی انگریزی میں نہیں کرتے اور ملکی پارلیمان میں بھی اپنے ہی قومی زبان میں بات کرتے ہیں۔
اب ایسے پڑھے لکھے انسان کو بھی کیسے بتائیں کہ چین ، روس ، ایران وغیری کے صدور بھی کوئی پڑھے لکھے ہیں جو انگریزی میں تقریر کریں ۔۔ آنکھیں کھولیں بابا جی، ملتان آ گیا ہے ۔۔۔۔ رائے ونڈ میں “ ن لیک “ بن گئی ۔۔ مسلم لیگی تک “ ہم خیال “ ہو گئے ۔۔ مسلمان ترقی کر کے دہشت گر دبن گئے ۔۔زرداری نے انگریزی سیکھ لی ۔۔ قسم سے نہیں بدلے تو آپ لوگ ۔۔وہی قومیت کا رونا ۔۔ وہی سوچنے کا بہانہ ۔۔۔۔آپ لوگ مجھے ڈیپریشن میں لگ رہے ہیں ۔۔ لگتا ہے اللہ نے میری سن لی مجھے بہت سارے مریض ملنے والے ہیں ۔ رکیں میں زرا زرداری کو “ تھینکس کا کارڈ “ بھیج دوں ۔۔ اور یہ بھی لکھ دوں کہ جب عوام سکھی ہو جائیں تو صدر کو ڈیپریشن ہو سکتی ہے اس لئے کوشش کرے کہ ڈیپریشن جیسی موزی مرض سے دور رہے اور اپنی بلا عوام کے سر ٹالتا رہے ۔
ویسے ایک بات ہے ۔اگر کوئی مجھ سے پوچھ تو میری رائے تو یہی ہے کہ صدر کی تقریر لکھنے والے بہادر آدمی کو اسکی زندگی میں ہی نشان حیدر دینے کا اعلان کر دیا جائے کیونکہ اگر باضمیر اور حساس عوام کو اس آدمی کے بارے میں علم ہو گیا تو پھر اسکی ‘‘شہادت‘‘ کے بعد بھی تو یہ اعزاز دینا ہی پڑے گا۔ اس بہادر تقریر نویس نے جان ہتھیلی پر رکھکر ایسی ایسی بات تقریر میں لکھ ڈالی کہ بقول باوثوق ذرائع کے دس مرتبہ ریہرسل کرنے باوجود بھی صدر کی زبان اور چہرے کے تاثرات تحریر کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے۔
کیسے کیسے افسانوی فقرے تھے اس تقریر میں جو نہ تو اس ملک کے عوام کے لیئے تھی اور نہ ہی ملک کے دشمنوں کے لیئے۔ذرا یہ چند فقرے ملاحظہ کیجئے اور خود فیصلہ کیجئے کہ آخر یہ سب کچھ کیا تھا۔
_ زر مبادلہ کی سطح ملک میں ریکارڈ حد پر پہنچ گئی ( دیکھا آپ نے انکا ہر کام ریکارڈ کی سطح کا ہے)۔
_بے نظیر بھٹو کے قاتل سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔
_غربت کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی تیار
_جامع، مکمل، معتبر انتخابی فہرستیں،آزادانہ اور شفاف انتخابات
_جعلی وو ٹوں کے ذریعے الیکشن میں دھاندلی کے خدشہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا
_وہ بلا امتیاز اور شفاف احتساب پر یقین رکھتے ہیں
_ہم جمہوریت کے ان ہیروز کے قتل کا بدلہ یوں لیں گے ( جو بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکا وہ یہ بدلہ لے گا)۔
_ریاست کے تمام اداروں کو ان حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے(جیسے وزارت قانون اور داخلہ کر رہی ہے)۔
تقریر سننے کے بعد ہمیں “ سانوں کی “ یعنی “ ہماری بلا سے “ کی بھی فلاسفی سمجھ آ گئی ۔۔ اف یہ ادائے بے نیازی ۔۔ بس اس “ ادا “ کی یہی خوبی ہے کہ وہ سب سے بے نیازی سکھاتی ہے ۔۔ سو آپ سب بھی کندھے اچکاؤ ۔۔ زرا سا منہہ بناؤ ۔۔ اور کہہ دو “ سانوں کی “ ۔۔ پھر دیکھیں صدر کی انگریزیٰ تقریر سے ہوئی آپ کی مایوسی میں کیسا افاقہ ہوتا ہے ۔۔۔ یقین کر یں سارے بڑے لوگ یہی کرتے ہیں ۔۔ اوباما کی ٹریننگ اسی بات کی تو ہوئی ہے کہ کوئی بھی بات ہو چاہے دنیا بھوک جنگ میں ختم ہو رہی ہو تم نے “ سانوں کی “ ہی کہنا ہے ۔۔۔ دیکھیں تو اوباما کیسے کندھے اچکائے ہر جگہ یہی کہتا نظر آتا ہے ۔۔ آج زرداری نے کہہ دیا تو کیا ہوا ۔۔ ہمارا صدر کوئی اوبامے سے کم ہے جی ۔۔
اب اس پر مزید کیا کہا جائے اسکے سوا کہ ‘‘اللہ کرے زور قلم اور زیادہ‘‘۔۔۔۔۔ حالانکہ صدر کے تقریر نویس کے لیئے دعا دراصل قوم کے لیئے بددعا ہے۔
|