افسانہ
بس ایک جھٹکے سے سڑک کنارے رُکی۔دونوں ماں بیٹا اپنا سامان کنڈیکڑ سے اُتروانے لگے ۔وہ سب سامان اُوپر سے پھینکتاہی گی۔ ایسے میں ایک دَم سے ماں بول اُٹھی ارے بیٹا ذرا آہستہ سے ۔ کُچھ چیزیں ٹوٹنے والی بھی ہوتی ہیں ۔وہ آخری سامان کی گھٹری اُسے پکڑاتے ہنس کر بولا ۔اماں کیا اِس میں انڈے رکھے ہیں ؟کنڈیکٹر بھی ایک نو عمر سا لڑکا تھا مسخرے پن سے کہتا چلتی بس میں دوڑ کر سوار ہو گیا اور بس یہ جا وہ جا ۔سڑک کنارے کچے راستے پر بیٹھ کر اماں اپنا سامان اکھٹا کرنے لگی۔لے اماں ؔ تُو اِدھر بیٹھ میں سڑک سے تانگہ روکتا ہوں ۔دُور نگائیں لگائے دونوں ماں بیٹا ابھی دیکھ ہی رہے تھے ۔اماں ساتھ اپنا بکھرا سامان پاس پاس کر رہی تھی۔بلکل ایسے جیسے ایک ماں بچوں کو۔بیٹے نےدور سے آتے ایک تانگے کو ہاتھ دیا تو وہ بھی فوراََ ہی ادھر چلا آیا لگتا تھا اُسے بھی صُبح سے شاید کوئی سواری نہیں ملی تھی ۔اُسکے گاؤں کی طرف جانے کوفوراََ تیار ہو گیا ۔وہ بھی شاید کسی سواری کے انتظار میں تھا ۔ماں بیٹے نے سامان تانگے میں رکھنا شروع کیا ۔تو اظہر ؔساتھ ساتھ شرارت سے بولا ۔ اماں ؔجب بولتا تھا تجھے گاؤں چل کر رہتے ہیں تب غصہ کرتی تھی اَب اس بوڑھاپے میں پتہ نہیں کیا شوق چڑھا ہے یہ دھول کھانے کا ۔وہ ہنس کر ماں کو چڑھانے لگا ۔۔۔
وہ بھی آج غصہ کیے بغیر ہنس کر تانگے میں بیٹھ گی۔ کھیتوں کے درمیان کچے راستے پر چلتے گھوڑے کے پاؤں کی آہٹ تک سنائی نہیں دے رہی تھی ۔۔ ماں ؔکیا اَب بھی اپنا گھر پہچان لو گی ۔ جب کے ایک مدت سے تُم نے اِن راستوں کو دیکھا بھی نہیں ۔ارے پگلے اپنے گھر کو کوئی کبھی بھول سکتا ہے ۔پھر اُن راستوں کو جہاں بچپن کے موسم کو جوانی تک جیلا ہو ۔ وہ بھی ہنستا ہوا اِسی راستے کو بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔ہر طرف سَر گھما گھماکر اسے دیکھ رہا تھا جیسے یہ اُس کے لئے نئی دنیا ہو۔
ابھی وہ اپنے ہی خیالوں میں گھرِا تھا ۔کہ اماں ؔ کی آواز سے چونک اُٹھا جو تانگے والے کو ایک گھر کے پاس رُکنے کو کہہ رہی تھی ۔۔پھر تانگے والے نے ایک دَم گھوڑے کی باگیں کھنچ لیں ۔تانگہ چلتا چلتا رُک گیا ۔انسان سے زیادہ تو سمجھ دار یہ جانور ہے جو مالک کا اشارہ ایک جھٹکے میں سمجھ لیتا ہے ۔
ہاں بس بَس یہاں ۔ پھر آج پورے بیس سال بعد وہ اپنے گھر کے سامنے تھی ۔دروازے پر لگا قفل بھی زنگ سے بھر چُکا تھا ۔
اظہر نے زور لگا کر اُسے کھولا ۔دروازے کو دھکا دیا تو ہر طرف ھول ہی دھول ۔۔مکڑیوں نے جگہ جگہ جال بنا رکھے تھے ۔اُسے لگا اسکی یادوں پَر دھول ہی تو جمی تھی ۔پھر دو تین دن لگا کر ماں بیٹے نے گھر صاف کیا ترتیب بدلی ۔ایسے ہی کام کرتے کرتے اظہر ایک بار پھر بولا اماں گزرے سالوں میں کبھی دل نہیں چاہتا تھا تمھارا ۔آج تم بسا بسایا گھر چھوڑ کر چلی آئی ہو ؟جب کے یہاں رکھا ہی کیا ہے ہمارے لئی۔ساتھ ساتھ وہ ماںکا منہ کِن اکھیوں سے دیکھتا جا رہا تھا۔شاید کچھ سمجھ ہی جائی۔
بیٹا تم نہیں سمجھو گے ۔جوانی تو غیرجگہ پر گُزر جاتی ہے مگر بوڑھاپا اپنی ا صلی جگہ پر ہی سنورتا ہے ۔پھر اِس مٹی میں تو ہماری خوشبو ہے ۔وہ ماں کی آنکھوں میں نمی تو نا دیکھ سکا۔ واقعی ماں کی بات اُسکی سمجھ میں نا آئی ۔زور سے ہنس دیا ۔ اُسے جہاں تک یاد ہے اُسکی پرورش میںبڑا ہاتھ تو اُسکے ماموں کا تھاجس نے بہت پیار سے اسے پالا تھا۔جب تک زندہ رہا اُسے کسی چیز کی کمی ہونے ہی نہیں دی ۔اور ایک بات جو اُسکی سمجھ میں نہیں آئی کہ اُسکے ماموں نے بھی شادی نہیں کی تھی ۔ وہ اکثر ہی اُلجھ جاتا ۔مگر کسی سے سوال نا کر پایا ۔آج کی رات تو اُسکی انہیں سوچوں کے سنگ گزر گی ۔صبح اُٹھا تو سوچا کیوں نا آج گاؤں دیکھنے جایا جائے ۔بستر سے قدم باہر نکالے ہی تھے کہ مولوی کی آواز نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔وضو کیا نماز پڑھی اور صبع کی روشنی کا انتظار کرنے لگا۔گاؤں دیکھنے کی بے چینی کچھ اس لیے بھی تھی کہ اماں اکثر ہی گاؤں کی تعریفیں بہت کرتی تھی۔ایسے ہی اُسکی نظریں اُٹھیں ہر طرف ہرہالی ہی ہرہالی ،ہرے بھرے کھیت لہلہاتے دیکھائی دئیی۔یہ لہلہاتے کھیت اُسے بہت خوبصورت لگے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ،پھر انہیں کھیتوں کے پاس ایک ندی کنارے چھوٹے چھوٹے کھیلتے بچے ،یہ سب کُچھ اُسے مدہوش ہی کر گیا ۔۔وہ بہت دیر تک دیکھتا اور سوچتا ہی گیا۔کاش میرا بچپن یہی گزرا ہوتا ۔شہر سے کتنی مختلف تھی یہ جگہ۔کبھی ندی کو دیکھتا کبھی آسمان کی طرف۔مگر ایک سوچ اُسے کشمکش میں مبتلہ کیے رکھتی کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے ماں کی کہ اُس نے یہ سب کیوں کھو دیا ۔۔یہ سوندی سوندی سی مٹی کی خوشبو اُسے بھلی لگنے لگی ۔۔کافی وقت گزارنے کے بعد جب وہ گھر کے لیے پلٹا تو آتے آتے ایک گلی سے گزرتے اُسکی نظر ایک دوکان پر پڑی تو وہ وہاں تک چلا آ یا۔ کہ گھر کے لیے کُچھ چیزیں ہی لیتا چلی۔دوکان پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا ۔ اُسے دیکھتے ہی حیرت سے اُسکا منہ کُھلے کا کُھلا ہی رہ گیا ۔اُسے لگا ظفر ؔ ایک دَم اُسکے سامنے آکھڑا ہوا ہو۔حیرت سے وہ بس اُسے دیکھتا ہی گیا۔مگر اظہر اس بات سے بے خبر گھر کی کُچھ چیزیں دیکھنے میں مصروف رہا
اظہر ؔکی شکل بلکل اپنے باپ پر تھی ۔اُسے بھی آج ہی یہ انکشاف ہوا کیونکہ اُس نے کبھی اپنے باپ کی نا کوئی تصویر دیکھی نا اُسے دیکھا تھا ۔ جب سے اُس نے ہوش سنبھالا تھا یہی معلوم تھا اُسکا بابا ؔاُسکی پیدائش سے کُچھ دیر پہلے ہی وفات پا چُکا تھا ۔ مگر اِس بزرگ کی حیرت اور اندازِ بیان کُچھ اور ہی کہہ رہا تھا ۔ ارے بیٹا کب آئے ہو تمھارا بابا ؔ بہت بیمارہے اور تمھاری راہ دیکھتا رہتا ہے ۔
مگر اظہر ؔ حیرت سے اُسے دیکھے ہی گیا مگر کُچھ بھی بول نا پایا ۔اُسے حیرانگی اِس بات پر تھی کہ وہ تو پہلی بار اِس گاؤں میں آیا ہے کبھی اس نے مُجھے دیکھا بھی نہیں پھر کیسے پہچان لیا یہی اُلجھن اُسے اُلٹے پاؤں واپس گھر لے آئی ۔ہاتھ میں جو چیزیں پکڑی ہوئی تھیں وہیں رکھیںاور گھر کی طرف قدم بڑھا دہی۔
دروازہ کھولتے ہی ماںماں کہتا گھر داخل ہوا ۔
ا جُو بابا ؔکیوں شور مچا رہے ہو ۔میں ادھر ہوں ،کچن سے اُس نے آواز دی ۔وہ کوئی جواب دئیے بغیر بولتا ہی گیا ۔ اماں ؔ تم تو کہتی تھی میرا بابا اِس دنیا میں نہیں ۔۔مگر وہ دوکان والا چچا کہتا ہے میرا بابا ؔ بیمارہے ۔اُس نے مُجھے کبھی دیکھا ہی نہیں پھر کیسے پہچانتا ہے ۔یہ سب کیا ہے ؟ْ
ماں ڈوپٹہ سنبھالتی فخر سے سَر اونچا کیے کچن سے باہر نکل آئی ۔جیسے وہ اِس بات کے لیے پہلے سے تیار تھی ۔ بیٹا آج میں بہت خوش ہوں ۔اِس بات کو سننے کیلئے میں نے بیس سال زندگی کو دیئے ہیں ۔
یہی تو میری پاک دامنی کا ثبوت ہے ۔تُم ظفر ؔ کے ہی بیٹے ہو ۔ہاں تمھارا بابا ابھی زندہ ہے ۔میں اسی آئینے کو تو اتنے سال سنوارتی رہی کہ اُسکا چہرہ اسی میں دیکھائی دینے لگی۔جو آج پا لیا ۔کہتے ہیں رشتے سانسیں ہوتی ہیں ،رشتے ٹوٹ جائیں تو سانسیں رُکنے لگتی ہیں ۔پھر مُجھ سے یہ سب سچ کیوں اتنا عرصہ چھپائے رکھا ۔وہ کُچھ ناراضگی اور خفگی سے بولا ۔
ماں کو معلوم تھا اتنی بڑی بات اُسے ضرور پریشان کر دے گی۔۔ پھر اُس نے اپنے بیٹے سے وہ سب کہہ دیا جو بیس سال نا کہہ پائی تھی ۔۔سب کُچھ سُن کر اُسے اپنی ماں کا رُتبہ اور زیادہ بلند لگا ۔کس محنت و محبت سے اُس نے پروان چڑھایا تھا ۔ماں کا ساتھ اُسکے بھائی نے بہت دیا ۔دونوں کے احسان اُسے برابر لگے ۔وہ سوچتا ہی رہ گیا ۔کبھی کبھی کوئی غلطی نا ہونے پر بھی اتنی بڑی سزائیںہوتی ہیں ۔ سزا دینے والے پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے ۔اُسے اپنی ماں ؔ سب ماؤں سے عظیم لگی۔جس خاموشی سے وہ اِس گاؤں کو خیر باد کہہ کراُس بڑے الزام کو ساتھ لیئے چل دی ۔آج وہ خود اپنی گواہی تھا مگر اُسکی ماں ؔ کے گزرے بیس سال اُسے کون واپس کرے گا ۔۔اُس نے تو ہاتھوں کی مہندی محنت کے رنگ میں ڈھال دی تھی ۔ ماں کے ایک ایک لفظ سے اُسے عقیدت ہونے لگی ۔سوچنے لگا کیا ایسا ہو سکتا بچہ پیدا ہو اُسکی شکل باپ سے نا ملتی ہو اور خاوند اپنی بیوی پَر شک کر گزری۔ یہ ایک شیطانی فتور ہی تو ہے ۔
گھر والے بھی اُسکی ماں ؔ کی پارسائی کی قسمیں کھاتے رہے ۔تب بھی باپ نے کسی کی نا سُنی اوراپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ عائشہ ؔ کے ساتھ نہیں رہے گا ۔اِس گھر میں وہ یا میں رہوں گا تب عائشہ کا بھائی اپنی بہن کو لے کر شہر چلا گیا ۔
اظہر ؔعجیب کشمکش میں مبتلہ تھا ،اِس کہانی کو سننے کے بعد اُسے کوئی نا کوئی فیصلہ کرنا ہی تھا تب اُس نے ماں سے کہہ دیا ۔وہ یہاں نہیں رہے گا ۔یہی بہت تھا اِس گاؤں کو کہ شہادت تو دے دی تھی اپنی ماں کی پارسائی کی ۔۔
عائشہ نے پھر بھی اظہرسے سوچنے کا وقت مانگا جو اُسکا فیصلہ ہو گا وہ بھی خوشی سے قبول کرے گی رات کی بات صبح تک چھوڑ کر دونوں ہی سونے چل دیئے ۔
موذن کی آواز سے ایک دَم وہ اُٹھ بیٹھا ۔ نماز ادا کی اور جانماز طے کر کے کُرسی پر رکھ کر باہر نکل گیا اتنے میں عائشہ بھی اُٹھ گی ۔ اور نماز کے لئے وضو کرنے لگی ۔ابھی تو نماز سی
فارغ نہیں ہوئی تھی کہ باہر کا دروازہ کھُلنے کی آواز سے چونک گئ ۔اظہر ماں کے نماز سے فارغ ہونے کا نتظار کرنے لگا
ماں ؔ نے سلام پھیری ہی تھی ۔ کہ حیرت سے اظہر کو دیکھا پہلے تو وہ کبھی اتنی صبح اُٹھا نہیں تھا ۔
باہر ابھی پورا دن بھی نہیں نکلا تھا ۔پوُپھوٹنے والی ہی تھی ۔ چلو ماں باہر تانگہ کھڑا ہی۔سامان بھی رکھ لیا ہے ۔ماں ایک لفظ نا بولی ۔ بس اپنی چادر لی اور تانگے میں جا بیٹھی ۔ جو سفر اُس نے کُچھ دن پہلے ختم کیا تھا ۔وہ پھر شروع ہو گیا۔مگر آج کسی قسم کی کوئی پریشانی اُس کے چہرے پر دیکھائی نا دی۔
ایک بار پھر اظہر نے گھر کو تالہ لگایا ۔۔اور ماں کے ساتھ تانگے میں آبیٹھا بس اتنا پوچھا ۔ اماں تُو خوش تو ہے نا میرے فیصلے سے ماں نے بس مسکرا کر سَر ہلا دیا ۔اُسکا چہرہ تو آئینہ تھا ۔جو شہادت کوئی نا دے سکا بیس سال بعد اُسکے بیٹے نے خود ہی دے دی تھی ۔اُسکے چہرے پر اطمنان کی ایک لَو چمک رہی تھی ۔۔۔۔
شہادت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہادت